anwarulnajaf.com

سجدۂِ سہو

 سجدۂِ سہو

مسئلہ:  سجدۂِ سہو چند
مقامات پر واجب ہوا کرتا ہے:۔

۱۔       زیادتیِٔ
کلام یعنی حالتِ نماز میں بھول کر کوئی بات منہ سے نکل جائے تو نماز کو باطل نہ
کرے بلکہ بعد از سلام اس کے لئے  دو سجدے
سہو کے دے دے، نماز صحیح ہوگی۔

۲۔      زیادتیِٔ
سلام اگر بے جا سلام پڑھ لے مثلاً سہ رکعتی یا چار رکعتی نماز میں دوسری رکعت کے
تشہد کے بعد سلام پڑھ لے تو یاد آنے پر فوراً کھڑا ہوجائے اور نماز کو پورا کرکے
بعد میں دو سجدے سہو کے ادا کرے۔

۳۔     ایک سجدہ بھول
جانے کی صورت میں نماز ختم کرنے کے بعد پہلے بھولے ہوئے سجدے کو قضا کرے پھر دو
سجدے سہو کے لئے دے۔

۴۔     ایک سجدہ
زیادہ کرنے کی صورت میں بعد از فراغ نماز دو سجدے سہو کے ضروری ہیں۔

۵۔     تشہد بھول
جانے کی صورت میں بعد از فراغ پہلے تشہد قضا پڑھے پھر دو سجدے سہو کے دے دے۔

۶۔      تشہد کے
زیادہ ہو جانے کی صورت میں سجدہ سہو واجب ہے۔

۷۔     رکعات کے شک
میں جہاں پانچویں کا دخل پڑتا ہے بعد از فراغ دو سجدے سہو کے لئے ضروری ہوتے ہیں،
بلکہ ہر کمی و بیشی کے لئے سجدہ سہو کا بجا لانا ضروری ہے۔

مسئلہ:  سجدہ سہو کا
طریقہ یہ ہے کہ نیت سجدتین کرکے اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلا جائے اور پڑھے:

بِسْم اللّٰہِ وَ بِاللّٰہِ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی
مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّد

پھر اٹھ بیٹھے اور دوبارہ اسی طرح سجدہ کرے اور بعد میں
تشہد مختصر پڑھ کر ایک سلام واجب پڑھ لے یعنی 
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *