یوں
تو یہ فرقہ بھی اصحاب ہیاکل ہی کی ایک شاخ ہے۔ لیکن ذرا ان کا معیار فکر زیادہ پست
ہے۔ بالفاظ دیگر احساس کمتری انہیں کچھ زیادہ ہَے۔ ان کے خیال میں خدائے بزرگ و برتر تو کجا ہم تو اپنے ان وسائل کو بھی
دیکھنے یا ان سے ہمکلام ہونے کے قابل نہیں۔
ہمارے
روحانیـــــــ خداؤں تک پہنچنے کا
وسیلہ ہیَں تو یہی سیارے ۔ مگر چونکہ سیارہ بھی طلوع و غروب سے دوچار ہوتے ہیَں۔ اس
لئے کما حقہ ہمیں ان سے تقریب حاصل نہیں۔ اس مفروضہ نے ان بے چاروں کو ہر سیارہ کی
شکل بنانے پر مجبور کیا۔ جس کا نتیجہ بت پرستی ۔ بت تراشی۔ اور بت فروشی کی شکل
میں ظاہر ہوا۔ ان کے عقائد کی صورت کچھ یوں بنتی ہَے۔
ہر
سیارہ کی مجسم شکل (بت)ہمیں اس سیارہ کی ہیکل کا مقرب بنایا ہَے۔
ہر
سیارہ کی ہیکل ہمیں روحانیوں کے قریب کرنے کا وسیلہ بنتی ہَے۔
روحانیوں
جو چھوٹے خدائیں خدائے عظیم کے تقریب کا واسطہ بنتے ہیَں۔
ان
لوگوں نے جس سیارہ کو جس دھات سے منسوب کیا تھا۔ اسی دھات سے اس سیارہ کی ہیکل
بنائی ۔ اور اس ہیکل ( بت) کو سامنے رکھ کر جھکنا شروع ہوگئے۔ یہ لوگ بھی اصحاب
ہیاکل کی طرح ہر سیارہ کے وقت ۔ ساعات اور درجات کا خصوصی خیال رکھتے ہیَں ہر مشکل
کے حل میں سیاروں کا بہت بڑا عمل دخل سمجھتے ہیَں۔
علاوہ
ازیں ان کے خیال میں اذیت رساں ۔ اور پست قسم کی مخلوق۔ خدائے عظیم کی تخلیق نہیں
ان کے مطابق خدائے اکبر اس تصور سے کہیں بلند و بالا ہے کہ وہ ضرر رساں یا گھٹیا
قسم کی چیزیں پیدا کریں۔ ان کا نظریہ ہَے کہ اس قسم کی تمام چیزیں عناصر اربعہ کی
غیر شعوری ترکیب اور ان میں سیاروں کی غیر
ارادی تاثیر سے پیدا ہوئی ہیَں۔ جسے کحض ایک حادثہ یا اتفاق کہنا چاہیئے ۔ یہاں تک
تو ان لوگوں کا اتحادی نظریہ تھا مگر اس کے بعد یہ لوگ کئی فرقوں میں بٹ گئے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ان تذکرہ غیر ضروری ہَے۔
Leave a Reply