anwarulnajaf.com

شرائطہ و جواب زکواۃ

 شرائطہ و جواب زکواۃ: پانچ شرطوں سے زکواۃ واجب ہوتی ہے۔

پہلی شرط: بالغ ہونا ، پس نابالغ پر زکواۃ واجب نہیں ۔ جیسا کہ
اکثر احادیث میں صراحت  سے وار د ہے کہ
یتیم کے مال میں کوئی زکواۃ نہیں ہے اور مقضائے اصل بھی یہی ہے۔ کیونکہ وہ مکلّف
نہٰں۔

مسئلہ:۔ لڑکا جب بالغ ہوگا تو اس کے مال کا سال شروع ہوگا اور اختتام سل پر
بشرطہ نصاب اس پر زکواۃ ہوگی ورنہ اگر گیارہ ماہ 
مال پر گزرے اور بارہویں مہینہ میں وہ بالغ ہوگیا تو اس پر زکواۃ واجب نہ
ہوگی ۔

مسئلہ:۔ نابالغ کے مال سے اگر اس کا دلی تجارت کرے تو نفع نا بالغ  کا ہوگا اور اس سے زکواۃ  کی ادائیگی مستحب ہوگی۔

مسئلہ:۔ اگر بچے کا دلی مالدار ہو اور بچے کا مال بطور قرض اپنے ۔۔لے کر اس سے
تجارت کرے تو نفع بھی اس کا ہوگا اور زکواۃ  بھی استجاباً اسی پر عائد ہوگی۔

مسئلہ:۔ اگر دلی مالدار نہ ہوتو بچے کے مالدار کو بطور قرض لے کر تجارت نہیں
کر سکتا۔ او ر اگر ایسا کرے تو بسورت خسارہ ضامن ہوگا ۔ اور بصورت نفع اس کو کچھ
نہ ملے گا بلکہ نفع بھی بچٗے کا ہوگا اور بچے کے مال کو قرض لینے لے لئے  ولی کے مالدار ہونے کی شرط اس لئے ہے کہ
بصورت  تلف بچے کے مال کی اپنے ذاتے مال سے
تلافی کر سکے۔

مسئلہ:۔ بچے کا باپ اور دادا اگر ولی 
ہوں تو بلاشرط بچے کے مال کو اپنے ذمہ کر کے اس سے تجارت کر سکتے ہیں۔

دوسری شرط: عاقل ہونا۔ پس دیوانے پر زکواۃ  واجب نہیں ہوگی۔

اگر جنون دائمی  ہوتو زکواۃ  کے واجب نہ ہونے میں کوئی اشکال نہیں۔ لیکن اگر
جنون کا دورہ پڑتا ہو تو ظاہر یہی ہے کہ جن چیزون میں زکواۃ کےلئے سال شرط ہے اُن
چیزون کی زکواۃ اس پر واجب نہ ہوگی اگر دورانِ سال میں جنون کا دورہ پڑجائے لیکن
زکواۃ غلات  میں اگر بوقت  وجوب مجنون نہ ہو بلکہ عاقل ہو تو اس پرزکواۃ
کا وجوب عائد ہوگا۔

تیسری شرط: آازاد ہونا۔ پس غلام 
پر زکواۃ وواجب نہیں ہوا کرتی۔

مالک کا نصاب ہونا۔  اگر وہ شخص مل کر
مالک نصاب نہیں تو ان دونوں میں سے کسی پر بھی زکواۃ  واجب نہ ہوگی۔

چوتھی شرط: کسی پر بھی زکواۃ
واجب نہ ہوگی۔

پانچویں شرط : تصرف کر سکنا ۔ پس اگر نصاب کا مالک  ہو لیکن غاصب یا ظالم یا چور ڈاکو کی وجہ  سے  سے
اپنے مال میں تصّرف نہ کر سکتا ہو تو زکواۃ 
وجاب نہ ہوگی۔ اس طرح اگر کسی کو قرضہ دیا ہو اور واپس نہ مل رہا ہوتو
واپسی قرض اس پر زکواۃ کا وجوب نہ ہوگا  ۔
لیکن جب واپس ہوگا تو زکواۃ فوراً واجب نہ ہوگی ۔ بلکہ سال گزرنے کے بعد تک
نصاب  کی بحالی کی صور ت میں زکواۃ واجب
ہوگی۔

مسئلہ:۔ اگر قرضدار قرض واپس کرنے پر راضی ہو لیکن قرض خواہ وصول کرنے میں ٹال
مٹول کر رہا تو باقی شرائط کے ساتھ اس پر زکواۃ واجب ہوگی۔

مسئلہ:۔ مال وقف پر زکواۃ  نہیں ہوتی
کینوکہ وجوب زکواۃ  میںملک شرطِ ہے اور وقت
کاکوئی مالک نہیں ہوتا۔

مسئلہ:۔ مستحق تک سردمت پہنچا سکنا وجوب زکواۃ  کی شرط نہیں 
ہے پس اگر سردست مستحق نہ بھی مل سکتا ہو تب بھی زکواۃ اس پر واجب ہوگی ہاں
اگر مستحق موجود ہو اور عمداً  اس کو دینے
میں تاخیر کرے گا تو بصورت تلف دوبارہ اپنی گرہ 
سے ادا کرنے کا ضامن ہوگا لیکن مستحق کی عدم موجودگی  کی صورت 
میں اس کی تاخیر موجب ضمان نہ ہوگی بشرطیکہ اس کی اپنی کوتاہی نہ ہو؟


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *