anwarulnajaf.com

شرائطِ وجوبِ حج

 شرائطِ وجوبِ
حج

فقہائے امامیہ
کے نزدیک وجوبِ حج کے شرائط چند ہیں:۔

۱۔        کامل العقل ہو۔ لہذا نا بالغ اور دیوانے
پر حج واجب نہیں ہوا کرتی۔

۲۔       آزاد ہو۔ لہذا غلام پر حج واجب نہیں ہوتی۔

۳۔       زاد و
راحلہ موجود ہو یعنی مالی طاقت موجود ہو کہ اپنے راستہ کے آمدو رفت کے اخراجات کے  علاوہ                      اپنی واپسی تک کا بال بچوں اور دیگر
واجب الفقہ افراد کی ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہو۔

مسئلہ:  اگر ایک شخص کے پاس زمین یا کوئی دوسری جائیدار
اپنی ضروریات سے زائد موجود ہو، لیکن نقد روپیہ ہاتھ میں نہ ہو تو اس صورت میں
زائد ضرورت مال کو فروخت کرکے حج کو جانا واجب ہے۔

مسئلہ:  اگر اس کے پاس روپیہ موجود ہے، لیکن اسی قدر
مقروض بھی ہے تو حج کا وجود ساقط ہوگا، پس وہ روپیہ قرض خواہ کو دے کہ قرضہ سے
سبکدوش ہوجائے، پھر اگر استطاعت ہو تو شرائط کے ماتحت اس پر حج کا وجوب عائد ہوگا۔

مسئلہ:  جس پیسہ میں خمس و زکوٰۃ اور دیگر حقوق مالیہ
داخل ہیں اور اب تک اس نے ادا نہیں کئے تو اس پر واجب ہے کہ خمس و زکوٰۃ و دیگر
حقوق واجبہ سے پہلے سبکدوش ہونے کی کوشش کرے اور اس کے بعد اگر اخراجات حج کے لئے
روپیہ بچ جائے تو حج پر جائے ورنہ استطاعت کی انتظار کرے۔

مسئلہ:  اگر روپیہ موجود ہو لیکن وجوب کے پہلے سال ہی
روانگی سے پہلے تلف ہوجائے تو وجوبِ حج ساقط ہوجائے گا۔

مسئلہ:  اگر روپیہ موجود ہو اور حج کی درخواست بھی دے
دی، لیکن قرعہ اندازی میں اس 
کانام نکل سکا اور دوسرے سال کے ایام حج آنے سےپہلے اس کا
وہ روپیہ خرچ ہو تو اس سے وجوبِ حج ساقط ہوگا کیونکہ پہلے سال اس پر حج کا
استقرار
  نہیں ہو سکتا تھا  پھر اگر س کو استطاعت حاصل ہوگی اور جانا بھی
ممکن ہوگا تو حج واجب ہوگی۔

مسئلہ :۔ جس شخص پر حج واجب ہو اور نہ کر سکے تو اس کے وارث
پر اس کی طرف سے تضاد واجب ہوا کرتی ہے۔

مسئلہ:۔اگر حج واجب ہوجائے تو پھر ترک کر کے مرجائے تو جناب
رسالتماب  سے مروی ہےکہ وہ قیامت کے
دن  یہودی یا نصرانی مبعوث  ہوگا اور فرمایا  تارک حج 
کا فر ہے کیونکہ قرآن مجید میں فرما رہا ہے۔ ومن کفر فان اللہ غنی  عن العٰلمین ۔ اس طرح امام جعفر صادق علیہ
السلام  سے مروی ہے کہ وجوب حج کے بعد بلا
عذر شرعی جو شخص حج کو نا جائے تو اس کی موت یہودیت یا نصرانیت کی موت ہوگی ۔
روایات میں حج کی تاکید بہت زیادہ ہے خداوند کریم تمام شیعان اہلبیت کو اس کو اس
کی توفیق مرحمت فرمائے ۔

(4)      تندرستی اگر
ایسا بیمار ہوکہ حج کے سفر کی صعوبتوں کو برداشت نہ کر سکتا ہو تو اس کے لئے وجوب
ساقط ہے لیکن مروی ہے کہ اس صورت میں اپنی طرف سے نائب بنا کر حج کروائے پس اگر اس
کی بیماری تا موت رہ جائے تو وہی ہج اس کی ہوگئی اور اگر بعد میں تندرست ہوجائے تو
اس کو حج دوبارہ کرنی پڑے گی۔

(5)     راستہ کا
باامن ہونا۔ اگر راستہ خوفناک ہو تو حج کا وجوب ساقط ہے وجوب کےلئے عد م خوف کا ظن
کافی ہے۔

مسئلہ:۔ عورت کی استطا عت میں وجود محرم ضروری نہیں ہے اگر
عورت کے پاس دیگر اسباب موجود ہوں ۔ لیکن کوئی محرمدستیاب نہ ہو جس کہے ہمراہ وہ
سفر کر ے تو اگر سلامتی کاظن  حاصل ہو تو
وہ سفر حج کو جاسکتی ہے ورنہ نہیں۔

مسئلہ:۔ اسطاعت نہ ہونے کی صورت میں اگر حج کرے تو پھر
استطاعت حاصل ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج واجب ہوگی لیکن کوئی شخص اگر بطور امداد
کے اس کو رقم دیدے جس سےا س کے اخراجات حج پورےہوں تو وہی حج کافی ہوگا۔

تفسیر برہان میں تفسیر قمی سے منقول ہے کہ بیت اللہ کی
تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد حضر ت ابراہیم کو حج کے اعلان کرنے کا حکم ہوا تو آپ نے
عرض کی اے پروردگار  میری آواز لوگوں تک کس
طرح پہنچے گی؟ تو ارشاد قدرت ہوا اعلان کرنا تیرا کام ہے اور آواز کا ہر کان تک
پہنچانا  میرا کام ہے اس وقت مقام ابراہیم
بالکل بیت اللہ سے متصل تھا پس آپ مقام پر سوار ہوئے اور وہ اس قدر بلند ہوا کہ
مکہ کے تمام پہاڑ اس سے پست نظر آنے لگے پس کان میں انگلی ڈال کر آپ نے شرق و مغرب
کی طرف رخ پھیر کر اعلان فرمایا کہ اے لوگو 
تم پر حج واجب کی گئی ہے اپنے رب کی دعوت کو قبول کر کے بیت اللہ کی طرف آؤ
پس لوگوں نے مشرق و مغرب سے گویا پوری روئے زمین کے طول وعرض اور نتہائے آبادی  سے آپ کی آواز پر لبیک کہی  حتیٰ کہ دریاؤں اور سمندروں کی تہوں سے مردوں
کی پشتوں سے اور عورتوں کے رحموں سے بھی لبیک کی آواز آئی ۔ لہٰذا جس قدر لوگ
قیامت تک حج کے شرف سے مشرف ہوں گے وہ وہی ہیں جن کے ارواح ابراہیم علیہ السلام کی
دعوت پر لبیک کہہ چکے ہیں اور مروی ہے کہ اسااف اور نائلہ دومرد عور ت تھے جنہوں
نے زنا کیا اور خدا نےان کوپتھر کی شکل میں مسخ کردیا پھر قریشیوں نے ان کو بت بنا
کر پوجنا شروع کر دیا حتیٰ کہ فتح مکہ کے سال یہ سلسلہ ختم ہوا۔

اور دوسرے قول کے ماتحت بردایت  کافی حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام سےمنقول
ہےکہ حضور ص ہجرت کےبعدمدینہ منورہ    میں
دس سال رہے اور اس دوران میں حج نہ کر سکے پس آیت مجید ہ اتری تو لوگوں تک اعللان
خداوندی پہنچانے کے لئے آپ نے موذنین کو حکم دیا کہ ہم اس سال حج بیت اللہ کو
جائیں گے۔ پس شہریوں اور دیہاتیوں نے اعلان سنتے ہی تیاریاں شروع کردیں چناچہ آپ
ایک جم غفیر اور تعداد کثیر کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے جبکہ ماہ ذی قعدہ سے چار
دن گذر چکے تھے جب مقام ذوالحلیفہ پر پہنچے تو زوال آفتاب کا وقت تھا آپ نے غسل
فرمایا اور مسجد شجرہ سے احرام باندہ لیا۔ پس نماز ظہر ادا کی اور روانہ ہوگئے آپ
نے حج افراد کی نیت کی اور 26 یا 24 قربانیاں ساتھ لیں چناچہ 4 ذی الحج کو مکہ میں
داخل ہوئے طواف کیا دورکعت نماز طواف پڑھی حجر اسود کا بوسہ لیا اور صفا و مروہ کے
درمیاں سات مرتبہ سعی کی۔ چونکہ مسلمان یہ سمجھتے تھےکہ صفا و مروہ کے درمیاں سعی
کرنا مشرکین مکہ کی رسوم میں سے ہے۔ اس لئے آیت نازل ہوئی کہ یہ دونو اللہ کے
شعائر میں سے ہیں ان کے درمیاں طواف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ آپ نے سعی سے فارغ
ہوکر فرمایا کہ ابھی جبرئیل حکم لایا ہے اگر میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لایا
ہوتا تو میں اسی طرح کرتا (حج افراد کی بجائے حج تمتع کرتا) کہ جولوگ قربانی ساتھ
نہیں لائے پس وہ حرام سے فارغ ہوجائیں (تفصیر 
کرلیں تاکہ یہ عمرہ  ہوجائے اور حج
کےلئے علیحدہ احرام آٹھوں ذی الحج کو باندہ کر جانا ہوگا) ایک شخص نے اعتراض کیا
کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم حج کے لئے ایسی حالت میں نکلیں کہ ہمارے سروں اور
بالوں سے غسل جنابت کا ) پانی ٹپکرہا ہو؟ آپ نے (جھڑککر ) آپ ہمیں دین سکھائیے یوں
لگتا ہے کہ ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں؟کیا آپ کایہ ارشاد گرامی صرف اسی سال کے لئے ہے
یاآئندہ کے لئے بھی یہی حکم نافذ  رہے گا؟
آپنے فرمایاہمیشہ کیلئے ہوگا پھر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا
کہ اب قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہوگیا ہے۔

مروی ہے ابن عباس اپنے بیٹوں کو پیدحج کرنےکا حکم دیتےتھے
وہ کہتے تھے میں نے رسالتماب سے سنا ہے کہ سوارحاجی کو سواری کے ہر قدم کے بدلہ
میں ستر نیکیوں کا ثوابملے گا اور پیدل حاجی کو اپنے ہرقدم کےبدلہ میں سات سو ایسی
نیکیوں کا ثواب ملے گا جو حرم میں کی جائیں کی ایک لاکھ نیکیوں کی وضاحت کیجئے تو
انہوں نے فرمایا کہ حرم کی ایک نیکی باقی مقامات کی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہوا
کرتی ہے۔

اس میں اختلاف ہے کہ پیدال حج کرنا افضل ہے یا سوار ہوکر ،
بعض علماء سوار ہوکر حج کرنے کو افضل قرار دیتے ہیں کیونکہ اس میں جانی و مالی
دونو قربانیاں آجاتی ہیں لیکن اکثر کے نزدیک پیدل حج کرنا افضل ہے اور یہی قول
زیادہ قوی ہے کیونکہاس میں مشقت  زیادہ
ہےاور جس کا خیر  میں مشقت زیادہ ہو ا س کا
درجہ قریب زیادہ ہوتا ہے۔ نیز قرآن مجید میں لفظی تقدیم بھیاس کی افضلیتکی موریدے
اور آئمہ طاہرین علیہمالسلام کاپاپیادہ حج کرنا تو اتر سے مننقول ہے چنانچہ مروی
ہے کہ حضرت حسن مجتبیٰ علیہ السلامنے پچیس حج پیادہ کئے حالانکہ سواریاں بھی ساتھ
ساتھ ہوا کرتی تھیں ۔

            جنا ب
رسالتماب سے مروی ہےکہ خدا اہل عرفات کے ذریعے فرشتوں پر فخر کرتا ہے کہ میرے
بندوں کو دیکھو کہ دور دراز کاسفر کر کے لباس میلےاور چہرے گرد ے اٹے ہوئے ہیں میں
تم کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے ان کی دعاؤں کو قبول کیا اور ان کی حاجات کو
پورا کیا اور ان کے نیکوں کی برکت سے ان میں سے بدکاروں کو معاف کیا اور نیک عمل
کرنے والوں کو وہ سب کچھ عطا کیا جو وہ طلب کریں سوائے ان حقوق کے جو ان کے آپس
میں ہیں  ۔ پس جب لوگ عرفات سے چل کر مشعر
الحرام میں  پہنچتے ہیں اور عجز و انکساری
سے پھر دعا و مناجات کی طرف متوجہ ہوتےہیں تو فرشتوں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ
میرےبندے پھر وقوف کر کے میری طرف متوجہ ہوئے ہیں اور مجھ سے مانگ رہے ہیں بس میں
تم کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ ان کی دعا مقبول اور حاجت پوری ہے ان کے بدکاروں
کےلئے معافی ہے اور نیکیوں کو سب کچھ عطا کردوں گا جو  مانگیں گے اور ان کے  باہمی حقوق کا کفیل بھی میں خود ب جاؤں گا۔

()        حضرت امام
رضا علیہ السلام سے منقول ہےکہ حج کی اغراض وفایات بہت سی ہیں:۔

(1)     اللہ کی طرف
یعنی اللہ کے گھر کی طرف اس کا مہمان بن کے جانا اور اس سے طلب کرنا ۔

(2)      اپنی کی
ہوئی برائیوں سے گریز کرتا تاکہ گزشتہ سے تائب ہوجائے اور آیندہ کیلئے ان سے بچنے
کا عہدہ کرے۔

(3)     مال کا خرچ
کرنا۔  (4)      جسمانی
قربانی

(5)     اپنے آپ کو
خواہشات و لذات سے بچا نا اور نفس پر کنٹرول کرنا۔

(6)      خشوع وخضوع
اور عاجزی و زاری سے عبادت کر کے اللہ کا قرب حاصل کرنا۔

(7)      گرمی و سردی
یا امن  وخوف ہر دوحالتوں میں اپنے اوپر
ضبط کرنا۔

(8)     اجتماع کے
لحاظ سے بنی آدم کےلئے تمدن کا عمومی فائدہ۔

(9)      گناہوں سے
ڈر اور نیکیوں کاشوق     (10)   سخت دلی اور حبارت سے گریز کرنا

(11)   اللہ کے ذکر
سے غفلت اور نا  امیدی کا ترک کرنا۔

(12)   حقوق اللہ اور
حقوق الناس اور حقوق نفسیہ کی خبر گیری کرنا       (13)   فساد سے بچنا

(14)   مشرق و مغرب
اور  خشکی و تری سے آنے والے حاجیوں اور
مسافروں کو تجارتی فوائد ۔

(15)   گرد نواح کے
بسنے والوں کے لئے اکثر مشکلات کادفعیہ اور حاجات برابری ۔

(16)   ایک روایت میں
ہے فقہ حاصل کرنا اور اخبار آئمہ کو نقل کرکے دور دراز کے شیعوں کو پہنچانا (یہ فائدہ
زمان  آئمہ تک کے لئے ہے) (ملخصا)

            بہر کیف سفر حج میں اور اعمال حج میں روحانی و جسمانی دنیوی
، آخروی ہر قسم کے فوائد موجود ہیں ۔ جن کے حاصل کرنے اور مشاہدہ کرنے کی دعوت ہے۔
خداوند کریم جملہ مومنین کو قوانین مرحمت فرمائے۔ آمین۔

تنبیہ:۔
قرآن مجید میں پروردگار نے فریضہ حج ادا کرتے ہوئے چار چیزوں کی طرف الخصوص متوجہ
فرمایا ہے۔

(1)                
صرف سرد تفریح یا بھگڑا دوڑ اور مقامات مقدسہ میں حاضرین
کانام حج نہیں بلکہ شفائراللہ کی تعظیم
 دل میں ہو اور ان کی حرکت کا خیال رکھتے ہوئے اعمال بجا
لائے ۔

(2)                 
ویسے بھی بالعموم بتوں کی پوجا حرام ہے لیکن فریضہ حج کی
ادائیگی میں اس کو خصوصیت سے منع فرمایا اور شان نزول کے لحاظ سے اگرچہ مشرکین مکہ
کو خطاب تھا لیکن تا قیا م خیامت اس کی ہلات تویل کے لحاظ سے باقی رہے گی۔ لہٰذا
غیر اللہ کی خوشنودی کا خیال دل سے نکال کر صرف اللہ کے لئے ہی مناسک حج کی
ادائیگی ہو۔ اس طرح جو ا شطرنج  چوپڑ ،
تاش  بازی اور دیگر لغویات اور لہرو لعب کے
مشاغل اگرچہ بالعموم حرام ہیں لیکن دوران حج ان سے اجتناب کرنا ضروری قرار دیا ہے۔

(3)       
جھوٹ افتراء و بہتان اور غنا کرنا حرام مطلق ہے لیکن دوران
حج میں اس کی حرمت کو زیادہ موکد کردیا کہ قول زور کو رجس اوثان پر عطف کر کے ان
امو ر کو شرک کے برابر قرار دے دیا۔

(4)                 
حنیفیت کا حکم دے کر ہر اس فعل سے اجتناب کرنے  کا حکم دیا جو شریعت مصطفری میں بلکہ ملت
ابراہیمی  میں حرام ہے اور یہ کہ اعمال حج
کی ادائیگی  صرف للہ ہوا اور دولت اخلاص سے
اس قدر بھر پور ہوکہ اس میں شرک کا ادنیٰ سا شائبہ بھی نہ ہو چنانچہ حنفاء کے بعد
غیر مشرکین کی لفظیں  بڑھا کر تمام سابقہ
بیان کردہ امور کی خلاف ورزی کو شرک کے حکم میں داخل فرمایا دیا ۔ تفسیر انوار
النجف 17 سورہ حج آیت 29 تا 31)

مروی ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام جعفر صاد علیہ السلام کے
ہمراہ ایک نابینا صحابی شریک حج تھا وہ حاجیوں کے انبوہ کثیر اور شور و غل سے
تماثر ہوکر کہنے لگا ۔ ماَا اَکثَر الحَجِیج یعنی حاجی کس قدر زیادہ ہیں؟ ازراہِ
تعجب  یہ فقرہ کہا پس انام عالیمقام  نے ٹوک کر فرمایا ایسا نہ کہو ۔ بلکہ
مَااَقَّلَّ  الحَجیِج وَ اَکثَّرَ
الصَّجِیجِ  یعنی حاجی کس قدر کم ہیں اور
شور کتنا زیادہ ہے؟ اَوکَمَا قَالَ  غالباً
یہ گفتگو وقوف عرفات کے موقعہ پر تھی صحابی نے وجہ پوچھی تو آپ نے باعجاز اس کو بینائی
دلوائی پس فرمایا اب دیکھو چنانچہ اس کو ادھر ادھر بند رسور  جنگلی جانور اچھلتے کودتے نظر آئے اور بہت کم
مقدار میں آدمی دیکھے جو مشغول دعا و مناجات تھے پس آپ نے فرمایا حاجی صرف وہی ہیں
جو آدمیوں کی شکل میں ہیں باقی سب کے سب حیوان شکل انسان ہیں۔ حضرت استاد العماء
مولانا سید محمد باقر اعلی اللہ مقامہ نے اپنی پہلی مجلس میں اس روایت کو قدر ے
اختلاف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے (المجالس 
المرضیہ مجلس اوّل صہ5)

اس میں شک نہیں کہ فریضہ حج عبادات ِ انسانیہ میں سے ایک
اہم اور اشرف فریضہ ہے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی پاسداری  اور پوری رعایت نہایت کٹھن اور مشکل ہے اکثر
لوگ اعمال کو بجا لاتے ہوئے یہ کیوں ہے؟ اور وہ کیوں ہے؟ میں پڑ کر صاف اعتراضات
واشکالات میں وقت ضائع کرتے ہیں اور دولت خلوص سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بعض لوگ
بعض مناسک کو معمولی اور خفیف سمجھ کر اس کی ادائیگی میں توجہ نہیں کرتے یا چھوڑ
دیتے ہیں یا کرتے ہیں تو بددلی سے اور ناقص دادھورا چھوڑکر آجاتے ہیں مخالفین مذہب
کی صحبت میں پھنس کر خصوصیات مذہب کو فراموش کر بیٹھتے ہیں اور اکثر یت سے مرعوب
ہوکر اپنے مختصات سے سرشا تے ہیں اور نتیجہ کے طور پر اپنے اعمال کا ستیا ناس کر
بیٹھتے ہیں اسی طرح کئی قسم کی خامیاں اس عظیم عبادت کی مقبولیت کے راستے میں حائل
ہوجاتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جو بھی حج کا ارادہ کر ے پہلے مناسک حج کو سیکھے
اور یاد کرے پھر صرف اللہ کی خوشنودی ہی ملحوظ خاطر اور امر پروردگار کے سامنے سر
تسلیم خم کرکے جائے ہر وہ بات جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہو اس کی تہ تک پہنچنے کی
کوشش نہ کرے اور ہر عبادت کی علّت تلاش کرنے کے درپے نہ ہو بلکہ اُس کے پاس بڑی سے
بڑی دولت تسلیم اور رضائے خداوندی ہو۔ کیوں اور کس لئے کہنے کی عادت بد سے پوری
طرح گریزاں رہے کِسی فعل حج کو معمولی اور ٖخفیف نہ سمجھے اور دولت خلوص کو ہاتھ
سے نہ جانے دے۔ ہر بڑی سی بڑی تکیف وکوفت کو راہِ خڈا میں برداشت کرنے کا جذبہ
طبیعت میں ہر وقت کرفرما رہے ۔ وقوف عرفات 
و مزدلفر در می جمعرات و قربانی اسی طرح طواف وسعی سب کے سب مناسک کی
ادائیگی میں حکم خداوندی کی پاس دل میں ہو اور اژ دھام و انبوہ کی وجہ سے جس قدر
تکلیف اٹھانی پڑی کھلے دل سے اور نہایت بلند حوصلے سے برداشت کرے تاکہ نیت میں
تنزل پیدا نہ ہو ۔ یہ خیال رہے کہ حضرت رسالتماب اور حضرت امیر المومنین و جملہ
اہل بیت اطہارؑ اسی عبادت کی خاطر ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کرتے تھے یہ امر اس
عبادت کی اہمیت کو اور زیادہ واضع کرتا ہے کہ امام حسن مجتبیٰ  نے خوشنودی خدا کی خاطر پچیس جمعیں پاپیادہ کیں
۔ اسی طرح حضرت سجاد علیہ السلام کے متعلق بھی دارد ہے اور یقین جانیئے  کہ حج بیت اللہ تو حید پروردگار کا بہترین در س
ہے اور اس میں تسلیم ہی تسلیم چاہئے امیر و غریب شاہ و گدا خورود کلاں بچّے بوڑھے
عورت مرد اور حاضر و مسافر جب ایک لباس میں اور ایک ہی رنگ میں مسجد الحرام میں
پہنچتے ہیں اور طواف بیت اللہ میں مشغول ہوتے ہیں تو عظمت پروردگار کی زندہ تصویر
آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے پھر سب کا ایک ہی حالت میں مکہ سے پندرہ میل دور کوہ
عرفات کی طرف جانا اور ٹھرنا پھر واپس مزدلفہ میں شب باشی اور اس کے بعد رمی
جمعرات اور قربانی وغیرہ ایسے مناظر ہیں کہ وہاں انسان کو اپنے پروردگار کی عظمت
اور توحید کے ناقابل فراموش سبق ملتے ہیں اور انسان سوچتا ہے کہ وہ ایک عظیم ذات
ہے جس کی خوشنودی کی شاہ و گدا سب کے سب ایک لباس میں اعمال بجا لارہے ہیں اور اسی
کو پکار رہے ہیں او ر اسی سے اپنی حاجات طلب کر رہے ہیں نیز عرفات کا وقوف عارف
لوگوں کے لئے قیامت خیز منظر ہوتا ہے گویا دنیا میں پیشی محشر کی سی ادانیٰ جھلک
اس میں نظر آتی ہے پس ایمان والوں کے ایمان تازہ ہوتے ہیں اور مناجات واوعیہ میں
خلوص بڑھتا ہے ہر چہارسو رونے کی آوازیں بلند ہوتی ہیں کوئی طلب حاجات میں مشغول
کوئی بخشش گناہان کے لئے دست بُدعا کوئی تلاوت قرآن میں کھویا ہوا اور کوئی مصروف
عبادت  نظر آتا ہے بہر کیف نہایت ایمان
افروز منظر ہوتا ہے پس جانے والا جائے تو کا لے پتھروں کی حکایت لے کر ہ پلٹے بلکہ
دل میں شمع ایمان کو فروزاں کر کے واپس آئے گناہوں سے تائب ہوکر اور آئندہ کے لئے
اعمال مصالحہ کی بجا آوری کا عہد دل میں لے کر واپس آئے۔

یاد رکھیئے جس کے گناہ ان تین ذرائع سے نہ بخشے جائیں پھر
اس کےلئے اور بخشش کی کوئی صورت ہی نہیں جس کو ماہ مبارک میں لیا لی قدر میں عبادت
کا موقعہ ملے اور بخشش گناہان کی درخواست کرسکتا ہو اسی طرح جس کے ضعیف ماں باپ
موجود ہوں اور ان کی خدمدمت سے بہر ہ ور ہوسکتا ہو یا پھر حج بیت اللہ کے شرف سے
مشرف ہو کر وقوف عرفات کے موقع پر توبہ کر کے معافی حاصل کر سکتا ہو ایسی مضمون کی
ایک حدیث معصومین علیہم السلام سے مروی ہے اور وقوفِ عرفات کے مقامہ پر انسان کو
چاہئے کہ اپنے گناہوں کو نام بنام شمار کر کے ان کی معافی طلب کرے اور گڑ گڑا کر
بخشش کی درخواست کرے نیز اپنے مومن بھائیوں کی بخشش کےلئے بھی دعا طلب کرے اور
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے منقول ہے کہ جو شخص غائبانہ طور پر اپنے مومن
بھائیوں کےلئے دعا کرے ملائکہ اس کے لئے دعا و استغفار کرتے ہیں۔

            تفسیر
برہان پارہ 14  کی تفسیر میں 340  پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے
کہ جب حضرت آدم ؑ ابوالبشر اور حضرت حّوا ام البشر میں جدائی ہوئی تو خدا نے حضرت
آدم کو اپنا گھر بنانے اور اس کا طواف کرنے کا حکم دیا جس طرح ملائکہ بیت المعمور
کا کرتے ہیں، اور یہ کم ہوا کہ ابلیس اگر اس طرف آئے تو اس کو کنکر ے مارے کر دُور
کیا جائے جس طرح فرشتوں کا دستور ہے چناچہ جبریل حضرت آدم کو مقام کعبہ پر لائے
اور کعبہ کو تعمیر کیا گیا تاکہ وہ اور اس کی تا قیامت اولاد اس کا طواف کر ے
فرشتے حضرت آدم  کے ساتھ تعمیر بیت اللہ
میں شریک تھے اس کے بعد حضرت آدم کو حضرت حوا کی ملاقات کی بشارت دی گئی اور خدا
کا حکم ہوا کہ زمین کے بہترین حصہ میں تم دونو آپس میں ملوگے پس کوہ عرفات پر ان
کا ملاقات ہوئی اور جمعہ کا دن تھا (ملضاً)

 


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *