شرائط نماز
نماز
چونکہ خالق و مخلوق کے درمیان باہمی مکالمے اور راز و نیاز کا مقام ہے اور احادیث
میں اس کو مومن کی معراج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لہذا نمازی کو چاہئے کہ تمام علائق دنیاویہ سے اپنے آپ کو
آزاد کرے اپنی پوری توجہّ اس ذات کی طرف رکھے جس کے ساتھ اس کو مکالمہ کا شرف عطا
ہوُا ہے جس طرح محبّ و محبوب کی ملاقات دیگر تمام علائق سے بے نیاز کر دیا کرتی ہے
پس اس روحانی پاکیزگی کو ھاصل کرنے کے لئے پہلے ظاہر کی طہارت واجب و لازم ہے۔ پس
۱۔ بدن پاک و صاف ہو ۲۔ لباس پاکیزہ اور مباح ہو
۳۔
باوضو ہو اور بصورت دیگر تیمم ّ کرچکا ہو ۴۔ اگر پُورا لباس میسّر نہ آسکے تو کم از کم
مقام شرم مستور ہو اور عورت کے لئے چہرہ ہتھیلیوں اور قدموں کے سِوا سارا بدن
مستور ہو ، خواہ کوئی دیکھنے والا ہو یا نہ ہو ۵۔ قبلہ رُخ کھڑا ہو ۶۔ جائے نماز مباح ہو
۷۔
مقامِ سجدہ پاک ہو۔ ۸۔ نماز کا وقت داخل ہوچکا ہو
۹۔ لباس میں مرد کے لئے ریشمی لباس ممنوع ہے ۱۰۔جس
جانور کا گوشت حرام ہے اس کا چمڑا یا کوئی جزو حالتِ نماز میں اس کے ساتھ نہ ہو ۔ ۱۱ ۔
مرد کے لئے سونے کا پہننا مبطل نماز ہے۔
ان کے علاوہ بہت سے امور ہین جن کی پاسداری
مستحب ہے اور ہر وہ امر جو منانی خضوع و خشوع ہو اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے مثلاً:
1۔ سامنے قبر نہ ہو ۔ ۲۔ قریب عورت نہ ہو پس اگر عورت و مرد نماز پڑھیں تو ان کے درمیان
کم از کم دس ذراع کا فاصلہ ہونا چاہئے یا درمیان میں پردہ حائل ہو یا عورت مرد کے
پیچھے کھڑی ہوجائے اور قبر کے سامنے ہونے کی صورت میں بھی اسی فاصلہ کا یا پردہ کا
اہتمام کرے تو بہتر ہے
۳۔ اسی طرح سامنے تصویریں نہ ہو اور مساجد کی نقاشی بھی اسی مقطہء منظر کے
ماتحت ممنوع قرار دی گئی ہے کہ خیالات کے انتشار کی موجب ہے۔ ۴۔ سامنے کتاب کھلی نہ ہو اگر ممکن ہوتو
اس پر کپڑا ڈال دے ۔ ۵۔ سامنے کوئی
آدمی اس کی طرف منہ کرکے نہ بیٹھا ہو ۔
۶۔ سامنے دروازہ کھلا نہ ہو۔ ۷۔ سامنے چراغ نہ جل رہا ہو۔
۸۔ جس جگہ نماز پڑھ رہا ہو وہ آتش خانہ نہ ہو۔ ۹۔
شارع عام نہ ہو۔
۱۰۔ پانی کے بہاؤ کی جگہ نہ ہو۔ ۱۱۔
پانی کا گھاٹ نہ ہو۔
۱۲۔ جس جگہ پر کھڑا ہے وہ متحرک نہ ہو جس سے سکون و اطمینان
میں فرق آجائے
۱۳۔ گندی اور غلیظ جگہ نہ ہو وغیرہ ۔
ان سب
چیزوں کی رعایت اگرچہ واجبات میں سے نہیں ہے لیکن ان امور کو خشوع و خضوع میں بڑا
دخل ہے پس مقبولیت نماز میں امور روکاوٹ کے موجب ہیں اسی لئے مناسب ہے کہ واجبات
کے علاوہ نماز میں ایسے اسباب کو مہیا کرے جو خشوع و خضوع کے موجبات ہوں اور
مقبولیت نماز کا ذریعہ ہوں مثلاً گھر کے بجائے مسجد کو ترجیح دے اپنے جسم کو
خوشبودار کرکے جائے ایسے وقت میں نماز پڑھے جس وقت پوری توجہ اس کی طرف ہو اسی
بناء پر خاک شفا پر سجدہ کرنے کو ترجیح دی گئی ہے۔
Leave a Reply