مدنیہ ہے اور اس کی ایات بسم اللہ سمیت
پندرہ ہیں
- اس سورہ کانام سورہ
حواریین اور سورہ عیسی ٰ بھی ہے یہ
سورہ تغابن کے بعد نازل ہوا - حضور نے فرمایا جو شخص
سورہ عیسیٰ کی تلاوت کرے جب تک زندہ رہے گا حضرت عیسیٰ
اس کے لئے استغفار کریں گے اور
قیامت کے روز بھی
وہ حضرت عیسیٰ کا رفیق
جنت میں قرار دیاجائے گا مجمع - امام محمدباقر علیہ
السلام سے منقول ہے جو
شخص سورہ صف کو فرئض ونوافل
میں ہمیشہ پڑھتا رہے تو خدااس کو بروز محشر ملائکہ وانبیاء کی صفوں میں جگہ دے گا - مروی ہے کہ جو شخص
سفر میں اس کی تلاوت جاری رکھے وہ
سفر میں محفوظ رہے گا اور ہرانے والی مصیبت سےمامون ہوگا
ان لوگوں کے لئے تاقیامت سرزنش ہے جنکا عمل انکےقول کے موافق نہ
ہو لیکن نزول کے لحاظ سے بعض
کہتے ہیں یہ اس قوم کی سرزنش کے لئے ہے جنہوں نے جنگ سے پہلے بڑے
بڑے دعوے کئے تھے لیکن عین جنگ کےدروان میں فرار کرگئے تھے چنانچہ
احد کے دن رسولؐ اللہ کو چھوڑاکر بھاگ گئے حتی کہ حجور کا چہرہ اقدس بھی زخمی ہوا اور دندان مبارک بھی شہید
ہوگئے
اور مروی ہے کہ
شہداء بدر کے فضائل جب لوگوں نے سنے تو انہوں نے خواہش کی کہ
ائندہ جنگ میں ہم
ضرور شریک ہوکر درجہ شہادت پر فائز ہوں
گے لیکن جنگ احد مٰں وہ بھی فرار کرگئے
اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے ایک دفعہ حضور نے خواہش کی کہ ہمیں تمام اعمال میں سے بہترین عمل کی
نشاندہی کی جائے تو اپ نے ایمان خالص
اورجہاد کا ذکر فرمایا پس جہاد کا نام سن کر ان کے حوصلے پست ہوگئے نیز ایک روایت میں ہے کہ جنگ بدر میں ایک کافر مسلمان کےلئے نہایت
مصیبت کا باعث بنا ہوا تھا تو
موقعہ پاکر اس کو صہیب نے قتل کردیا لیکن
ایک دوسرے صاحب نے جو جنگ میں صرف
تماشائی رہا کرتا تھا
نہ کسی کو مارتا تھا اور نہ کسی سےمار کھاتا تھا فورا خدمت نبوی میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اس
کافر کو میں نے مارا ہے چنانچہ حضور خوش ہوئے کسی نے صہیب سے ذکر کیاکہ جس کو تو نے مارا ہے فلاں شخص نے
حضور کےسامنے دعوی کیاہے کہ
میں نے اس کو مارا ہے تم فورا
جاؤ اور اس حقیقت سے نقاب کشائی کرو صہیب نے کہا میں نے خوشنودی خدا کے لئے دشمن
دیں کو قتل کیا ہے نہ کہ خود
نمائی کے لئے پس کسی دوسرے ادمی نے پیغمبر سے ذکر
کردیا کہ حضورؐ فلاں کافر کو تو صہیب
نے قتل کیاتھا یعنی جس
حضرت نے اپنی
ناموری کی خاطر اس کا قتل
اپنی طرف منسوب کیاہے اس نے غلط کہاہے
پس حضورؐ صہیب کی طرف متوجہ
ہوکر فرمانے لگے کیایہ بات درست ہے تو ہیب
نےعرض کی جی ہاں ایسا
ہی ہے بہر کیف کرسی
نبوت کے ارد گرد وقت گذارنے والوں میں زبان کے بہادروں کی بہتات تھی جو بات کرنے
میں سب سے پیش نظر اتے
تھے لیکن میدان میں انکاشمار اخڑی
صف میں ہوا کرتا تھا تاکہ پسپائی کی صورت
میں وہ سب سے اول نظر ائیں چنانچہ
متذکرہ ایتیں ایسے بہادروں کو سرزنش کر رہی ہیں کہ
جو کام کر نہیں سکتے ہو اس کا زبان
سے دعوی نہ کیاکرو اور اخرمیں خداوند کریم نے ان بہادروں کی تعریف فرمائی جو میدان میں کوہ گراں کی طرح جم کرلڑتے
ہیں اور بڑے سے بڑے طاقتور دشمنو ں
کو تہہ تیغ کرکے اسلامی وقار کی سربلندی کا باعث ننتے ہیں چنانچہ انہی کو خدا نے اپنا محبوب ٹھہرایا اور ایک روایت میں ہے
کہ یہ ایت حضرت علیؑ حضرت حمزہ اور عبیدہ بن حارث
کے حق میں اتری ہے اور بعض
روایات میں انکےعلاوہ سہل بن حنیف
اور حارث بن ابی دجانہ انصاری کا
نام مذکور ہے
واذ قال موسیٰ حضرت پیغمبر کو
تسلی دی گئی ہے کہ گھبرانے
کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اپ سے
پہلے انبیاء کو بھی اپنی
امتوں کی جانب سے اذیتوں کا سامنا کرنا
پڑا ہے
چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھر ے
مجمع میں زنا کی تہمت لگائی گئی
لیکن خداوندکریم نے حضرت موسیٰ
کی عزت وناموس کی خود محافظت فرمائی اسی طرح حضرت موسیٰ پر
حضرت ہارونؑ کے ناحق
قتل کا الزام لگایا گیا جس سے خدانے انکو بری قرار دیا اور حضرت موسیٰ
علیہ السلام ان سےیہی
فرماتے رہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں
مجھے ستانا چھوڑ دو لیکن وہ اپنی
غلط روش سے باز نہ ائے اکڑ کار خدانے اپنے الطاف خاصہ سے انکو محروم
کردیا اور مستحق عذاب ہوئے
حضرت عیسیٰ کی پیشین
گوئی
اسمہ احمد اس کے معنی
میں دووجہیں بیان کی گئی ہیں
اسم فاعل حامد سے مبالغہ
ہے احمد یعینی زیادہ حمد کرنے والا اسم مفعول محمود سے مبالغہ
ہے احمد یعنی وہجس کی سب سے زیادہ
تعریف کی جائے اور حضور نے خود فرمایا کہ
میرے کئی نام ہین میں احمد
ہوں میں محمد ہوں ۔ الخ – اور تفسیر برہان میں ہے ایک
دفعہ ایک یہودی نے اپ پر سوال کیاکہ اپ کے اسماء محمد احمد بشیر اور نزیر میں اپ کی وجہ تسمیہ کی
ہے تو اپ نے فرمای اکہ میرا نام
محمد اسلئے ہے کہ میں زمین محمد ہوں اور میرا نام احمد اسلئے ہے کہ
میں اسمان مٰں احمد ہوں اور میرا
نام بشر اس لئے ہے کہ میں خدا کے
فرماں برداروں کوجنت کی خوشخبری دینے والا ہوں
اور میرا نام نزیر اس لئے ہے کہ میں
خدا کے نافرمانوں کو جہنم سے درانے والا ہوں اور حدیث مزکور کی توجہیہ بعض علماء
یہ بیان کرتے
ہیں کہ چونکہ عالم انوار میں حضرت
محمد مصطفے ٰ سب سے زیادہ اللہ کی
حمد وثنا بیان فرماتے تھے حتی کہ اسی نور
طاہر سے تمام فرشتوں نے تسبیح وتقدیس
وتحمید وتحلیل پروردگار کا درس سیکھا
اسلئے اسمانوں میں انکو احمد کہا گیا اور جب زمین پر تشریف لائے تو خدا نےاپنی
برگزیدہ مخلوق میں سے
جس قدر محمد مصطفے ٰ کی تعریف وتوصیف بیان کی اتنی کسی اور کے لئے ثابت
نہیں ہے تو یہ زمین میں محمد ٹھہرے گویا
انوار میں وہ احمد ہیں اور عالم اجسام میں وہ محمد ہیں
خداوندکریم نے عیسیٰ کی بشارت کا
ذکر فرمایا کہ انہوں نے
حضور کی امد کی خوشخبری اپنی قوم
کو سنائی لیکن حضورؐ
کی تشریف اوری کے بعد عیسائیوں
نے اس کو جادو گر کہہ کر ٹال دیا اور ایمان کی دولت سے بہرہ ور نہ ہوسکے اور تفسیر برہان میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول
ہے کہ حضرت موسیٰ
علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو حضرت محمد مصطفےٰ
کی امد کی پیشین گوئی کی تھی
چنانچہ قران مجید میں اس کا صاف
اعلان دوسری جگہ موجود ہے کہ یہود
ونصار دونو کو سرزنش کرتے ہوئے فرماتاہے
یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ
والانجیل یعنی اہل کتاب حضرت محمد مصطفے ٰ کے نام اور ان کے اوصاف کو تورات وانجیل میں لکھا ہوا
دیکھتے ہیں اور پھر ازراہ عناد اس کی مخالفت کرتے
ہیں اور ان کے معجزات کوجادو
کہہ کر ٹال دیتے ہیں چنانچہ انکے انصاف کش
رویے کی ندمت فرماتے ہوئے اگلی ایت میں فرمارہاہے کہ ان
سے زیادہ ظالم اور کون ہوسکتاہے کہ ان
کو اسلام اور دین حق کے قبول کرنے کی دعوت دی جارہی ہے جس کی پیشین گوئی
اپنے انبیاء سے سن چکے
ہیں پھر وہ اللہ پر جھوٹا
افترا باندھتے ہوئے اس کو
ٹھکراتے ہیں اور ان کے معجزات کو جادو سے تعبیر کرکے عوام الناس کے لئے دین
حق سے دوری کے موجب بنتے ہیں
حضرت قائم آل محمد
کی آمد واللہ متم نورہ
خداوندکریم اس نور نبوت اور ہدایت کو پورا کرے گا اور دین اسلام
کو تمام اویان باطلہ پر غلبہ
عطا فرمائے گا اور اس پیشین گوئی سے مراد قائم ال محمد
عج علیہ السلام کی امد کازمانہ ہے
تفسیر برہان میں حضرت
امیرالمومنین علیہ السلام سے مروی ہے
کہ اپ نے فرمایا مجھے اس ذات
کی قسم جس کے قبضہ قدرت
میں میری جان ہے ایک وقت ائے گا کہ زمین
پر اباد ہونے والی ہر چھوٹی سے
چھوٹی بستی میں
بھی صبح وشام توحید ورسات کی شہادت کی اوازیں بلند ہوں گی
ایک دوسری روایت میں ابن عباس سے منقول
ہے کہ دنیا میں کوئی یہودی ونصرانی بلکہ کوئی صاحب مذہب ایسا نہ رہے
گا جو اسلام کے دامن سے وابستہ نہ
ہوگا اور امن اس قدر عام ہوگاکہ
بکری بھیڑ یاگائے شیر اورانسان وسانپ ایک
دوسرے سے مانوس ہوجائیں گے حتیکہ چوہا بھی کسی چیز کو کاٹ کر نقصان نہ پہنچائے گا کسی پر کوئی ٹیکس نہ ہوگا
صلیبیں توڑ دی جائیں گی اور خنزیر
کو قتل کیاجائیگا اور یہ
سب کچھ اس وقت ہوگا جب
حضرت قائم اۤل محمد تشریف لائیں گے
ایک روایت میں ہے کہ کوئی بھی غیر اللہ کے
پوجنے والا نہ ہوگا اور زمین عدل وانصاف
سے اس طرح پر ہوگی جس طرح کہ ظلم وجور سے پر ہوچکی ہوگی اور اللہ کے نور کے
پورا ہونے سے مراد حضرت قائم آل محمد
کا ظہور ہے اللھم عجل فرجہ
تفسیر برہان
میں ایت مزکورہ کے ذیل
میں حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ
ایک دن حضرت رسالتماب منبر
پر تشریف لے گئے اور فرمایاکہ خدا نے زمین پر نظر انتخاب
ڈالی تو میرے بھائی وزیر وارث وصی
اور خلیفہ ہونے کے لئے
علیؑ کو چنا تو وہ میرے بعد ہر مومن کا دوست ہے پس
جو اسکا دوست ہوگا اللہ کا دوست ہوگا اور جو اس کا دشمن ہوگا اللہ کا دشمن ہوگا
جو ان سے محبت رکھے گا اللہ ان سے محبت رکھے گا اور جو ان
سے بغض کرے گا اللہ اس کو مبغوض
قرار دے گا اور علی سے محبت نہکرے گا مگر
مومن اور بغض نہ کرے گا مگر کافر یہ میرے بعد زمین کا
نور اور ستون ہوگا اور
وہکلمتہ التقویٰ اور العروۃ الوثقیٰ
ہوگا پھر اپ نے یہی ایت ولوکرہ الکافرون تک پڑھی
اور فرمایاکہ جو حاضرین ہیں وہ غائبین
تک میری بات پہنچا دیں کہ خدا
نے پھر زمین پر نظر انتخاب ڈالی اور علیؑ کی اولاد
میں سے گیارہ اماموں کو چن
لیا جو یکے بعد دیگرے ہادی ومہدی
ہونگے انکو چھوڑنے والا انکو نقصان نہ پہنچا سکے گا یہ زمین
پر خدا کی حجت ہوں گے اسکی مخلوق
پر گواہ ہوں گئے انکا مطیع اللہ
کا مطیع اور ان کانافرمان اللہ
کانافرمان ہوگا وہ قران کے ساتھ اور قران
انکےساتھ ہوگا قران
سن سے جدا نہ ہوگا اور وہ
قران سے جدا نہ ہونگے یہانتک
کہ کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے
رکوع 10 ومساکن طیبتہ
حضرت نبی کریمؐ
سے مروی ہے کہ جنت میں ایک
محل ہوگا جسمیں ستر گھر یاقوت سرخ کے
ہوں گے ہر گھر میں ستر کمرے زمرد سبز
کے ہوں گے ہر کمرے میں ستر تخت اور ہر تخت پر ستر ستر
بسترہ ہوگا اور ہر بستر پر ایک حور
ہوگی اسی طرح ہر کمرہ میں ستر ستر وسترخوان ہوں گے اور ہر دسترخوان پر ستر ستر
قسم کے لذیذ کھانے موجود
ہوں گے اور ہر کمرے
میں ستر ستر ملازم اورکنیزیں
خدمت گاری کے
لئے حاضر ہوں گے اور
مومن کو خدا اس قدر طاقت دے گا کہ ہر
قسم کی لذت سے وہ
بہرہ اندوز ہوسکے گا
نصر من اللہ یعنی ایمان لانے والوں
اور جہاد کرنے والوں کے لئے اخروی کامیابی کے علاوہ دنیاوی کامیابی
بھی نصیب ہوگی اور وہ
یہ کہ جہاد میں اللہ ان کا ناصر ہوگا اور ان کو فتح نصیب ہوگی اور یہ تمام فتوحات اسلامیہ کی پشیین گوئی
ہے
للحوایین ان کی وجہ تسمیہ کے متعلق دو قول
ہیں ایک یہ کہ وہ مخلص تھے
اور ہر عیب سے منزہ تھے لہذا انکو اس نام
سے یاد کیا گیا یایہ کہ
وہ صفائی پسند تھے دھلاہوا
لباس پہنا کرتے تھے اس
لئے انکا یہ نام رکھا گیا ہے اور
حضرت عیسیٰ کے بعد نصاری کے تین گورہ ہوگئے ایک گروہ نے
کہاکہ وہ خدا تھا اور اوپر
چلاگیا دوسرے گروہ نے کہاکہ خدا کا بیٹا تھا اور بلا لیا گیا اور تیسرے گروہ نے کہاکہ نہ خدا تھا اور نہ خدا کا بیٹا تھا بلکہ اللہ کا بندہ اور اسکی برحق رسول تھا پس پہلے دونو گروہ کافر
ہوگئے اور تیسرا گروہ مسلمان
اور مومن رہا اورکافر گروہوں نے مومن گروہ کو مغلوب کرلیا
لیکن جب اسلام کا چرچا ہوا تو مومن گروہ کافروں
پر غالب اگیا اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
نے فرمایا کہ عیسیٰ کے حواری عیسیٰ کے شیعہ تھے
اور ہمارے حواری ہمارے شیعہ
ہیں اور عیسیٰ کے حواریوں
نے یہود کے شر سے بچانے کے لئے
عیسیٰ کی کوئی مدد نہ کی لیکن ہمارے شیعوں کو جلایا جائے
عذاب دیاجائے جلاوطن
کیاجائے اور ہر ممکن طریقہ سے ان کو ستایاجائے تاہم
وہ ہماری نصرت سے کنارہ کشی نہ کریں
گے اور حضرت امیرالمومنین علیہ السلام
نے فرمایا اگر ہمارے شیعوں کو تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے
کیاجائے تب بھی
ہماری محبت سے کنارہ کشی نہ کریں گے
شیعان علیؑ
اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں
کہ شیعان علیؑ نے ہر نزک دور میں اپنے اوپر ہر قسم کے مظالم
سہے لیکن کبھی سخت سے سخت
تر حالات میں بھی حضرت علی علیہ السلام کی ولا کے
پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیا
چنانچہ امیرشام معاویہ بن ابی سفیان
کے سرکاری ارڈی ننس کے ماتحت جب حضرت علی ؑ کو سب کرنا
ایک سنت جاریہ بن گیا تھا تو شیعان
علی پر کیاگذرتی ہوگی اس کا ادنیٰ
سانمونہ علامہ مودودی کی زبان سنئے جب حجر بن عدی ودیگر شیعان علیؑ کو گور نر کوفہ نے گرفتار کرکے معاویہ کے پاس
بھیجا تو اس نے انکے قتل کا حکم دیدیا
قتل سے
پہلے جلادوں نے ان کےسامنے
جوبات پیش کی وہ
یہ تھی کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم
حضرت علی سے برات کا اظہار کرو اور
ان پر لعنت بھیجو تو تمہیں
چھوڑدیا جائے ان لوگوں نے اس بات
کے ماننے سے انکارکردیا اور حجر نے کہا میں زبان
سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو
ناراض کرے اخرکار وہ اور انکےسات ساتھی قتل
کردیئے گئے خلافت وملاکیت
بہر کیف کتب سیر کے
مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جوار استبداء کی جس چکی
میں شیعان علیؑ کو پیسا جاتا رہا اور ظلم کے جس شکنجے میں جکڑ کر
انکا خون چوساجاتا رہا مسلمانوں
کی تاریخ کے صفحات پر انسانیت
سوزی کا یہ سیاہ کارنامہ
تاقیامت مثبت رہے گا
تاہم وحشت خیز ودہشت انگیز مظالم کی وادی
سے کرراہی جنت ہونیوالے
شیعان علیؑ نے انے والی نسلوں کے
لئے اپنے قابل فخر
کردار کو اساہی دستور بنادیا جو تاقیامت
شیعان علیؑ کے لئے مشعل راہ
کی حیثیت رکھتاہے
Leave a Reply