سونے اور چاندی کی زکواۃ: سونے اور چاندی کی زکواۃ کے
وجوب کی تین شرطیں ہیں۔
(1)
نصاب: سونے کا نصاب بیس دینا ر ہے اس میں نصف دینار
زکواۃ ہوگی۔ اور اس کے بعد ہر چار دینا ر کے اضافہ سے چالیسواں اور حِصہ
زکواۃ واجب ہوگی اور چاندی کا پہلا نصاب
دوسودر ہم ہے اس میں پانچ درہم زکواۃ ہوگی اور اس کے بعد ہر چالیس درہم پر ایک
درہم زکواۃ ہوتی جائے گی پس اگر سونا چاندی اس مقدار سے کم ہوں تو زکواۃ نہیں ہوگی۔
(2)
سال ۔ یعنی یہ نصاب
سال برابر مالک کے پاس موجود رہے اگر دوران ِ سال میں کم ہوجائے تو
زکواۃ واجب نہ ہوگی۔
(3)
سکّہ: دار ہونا ۔ یعنی سونے اور چاندی پر زکواۃ تب واجب
ہوگی جب اس پر شاہی سکہ کی مہر ہو۔ پس
زیوارات پر یا مطلق اس سونا چاندی پر جو
سکہ دار نہ ہو۔ زکواۃ واجب نہ ہوگی خواہ
کتنے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔
مسئلہ:۔ اگر تین شرطوں میں سے کوئی ایک بھی مووجود نہ
ہوئی تو زکواۃ واجب نہ ہوگی۔
مسئلہ:۔ موجودہ دور میں جو نوٹ مروّج ہیں ان زکواۃ
واجب نہ ہوگی جس طرح کہ دوسری
دھاتوں پر باوجود سکّہ
وار ہونے کے زکواۃ نہیں ہے لہٰذا نوٹوں کا سونے یا چاندی سکّہ دار پر قیاس کرنا باطل ہے۔
Leave a Reply