سورة
البينة (98) — al-Bayyinah — The Proof — البَیِّنَۃِ
بِسْمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
لَمْ يَكُنِ
الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى
تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا
مُّطَهَّرَةً (2) فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (3) وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا
الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (4) وَمَا أُمِرُوا
إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا
الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (5) إِنَّ
الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ
خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ (6) إِنَّ الَّذِينَ
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7)جَزَاؤُهُمْ
عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ
فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ
رَبَّهُ (8)
الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّى
تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ (1) رَسُولٌ مِّنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا
مُّطَهَّرَةً (2) فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (3) وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا
الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَةُ (4) وَمَا أُمِرُوا
إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاء وَيُقِيمُوا
الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ (5) إِنَّ
الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ
خَالِدِينَ فِيهَا أُوْلَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ (6) إِنَّ الَّذِينَ
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ (7)جَزَاؤُهُمْ
عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ
فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ
رَبَّهُ (8)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ( شروع کرتا ہوں)
اہل
کتاب (یہود و نصارٰی) اور مشرک لوگ (اپنے کفر سے ) الگ ہونے والے نہ تھے یہاں تک
کہ آیا ان کے پاس بینہ (1) اللہ کی جانب سے رسول جو ان پر پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت
کرتا ہے (2) جن میں مضبوط و پائیدار تحریریں ہیں (3) اور نہ اختلاف کیا ان لوگوں
نے جن کو کتاب دی گئی مگر بینہ کے آ جانے کے بعد (4) حالانکہ ان کو نہیں حکم دیا
گیا مگر یہ کہ اللہ کی عبادت کریں اپنے دین کو اس کےلئے خالص کرتے ہوئے باطل سے رو
گردان ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں اوریہی مضبوط اور پائیدار دین
ہے (5) تحقیق جہنوں نے کفر کیا یعنی اہل کتاب اور مشرکین تو وہ لوگ دوزخ
میں جائیں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے
کہ وہ لوگ بد ترین مخلوق ہیں (6) تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک بجا لائے وہ
لوگ بتہرین مخلوق ہیں (7) ان کی جزا ان کے
رب کے نزدیک جنات عدن ہے جن کے
نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے خدا ان سے راضی ہو گا۔ اور وہ خدا
(کی نعمات) پر راضی ہوں گے یہ انعامل اس کےلئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے (8)
کتاب (یہود و نصارٰی) اور مشرک لوگ (اپنے کفر سے ) الگ ہونے والے نہ تھے یہاں تک
کہ آیا ان کے پاس بینہ (1) اللہ کی جانب سے رسول جو ان پر پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت
کرتا ہے (2) جن میں مضبوط و پائیدار تحریریں ہیں (3) اور نہ اختلاف کیا ان لوگوں
نے جن کو کتاب دی گئی مگر بینہ کے آ جانے کے بعد (4) حالانکہ ان کو نہیں حکم دیا
گیا مگر یہ کہ اللہ کی عبادت کریں اپنے دین کو اس کےلئے خالص کرتے ہوئے باطل سے رو
گردان ہو کر اور نماز قائم کریں اور زکواۃ ادا کریں اوریہی مضبوط اور پائیدار دین
ہے (5) تحقیق جہنوں نے کفر کیا یعنی اہل کتاب اور مشرکین تو وہ لوگ دوزخ
میں جائیں گے اس میں ہمیشہ رہیں گے
کہ وہ لوگ بد ترین مخلوق ہیں (6) تحقیق جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک بجا لائے وہ
لوگ بتہرین مخلوق ہیں (7) ان کی جزا ان کے
رب کے نزدیک جنات عدن ہے جن کے
نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے خدا ان سے راضی ہو گا۔ اور وہ خدا
(کی نعمات) پر راضی ہوں گے یہ انعامل اس کےلئے ہے جو اپنے رب سے ڈرے (8)
سورہ البینۃ
·
بعض نے اس سورہ کو مکیہ
کہا ہے لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک مدینہ ہے اور سورہ طلاق کے بعد نازل ہوا ہے ۔
بعض نے اس سورہ کو مکیہ
کہا ہے لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک مدینہ ہے اور سورہ طلاق کے بعد نازل ہوا ہے ۔
·
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ سمیت نو ہے ۔
اس کی آیات کی تعداد
بسم اللہ سمیت نو ہے ۔
·
حضرت نبی اکرمؐ نے
فرمایا اے لوگوں کو اس سورہ مجیدہ کے فوائد کا پتہ ہو تو اس کو سیکھنے لئے گھر بار
کو چھوڑ دیں اور نبی قضاعہ کے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور فرمائیے اس کا کیا ثواب
ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس سورہ کو منافق نہیں پڑھا کرتا اور نہ وہ شخص اس کو پڑھتا
ہے جس کے دل میں اللہ کے متعلق شک ہو اور جب وہ خداوند کریم نے زمین و آسمان کو
پیدا فرمایا ہے اسی وقت اسے ملائکہ مقربین اسی سورہ کو ورد سمجھ کر پڑھتے ہیں اور
کبھی اس کی قرات سے غلفت نہیں کرتے
حضرت نبی اکرمؐ نے
فرمایا اے لوگوں کو اس سورہ مجیدہ کے فوائد کا پتہ ہو تو اس کو سیکھنے لئے گھر بار
کو چھوڑ دیں اور نبی قضاعہ کے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور فرمائیے اس کا کیا ثواب
ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس سورہ کو منافق نہیں پڑھا کرتا اور نہ وہ شخص اس کو پڑھتا
ہے جس کے دل میں اللہ کے متعلق شک ہو اور جب وہ خداوند کریم نے زمین و آسمان کو
پیدا فرمایا ہے اسی وقت اسے ملائکہ مقربین اسی سورہ کو ورد سمجھ کر پڑھتے ہیں اور
کبھی اس کی قرات سے غلفت نہیں کرتے
·
اگر کوئی شخص اس کو ات
کے وقت پڑھے تو خدا ملائک ہ کو بھیجتا ہے جو اس کی دین و دنیا کے امور میں
حفاظت کرتے ہیں اور اس کےلئے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان
کو پڑھے تو تمام ان چیزوں کے برابر اس کو ثواب ملے گا جن سورج نے روشنی پھیلائی
الخ
اگر کوئی شخص اس کو ات
کے وقت پڑھے تو خدا ملائک ہ کو بھیجتا ہے جو اس کی دین و دنیا کے امور میں
حفاظت کرتے ہیں اور اس کےلئے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان
کو پڑھے تو تمام ان چیزوں کے برابر اس کو ثواب ملے گا جن سورج نے روشنی پھیلائی
الخ
·
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا اگر اس سورہ کو نئے برتن پر لکھا جائے اور صاحب لقوہ اس میں
نظر کرے تو وہ شفا یاب ہو گا۔
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا اگر اس سورہ کو نئے برتن پر لکھا جائے اور صاحب لقوہ اس میں
نظر کرے تو وہ شفا یاب ہو گا۔
·
اگر اس کو روٹی پر لکھا
جائے اور چور کو کھلائی جائے تو لقمہ اس کے منہ میں پھنس جائے گا (فوائدالقرآن)
اگر اس کو روٹی پر لکھا
جائے اور چور کو کھلائی جائے تو لقمہ اس کے منہ میں پھنس جائے گا (فوائدالقرآن)
·
اگر چور کا نام لے کر
کسی انگوٹھی حرکت میں آ جائے گی (فوائد)
اگر چور کا نام لے کر
کسی انگوٹھی حرکت میں آ جائے گی (فوائد)
·
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا علیہ السلام نے فرمایا اگر اس کو لکھ کر یرقان کا مریض
لٹکائے تو شفایاب ہو گا ۔ (فوائد)
حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا علیہ السلام نے فرمایا اگر اس کو لکھ کر یرقان کا مریض
لٹکائے تو شفایاب ہو گا ۔ (فوائد)
·
شفید چشم اور برص کےلئے
اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھنا اور اس کا پانی پینا موجب شفا ہے (فوائد)
شفید چشم اور برص کےلئے
اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھنا اور اس کا پانی پینا موجب شفا ہے (فوائد)
·
اگر حاملہ عورت اس کا
پانی پئیے حمل محفوظ ہو گ اور وضع حمل آسان ہو گا (فوائد)
اگر حاملہ عورت اس کا
پانی پئیے حمل محفوظ ہو گ اور وضع حمل آسان ہو گا (فوائد)
·
اگر طعام پر لکھا جائے
تو اس کے ضرر سے محفوظ ہو گا اور اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھنا تمام دردوں کے لئے
مفید ہے (فوائد) اگر چوراہے کی مٹی لے کر اس پر یہ سورہ پڑھا جائے پس یہ مٹی ان
لوگوں پر پڑھا جائے پس یہ مٹی ان لوگوں پر چھڑکی جائے جو ضلالت اور گمراہی کےلئے
جمع ہوں تو ان میں تفرقہ پڑ جائے گا (فوائد القرآن )
اگر طعام پر لکھا جائے
تو اس کے ضرر سے محفوظ ہو گا اور اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھنا تمام دردوں کے لئے
مفید ہے (فوائد) اگر چوراہے کی مٹی لے کر اس پر یہ سورہ پڑھا جائے پس یہ مٹی ان
لوگوں پر پڑھا جائے پس یہ مٹی ان لوگوں پر چھڑکی جائے جو ضلالت اور گمراہی کےلئے
جمع ہوں تو ان میں تفرقہ پڑ جائے گا (فوائد القرآن )
رکوع نمبر 23۔ البینۃ۔ اس جگہ بینہ سے مراد
حضرت رسول اکرؐم کی ذات ہے ۔
حضرت رسول اکرؐم کی ذات ہے ۔
کتب قیمہ ۔ قرآن مجید کے ہر مضمون کو ایک الگ الگ کتاب
قرار دیا گیا ہے جو اپنے ناقابل تردید بیانات کی وجہ سے مضبوط اور پائیدار ہے اور
صحف جمع صحیفہ ہے گویا قرآن کے ہر ہر سورہ یا آیہ کو الگ صحیفہ کہا گیا ہے ۔
قرار دیا گیا ہے جو اپنے ناقابل تردید بیانات کی وجہ سے مضبوط اور پائیدار ہے اور
صحف جمع صحیفہ ہے گویا قرآن کے ہر ہر سورہ یا آیہ کو الگ صحیفہ کہا گیا ہے ۔
دین القیمہ۔ یہاں مضاف محدوف ہے یعنی دین الملۃ
القیمہ۔
القیمہ۔
خیر
البریہ شیعہ ہیں ۔ ان الذین آمنو ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ
حضرت رسول کریمؐ نے یہ آیت پڑھ کر میری طرف دیکھا اور فرمایا یاعلؑی اس سے مراد
تمہارے شیعہ ہیں ۔
البریہ شیعہ ہیں ۔ ان الذین آمنو ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے منقول ہے کہ
حضرت رسول کریمؐ نے یہ آیت پڑھ کر میری طرف دیکھا اور فرمایا یاعلؑی اس سے مراد
تمہارے شیعہ ہیں ۔
تفسیر
برہان میں ہے کہ رسولؐ اکرم نے مرض الموت میں اپنی شہزادی سے فرمایا کہ علیؑ کو
بلواؤ پس خاتون کے فرمان کے ماتحت حضرت امام حسن علیہ بلانے کے لئے گئے جب حضرت
علی علیہ السلام تشریف لائے تو جناب بتول معظمہ غمزدہ تھیں اور حضورؐ اپنی دختر
نیک اختر کو تلقین صبر کر رہے تھے اور گریبان چاک اور واویلا کرنے سے باز رہنے کی
وصیت فرما رہے تھے اس کے بعد حضرت علؑی سے فرمایا کہ اپنے کان میرے منہ کے قریب
کرو چنانچہ حضرت عؑلی نے اپنے کان دہان رسالت کے قریب کئے تو حضورؐ نے یہی آیت
کریمہ پڑھی اور فرمایا یاعلیؑ اس سے مراد تم اور تمہارے شیعہ ہیں جو روشن چہروں کے
ساتھ سیراب شدہ محشور ہوں گے اور فرمایا شر البیریہ سے مراد تیرے دشمن اور تیرے
دشمنوں کے دوست ہیں جن کے بروز محشر چہرے سیاہ ہوں گے اور پیاسے محشور ہوں گے پس
یہ آیت تمہارے لئے ہے اور اس سے پہلی آیت تیرے دشمنوں کےلئے ہے ۔
برہان میں ہے کہ رسولؐ اکرم نے مرض الموت میں اپنی شہزادی سے فرمایا کہ علیؑ کو
بلواؤ پس خاتون کے فرمان کے ماتحت حضرت امام حسن علیہ بلانے کے لئے گئے جب حضرت
علی علیہ السلام تشریف لائے تو جناب بتول معظمہ غمزدہ تھیں اور حضورؐ اپنی دختر
نیک اختر کو تلقین صبر کر رہے تھے اور گریبان چاک اور واویلا کرنے سے باز رہنے کی
وصیت فرما رہے تھے اس کے بعد حضرت علؑی سے فرمایا کہ اپنے کان میرے منہ کے قریب
کرو چنانچہ حضرت عؑلی نے اپنے کان دہان رسالت کے قریب کئے تو حضورؐ نے یہی آیت
کریمہ پڑھی اور فرمایا یاعلیؑ اس سے مراد تم اور تمہارے شیعہ ہیں جو روشن چہروں کے
ساتھ سیراب شدہ محشور ہوں گے اور فرمایا شر البیریہ سے مراد تیرے دشمن اور تیرے
دشمنوں کے دوست ہیں جن کے بروز محشر چہرے سیاہ ہوں گے اور پیاسے محشور ہوں گے پس
یہ آیت تمہارے لئے ہے اور اس سے پہلی آیت تیرے دشمنوں کےلئے ہے ۔
ابو
رافع سے منقول ہے کہ مجلس شورٰی میں حضرت علی علیہ السلام نے اہل شورٰی سے حلفیہ
دریافت فرمایا کہ کیا تم اس دن موجود نہ تھے جب میں رسولؐ اللہ کی خدمت میں پہنچا
اور آپ نے کعبہ کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا تھا کہ مجھے کعبہ کے پروردگار کی قسم
یہ اور اس کے شیعہ قیامت کے روز کامیاب ہوں گے پھر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا
کہ علؑی تم میں سے اول مومن ہے اللہ کے احکا م کو مضبوطی سے حاصل کرنے والا ہے
اوردرجہ منزلت کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک عظیم تر ہے اور اللہ نے آیت نازل فرمائی
توحضورؐ اور تم لوگوں نے بھی تکبیر کہی تھی اور تم سب نے مجھے مبارکباد بھی کہی
تھی ؟ تو اہل شورٰی میں سے کسی نے اس روایت کی تکذیب کی جرات نہ کی اور سب نے کہا
یا علیؑ بے شک آپ نے سچ فرمایا ہے ۔
رافع سے منقول ہے کہ مجلس شورٰی میں حضرت علی علیہ السلام نے اہل شورٰی سے حلفیہ
دریافت فرمایا کہ کیا تم اس دن موجود نہ تھے جب میں رسولؐ اللہ کی خدمت میں پہنچا
اور آپ نے کعبہ کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا تھا کہ مجھے کعبہ کے پروردگار کی قسم
یہ اور اس کے شیعہ قیامت کے روز کامیاب ہوں گے پھر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا
کہ علؑی تم میں سے اول مومن ہے اللہ کے احکا م کو مضبوطی سے حاصل کرنے والا ہے
اوردرجہ منزلت کے لحاظ سے اللہ کے نزدیک عظیم تر ہے اور اللہ نے آیت نازل فرمائی
توحضورؐ اور تم لوگوں نے بھی تکبیر کہی تھی اور تم سب نے مجھے مبارکباد بھی کہی
تھی ؟ تو اہل شورٰی میں سے کسی نے اس روایت کی تکذیب کی جرات نہ کی اور سب نے کہا
یا علیؑ بے شک آپ نے سچ فرمایا ہے ۔
روایات
اہلبیت میں تواتر سے منقول ہے کہ خیر البریہ سے مراد حضرت علیؑ اور آپ کے شیعہ ہیں
چنانچہ یہ بروزمحشر تاج بہشتی پہنا کر وارد محشر کئے جائیں گے ان کے چہرے نورانی
ہوں گے اور سب حوض کوثر پر اکٹھے ہوں گے ۔
اہلبیت میں تواتر سے منقول ہے کہ خیر البریہ سے مراد حضرت علیؑ اور آپ کے شیعہ ہیں
چنانچہ یہ بروزمحشر تاج بہشتی پہنا کر وارد محشر کئے جائیں گے ان کے چہرے نورانی
ہوں گے اور سب حوض کوثر پر اکٹھے ہوں گے ۔
تفسیر
مجمع البیان میں ہے کہ یہ آیت حضرت علیؑ اور اہلبیت کے حق میں ہے ۔
مجمع البیان میں ہے کہ یہ آیت حضرت علیؑ اور اہلبیت کے حق میں ہے ۔
Normal
0
false
false
false
EN-US
X-NONE
AR-SA
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:”Times New Roman”,”serif”;}
Leave a Reply