anwarulnajaf.com

سورة الغاشية (88) — al-Ghashiya — The Overwhelming Calamity — الغَاشِیْۃِ

سورة الغاشية (88) 
 
al-Ghashiya    The Overwhelming Calamity  الغَاشِیْۃِ

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ (1)
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ (2) عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ (3) تَصْلَى نَارًا
حَامِيَةً (4) تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ (5) لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن
ضَرِيعٍ (6) لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ (7) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ
نَّاعِمَةٌ (8) لِسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ (9) فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ (10) لَّا
تَسْمَعُ فِيهَا لَاغِيَةً (11) فِيهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌ (12) فِيهَا سُرُرٌ
مَّرْفُوعَةٌ (13) وَأَكْوَابٌ مَّوْضُوعَةٌ (14) وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌ (15)
وَزَرَابِيُّ مَبْثُوثَةٌ (16) أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ
خُلِقَتْ (17) وَإِلَى السَّمَاء كَيْفَ رُفِعَتْ (18) وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ
نُصِبَتْ (19) وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ (20) فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ
مُذَكِّرٌ (21) لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ (22) إِلَّا مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ
(23) فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَ (24) إِنَّ إِلَيْنَا
إِيَابَهُمْ (25) ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (26)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے ( شروع
کرتا ہوں )
کیا تیرے پاس قیامت کی خبر پہنچی ہے؟ (1)
اس دن چہرے چھکے ہوئے ہوں گے (2) عمل کرنیوالے 
اور مشقت اٹھانے والے ہونگے(3) سخت آگ میں جلیں گے (4) سخت گرم چشمے سے
سیراب کئے جائیں گے (5) ان کے لئے کھانا نہ ہوگا مگر ضریع سے (6) جو نہ موٹا کرے
گی اور نہ بھوک کو ختم کرے گی (7) کئی چہرے اس دن خوشحال ہوں گے (8) اپنے اعمال
راضی ہوں گے (9) بلند جنت میں ہوں گے (10) کہ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے (11)
اس میں چشمہ جاری ہو گا (12) اس میں تخت بلند ہوں گے (13) اور پیارے رکھے ہوئے ہوں
گے (14) اور صف بہ صف قالین بچھے ہوں گے (15) اور غالیچے پھیلے ہوئے ہوں گے (16)
کیا ( یہ منکر لوگ) اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیدا کیا گیا (17) اور آسمانوں
کو کس طرح بلند کیا گیا (18) اور پہاڑوں کو کس طرح نصب کیا گیا (19) اور زمین کو
کس طرح بچھایا گیا ؟ (20) (اگر غور کرتے تو ایمان لاتے ) پس تم نصیحت کرو تمہار
کام نصیحت کرنا ہی ہے (21) تم ان پر چوکیدار نہیں ہو (22) لیکن جو شخص پیچھے ہٹے
گا اور کافر ہو گا (23) تو اس کو عذاب دے گا اللہ برا عذاب (24) تحقیق ہماری طرف
ان کی بازگشت ہے (25) پھر ہم پر ان کا حساب ہے (26)

سورہ الغاشیہ 

·       یہ سورہ  مکیہ ہے جو سورہ الذریات کے بعد
نازل ہوا ۔
·       اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر ستائیس
بنتی ہے۔ 
·       حدیث نبوی میں ہے جو اس کی تلاوت کرے گا اس کا
حساب آسان ہو گا ۔
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ نے فرمایا جو شخص اپنے
فرائض و نوافل میں سورہ الغاشیہ  کو ہمیشہ پڑھتا رہے ۔ خداوند کریم دنیا و
آخرت میں اس کی اپنی  رحمت سے ڈھاپنے گا
اور بروز محشر اس کو عذاب جہنم سے سے امان عطا فرمائے گا۔
·       حدیث نبوی میں ہے کہ اگر یہ سورہ کسی  بچے
پر پڑھی جائے خواہ انسان کا بچہ ہو یا حیوان کا بچہ ہو اور وہ روتا یا ڈرتا
ہو  تو اس سورہ مجیدہ کی برکت سے اس میں سکون آ جائے گا۔
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  نے
فرمایا اگر یہ سورہ درد کرنے والی ڈاڑھ پر پڑھا جائے تو اس کا درد ساکن ہو جائے گا
باذن اللہ اور اگر کھانے کی چیز پر اس کو پڑھا جائے تو اس کے برے اثرات سے محفوظ
رہے گا اور سلامتی پائے گا۔
رکوع نمبر 13 ۔
الغاشیہ ۔ چھا جانے والی اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے اس کے بعد قیامت کی سختی
کا تذکرہ ہے کہ اس دن کی سختی  اور شدت کی وجہ سے لوگوں کے چہرے جھکے ہوئے
ہوں گے ۔
عاملۃ ناصبۃ۔ اس
کا ایک معنی تو یہ کیا گیا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں برے اعمال
کئے اور وہ آخرت میں جہنم کی سختی جھیلیں گے پس وہ عامل تھے دنیا میں اور ناصب ہوں
گے قیامت کے دن اور دوسرا معنی یہ ے کہ اس سے اہل بدعت اور باطل مذاہب والے لوگ
مراد ہیں  جنہوں  نے دنیا میں اعمال
کیے لیکن حق سے نصب و عداوت رکھتے تھے چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
منقول ہے کہ ہمارے ساتھ نصب و عداوت کرنے والا خواہ کس قدر عبادت کرے وہ اس آیت کا
مصداق ہے پس آگ میں جلے گا۔ 
عین انیۃ ۔ آنیۃ
کا معنی سخت گرم ہے ۔
ضریع ۔ یہ ایک
ایسی گھاس ہے جس کو سوائے اونٹ کے کوئی جانور نہیں کھاتا اور اس میں کانٹے بھی
ہوتے ہیں اور قیامت کے دن جہنمیوں کو جو ضریع کھلائی جائے گی وہ کانٹے دار ، بد
بودار  اور سخت گرم ہو گی اور مروی ہے کہ خدا جہنمیوں پر بھوک بھیجے گا اور
اس کےبعد ان کو ضریع کی غذا دی جائے گی اسی طرح ان پر پیاس کو غالب کرے گا اور ایک
ہزار سال کی پیاس کے بعد ان کو آنیہ سے سیراب کرے گا کہ نہ بھوک مٹے گی اور نہ
پیاس بجھے گی اور عذاب سخت سے سخت تر ہو گا۔ 
وجوہ یومیذ
ناعمۃ۔ یعنی خوش خوش ہوں گے بعض چہرےکہ ان پر نعمات پروردگار  کا اثر ظاہر ہو
گگا اور وہ دنیا میں کئے ہوئے اعمال اور مساعی جمیلہ پر راضی ہوں گے تفسیر برہان
میں ابن بابویہ کی بشارات الشیعہ سے منقول ہے کہ ایک دن حضرت امام جعفر صادق علیہ
السلام قبر رسول اور منبر کے درمیان اپنے صحابہ میں فرما رہے تھے کہ میں تمہارے ارواح
اور تمہاری اچھی شہرت کو محبوب رکھتا ہوں پس تقوٰی و اجتہاد سے ہماری مدد کرو اور
یاد رکھو کہ ہماری ولایت تقوٰی و اجتہاد کے بغیر حاصؒ نہیں ہو سکتی اور تم میں جو
بھی کسی کو اپنا امام سمجھے اسے چاہیے کہ اس کی پیروی کرے تم اللہ کا گروہ اور
اللہ کے انصار  ہو تم اسابقون الاولون ہو کہ دنیا میں ہماری ولایت کی طرف تم
نے سبقت کی اور آخرت میں جنت کی طرف سبقت کرو گے میں اللہ و رسول کی جانب سے
تمہاری جنت کا ضامن ہوں تم پاکیزہ ہو اور تمہاری عورتیں بھی پاکیزہ ہیں ہر مومن
عورت حور ہے اور ہر مومن مرد صدیق ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا تم
کو خوشخبری ہو کہ رسول کریمؐ تمام امت میں سے صرف شیعوں پر ہی راضی ہر کر گئے ہیں
یاد رکھو ہر شی کے لئے عروہ ہو تا ہے اور دین کا عروہ شیعہ میں ہر شئی کےلئے شرف
ہوتا ہے اور دین کا شرف شیعہ ہیں ہر شے کے لئے سردار ہوتے ہیں اور مجالس کی سردار
شیعہ کی مجالس ہیں اسی طرح ہر شی  کا امام ہوتا ہے اور زمینوں کی امام وہ
زمین ہے جس میں شیعہ آباد  ہوں اور ہر شی
کی خواہش ہوتی ہے اور دنیا کی خواہش شیعوں کی آبادی سے پوری ہوتی ہے آخر میں
فرمایا کہ جنت میں تمہارے مخالفین کا کوئی حصہ نہیں ہے خواہ کس قدر ہی اعمال کیوں
نہ بجا لائیں وہ عاملۃ ناصبۃ کے مصداق ہیں اور اہلبیت کی روایات میں ہے وجوہ یومیز
ناعمۃ شیعان آل محمدؐ کے حق میں ہے اور عاملۃ ناصبۃ  ناصبیوں کے حق میں ہے۔
سرر ۔ یہ سریر کی
جمع ہے اور خوشی و سرور کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے اور مراد تخت ہیں
اور بلند اس لئے ہونگے تا کہ تمام لوگ دیکھیں کہ ان لوگوں کی شان اللہ کے نزدیک کس
قدر بلند ہے اور وہ تخت زبر حد یاقوت اور دیگر موتیوں سے جڑے ہوئے ہوں گے ۔ 
اکواب ۔ یہ کوب
کی جمع ہے یعنی پیالہ اور مقصد یہ ہے کہ چمہ ہالے جنت کے کناروں پر جنتی مشروب سے
پر پیالے موجود ہونگے ۔
افلا ینظرون ۔
دوزخیوں کے عذاب اور جنتیوں کی نعمات بیان فرمانے کے بعد پھر ایک مرتبہ کفار کو
دعوت فکر دی ہے کہ حشر و نشر کے انکار کرنے والو ذرا اونٹ کی تخلیق میں غور کرو
اور یہ سوچو کہ اس قدر بڑی قد و قامت والے جانور کو کس ذات نے تمہارے لئے مسخر کر
دیا اور اس کے منافع میں غور و فکر کرو اس کے علاوہ آسمان کی تخلیق  اور اس
کی بغیر ستونوں کی بقا اور پھر پہاڑوں کا وجود اور اس کی سربفلک چوٹیاں اسی طرح
زمین کا پھیلاؤ اور اس کی آبادیاں پس ان تمام چیزوں میں غور و فکر کرنے کے بعد تم
خود آسانی سے اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہو کہ وہ خدا جو ان تمام چیزوں کا خالق اور
مدبر ہے وہی لائق عبادت ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ دوبارہ زندہ کر کے جزا
و سزا دینے پر بھی قادر ہے ۔

جنت و نار کا
قسیم علیؑ ہے۔

ان الینا ایابھم
۔ جابر سے منقول ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا جب بروز قیامت
خدا اولین و آخرین کو جمع کرے گا تو سب سے پہلے حضرت رسالتمابؐ کو حلہ بہشتی
پہنایا جائے گا اور اس کے بعد حضرت علیؑ  کو بھی پنایا جائے گا اس کے بعد ہم
کو حاضر کیا جائے گا۔ اور لوگوں  کو حساب
ہمارے حوالے کیا جائے گا پس خدا کی قسم ہم ہی جنتیوں کو جنت میں  اور دوزخیوں 
کو دوزخ میں داخل کریں گے باقی تمام انبیاء کو دوصفوں میں عرش کے پاس
ٹھرایا جائے گا یہاں تک کہ لوگوں کا حساب ختم ہو گا جب تمام لوگ اپنی منازل میں
پہنچ جائیں گے تو بحکم خداوند کریم حضرت علیؑ جنتیوں کی جنت میں شادی کریں گے اور
یہ اللہ کی طرف سے حضرت علیؑ کی فضیلت  ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے پس
علیؑ ہی دوزخیوں کو دوزخ میں بھیجے گا اور بہشتیوں کو بہشت کے دروزوں سے داخل کرے
گا اور دوزخ اور بہشت کے دروازوں کی چابیاں حضرت علی علیہ السلام کے پاس ہوں گی ۔
تفسیر برہان میں
اس معنی کی روایات بکثرت وارد ہیں کہ معصوم نے فرمایا بروز قیامت ہمارے شیعوں کا
حساب ہمارے ذمہ ہو گا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ کل امۃ
یحاسبھا امام زما بھا یعنی قیامت کے روز ہر امت کا حساب اس کا امام زمانہ لے گا
اور زیارت جامعہ میں صاف طور پر ہے فایاب الخلق الیکم و حسابھم علیکم یعنی لوگوں
کی بازگشت تمہاری طرف ہو گی اور ان کے حسب بھی تمہارے ذمہ ہوگا اور حضرت امیر
المومنین علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جب بروز محشر حساب ہوگا اور
اپنے شیعوں کا حساب ہمارے حوالے کیا جائے گا تو ان پر جو حقوق اللہ ہوں گے تو ان
کے متعلق ہم حکم جاری کریں گے اور خدا منظوری دے دیگا اور جو حقوق الناس ہوں گے وہ
بھی ہم معاف کرادیں گے اور جو حقوق ہمارے متعلق ہوں گے وہ ہم خود معاف کردیں گے
اور دوسری روایت میں ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہوں گے ہم جہاں بھی ہوں گے ۔


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *