بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَالْفَجْرِ (1) وَلَيَالٍ عَشْرٍ (2) وَالشَّفْعِ
وَالْوَتْرِ (3) وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ (4) هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِّذِي
حِجْرٍ (5) أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ (6) إِرَمَ ذَاتِ
الْعِمَادِ (7) الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (8) وَثَمُودَ
الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ (9) وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ (10)
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ (11) فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ (12)
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (13) إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ
(14) فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ
فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ (15) وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ
عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ (16) كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ
الْيَتِيمَ (17) وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (18) وَتَأْكُلُونَ
التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا (19) وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (20) كَلَّا
إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا (21) وَجَاء رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا
صَفًّا (22) وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ
وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى (23)يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (24)
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ (25) وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ
أَحَدٌ (26) يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى
رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي
جَنَّتِي (30)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں)
فجر کی قسم (1) دس راتوں کی قسم (2) شفع اور وتر کی قسم
(3) رات کی قسم جب گزرتی ہے (4) کیا اس میں قسم ہے صاحب عقل کے لئے (5)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ (6) ارم جو
ذات العماد تھا (7) جس کی طرح شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا (8) اور ثمود
جنہوں نے وادی کے پتھروں کو چیرا (9) اور فرعون جو صاحب اوتاد تھا
(10) جنہوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس شہروں میں کافی فساد پھیلایا
(12) پس تیرے رب نے ان پر عذاب کے تازیانے برسائے (13) تحقیق تیرا رب گھات میں ہے
(14) بہر حال جب انسان کو اپنا رب آزمائش میں ڈالے پس اس کو نعمت و کرامت بخشے تو
وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے کرامت بخشی (15) اور لیکن جب اس کو آزمائش میں
ڈالے اور اسکا رزق تنگ کر دے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا ہے (16) یہ
ہر گز نہیں بلکہ تم یتیم کا اکرام نہیں کرتے ہو (17) اور نہ یتم کو کھلانے پر ایک
دوسرے کو اکساتے ہو (18) اور تم میراث کو کھاتے ہو بے تحاشا کھانا (19) اور مال کو
پیار کرتے ہو سخت محبت کے ساتھ (20) ایسا ہرگز نہین ہونا چاہیے جب کوٹ کر زمین کو
ہموار کیا جائے گا پوری طرح (21) اور ( حکم پروردگار آئے گا اور فرشتے
صف بصف آئیں گے (22) اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن نصیحت لے گا
انسان اور اس کو نصیحت کا کیا فائدہ (23) کہے گا ہائے کاش! اس زندگی کے
لئے میں نے کچھ عمل بھیجا ہوتا (24) پس اس دن (اس قدر دیگا) کہ کوئی بھی اس کی سزا
جیسی سزا نہیں دے سکتا (25) اور نہ اس کی گرفت کی طرح کوئی گرفت کر
سکتا ہے (26) اے مطمءن نفس! (27) پلٹ جا اپنے رب کی نعمات کی طرف راضی ہو کر اور
رضا پاکر (28) پس میرے بندوں میں داخل ہو جا (29) اور میری جنت میں
داخل ہو جا (30)
سورہ الفجر
· یہ
سورہ مکیہ ہے اور اس کی آیات بسم اللہ کو ملا کر اکتیس ہیں ۔
· حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اس سورہ کو فرائض و نوافل میں
پڑھا کرو کیونکہ یہ امام حسین علیہ السلام کی سورت ہے اور جوشخص اس کو پڑھے
گا وہ بروز محشر حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جنت میں ہو گا اور اللہ عزیز
و حکیم ہے ۔
· حدیث
نبوی میں ہے جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا اس کے پڑھنے والوں کی تعداد سے دس گنا اس
کے گناہ معاف ہوں اور قیامت کے دن اس کو نور عطا ہو گااور جو شخص اس سورہ کو
لکھ کر اپنی کمر کے ساتھ باندھ کر اپنی حلال عورت سے ہمبستری کرے گا
خدا اس کو فرزند عطا کرے گا جو اس کی آنکھ کی ٹھنڈک ثابت ہو گا اور دوسری
روایت میں ہے باعث برکت ہو گا۔
· ایک
روایت میں ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص
اس سورہ کو صبح کے وقت پڑھے تو دوسری صبح تک ہر شی سے سے باامن رہے گا
(برہان)
رکوع نمبر 14۔ والفجر ۔ اس کی تفسیر میں چند اقوال ہیں (1)
فجر سے مراد محرم کی فجر ہے اور اس کے بعد دس راتیں ہیں (2) فجر سے مراد
قربانی کے دن کی صبح اور اس سے پہلے کی دس راتیں (3) فجر سے مراد مطلق صبح
اور دس راتوں سے مراد ماہ رمضان کی آخری دس راتیں (4) حضرت
موسیٰ علیہ السلام کی دس راتیں جو کہ کوہ طور پر تتمہ کے
طور پر اضافہ کی گئی تھیں ۔
والشفع والوتر ۔ اس میں بھی چند اقوال ہیں (1) شفع سے مراد
ہر جوڑا اور وترے مراد ہر ہرد ہے (2) شفع سے مراد تمام مخلوق اور وتر سے
مراد خود ذات واجب الوجود ہے (3) اس سے مراد نماز شب کی شفع اور وتر کی رکعتیں ہیں
(4) شفع سے مراد یوم نحر اور وتر سے مراد یوم عرفہ ہے (5) شفع سے مراد عام دن
راتیں اور وتر سے مراد قیامت کا دن ہے (6) شفع سے مراد علیؑ و فاطمہؑ اور وتر سے
مراد نبی کریم ہے (7) شفع سے مراد صفا و مروہ ہے اور وتر سے مراد خانہ کعبہ ہے ۔
تاویل آیات
تفسیر برہان میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول
ہے کہ فجر سے مراد حضرت قائم آل محمد عسکری علیہ السلام تک دس امام ہیں جو
ظلم و جور کی تاریکیوں میں وقت گزار گئے اور شفع سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ
السلام اور جناب فاطمہ زہر سلام اللہ علیھا ہیں اور وتر سے مراد حضرت محمدؐ مصطفیٰ
ہیں الحدیث اور ایک روایت میں ہے کہ شفع سے مراد حضرت رسالتمابؐ اور امیر المومنین
ہیں اور وتر سے مراد ذات واجب الجود ہے ۔
واللیل اذایسر ۔ بالعموم ہر رات کے گزرنے کی قسم ہے کیونکہ
اس میں حکمت و صنعت پروردگار کی طرف توجہ کرنے اور فکر کرنے کا درس ملتا ہے اور اس
کی تاویل ظالم حکومتوں کے ختم ہونے اور عدل کا دن طلوع ہونے سے کی جا سکتی ہے۔
ھل فی ذالک ۔ یہ سوالیہ فقرہ ہے کہ کیا ان امور مذکورہ کے
ساتھ قسم کھانے سے صاحبان عقل کو اطمینان ہو سکتا ہے ؟ یہ بیان مذکور کو مزید زور
دار کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے اور مقصد یہ ہے کہ صاحبان عقل و دانش امور مبینہ
میں اگر غور کریں تو ان کو ضرور توحید پروردگار کی طرف صحیح راستہ مل جائے
گا ۔
الم تر ۔ قسم اور جواب قسم کے درمیان پھر ایک جملہ معترضہ
کو استعمال کیا گیا تا کہ سامعین کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ جذب کیا جا سکے تا کہ
وہ منکرین کی گرفتاری عذاب سے عبرت حاصل کر کے دامن حق کے ساتھ وابستہ ہونے کی
جرات کر سکیں
بعاد۔ عاد کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ ان لوگوں کی عمر لمبی
تھیں اور اجسام بہت موٹے تازے اور طاقتوار تھے اور حضرت ہودؑ کی قوم تھی اور
ارم کے متعلق بعضوں نے کہا ہے کہ ان کے قبیلہ کا نام ہے اور کہتے ہیں کہ عاد
دو (2) تھے ایک عاد ارم جس کے متعلق دوسری جگہ ارشاد فرمایا اھلک عاد
الاولی اس نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور بعض کہتے ہیں کہ عاد کا دادا کا نام ارم
تھا اور ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے عاد بن خوص بن ارم بن سام بن نوح اور بعض
کا خیال ہے کہ ارم اس شہر کا نام ہے جس میں یہ قوم آباد تھی بعض نے دمشق کو ارم کہا
ہے اور بعض نے اسکندریہ کا نام لیا ہے اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ
ارم اس شہر کا نام ہے جس کو شداد نے تعمیرکرایا تھا اور بعض کہتے عاد کا لقب ارم
تھا اور لفظ ارم عاد کا بدل ہے یا عطف ہے اور ارم غیر منصرف ہے کیونکہ معرفہ اور
مونث ہے ۔
ذات العماد ۔ چونکہ ان کی قد و قامت دراز تھی اس لئے ان کو
ذات العماد کہا گیا ہے ان کی جسامت اور قوت کے متعلق مروی ہے کہ ان میں سے ایک
آدمی پتھر کی بہت بڑی چٹان کو اٹھا لیا کرتا تھا اور ایک پورے قبیلہ پر گرا کر اس
کو تباہ کر دیا کرتا تھا اور بعضوں نے ذات العماد کا معنی یہ لیا ہے کہ ان کے
مملات اور رہائش گاہیں پختہ اور مضبوط تھیں ۔
شداد کا واقعہ
تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ کعب الاحبار سے منقول ہے کہ وہ
شہر جس کا نام ارم ذات العماد ہے اس کو شداد ابن عاد نے تعمیر کرایا اور یہ عاد
اولی کا واقعہ ہے اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد اس عاد اولی کی نسل سے تھی
ہر کیف عاد اول کے بیٹے تھے شداد اور شدید باپ کے مرنے کے بعد یہ دونوں حکمران ہو
گئے اور شدید کے مرنے کے شداد ملک بھر کا بلکہ دنیا بھر کا واحد فرماں روا ہو گیا
کہ باقی تمام زمین کے حکمران اس کے زیر نگیں کام کرتے تھے چنانچہ اس نے انبیاء کی
تبلیغ کو فیل کر کے بعد لوگوں سے اپنی خدائی منوانے کی خاطر بہشت کی تعمیر کا
منصوبہ بنایا اور خدائے وحدہ کے مقابلہ میں اس سرکش و ظالم بادشاہ نے لوگوں کی
گمہراہی کے لئے یہ نیا جال تیار کرنے کا ڈھونگ رچایا چنانچہ شہر ارم ذات العماد کا
نقشہ تیار کیا گیا اور اسی منظور شدہ نقشہ پر تعمیر کو پائی تکیمیل تک
پہنچانے کے لئے اس نے ایک سو اعلٰی درجہ کے ماہرین فن معماروں کی خدمت
حاصل کیں اور ہر معمار کے ماتحت ایک ایک ہزار کارندے معین کئے اور گرد ونواح کے
تمام چھوٹے بڑے حکمرانوں کو سونا چاندی اور زرد جواہرفراہم کرنے کا آرڈر جاری کر
دیا چنانچہ سونے اور چاندی کی اینٹوں سے منظور شدہ نقشہ کے مطابق کمرہ جات بننے
شروع ہوئے اور سہ منزلہ عمارتیں نہایت عمدہ ترتیب و وضع کے ساتھ بنتی گئیں ہر ہر
منزل کا دروازہ شہر کے بڑے دروازہ کی مثل تھا اور درمیان میں عالیشان سڑکیں تھیں
جن پر تعمیر ہونے والے دو طرف مکانات کے دروازے بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل تھے
ان کے فرش زعفران و کستوری سے مخلوط کئے گئے تھے اور ان میں موتیوں کی جڑاوت نہایت
اچھے طریقہ سے ہوئی تھی اور یہ سڑک کے کناروں پر دو طرفہ پھلدار درخت کاشت کئے گئے
اور پختہ نہریں اور پانی کی نالیاں جاری کر دی گئی اور جن نالیوں سے پانی گھروں تک
پہنچایا گیا وہ سب خالص چاند کی تھیں نیز زبر جد اور یاقوت کی نہایت اچھی ترتیب و
تنظیمس ے جڑاوٹ مکانوں اور گلی کوچوں کی خوبصورتی میں سونے پر سہاگہ کا کام دیتی
تھی۔ پورے شہر کے اردگرد ایک مضبوط فصل تیار کی گئی جس کی گولی سڑک (سرکلر روڈ) کے
بیرونی کنارے سے متصل چوگرد ایک ہزار عمدہ محلات تعمیر کرائے گئے تا کہ شہر کی
رونق و زینت دوبالا ہو جائے اور سالہا سال اس شہر کی تعمیر پر خرچ ہوئے اور بے
انداز دولت صرف ہوئی جب شداد کو شہر ارم کی تعمیر کی اطلاع پہچی تو وہ اپنے پورے
لشکر اور جاہ و جلال کے ساتھ شہر ارم کی سیر کو تیار ہوا لیکن آسمان سے بجلی گری
اور اس شہر میں داخل ہونے سے پہلے وہ واصل جہنم ہو گیا اور ایک روایت میں میں نے
دیکھا ہے کہ شہر کے بڑے دروازہ کا ایک تختہ جو یاقوت احمر کا مطلوب تھا اس کو پوری
مملکت سے دستیابب نہ ہو سکا تو حضرت جبرئیل بحکم پروردگار بشکل تاجر یاقوت احمر کا
تختہ لایا اور وہ پورا بہشت اس کی قیمت میں مانگا بادشاہ نے چوتھائی تہائی نصف تک
دینے کی رضامندی ظاہر کی لیکن جبریل نے نہ مانا آخر پورا بہشت دینے پر سودا ہو گیا
جب دروازہ نصب ہو گیا اور بادشاہ نے اندرجانے کا ارادہ کیا تو تو جبریل نے حقوق
مالکانہ کی بناء پر روک دیا کہ آپ میری اجازت کے بغیر اندر نہیں جا سکتے اس لئے کہ
آپ اس کو میرے ہاتھوں بیچ چکے ہیں بادشاہ نے زبردستی داخل ہونے کا ارادہ کیا تو
قہر خدا کی بجلی نازل ہوئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔
تفسیر مجمع البیان میں مروی ہے کہ معاویہ کی حکومت کے زمانہ
میں عبداللہ بن قلابہ نامی ایک شخص اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں نکلا اور عدن کے
جنگلات میں پھرتے پھرتے وہ اس عجیب و غریب شہر میں آ پہنچا اور یاقوت سفید و
سرخ سے مرصع دروازوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا جب اندر داخل ہوا تو اس سو یہ شہر
انسان آبادی سے بالکل خالی نظر آیا پس اس نے دل میں خیال کیا کہ شاید یہ وہی جنت
ہے جس کا حضرت نبی کریمؐ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے ان مکانات میں زبر جد و
یاقوت و زرد جواہر اس مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے کہ یہ شخص کافی کوشش کے باوجود
کسی چیز کو اکھاڑ نہ سکا البتہ زعفران و مسک میں سے کچھ نہ کچھ اپنے ہمراہ
واپس لایا اور لوگوں کو اس شہر کی عظمت و خوبصورتی کی اطلاع دی چنانچہ
رفتہ رفتہ یہ خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے اس کو حاضر دربار ہونے کا حکم دیا پس
وہ حاضر دربار ہوا اور معاویہ نے کعب الاحبار کو بلا کر اس کے سامنے تذکرہ کیا تو
کعب الاحبار نے پورے واقعہ سے نقاب کشائی کی اور کہا کہ تیرے زمانہ میں ایک شخص
کوتاہ قد جس کے ابروپر داغ ہو گا اور گردن پر بھی ایک نشان ہو گا اپنے گم شدہ
اونٹوں کی تلاش کرتے کرتے اس شہر میں داخل ہو گا چنانچہ جب کعب نے دیکھا تو معاویہ
کے پہلو میں یہ شخص بیٹھا ہوا تھا کعب نے فوراً اس کو دیکھر کر کہ دیا کہ بخدایہ
وہی شخص ہے جس کے متعلق میں خبر دے رہا ہوں۔
وثمود الذین ۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود تھی جو
پہاڑوں میں پتھروں کو تراش کر اپنے گھر بناتے تھے ۔
و فرعون ۔ فرعون کو ذی الاوتاد اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ
ظالم اپنے مخالفین کو زمین پر لٹا کر اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں لوہے کے کیل ٹھونک
دیا کرتا تھا تا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے چنانچہ جب جادو گروں کے ایمان لانے کے
ساتھ ساتھ حضرت آسیہ بھی اپنے ایمان کا اعلان کر دیا تو اس دشمن خدا نے اس پاکباز
خاتون کو زمین پر سلا کر اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں بھی لوہے کے کیل ٹھونک دیئے
اور اس کی پشت پر ایک لوہے کی چکی ڈال دی پس اس کی روح پرداز گئی اور کہتے ہیں کہ
اللہ نے اس کی روح کو پہلے اٹھا لیا اور وہ لوگ مردہ جسم میں کیل ٹھونکتے
رہے اور اس کا قصہ اسی جلد میں ص ۔۔ پر گذر چکا ہے ۔
سوط عذاب ۔ یعنی وہ تازیانہ جس کے ساتھ ان کو سزا دی گئی وہ
عزاب کا تازیانہ تھا اور قصہ سابق جلدوں میں گذر چکا ہے ۔
لبالمرصاد ۔ گھات اور کمین گاہ کو مرصاد کہا جاتا ہے ۔ مقصد
یہ ہے کہ اللہ ان کے گرفتار کرنے پر اس طرح قادر ہے جس طرح کمین گاہ میں چھپ
کر بیٹھا ہوا انسان آنے والے غافل دشمن سے انتقام لینے پر قادرہوا کرتا ہے اور یہ
جملہ جواب قسم ہے ۔
فاما الانسان ۔ یعنی خدا وند کریم اپنی مصلحت و حکمت کے
ماتحت کسی کو رزق فراوانی سے دیتا ہے اور کسی کو غربت و افلاس دیتا ہے تو اس لئے
نہیں کہ اس نے دولت دی وہ اس کے اکرام و اعزاز کے لئے ہے اور جس کو غربت دی اس وہ
ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ یہ دونوں حالتیں انسان کا امتحان ہے پس دولتمند کو مال
دیکر اس کے شکر کا امتحان لیتا ہے اور فقیر کو تندستی میں مبتلا کر کے اس کے صبر
کا امتحان لیتا ہے۔
کلا۔ یعنی یہ بات ہر گز نہیں کہ میں کسی کو دولت اکرام کی
خاطر دیتا ہوں اور تنگدستی ذلت کے لئے دیتا ہوں کیونکہ اکرام اور ذلت کا معیار
میرے نزدیک اطاعت اور معصیت ہے پس جو شخص میرا اطاعت گزار ہے اور وہ میرے نزدیک
عزت دار اور مکرم ہے خواہ مفلس و نادار کیوں نہ ہو اور جو شخص میرا نافرمان
ہے وہ میرے نزدیک ذلیل اور بے عزت ہے خواہ دنیا دار و دولتمندی ہی کیوں نہ ہو۔
بل لا تکرمون۔ یعنی میرے نزدیک کسی کی تذلیل و توہین کا
معیار معصیت ہے نہ کہ غربت اور تمہاری معصیت یہ ہے کہ تم یتیموں کا احترام و اکرام
نہیں کرتے ہو اور یتیموں کا احترام و اکرام یہ ہے کہ ان کی سر پرستی کی جائے
اور ان کے مال کی نگرانی کی جائے اور حضورؐ نے فرمایا کہ یتیم کی تربیت
کرنے والے اور جنت کے درمیان انگشت سبابہ و وسطی کا فاصلہ ہے یعنی یتم کا سر پرست
بالکل جنت کے قریب ہے اور کفار میں دستور تھا کہ یتیموں کو وراثت سے محروم کر
کے ان کا مال خود کھا جاتے تھے لہذا ان کو سرزنش کی گئی ہے اور یتامیٰ کا حق
جتلایا گیا ہے تا کہ لوگ اس بارے میں احتیاط کریں ۔
و تاکلون التراث۔ اس جگہ بھی بالخصوص یتامٰی کی جائیداد و
وراثت پر غاصباہ تسلط کی مذمت کی گئی ہے کہ تم لوگ یتیموں کی وراثت کو با جاتے ہو
اور اس کو اس انداز سے کھاتے ہو کہ تمہیں حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے کا ہوش
بھی نہیں رہتا۔
کلا۔ معصیت سے روکنے کےلئے تنبیہ فرماتا ہے کہ تم کو ہرگز
ایسا نہیں کرنا چاہیے اور اس وقت کو مدنظر رکھو جب زمین کو ہموار کر دیا جائے یعنی
زمین کو پھیلا دیا جائے گا اور دکت کا معنی مدت کیا گیا ہے پس پہاڑوں اور میدانوں
کو ایک جیسا بنایا جائے گا ۔ یہ گھر محلات و، مکانات ٹیلے درخت پہاڑ وغیرہ سب ختم
ہونگے اور زمین چٹیل میدان کی طرح ہو گی ۔
جآء ربک ۔ چونکہ اللہ مکان نہیں رکھتا اور نہ وہ مکان کا
محتاج ہے اور آناجا اس کو لازم ہے جو مکان کا پابند ہو لہذا اس جگہ مقصد یہ ہے جب
پروردگار کا امر آئے گا یعنی اس کی حکومت کا دن ہو گا اور فرشتے صف بہ صف پیش ہوں
گے پس ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ الگ ایک صف ہو گی اور بعض نے کہا ہے کہ نماز
جماعت کی صفوں کی طرح فرشتوں کی آ گے اور پیچھے صفیں ہو گی ۔
وجآئ یومیذ ۔ اس دن جہنم کو لایا جائے گا کہ ہزار ہزار
فرشتے اس کو لانے والے ہوں گے اس کے شعلے بلند ہوں گے اور بڑے بڑے انگارے اڑ اڑ کر
ادھر ادھر پڑ رہے ہوں گے پس جہنم کی آواز بلند ہو گی اور خوف خدا سے اس کو بھی
لرزہ طاری ہو گا تو ارشاد خداوندی ہو گا کہ میں نے تجھے عذاب نہیں
کرنا بلکہ تیرے ذریعے سے اپنے دشموں کو عذاب کروں گا پس جہنم سجدہ خدا
بجا لائے گا اور اس کے دھوئیں سے محشر میں تاریکی پھیل جائے گی زبانیہ فرتے اس پر
موکل ہوں گے اور جہنم کے شعلوں اور اڑتے ہوئے چنگاروں کو دیکھ کر بنی مرسل ملک
مقرب اور دلی منتجب بھی کانپ جائیں گے اور ہر ایک کی نفسی نفسی کی صدا بلند ہو گی
اور حضورؐ کی زبان مبارک سے امتی امتی کا ورد جاری ہو گا اور تفسیر برہان کی ایک
حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جب تمام مخلوق کو محشور کیا جائے گا اس کی آواز کی
گرج اور بھڑکتے شعلوں کو دیکھ کر تمام مخلوق دہل جائیگی اور اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا
تو ساری مخلوق اس کو دیکھتے ہی دہل کر مرجاتی اور جب اس کے شعلے باہر نکلیں گے تو
تمام فرشتے اور انبیاء بھی نفسی نفسی کی صدا بلند کریں گے اور حضرت سلطان الانبیاء
امتی امتی کا نعرہ لگائیں گے ۔ پس دوزخ پر ایک پل بچھایا جائے جو بال سے باریک تر
اور تلوار سے تیز تر ہو گا اور اس پر تین منزلیں ہوں گی پہلی منزل پر صلہ رحمی اور
امانت کا سوال ہوگا اور دوسری پہ نماز کی باز پرس اور تیسری رحمت پروردگار
کی منزل ہو گی پس اس وقت گرشتے بھی معافی معافی کی صدا بلند کریں گے اور انسان پر
دانوں کی طرح کٹ کٹ کر جہنم میں گر رہے ہوں گے اور مرصاد انہین منازل میں سے رحمت
پروردگار والی منزل کا نام ہے اور تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ جہنم کی پل پر سات
موقف ہوں گے ۔ پہلے موقف پر انسان کو روکا جائے گا۔ اور اس سے توحید پروردگار کا
سوال ہو گا اگر اس سے پاس ہو گیا تو دوسرے موقف پر نماز کا سوال ہو گا اگر اس سے
گذر گیا تو تیسرے موقف پر زکوٰۃ کی باز پرس ہو گی اس کے بعد چوتھے موقف
پر ماہ رمضان کے روزوں کا سوال ہو گا اور پانچویں موقف پر حج بیت اللہ کا سوال ہو
گا اور چھٹے موقف پر عمرہ واجبہ کا سوال ہو گا اور آخری ساتویں موقف پر مظالم یعنی
حقوق الناس کا سوال ہو گا اگر اس موقف سے صحیح و سالم بچ نکلا اور پاس ہو گیا تو
پار چلا جائے گا ورنہ حکم ہو گا کہ اس کے نیک اعمال کو بدلہ میں رکھتے
جاؤ پس اگر بدلہ ہو گیا تو پھر بھی جنت میں بھیجا جائے گا ورنہ آتش جہنم میں
گرادیا جائے گا ۔ بہر کیف عقیدہ کی صحت کے بعد سب سے پہلے اعمال میں سے نماز کا
سوال ہو گا پس اہل ایمان کو چاہیے کہ نماز میں غفلت نہ کریں ؎ روزمحشر کہ جان گداز
بود اولین پرسش نمازبود
یتذکر الانسان ۔ یعنی عذاب پروردگار کو دیکھ کر اس دن کفار
توبہ کریں گے لیکن اللہ فرماتا ہے اس دن کی توبہ ان کو کچھ فائدہ نہ دیگی اس لئے
انسان کو چاہیے کہ سابقہ کئے ہوئے اعمال کا جائزہ لے کر اپنی غلط کاریوں سے اپنی
زندگی میں توبہ کر لے اور روایات میں ہے کہ جو شخص زندگی میں توبہ کر تا ہے اس کے
جسم پر کوئی گناہ نہیں رہتا التائب من الذنب کما لا ذنب لہ یعنی گناہ سے توبہ کرنے
والا اس کی مثل ہو جاتا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔
یایھا النفس المطمنۃ ۔ یعنی موت کے وقت جن کو جنت کی
خوشخبری دی گئی ہو یا جن کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا ہو ان کو خطاب ہو گا
اے اطینان والا نفس تیرے اوپر خدا راضی ہے اور تو اس کے انعامات پر راضی ہو کر
انعامات پروردگار کی طرف روانہ ہو اور نیک بندوں کے گروہ میں اور جنت پوردگار میں
داخل ہو جا ۔
تفسیر برہان میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول
ہے مومن کے پاس جب روح کو قبض کرنیوالا فرشتہ پہنچتا ہے تو مومن گھبراتا ہے
پس ملک الموت کہتا ہے اے اللہ کے پیارے گھبرا نہیں مجھے اس اللہ کی قسم جس نے
محمدؐ کو نبی برحق بنا کر بھیجا میں تیرے باپ سے بھی زیادہ تجھ پر مہربان ثابت ہوں
گا ذرا آنکھیں تو کھو لو پس وہ اپنے سامنے پنجتن پاک اور باقی آئمہ طاہرین علیہم
السلام کی مثالیں دیکھے گا اور اس کو بتایا جائے گا کہ یہ بزرگ رسولؐ اللہ ہیں اور
وہ امیرالمومنینؑ ہیں اور فاطمہ زہرا اور باقی ذوات طاہرہ ہیں پس مومن خوش ہو گا
اور رب العزت کی جانب سے ایک منادی ندا کرے گا ۔ یاایھا النفس المطمئنۃ یعنی اے
اطمینان والی نفس راضی و مرضی ہو کر اپنے پروردگار کی طرف روانہ ہو جا پس میرے
بندوں یعنی محمدؐ و آل محمد کے زمرے میں داخل ہو جا پس اس وقت مومن کو روح کے قبض
ہونے کا جو سرور ہو گا وہ بہت زیادہ ہو گا ایک روایت میں ہے کہ آیت مجیدہ میں نفس
طمئنہ کا مصداق حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ
سورہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مختص ہے ۔ اور نفس مطمئنہ سے مراد بھی
حضرت حسین علیہ السلام ہیں اور مروی ہے کہ جو شخص اس سورہ کو ہمیشہ تلاوت کرتا رہے
وہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ ہو گا ۔ بہر کیف اس آیت کی تاویل حضرت امیر
المومنین علیہ السلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کے حق میں جاری ہے اور ان کے
بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے محمدؐ و آل محمد کے حبدار تا قیامت اس آیت کی
تاویل میں شامل ہوتے رہیں گے والحمد اللہ ۔
وَالْوَتْرِ (3) وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ (4) هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِّذِي
حِجْرٍ (5) أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ (6) إِرَمَ ذَاتِ
الْعِمَادِ (7) الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (8) وَثَمُودَ
الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ (9) وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ (10)
الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ (11) فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ (12)
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (13) إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ
(14) فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ
فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ (15) وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ
عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ (16) كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ
الْيَتِيمَ (17) وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ (18) وَتَأْكُلُونَ
التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا (19) وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (20) كَلَّا
إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا (21) وَجَاء رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا
صَفًّا (22) وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ
وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى (23)يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (24)
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ (25) وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ
أَحَدٌ (26) يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ (27) ارْجِعِي إِلَى
رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28) فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (29) وَادْخُلِي
جَنَّتِي (30)
(3) رات کی قسم جب گزرتی ہے (4) کیا اس میں قسم ہے صاحب عقل کے لئے (5)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ (6) ارم جو
ذات العماد تھا (7) جس کی طرح شہروں میں کوئی پیدا نہیں کیا گیا (8) اور ثمود
جنہوں نے وادی کے پتھروں کو چیرا (9) اور فرعون جو صاحب اوتاد تھا
(10) جنہوں نے سرکشی کی شہروں میں (11) پس شہروں میں کافی فساد پھیلایا
(12) پس تیرے رب نے ان پر عذاب کے تازیانے برسائے (13) تحقیق تیرا رب گھات میں ہے
(14) بہر حال جب انسان کو اپنا رب آزمائش میں ڈالے پس اس کو نعمت و کرامت بخشے تو
وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے کرامت بخشی (15) اور لیکن جب اس کو آزمائش میں
ڈالے اور اسکا رزق تنگ کر دے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا ہے (16) یہ
ہر گز نہیں بلکہ تم یتیم کا اکرام نہیں کرتے ہو (17) اور نہ یتم کو کھلانے پر ایک
دوسرے کو اکساتے ہو (18) اور تم میراث کو کھاتے ہو بے تحاشا کھانا (19) اور مال کو
پیار کرتے ہو سخت محبت کے ساتھ (20) ایسا ہرگز نہین ہونا چاہیے جب کوٹ کر زمین کو
ہموار کیا جائے گا پوری طرح (21) اور ( حکم پروردگار آئے گا اور فرشتے
صف بصف آئیں گے (22) اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن نصیحت لے گا
انسان اور اس کو نصیحت کا کیا فائدہ (23) کہے گا ہائے کاش! اس زندگی کے
لئے میں نے کچھ عمل بھیجا ہوتا (24) پس اس دن (اس قدر دیگا) کہ کوئی بھی اس کی سزا
جیسی سزا نہیں دے سکتا (25) اور نہ اس کی گرفت کی طرح کوئی گرفت کر
سکتا ہے (26) اے مطمءن نفس! (27) پلٹ جا اپنے رب کی نعمات کی طرف راضی ہو کر اور
رضا پاکر (28) پس میرے بندوں میں داخل ہو جا (29) اور میری جنت میں
داخل ہو جا (30)
سورہ مکیہ ہے اور اس کی آیات بسم اللہ کو ملا کر اکتیس ہیں ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ اس سورہ کو فرائض و نوافل میں
پڑھا کرو کیونکہ یہ امام حسین علیہ السلام کی سورت ہے اور جوشخص اس کو پڑھے
گا وہ بروز محشر حضرت امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ جنت میں ہو گا اور اللہ عزیز
و حکیم ہے ۔
نبوی میں ہے جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا اس کے پڑھنے والوں کی تعداد سے دس گنا اس
کے گناہ معاف ہوں اور قیامت کے دن اس کو نور عطا ہو گااور جو شخص اس سورہ کو
لکھ کر اپنی کمر کے ساتھ باندھ کر اپنی حلال عورت سے ہمبستری کرے گا
خدا اس کو فرزند عطا کرے گا جو اس کی آنکھ کی ٹھنڈک ثابت ہو گا اور دوسری
روایت میں ہے باعث برکت ہو گا۔
روایت میں ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص
اس سورہ کو صبح کے وقت پڑھے تو دوسری صبح تک ہر شی سے سے باامن رہے گا
(برہان)
فجر سے مراد محرم کی فجر ہے اور اس کے بعد دس راتیں ہیں (2) فجر سے مراد
قربانی کے دن کی صبح اور اس سے پہلے کی دس راتیں (3) فجر سے مراد مطلق صبح
اور دس راتوں سے مراد ماہ رمضان کی آخری دس راتیں (4) حضرت
موسیٰ علیہ السلام کی دس راتیں جو کہ کوہ طور پر تتمہ کے
طور پر اضافہ کی گئی تھیں ۔
ہر جوڑا اور وترے مراد ہر ہرد ہے (2) شفع سے مراد تمام مخلوق اور وتر سے
مراد خود ذات واجب الوجود ہے (3) اس سے مراد نماز شب کی شفع اور وتر کی رکعتیں ہیں
(4) شفع سے مراد یوم نحر اور وتر سے مراد یوم عرفہ ہے (5) شفع سے مراد عام دن
راتیں اور وتر سے مراد قیامت کا دن ہے (6) شفع سے مراد علیؑ و فاطمہؑ اور وتر سے
مراد نبی کریم ہے (7) شفع سے مراد صفا و مروہ ہے اور وتر سے مراد خانہ کعبہ ہے ۔
ہے کہ فجر سے مراد حضرت قائم آل محمد عسکری علیہ السلام تک دس امام ہیں جو
ظلم و جور کی تاریکیوں میں وقت گزار گئے اور شفع سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ
السلام اور جناب فاطمہ زہر سلام اللہ علیھا ہیں اور وتر سے مراد حضرت محمدؐ مصطفیٰ
ہیں الحدیث اور ایک روایت میں ہے کہ شفع سے مراد حضرت رسالتمابؐ اور امیر المومنین
ہیں اور وتر سے مراد ذات واجب الجود ہے ۔
اس میں حکمت و صنعت پروردگار کی طرف توجہ کرنے اور فکر کرنے کا درس ملتا ہے اور اس
کی تاویل ظالم حکومتوں کے ختم ہونے اور عدل کا دن طلوع ہونے سے کی جا سکتی ہے۔
ساتھ قسم کھانے سے صاحبان عقل کو اطمینان ہو سکتا ہے ؟ یہ بیان مذکور کو مزید زور
دار کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے اور مقصد یہ ہے کہ صاحبان عقل و دانش امور مبینہ
میں اگر غور کریں تو ان کو ضرور توحید پروردگار کی طرف صحیح راستہ مل جائے
گا ۔
کو استعمال کیا گیا تا کہ سامعین کی توجہ کو زیادہ سے زیادہ جذب کیا جا سکے تا کہ
وہ منکرین کی گرفتاری عذاب سے عبرت حاصل کر کے دامن حق کے ساتھ وابستہ ہونے کی
جرات کر سکیں
تھیں اور اجسام بہت موٹے تازے اور طاقتوار تھے اور حضرت ہودؑ کی قوم تھی اور
ارم کے متعلق بعضوں نے کہا ہے کہ ان کے قبیلہ کا نام ہے اور کہتے ہیں کہ عاد
دو (2) تھے ایک عاد ارم جس کے متعلق دوسری جگہ ارشاد فرمایا اھلک عاد
الاولی اس نے عاد اولی کو ہلاک کیا اور بعض کہتے ہیں کہ عاد کا دادا کا نام ارم
تھا اور ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے عاد بن خوص بن ارم بن سام بن نوح اور بعض
کا خیال ہے کہ ارم اس شہر کا نام ہے جس میں یہ قوم آباد تھی بعض نے دمشق کو ارم کہا
ہے اور بعض نے اسکندریہ کا نام لیا ہے اور بعض مفسرین کا خیال ہے کہ
ارم اس شہر کا نام ہے جس کو شداد نے تعمیرکرایا تھا اور بعض کہتے عاد کا لقب ارم
تھا اور لفظ ارم عاد کا بدل ہے یا عطف ہے اور ارم غیر منصرف ہے کیونکہ معرفہ اور
مونث ہے ۔
ذات العماد کہا گیا ہے ان کی جسامت اور قوت کے متعلق مروی ہے کہ ان میں سے ایک
آدمی پتھر کی بہت بڑی چٹان کو اٹھا لیا کرتا تھا اور ایک پورے قبیلہ پر گرا کر اس
کو تباہ کر دیا کرتا تھا اور بعضوں نے ذات العماد کا معنی یہ لیا ہے کہ ان کے
مملات اور رہائش گاہیں پختہ اور مضبوط تھیں ۔
شہر جس کا نام ارم ذات العماد ہے اس کو شداد ابن عاد نے تعمیر کرایا اور یہ عاد
اولی کا واقعہ ہے اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد اس عاد اولی کی نسل سے تھی
ہر کیف عاد اول کے بیٹے تھے شداد اور شدید باپ کے مرنے کے بعد یہ دونوں حکمران ہو
گئے اور شدید کے مرنے کے شداد ملک بھر کا بلکہ دنیا بھر کا واحد فرماں روا ہو گیا
کہ باقی تمام زمین کے حکمران اس کے زیر نگیں کام کرتے تھے چنانچہ اس نے انبیاء کی
تبلیغ کو فیل کر کے بعد لوگوں سے اپنی خدائی منوانے کی خاطر بہشت کی تعمیر کا
منصوبہ بنایا اور خدائے وحدہ کے مقابلہ میں اس سرکش و ظالم بادشاہ نے لوگوں کی
گمہراہی کے لئے یہ نیا جال تیار کرنے کا ڈھونگ رچایا چنانچہ شہر ارم ذات العماد کا
نقشہ تیار کیا گیا اور اسی منظور شدہ نقشہ پر تعمیر کو پائی تکیمیل تک
پہنچانے کے لئے اس نے ایک سو اعلٰی درجہ کے ماہرین فن معماروں کی خدمت
حاصل کیں اور ہر معمار کے ماتحت ایک ایک ہزار کارندے معین کئے اور گرد ونواح کے
تمام چھوٹے بڑے حکمرانوں کو سونا چاندی اور زرد جواہرفراہم کرنے کا آرڈر جاری کر
دیا چنانچہ سونے اور چاندی کی اینٹوں سے منظور شدہ نقشہ کے مطابق کمرہ جات بننے
شروع ہوئے اور سہ منزلہ عمارتیں نہایت عمدہ ترتیب و وضع کے ساتھ بنتی گئیں ہر ہر
منزل کا دروازہ شہر کے بڑے دروازہ کی مثل تھا اور درمیان میں عالیشان سڑکیں تھیں
جن پر تعمیر ہونے والے دو طرف مکانات کے دروازے بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل تھے
ان کے فرش زعفران و کستوری سے مخلوط کئے گئے تھے اور ان میں موتیوں کی جڑاوت نہایت
اچھے طریقہ سے ہوئی تھی اور یہ سڑک کے کناروں پر دو طرفہ پھلدار درخت کاشت کئے گئے
اور پختہ نہریں اور پانی کی نالیاں جاری کر دی گئی اور جن نالیوں سے پانی گھروں تک
پہنچایا گیا وہ سب خالص چاند کی تھیں نیز زبر جد اور یاقوت کی نہایت اچھی ترتیب و
تنظیمس ے جڑاوٹ مکانوں اور گلی کوچوں کی خوبصورتی میں سونے پر سہاگہ کا کام دیتی
تھی۔ پورے شہر کے اردگرد ایک مضبوط فصل تیار کی گئی جس کی گولی سڑک (سرکلر روڈ) کے
بیرونی کنارے سے متصل چوگرد ایک ہزار عمدہ محلات تعمیر کرائے گئے تا کہ شہر کی
رونق و زینت دوبالا ہو جائے اور سالہا سال اس شہر کی تعمیر پر خرچ ہوئے اور بے
انداز دولت صرف ہوئی جب شداد کو شہر ارم کی تعمیر کی اطلاع پہچی تو وہ اپنے پورے
لشکر اور جاہ و جلال کے ساتھ شہر ارم کی سیر کو تیار ہوا لیکن آسمان سے بجلی گری
اور اس شہر میں داخل ہونے سے پہلے وہ واصل جہنم ہو گیا اور ایک روایت میں میں نے
دیکھا ہے کہ شہر کے بڑے دروازہ کا ایک تختہ جو یاقوت احمر کا مطلوب تھا اس کو پوری
مملکت سے دستیابب نہ ہو سکا تو حضرت جبرئیل بحکم پروردگار بشکل تاجر یاقوت احمر کا
تختہ لایا اور وہ پورا بہشت اس کی قیمت میں مانگا بادشاہ نے چوتھائی تہائی نصف تک
دینے کی رضامندی ظاہر کی لیکن جبریل نے نہ مانا آخر پورا بہشت دینے پر سودا ہو گیا
جب دروازہ نصب ہو گیا اور بادشاہ نے اندرجانے کا ارادہ کیا تو تو جبریل نے حقوق
مالکانہ کی بناء پر روک دیا کہ آپ میری اجازت کے بغیر اندر نہیں جا سکتے اس لئے کہ
آپ اس کو میرے ہاتھوں بیچ چکے ہیں بادشاہ نے زبردستی داخل ہونے کا ارادہ کیا تو
قہر خدا کی بجلی نازل ہوئی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔
میں عبداللہ بن قلابہ نامی ایک شخص اپنے گمشدہ اونٹوں کی تلاش میں نکلا اور عدن کے
جنگلات میں پھرتے پھرتے وہ اس عجیب و غریب شہر میں آ پہنچا اور یاقوت سفید و
سرخ سے مرصع دروازوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا جب اندر داخل ہوا تو اس سو یہ شہر
انسان آبادی سے بالکل خالی نظر آیا پس اس نے دل میں خیال کیا کہ شاید یہ وہی جنت
ہے جس کا حضرت نبی کریمؐ نے مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے ان مکانات میں زبر جد و
یاقوت و زرد جواہر اس مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے کہ یہ شخص کافی کوشش کے باوجود
کسی چیز کو اکھاڑ نہ سکا البتہ زعفران و مسک میں سے کچھ نہ کچھ اپنے ہمراہ
واپس لایا اور لوگوں کو اس شہر کی عظمت و خوبصورتی کی اطلاع دی چنانچہ
رفتہ رفتہ یہ خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے اس کو حاضر دربار ہونے کا حکم دیا پس
وہ حاضر دربار ہوا اور معاویہ نے کعب الاحبار کو بلا کر اس کے سامنے تذکرہ کیا تو
کعب الاحبار نے پورے واقعہ سے نقاب کشائی کی اور کہا کہ تیرے زمانہ میں ایک شخص
کوتاہ قد جس کے ابروپر داغ ہو گا اور گردن پر بھی ایک نشان ہو گا اپنے گم شدہ
اونٹوں کی تلاش کرتے کرتے اس شہر میں داخل ہو گا چنانچہ جب کعب نے دیکھا تو معاویہ
کے پہلو میں یہ شخص بیٹھا ہوا تھا کعب نے فوراً اس کو دیکھر کر کہ دیا کہ بخدایہ
وہی شخص ہے جس کے متعلق میں خبر دے رہا ہوں۔
پہاڑوں میں پتھروں کو تراش کر اپنے گھر بناتے تھے ۔
ظالم اپنے مخالفین کو زمین پر لٹا کر اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں لوہے کے کیل ٹھونک
دیا کرتا تھا تا کہ وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے چنانچہ جب جادو گروں کے ایمان لانے کے
ساتھ ساتھ حضرت آسیہ بھی اپنے ایمان کا اعلان کر دیا تو اس دشمن خدا نے اس پاکباز
خاتون کو زمین پر سلا کر اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں بھی لوہے کے کیل ٹھونک دیئے
اور اس کی پشت پر ایک لوہے کی چکی ڈال دی پس اس کی روح پرداز گئی اور کہتے ہیں کہ
اللہ نے اس کی روح کو پہلے اٹھا لیا اور وہ لوگ مردہ جسم میں کیل ٹھونکتے
رہے اور اس کا قصہ اسی جلد میں ص ۔۔ پر گذر چکا ہے ۔
عزاب کا تازیانہ تھا اور قصہ سابق جلدوں میں گذر چکا ہے ۔
یہ ہے کہ اللہ ان کے گرفتار کرنے پر اس طرح قادر ہے جس طرح کمین گاہ میں چھپ
کر بیٹھا ہوا انسان آنے والے غافل دشمن سے انتقام لینے پر قادرہوا کرتا ہے اور یہ
جملہ جواب قسم ہے ۔
ماتحت کسی کو رزق فراوانی سے دیتا ہے اور کسی کو غربت و افلاس دیتا ہے تو اس لئے
نہیں کہ اس نے دولت دی وہ اس کے اکرام و اعزاز کے لئے ہے اور جس کو غربت دی اس وہ
ذلیل کرنا چاہتا ہے بلکہ یہ دونوں حالتیں انسان کا امتحان ہے پس دولتمند کو مال
دیکر اس کے شکر کا امتحان لیتا ہے اور فقیر کو تندستی میں مبتلا کر کے اس کے صبر
کا امتحان لیتا ہے۔
خاطر دیتا ہوں اور تنگدستی ذلت کے لئے دیتا ہوں کیونکہ اکرام اور ذلت کا معیار
میرے نزدیک اطاعت اور معصیت ہے پس جو شخص میرا اطاعت گزار ہے اور وہ میرے نزدیک
عزت دار اور مکرم ہے خواہ مفلس و نادار کیوں نہ ہو اور جو شخص میرا نافرمان
ہے وہ میرے نزدیک ذلیل اور بے عزت ہے خواہ دنیا دار و دولتمندی ہی کیوں نہ ہو۔
معیار معصیت ہے نہ کہ غربت اور تمہاری معصیت یہ ہے کہ تم یتیموں کا احترام و اکرام
نہیں کرتے ہو اور یتیموں کا احترام و اکرام یہ ہے کہ ان کی سر پرستی کی جائے
اور ان کے مال کی نگرانی کی جائے اور حضورؐ نے فرمایا کہ یتیم کی تربیت
کرنے والے اور جنت کے درمیان انگشت سبابہ و وسطی کا فاصلہ ہے یعنی یتم کا سر پرست
بالکل جنت کے قریب ہے اور کفار میں دستور تھا کہ یتیموں کو وراثت سے محروم کر
کے ان کا مال خود کھا جاتے تھے لہذا ان کو سرزنش کی گئی ہے اور یتامیٰ کا حق
جتلایا گیا ہے تا کہ لوگ اس بارے میں احتیاط کریں ۔
وراثت پر غاصباہ تسلط کی مذمت کی گئی ہے کہ تم لوگ یتیموں کی وراثت کو با جاتے ہو
اور اس کو اس انداز سے کھاتے ہو کہ تمہیں حلال و حرام کے درمیان فرق کرنے کا ہوش
بھی نہیں رہتا۔
ایسا نہیں کرنا چاہیے اور اس وقت کو مدنظر رکھو جب زمین کو ہموار کر دیا جائے یعنی
زمین کو پھیلا دیا جائے گا اور دکت کا معنی مدت کیا گیا ہے پس پہاڑوں اور میدانوں
کو ایک جیسا بنایا جائے گا ۔ یہ گھر محلات و، مکانات ٹیلے درخت پہاڑ وغیرہ سب ختم
ہونگے اور زمین چٹیل میدان کی طرح ہو گی ۔
محتاج ہے اور آناجا اس کو لازم ہے جو مکان کا پابند ہو لہذا اس جگہ مقصد یہ ہے جب
پروردگار کا امر آئے گا یعنی اس کی حکومت کا دن ہو گا اور فرشتے صف بہ صف پیش ہوں
گے پس ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ الگ ایک صف ہو گی اور بعض نے کہا ہے کہ نماز
جماعت کی صفوں کی طرح فرشتوں کی آ گے اور پیچھے صفیں ہو گی ۔
فرشتے اس کو لانے والے ہوں گے اس کے شعلے بلند ہوں گے اور بڑے بڑے انگارے اڑ اڑ کر
ادھر ادھر پڑ رہے ہوں گے پس جہنم کی آواز بلند ہو گی اور خوف خدا سے اس کو بھی
لرزہ طاری ہو گا تو ارشاد خداوندی ہو گا کہ میں نے تجھے عذاب نہیں
کرنا بلکہ تیرے ذریعے سے اپنے دشموں کو عذاب کروں گا پس جہنم سجدہ خدا
بجا لائے گا اور اس کے دھوئیں سے محشر میں تاریکی پھیل جائے گی زبانیہ فرتے اس پر
موکل ہوں گے اور جہنم کے شعلوں اور اڑتے ہوئے چنگاروں کو دیکھ کر بنی مرسل ملک
مقرب اور دلی منتجب بھی کانپ جائیں گے اور ہر ایک کی نفسی نفسی کی صدا بلند ہو گی
اور حضورؐ کی زبان مبارک سے امتی امتی کا ورد جاری ہو گا اور تفسیر برہان کی ایک
حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا جب تمام مخلوق کو محشور کیا جائے گا اس کی آواز کی
گرج اور بھڑکتے شعلوں کو دیکھ کر تمام مخلوق دہل جائیگی اور اللہ کا فیصلہ نہ ہوتا
تو ساری مخلوق اس کو دیکھتے ہی دہل کر مرجاتی اور جب اس کے شعلے باہر نکلیں گے تو
تمام فرشتے اور انبیاء بھی نفسی نفسی کی صدا بلند کریں گے اور حضرت سلطان الانبیاء
امتی امتی کا نعرہ لگائیں گے ۔ پس دوزخ پر ایک پل بچھایا جائے جو بال سے باریک تر
اور تلوار سے تیز تر ہو گا اور اس پر تین منزلیں ہوں گی پہلی منزل پر صلہ رحمی اور
امانت کا سوال ہوگا اور دوسری پہ نماز کی باز پرس اور تیسری رحمت پروردگار
کی منزل ہو گی پس اس وقت گرشتے بھی معافی معافی کی صدا بلند کریں گے اور انسان پر
دانوں کی طرح کٹ کٹ کر جہنم میں گر رہے ہوں گے اور مرصاد انہین منازل میں سے رحمت
پروردگار والی منزل کا نام ہے اور تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ جہنم کی پل پر سات
موقف ہوں گے ۔ پہلے موقف پر انسان کو روکا جائے گا۔ اور اس سے توحید پروردگار کا
سوال ہو گا اگر اس سے پاس ہو گیا تو دوسرے موقف پر نماز کا سوال ہو گا اگر اس سے
گذر گیا تو تیسرے موقف پر زکوٰۃ کی باز پرس ہو گی اس کے بعد چوتھے موقف
پر ماہ رمضان کے روزوں کا سوال ہو گا اور پانچویں موقف پر حج بیت اللہ کا سوال ہو
گا اور چھٹے موقف پر عمرہ واجبہ کا سوال ہو گا اور آخری ساتویں موقف پر مظالم یعنی
حقوق الناس کا سوال ہو گا اگر اس موقف سے صحیح و سالم بچ نکلا اور پاس ہو گیا تو
پار چلا جائے گا ورنہ حکم ہو گا کہ اس کے نیک اعمال کو بدلہ میں رکھتے
جاؤ پس اگر بدلہ ہو گیا تو پھر بھی جنت میں بھیجا جائے گا ورنہ آتش جہنم میں
گرادیا جائے گا ۔ بہر کیف عقیدہ کی صحت کے بعد سب سے پہلے اعمال میں سے نماز کا
سوال ہو گا پس اہل ایمان کو چاہیے کہ نماز میں غفلت نہ کریں ؎ روزمحشر کہ جان گداز
بود اولین پرسش نمازبود
توبہ کریں گے لیکن اللہ فرماتا ہے اس دن کی توبہ ان کو کچھ فائدہ نہ دیگی اس لئے
انسان کو چاہیے کہ سابقہ کئے ہوئے اعمال کا جائزہ لے کر اپنی غلط کاریوں سے اپنی
زندگی میں توبہ کر لے اور روایات میں ہے کہ جو شخص زندگی میں توبہ کر تا ہے اس کے
جسم پر کوئی گناہ نہیں رہتا التائب من الذنب کما لا ذنب لہ یعنی گناہ سے توبہ کرنے
والا اس کی مثل ہو جاتا ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔
خوشخبری دی گئی ہو یا جن کو اعمالنامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا ہو ان کو خطاب ہو گا
اے اطینان والا نفس تیرے اوپر خدا راضی ہے اور تو اس کے انعامات پر راضی ہو کر
انعامات پروردگار کی طرف روانہ ہو اور نیک بندوں کے گروہ میں اور جنت پوردگار میں
داخل ہو جا ۔
ہے مومن کے پاس جب روح کو قبض کرنیوالا فرشتہ پہنچتا ہے تو مومن گھبراتا ہے
پس ملک الموت کہتا ہے اے اللہ کے پیارے گھبرا نہیں مجھے اس اللہ کی قسم جس نے
محمدؐ کو نبی برحق بنا کر بھیجا میں تیرے باپ سے بھی زیادہ تجھ پر مہربان ثابت ہوں
گا ذرا آنکھیں تو کھو لو پس وہ اپنے سامنے پنجتن پاک اور باقی آئمہ طاہرین علیہم
السلام کی مثالیں دیکھے گا اور اس کو بتایا جائے گا کہ یہ بزرگ رسولؐ اللہ ہیں اور
وہ امیرالمومنینؑ ہیں اور فاطمہ زہرا اور باقی ذوات طاہرہ ہیں پس مومن خوش ہو گا
اور رب العزت کی جانب سے ایک منادی ندا کرے گا ۔ یاایھا النفس المطمئنۃ یعنی اے
اطمینان والی نفس راضی و مرضی ہو کر اپنے پروردگار کی طرف روانہ ہو جا پس میرے
بندوں یعنی محمدؐ و آل محمد کے زمرے میں داخل ہو جا پس اس وقت مومن کو روح کے قبض
ہونے کا جو سرور ہو گا وہ بہت زیادہ ہو گا ایک روایت میں ہے کہ آیت مجیدہ میں نفس
طمئنہ کا مصداق حضرت امیر المومنین علیہ السلام ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ یہ
سورہ حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ مختص ہے ۔ اور نفس مطمئنہ سے مراد بھی
حضرت حسین علیہ السلام ہیں اور مروی ہے کہ جو شخص اس سورہ کو ہمیشہ تلاوت کرتا رہے
وہ امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ ہو گا ۔ بہر کیف اس آیت کی تاویل حضرت امیر
المومنین علیہ السلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کے حق میں جاری ہے اور ان کے
بعد ان کے نقش قدم پر چلنے والے محمدؐ و آل محمد کے حبدار تا قیامت اس آیت کی
تاویل میں شامل ہوتے رہیں گے والحمد اللہ ۔
Leave a Reply