anwarulnajaf.com

شکیات نماز

 شکیات نماز

           چونکہ نماز میں شکوک و شبہات کا آنا
لازمی ہے تو آلِ محمّدؐ نے جوان کے علاج مبتلائے ہیں ان کو ذہن نشین کرلینا ضروری
ہے تا کہ موقع پر کام میں آئیں اور وارد ہے کہ
مَااَعَادَ
الصَّلوٰۃ فَقِیْہٌ
یعنی فقہ رکھنے
والا نماز کا امادہ نہیں کرتا کیونکہ نماز پروار ہونے والے شبہات کا اس کو علاج
معلوم ہوتا ہے اور ارشادِ خداوندی ہے۔
وَلَا تُبْطِلُوا اَعْمَالَکُمْ یعنی اپنے اعمال کو باطل نہ کیا کرو بنا بریں شک پڑنے پر
نماز کو توڑ دینا جائز نہیں بلکہ اگر اس کا علاج ہوسکتا ہے تو اس علاج سے صحیح کرلیا
جائے جس طرح ظاہری اجسام کی بعض بیماریاں لاعلاج ہوتی ہیں اور بعض قابل ِ علاج ۔ پس
مریض کو ہلاک کردینے کے بجائے قابل ِ علاج بیماریوں کا علاج   تلاش کرلیا جاتا ہے۔ اسی طرح نماز کے معنوی
جسم کے لئے بعض بیماریاں لاعلاج ہیں اور بعض قابلِ علاجہیں ۔ لہذا نماز کو توڑ
دینے کے بجائے اس کا مناسب تدارک کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ: نماز کے جن واجبات کو ارکان کہا جاتا ہے ان میں کمی یا
زیادتی عمداً ہو یا سہواً نماز کو باطل کردیتی ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔

مسئلہ:شکِ رکعات میں اگر پہلی رکعت کا تعلّق ہو تو نماز باطل ہوتی
ہے۔

مسئلہ: اِسی طرح شک رکعات میں دو سجدے مکمل کرنے سے پہلے اگر
دوسرے رکعت کا تعلّق ہو تو نماز باطل ہے۔

مسئلہ: صبح مغرب نمازِ قصر او ر نمازِآیات میں شکِ رکعات سے نماز
باطل ہوجاتی ہے۔

مسئلہ: ارکان کے علاوہ دوسرے

 واجبات میں سے کسی
واجب کو عمداً ترک کرنے سے نماز باطل ہوتی ہے۔

مسئلہ:  دوسری اور تیسری
رکعت میں شک ہوجائے دو سجدوں کے بعد تو نماز صحیح ہے اور شک قابلِ علاج ہے، موجودہ
رکعت کو تیسری رکعت سمجھ کر پھر چوتھی پڑھے اور سلام پڑھنے کے بعد بلا فاصلہ اٹھ
کر ایک رکعت یا بیٹھ کر دو رکعت نماز احتیاط پڑھے۔

مسئلہ:  دوسری اور چوتھی
رکعت کے شک میں جبکہ شک دو سجدوں کے بعد ہو موجودہ رکعت کو چوتھی سمجھ لے اور سلام
کے بعد کھڑے ہوکر دو رکعت نماز احتیاط بجا لائے۔

مسئلہ:  تیسری اور چوتھی
رکعت کے شک میں اس کو چوتھی سمجھے اور بعد میں ایک رکعت کھڑے ہو کر یا دو رکعت
بیٹھ کر نماز احتیاط پڑھے۔

مسئلہ:  تیسری اور پانچویں
رکعت کے شک میں اگر حالتِ قیام میں ہو تو فوراً بیٹھ کر سلام پڑھ لے۔ اب اس کی
باقی نماز دو اور چار کے درمیان مشکوک رہ جائے گی، کیونکہ جس رکعت کو چھوڑ دیا گیا
ہے وہ تیسری اور پانچویں تھی۔ پس سلام کے بعد دو رکعت اٹھ کر نماز احتیاط بجا لائے
اور قیام زائد کے لئے دو سجدے سہو کے ادا کرے اور اگر تیسیر اور پانچویں کا شک
رکوع یا اس کے بعد کی کسی حالت میں پڑے تو نماز باطل ہے۔

مسئلہ:  اگر دوسری تیسری
اور چوتھی میں دو سجدوں کے بعد شک ہو تو چوتھی سمجھی جائے اور سلام کے بعد دو  رکعت اٹھ کر اور دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط
پڑھے۔

مسئلہ:  اگر تیسری اور
چوتھی اور پانچویں کا شک حالتِ قیام میں ہو تو قیام کو ختم کرکے بیٹھ جائے، اب یہ
شک دو تین اور چار کا ہوجائے گا کیونکہ زائد مشکوک رکعت کو ختم کردیا گیا ہے پس
سلام کے بعد دو رکعت کھڑے ہو کر اور دو رکعت بیٹھ کر نماز احتیاط بجا لائے اور
قیام زائد کے لئے دو سجدے سہو کے ادا کرے۔

مسئلہ: اگر چوتھی اور پانچویں میں شک ہو پس حالتِ قیام میں ہو تو
بیٹھ جائے اور تیسری و چوتھی کے شک کا علاج کرے اور زائد قیام کے لئے دو سجدے سہو
ادا کرے اور اگر دونوں سجدوں کے بعد یہ شک پڑ جائے تو تشہد پڑھ کر سلام پڑھ لے اور
صرف دو سجدے سہو کے ادا کرلے، نماز صحیح ہوگی۔

پس یہ وہ قابلِ علاج شکوک ہیں جن کا تدارک بیان کیا گیا ہے
اور اگر نماز میں سہو ہو جائے تو ارکانِ نماز کا سہو مبطل نماز ہے اس کے علاوہ
کوئی سہو مبطل نماز نہیں بلکہ اس کا تدارک ہوسکتا ہے۔

مسئلہ:  ارکانِ نماز میں
سہو کی صورت میں اگر دوسرے رکن تک پہنچنے سے قبل یاد آجائے تو واپس اس رکن کو ادا
کرے جس کا سہو ہوا تھا۔ پھر نماز کی ترتیب قائم رکھے پس نماز درست رہے گی لیکن اگر
دوسرے رکن میں داخل ہوچکا ہے تو پہلے رکن کے ترک کی وجہ سے نماز باطل ہے۔

مسئلہ:  کسی رکن کی
ادائیگی میں شک ہونے کی صورت میں اگر دوسرے رکن میں داخل ہوچکا ہے تو شک کی پرواہ
نہ کرے اور اگر دوسرے رکن میں ابھی نہیں پہنچا تو رکن مشکوک کو پہلے بجا لائے، پھر
ترتیبِ نماز کا قائم کرکے اس کو پورا کرے اور رکن مشکوک کو بجا لانے کے بعد اگر
یاد آجائے کہ پہلے بھی ادا کرچکا تھا تو زیادتیٔ رکن کی وجہ سے نماز باطل ہوگی۔

مسئلہ:  کسی واجب کا سہو
ہوجائے اور بعد میں رُکن تک پہنچنے سے پہلے یاد آجائے تو اس کا تدارک کرے، مثلاً
سورہ فاتحہ کو بھول جائے اور دوسرا سورہ شروع کردے پھر رکوع سے پہلے یاد آجائے تو
سورہ فاتحہ پڑھے اور پھر سورہ دوبارہ پڑھ کر نماز کو آگے بڑھائے، اسی طرح سجدہ یا
تشہد بھول کر دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے یاد آجائے تو بیٹھ کر بھولی ہوئی جزو کو
ادا کرے پھر ترتیب کے ساتھ نماز کو پورا کرے اور ایسی صورت میں زیادتی کے لئے سجدہ
سہو بھی کرنا پڑے گا اور اگر رکوع میں پہنچ کر یاد آئے تو نماز سے فارغ ہونے کے
بعد سجدہ یا تشہد کی قضا کرے اور پھر دو سجدے سہو کے ادا کرے۔

مسئلہ:  شک کی صورت میں
ضروری ہے کہ پہلے کچھ فکر کر لے اگر کسی ایک طرف کا خیال غالب ہوجائے تو اسی پر
عمل کرے ورنہ شک کا بتایا ہوا علاج کرے۔

مسئلہ:  جلسۂِ استراحت کو
عمداً ترک کرنے سے نماز باطل نہ ہوگی لیکن گنہگار ہوگا اور سہوًا چھوٹ جانے سے اس
کا کوئی تدارک نہیں بلکہ نماز صحیح ہے۔

مسئلہ:  کسی واجب میں شک
ہو جبکہ اس سے دوسرے واجب کی طرف منتقل ہوچکا ہو تو مشکوک کی کوئی پرواہ نہ کرے۔

مسئلہ:  چند شکوک ہیں جو
نماز کی صحت میں مخل نہیں ہیں پس ان کی پرواہ نہ کی جائے:۔

۱۔       شک بعد از
وقت مثلاً نماز کا وقت گزر جانے کے بعد شک ہو کہ میں نے پڑھی ہے یا نہ تو اسے پڑھی
سمجھے اور پرواہ نہ کرے۔

۲۔      شک بعد فراغ
مثلاً نماز سے فارغ ہونے کے بعد کسی جزو کی ادائیگی میں شک ہو تو اس کی پرواہ نہ
کرے بلکہ بلکہ نماز کو صحیح سمجھے۔

۳۔     شک بعد از
محل۔ دوسرے رکن میں پہنچ جانے کے بعد پہلے کے کسی واجب یا رکن میں شک ہو تو اس کی
طرف دھیان نہ کرے نماز صحیح ہوگی۔

۴۔     شک مقتدی اگر
مقتدی کو کسی مقام پر شک ہو خواہ نماز کی رکعات میں ہی سہی اور پیش نماز کو یاد ہو
تو وہ پیش نماز کی اقتداء میں اپنے شک کی پرواہ نہ کرے اس کی نماز درست ہوگی۔

۵۔     شک امام اگر
کسی مقام پر پیش نماز کو شک ہو اور مقتدیوں کو یاد ہو تو پیش نماز ان کے اشارے سے
اپنے شک کو نظر انداز کردے۔

۶۔      شک در شک اگر
کسی نمازی کو اپنے شک میں شک ہوجائے تو اس کی پرواہ نہ کرے یا یہ کہ نماز شک جسے
نماز احتیاط کہا جاتا ہے اس میں شک پڑھ جائے تو اس کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

۷۔     شک کثیر الشک
جس آدمی کو شک زیادہ پڑتے ہوں تو وہ ان کی پرواہ نہ کرے۔

مسئلہ:  تین متواتر نمازوں
میں شک پڑنے سے وہ کثیر الشک سمجھا جائے گا اور پھر اگر متواتر تین نمازیں اس کی
بلا شک ہوجائیں گی تو وہ کثیر الشک نہ رہے گا۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *