anwarulnajaf.com

شیخ الرئیس بو علی سینا

شیخ الرئیس بو علی سینا

بو علی سینا علمی مقام میں ان فلاسفہ س نہیں جس کے تعارف میں کئی صفحات سیاہ کرنا پڑیں ۔ شیخ اپنی شہُرہ آفاق کتاب اشارات کی ۔ نمط وہم میں رقم طراز ہَے۔
شیخ الرئیس بو علی سینا

اگر آپ کو کسی عارف باللہ کے متعلّق اطلاع ملے۔
کہ وہ غیب کی خبریں دیتا ہے اور اُس کی ہر خبر
درست ثابت ہوتی ہے تو بغیر ذہنی بوجھ کے
اس کی بات مان لو۔ کیونکہ فلسفیانہ نقط نگاہ سے
اسباب غیب دانی واضع اور معلوم ہیں۔
اس کے بعد اسی کتاب کی سولہویں فصل میں شیخ نے غیب دانی کے مفصل اور غیر مبہم دلائل پیش کئے ہیں۔ بطور نمونیہ ایک آپ بھی سن لیں۔
جب نفس انسانی حسی اور مشاہداتی مصروفیات کو کم سے کم کردیتا ہے۔ تو دنیا ئے تخیل و تو ہم سے نکل کر فضائے قدسی میں گامزن ہونا بعید نہیں رہتا جسکا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قدرت کے وہ اسرار ۱؎ جو تو ہمات و تخیلات کی تاریک دنیا میں نگاہ نفس سے محبوب ہوتےہیَں۔ وہ تمام نفس انسانی میں منقش ہونا شُروع ہوجاتے ہیَں۔ جیسا کی عالم خواب میں ہوتا ہے۔ یا دوران مرض بھی ایسے اتفاقات ہوتے ہیَں۔ اس کے بعد شیخ الرئیس فرماتے ہیں اگر جو ہری اعتبار سے نفس مظبوط و قوی ہو اور جذب ود جدان کی تمام کیفیات پا لے تو عین ممکن ہَے کہ اس نفس کو عالم بیداری میں بھی وہی وجدان میسّر آجائے جو دوسروں کو عالم خواب میں ہوتا ہے ازاں بعد شیخ نے قوتو ضعف کے اعتبار سے نفس کی اقسام تحریر کی ہیں۔ پھر کرامات و معجزات کے باب میں بھی شیخ نے صراحت سے اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک جملہ آپ بھی سن لیں۔
اگر کسی عارف باللہ کے متعلّق آپ کو اطلاع ملے کہ وہ ایسی قدرت
کا مالک ہے جو دوسروں کی سمجھ سے بالاتر ہے یا ایسا غیر عادی کام
کرتا ہے جو دوسرے افراد کے بس کا راگ نہیں۔ یا کسی ایسی چیز
کو حرکت دے سکتا ہے جس سے دوسرے عاجز ہیَں تو انکار
مت کرو ۔ کیونکہ اگر آپ طبیعی راہوں پر چل نکلیں تو آپ کے لئے بھی ایسا ہوجانا ممکن ہَے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ (ان اسرارکا تعلق ماضی سے بھی ہوتا ہے اور مستقبل سے بھی ہوتا ہَے۔ اور جب نفس میں ان اسرار کی تصویر آجاتی ہے تو پھر نفس ان کو اس طرح دیکھتا اور بیان کرتا ہے۔ جس طرح وہ اپنے سامنے سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ اور اسی کو دوسرے لفظوں میں ماکان وما یکون کا علم کہا جاتا ہے۔ از مترجم)
شیخ شہاب الدین اشراقی:۔
روحانی علماء میں سے سرفہرست اکابر میں شمار ہوتا ہے اور نفسی ریاضات و فلسفہ کا جامع ہے حکمۃ الاشراق کے مقالہء پنجم میں رقم طراز ہے۔
نفس حواس خمسہء ظاہرہ کی مصروفیات کم تر کردیتا ہے ۔ اور تخیلاتی مشغولیات مختصر کردیتا ہے۔ تو انسان امور غیبیہ سے آگاہ ہونے لگتا ہے ازاں بعد اپنے دعویٰ کی دلیل دیتے ہوئے لکھتے ہیَں کہ
کامل انسان جو علم غیب حاصل کرتے ہیَں اس کی مختلف صورتیں ہوتی ہیَں ۔ یہ علم غیب بغض تحریری شکل میں ہوتا ہے بعض اوقات انتھائی دلکش و پسندیدہ آواز کی صورت میں ہوتا ہے کبھی حد درجہ
ہولناک آواز میں ہوتا ہَے۔ اور بعض اوقات کوئی دلربا تصویر سامنے آکر غیب سے مطلع کرجاتی ہَے۔
اس نورانی دانشمند نے معجزات انبیاء کے متعلّق لکھا ہے۔
جو لوگ علم و عمل اور نفسی ریاضات میں کامل ہوجاتے ہیَں وہ طاقت اور قوّت کے اس بلند مقام پر پہنچ جاتے ہیَں کہ اگر وہ چاہئیں کی کسی چیز کو کتّم عدم سے منصہ ء شہود پر لائیں انہیں اس کی قدرت ہوتی ہے۔ اسی کتاب کی دوسری فصل میں یوں رقم طراز ہے۔
جب عالم علوی کی شعائیں نفس پر ضو پاش ہوتی ہیَں تو کائنات بتمامھا انسان کی تابع ہوجاتی ہے اور علم اعلیٰ میں انسان مستجاب الدعاء ہوجاتا ہے۔ یہ علیحٰدہ بات ہے کہ بعض نفوس پر جس نور کا فیضان ہوتا ہَے وہ نور ہی بذات خود علم و قدرت کا منبع ہوتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں پوری کائنات ایسے انسان کی مطیع بن جاتی ہے اور نفوس مجبروہ اس نور کی بدولت عمل تخلیق تک انجام دینے کی استعداد رکھتے ہیَں۔ صدر المتالہین ابراہیم شیرازی۔
وہ عظیم فلسفی ہے جن نے افق مشرق کو حکمت قرآن سے منور کیا ۔ حکمۃ الاشراق کے حاشیہ مین رقمطراز ہے۔
معجزات و کرامات کی بنیاد چیزوں پر ہوتی ہے جو انبیاء میں بیک وقت موجود ہوتی ہیں ۔(۱) نفس مین ایسی مخصوص صلاحیت جس کے سامنے اجسام جُھک جائیں ۔ اور مواد عنصریہ نفس کے اس طرح تابع فرمان ہوجائیں۔ کہ جب چاہیں ایک صورت کو بد لکر دوسری صورت بنادے ۔ اور یہ نہ بھولین کہ ایسا ہوجانا ناممکنات میں سے نہیں ۔ اور نہ صرف ایسا ہونا ممکن ہے۔ بلکہ ایسے واقعات بھی موجود ہیں
اس کے بعد صدر المتامین نے اپنے اس دعویٰ مفصل دلیل لکھی ہے ۔
۲۔ نفس کو قوت متخلیہ میں اتنی عظیم طاقت آجاتی ہے کہ نفس نبی کا رابطہ عالم بیداری میں بھی مثالی عالم غیب سے ہوجاتا ہے۔ جن کی بدولت نبی کے سامنے کوئی غیب غیب نہیں رہتا ۔ اور نگاہ نبی ماضی و مستقبل کے ہر حجاب سےگزر کر گزشتہ و آئیندہ کا مشاہدہ کرکے بوقت ضرورت ان افراد کو آگاہ بھی کرتی رہتی ہے۔
اس کے بعد صدر امتئالمین نے عالم سے اتصال کی اقسام اور اس کی کیفیاات کو انتہائی شرح وبسط سے بیان کیا ہے۔
۳۔ جب نفس اپنی تطہیر اور جِلا کی آخری منزل کو پالیتا ہے تو اسا میں قوت نظریہ پیدا ہوتی ہے جس کی بدولت عقل فعال سے اتصال نفس میں شدت آجاتی ہے اور عقل فعال سے اتصال نفس میں شدت آجاتی ہے۔ اورو عقل فعال سے شدت ارتباہ کی وجہ سے نفس پر علوم عقیلہ کا افماضہ شروع ہوجاتا ہے۔
اس قسم کے بعد پھر صدر المتُاالہین نے عقل فعال سے نفس کے ارتباط کو شدت وضغف میں تقسیم کرتے ہوئے کئی اقساام بیان کی ہیں۔
یورپین روحانی فلاسفہ:-
ہیپناٹزم یا عمل تنویم جس کا آج یورپین گھروں میں غیر معمولی چرچا ہے اور اس علم روحانیت نوازی میں ایک عظیم انقلاب بھی برپاکردیا ہے۔اگرچہ تاحال مادہ پرستی کی دبیرگرد میں روپوش ہے لیکن ہمیں واثق اُمید ہے کہ مستقبل قریب میں خود مادہ پرست ہی اس علم کی کاملہ انقلاب کشائی کردیں گے اور قرائن سے پیش گوئی کی جاسکتی ہے یہی مادہ پرست اپنے قلم سے عالم اروواح ۔اروواح کی حیات جاوید ان کے آثار عجیبہ ۔عمل ،عمل تنویم کے ذریعہ سونے والے۔ سونے والی کی غیب گوئی بے شمار اسرار کی پردہ کشائی ۔اور ان کے حیران کن ومسرت آمیز نتائج پردہ مادیت پرلاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آشکارا کردیں۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ آج کا علم کائنات کے سربستہ رازوں ۔ خلاف عادت معجزات و کرامات اور علم غیب سے آشنائی کو ایک واضح شکل دینے پر آماداہ ہے حالانکہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ یہی چیزیں نگاہ مادیت میں مذہبی افساانوں سے زیادہ حقیقت نہ رکھتی تھیں ۔ اور عنقریب آپ انہی معارف کو بدنہیات کی فہرست میں دیکھیں گے۔
اب ذرا اپنی توجہ کو چودہ صدیاں پیچھے لے جائیے اور دیکھئے کہ یورپ کی روحانیت جس چیز کو روحانی کمال آخری زینہ سمجھ رہی ہے اسلام کے معصوم راہنما چودہ سو برس قبل اس کا اعلان کرچکے ہیں۔ حالانکہ آج کے علمی دو اوع چودہ سو برس قبل کے علمی ماحول میں واضح فرق ہے۔ انتہائی ذمہ داری کے ساتھ کہاجاسکتا ہے۔ کہ چودہ صدیاں قبل کا زمانہ وہ زمانہ تھا جس میں پورا روئے ارض بالعمول اور جزیرہ نمائے عرب بالخصوص جہالت کی گمبھیر تاریکی میں ڈوب ڈوب کرابھر ابھر کر ڈوبتا تھا۔ ہم شدت سے اس امر کے منتنظر ہیں کہ آج کا علم کب ایک کروٹ اورلے کر قرآن کریم کے بتائے گئے آفاقی بارایک ورقیق اسرار کی نقاب کشائی کب کرتا ہے۔اور انشاءاللہ عنقریب آیات قرآن کی مشاہداتی تفاسیر سامنے آنے کو ہیں۔
ہمیں قرآن کریم کے ایک ایک حرف ایک ایک لفظ اور ایک ایک آیت کی زبان صداقت پر پورا یقین ہے اور جسطرح چودہ صدیاں قبل کے مسلمانوں کو تھا اس طرح چودہ صدیاں بعد کی اُمت مسلمہ بھی اس یقین وعقیدہ سے قرآن کو پڑھتی ہے قرآن نے چودہ صدیاں قبل بتادیا ہے کہ ذرات کائنات خواہ ان کاتعلق عالم نبات سے ہو یا عالم جہاد سے ہرذرہ کی زبان ہے۔ اور ہرزرہ عالم اپنی زبان میں تسبیح وتقدیس باری کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اور ہم آج دیکھتے ہیں کہ مادہ پرستوں نے اپنی علمی موشگافیوں کا رخ اس طرف موڑا ہے اور اس سلسلہ میں کافی پیشہ رفت بھی ہوچکی ہے۔ عنقریب یہ نظریہ ایک مسلمہ کی صوروت میں سامانے آنے والا ہے ہر روز کائنات میں قوت گویا ئی قتکلم موجود ہے۔
ایک وقت تھا جب ہم کہتے تھے کہ ذات احدیت اپنے نمائیندوں کی علم کی دولت سے نوازتی ہے ۔آج کے مادی علوم نے ان حقائق کی کھوج لگاکر ہمارے دعویٰ کی تصدیق کردی ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ خدائی نمائیندگان علم غیب میں مادی اسباب و وسائل کے محتاج نہیں ہوتے جبکہ مادہ پرست اسباب و وسائل کے نیازمند ہوتے ہیں ۔اور معجزہ وغیرہ میں نہیں فرق ہے کہ معجزہ سالوں بلکہ صدیوں کے فاصلہ کو بلااسباب سمیٹ کر کسی چیز کو سامانے لاتاہے جبکہ غیر معجزہ میں محسوس ومشاہدات اسباب دونوں کا فاصلہ منٹوں میں طے کرتے ہیں۔
دائرۃ المعارف میں فرید وجرید:-
دائرۃ المعارف میں فررید و جدی نے ہپناٹزم کے ذیل میں اور دیگر مصنفین نے ہپناٹزم کے موضوع پر مستقل لکھی گئی کتابوں میں بکثرت ایسے واقعات درج کئے ہیں جن میں معمولی اپنے عامل کی روایات کے مطابق غیب کی خبریں دیتا ہے ۔فرید وجدی نے چند عجیب و غریب امور لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ ۔
یہ تمام مشاہدات اور ان جیسے لاکھوں واقعات کتب طب میں مذکوروہیں ۔ اور ان واقعات میں یہ تخصیص نہیں کہ صرف انہی امور کا ظہور ہوتا ہے ۔ اور وہ بھی ایک خوابیدہ اور بیحس و حرکت انسان کی زبان سے۔ بلکہ معاملہ اس سے بھی اگے بڑھا ہوا ہے۔ غیب دانی کمالیت اشیاء کا مشاہدہ قریب و بعید افراد کے دردن سینہ اسرار سے اطلاع ۔اور دیگر ایسے معاملات مسملہ الثبوت ہیں یہ علیحدہ بات کہ اگر ان معاملات کا اثبات جس ومشاہدہ سے نہ ہوتا تو ان کا باور کرنا مشکل تھا۔
فرید و جدی نے دائرۃ المعارف میں ہیپناٹزم کے حوالہ سے جو چند واقعات درج کئے ہیں ان مین سے ایک واقعہ آپ بھی دیکھ لیں۔ لوئیس ان افراد سے ہے جنہیں ہپناٹزم میں غیر معمولی شہرت حاصل ہے لوئیس نے ایک عورت کو ہیپناٹائز کیا۔ اسی دوران لوئیس نے اس عورت سے کہا کہ ذرا اپنے گھر چل۔
عورت نے کہا۔ میں گھر پہنچ گئی ۔
لوئیس: تیرےر گھر والے کیا کررہے ہیں؟
عورت: دو افراد امور خانہ داری میں مصروف ہیں۔
لوئیس : ان میں سے کسی کو ہاتھ لگا۔
عورت نے قہقہ لگا نا شروع کیا۔
لوئیس کیا بات ہے کیوں ہنس رہی ہو۔
عورت: آپ کے کہنے سے میں نے ایک کو چھوا تو وہ ڈر گیا۔
لوئیس (حاضرین سے ) کوئی شخص اس عورت کا گھر جانتا ہے۔
حاضرین میں سے ایک نے کہا میں جانتا ہوں۔
لوئیس: اس عوعرت کے گھر جاؤ اور ذرا اس کی بات کی تصدیق کردو کیا یہ سچ کہہ رہی ہے۔ چنانچہ وہ شخص اس عورت کے گھر جاتا ہے کچھ اور لوگ بھی بغرض تماشہ اس کے ساتھ جاتے ہیں۔
جب وہاں پہنچتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سارے گھر والے خوف و حراس کے مارے سہمے ہوتے ہیں ان کے پوچھنے پر گھروالوں نے بتا یا کہ کچن میں ہمیں ایک چلتا پھرتا سایہ نظر آیا اور اس نے فلاں شخص کو چھوا۔
اس قسم کے بیسوں واقعات اس فن پر لکھی گئی کتب میں موجود ہیں جنہیں آج کی مغربی دنیا روحانی فلاسفہ نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ ایسے واقعات کو بدیبیات سے شمار کرتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــ
قارئین سے اپیل:-
اب محترم قارئین سے درخواست یہ ہے کہ ہمیں بتائیں کہ کیا ہم علم غیب کے سلسلہ میں قرآن قریم کی محکم آیات
فلاسفہ عالم کے وہ نظریات جن کی پشیتپانی مستحکم منطقی دلائل سے کی گئی ہے۔
یورپ جدید میں فلاسفہ کے تجربات میں دُھلے ہوئے علم غیب کے محسوس ومشاہد واقعات و افکارا۔
عیسائی ، یہودی اورر امت مسلمہ کے لاکھوں نقل کردی واقعات کرردی کی ٹوکری میں پھینک دیں، ان سب کو جھوٹامان لیں ۔آیات قرآن کو پشت پیچھے پھینک دیں۔ آفاقی دانشمندی کے عملی اقوال اور مدلل نظریات کو پائے افکار سے ٹھکرادیں۔
اور ان کے مقابلہ میں مٹھی بھر۔ غیر دانشمند کو چہ گرد۔(لباس علم میں ملبوس جہلانہ زیور قدین سے آراستہ بیدین تبلیغ توحید کرنے والے مشرک ۔اپنی عزت پر عظمت انبیاء دانمہ و قربان کردینے والے جسار۔بحر خوردائی خود پسندی خودنمائی۔ جہالت ۔کینہ۔ اور حماقت میں غوطہ زن حرام خور اور کم عقل افراد کی بات مان لیں؟
ان غلامان شکم کی جیخ کنی کرکے فتنہ و فساد کی اٹھتی ہوئی موجوں اور تشت و افتراق کے سراُٹھاتے ہوئے ان نواز ئیدہ نجدی جرثوموں کا سرکچل ڈالیں ۔تاکہ۔
اتحاد ملی وحدت اسلامی اور اخوت قرآنی کا خواب شرمندہ تعبیر ہسکے ۔اور مستقبل میں پھر کبھی ایسے فرعون غرض سرنہ اٹھا سکیں ان کے ہاتھ آیات قرآن کی طرف نہ بڑھ سکیں ۔اور کڑوروں فرزندان اسلام امن و چین کا سانس لے سکیں۔
معجزہ سے انکار کیوں؟
اگر آپ انکارمعجزہ کے آگاز کا کھوج لگانا چا ہیئیں تو زیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔ ماضی قریب ہی میں آپ کو میر زا ابوالفضل گلپائیگانی کی کتاب فرائد مل جائے گی جو بابی و بہائی نظریات کو فروغ دینے کی خاطر لکھی گئی ہے۔ نجدی مکتب فکر کے دلائل بھی دیکھ لیں اور میر زا ابو الفضل کے دلائل بھی پڑھ لیں آپ کو سرمو فرق نہیں آئے گا۔ بنا بریں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انکار معجزہ کی کشت کاری میر زا ابو الفضل نے کی اور انکار معجزہ کی پھوٹتی کو نپل کا پانی نجدی ذہن نے مہیّا کیا۔
قابل غور یہ بات ہے کہ اگر کوئی بابی یا بہائی نظریات کا حامل ابو الفضل کے روپ میں معجزات انبیاء سے انکار کرے تو اس کی معقول وجہ موجود ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ معجزہ دلیل نبّوت ہوتا ہے جبکہ بابی و بہائی جیب میں معجزہ نام کی کوئی چیز نہیںانہیں تو حق ہے کہ اگر کوئی ان سے دلیل نبّوت کے بطور کا مطالبہ کرے تو وہ معجزہ کی حقیقت سے انکار کر دیں۔ کیونکہ معجزہ کو دلائل نبّوت سے مانتے ہوئے نبی حقیقی کے علاوہ کوئی دوسرا اپنی نبّوت کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ اس لئے مدعیان نبّوت کیلئے حقیقت معجزہ انکار ضروری تھی۔ اگر آپ نظام العلماء تبریزی کے ساتھ باب وبہا کے مناظرہ کی روداد دیکھیں تو آپ کو یہ یقین کرتے ہوئے بھی وقت محسوس نہیں ہوگی کہ معجزہ تو بجائے خود ان بے چاروں کے پاس تو علم و عمل اور عقل و خرد کی کعمول مقدار بھی موجود نہیں۔
لیکن ہمیں تعجّب اس نجدی مکتب فکر پر ہے کہ انہیں معجزہ سے انکار کی ضرور ت کیوں محسوس ہوئی و حالانکہ یہ بقلم خود علامے کہنے کو تو اپنے کو غیر مقلد اور آزاد کہتے ہیں۔ ان کے ساتھ آزادی کی ہرتان بزرگان ِ اسلام اور اولیاء دین کی توہین پر ٹوٹتی ہے ان کے منہ میں جو آتا ہے ان کا قلم حرف آخر سمجھ کر صفحہ قرطاس پر منتقل کرتا جاتا ہے۔ لیکن جب ان کی عدم تقلید اور آزادی کا تجزیہ کیا جائے تو کبھی یہی غیر مقلد ابن یتمیہ کا تھوکا ہوا چاٹتے نظر آئیں گے۔ کبھی نجدی وحشیوں کی خاکپاء کو آنکھوں کا سُرمہ بناتے پھر رہے ہوں گے کبھی ابو الفضل گلپائے کافی کے قلم سے نکلا ہوا زہرا اپنے ذہن کے خالی خانوں میں بھرنے لگیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
( اور کبھی امریکن ایجنٹ خالص کو مظلوم عالم کرکے اس کے معتقدات کی ترویج کو مظلوم کی داد رسی ۔ اور اس کی کتابوں کے نام بطور تبرک اپنی کتاب کو دے کر مقدس بنتےنظر آئیں گے) اگر مزید تفصیل درکار ہو تو نہج الرشاد اور اس جیسی دیگر ان کتب کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے جو رد وہابیت میں لکھی گئی ہیَں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
خاک شفا سجدہ :۔
نجدی منکرین کے بے معنی اور مغالطہ سوالات میں سے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ خاک شفا پر سجدہ کرنا شرک ہے یا نہیں؟
اس سوال کا تفصیل جواب تو سابقاً معلوم ہوچکا ہے۔ البتہ اسی کا اجمالی خاکہ ایک مرتبہ پھر پیش کرنے چلا ہوں تا کہ قارئیں کرام کی یاد تازہ ہوجائے معنائے شرک سے تو آپ واقف ہو ہی چکے ہیَں۔ اسی کی روشنی میں فیصلہ کن بات یوں کی جا سکتی ہے کہ
اگر کوئی شخص خاک شفا مزار یا صاحب مزار کو سجدہ خدائی عنوان سے کرتا ہے تو ایسا فعل یقیناً شرک ہے اور ایسا کرنیوالا مشرک ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خاک شفا پر اللہ کیلئے سجدہ کرے کسی مزار پر اللہ کیلئے سجدہ کرے۔ اطاعت حکم خدا کی نیت سے کرے تو یہ نہ صرف شرک نہیں بلکہ عین توحید ہے۔ اب ہماری طرف سے ان نجدی گلہ بانوں اور ان کے پیروکاروں کو ااجازت ہے کہ وہ اٹھیں اور دنیا میں بسنے والے کروڑوں شیعوں سے پوچھیں
کہ
بتاؤ شیعو! تم خاک شفا پر سجدہ کیوں کرتےہو؟ کیا شہید کربلا کو خدا سمجھتے ہو؟ کیا فرزند رسول کی پر ستش اور عبارت کرتے ہو؟ کیا حسینؑ کو فرزند خدا سمجھتے ہو؟ کیا شہید جو ر کو خدا وند عالم کے مقابل کوئی دوسری طاقت سمجھتے ۱؎ ہو؟
اگر آپ کو شیعہ جواب میں یہی کہیں کہ ہم سجدہ اللہ کیلئے کرتے ہیں۔ اور خاک شفاء کو روئے ارض کی ہر مٹی سے افضل سمجھ کر سجدہ گاہ استعمال کرتے ہیَں۔ اور ہمارا یہ فعل امت مسلمہ کے دیگر افراد سے قطعی مختلف نہیں۔ جس طرح امت مسلمہ کے دیگر گروہ ۔ مٹی یا کس دوسری چیز پر سجدہ کرتے ہیں اس طرح ہم بھی خاک شفا پر اللہ کی اطاعت میں سجدہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ (از مترجم : کیا علم کو معبود سمجھتے ہو؟ کیا ذوالجناح کو قابل عبادت سمجھتے ہو؟ کیا مزارات آئمہ کرام و شہدائے کربلا شبیہوں کو خدا کا مقابل سمجھتے ہو؟)
کرتے ہیَں۔ اور ہم خاک شفا پر سجدہ کا اجر صرف اور صرف اللہ سے مانگتے ہیَں۔ اگر آپ کو مذکورہ جواب ملے اور یقیناً یہی جواب ملے گا تو پھر شرافت نفس کا تقاضا یہ ہیَے کہ آپ شیعیان آل محمدؐ سے الزام شرک واپس لیں۔ شیعوں پر لگائے تمام اتہاماث سے دست بردار ہوجائیں جرم الزام تراشی سے آئیندہ کے لیے توبہ کریں ۔ انتشار و افتراق کی راہ چھوڑ کر وحدت ملی کی طرف لوٹیں خود بھی آرام سے بیٹھیں اور دوسری اُمت مسلمہ کو بھی چین کا سانس لے کر دشمناں اسلام کے خلاف صف آراء ہونے کی تدبیر کرنے دیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *