anwarulnajaf.com

صدق

صدق

یعنی سچائی  اور اس
کے تین مراحل ہیں نیت  میں سچائی  قول میں سچائی اور عمل میں سچائی  اور پوراسچاانسان وہہے جو تینوں مراحل میں صادق
ہو  کیونکہ نیت میں سچائی ہوگی تو منافقت  سے بچ جائے گا قول میں سچائی ہوگی تو جھوٹ سے
بچ جائے گا اور عمل میں سچائی ہوگی توخدا کی نافرمانی سے بچ جائے گا   اور زندگی 
کی ہر منزل میں صادق وہی ہوسکتاہے 
جو معصوم ہو اسی لئے تو خدا نےقرآن 
مجید میں عوام الناس  کو ایمان
وتقوی ٰ کےساتھ  ساتھ صادقین کی صحبت یعنی
اطاعت کا حکم دیا ہے اور حضرت امیرالمومنین  علیہ السلام 
کا لقب صدیق اکبر ہے

 حضرت امام جعفر
صادق علیہ السلام  نے فرمایاجس کی زبان سچی
ہوگی اس کا عمل کھرا ہوگا جس کی نیت اچھی ہوگی اس کےرزق میں فراوانی ہوگی اور جو
اپنے اہل خانہ کےساتھ حسن سلوک کرے گا اس کی زندگی طولانی ہوگی

ایک شخص حضرت پیغمؐبر 
کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی حضؐور میں گناہ گار ہوں اور
گناہوں سے باز نہیں آسکتا آپ نے فرمایامیری صرف ایک بات کو قبو ل کرلے  اس نے عرض کی حضؐر فرمائیے  آ پنے فرمایاکہ جھوٹ  نہ بولاکرو اس نےوعدہ کیاجھوٹ نہ بولوں گا آپ
نے فرمایا اب چلے جاؤ میری نصیحت پر عمل کرنا اور میری ملاقات کےلئے بھی
وقتافوقتا  آتے رہنا  اس نے یہ بھی وعدہ کرلیا پس چلاگیا جبگھر میں
پہنچا تو گناہ کےوقت جب گناہ کاارادہ کیاتو فورا خیال پیدا ہواکہ جب حضؐور کے پاس
جاؤں گا اور وہ پوچھیں گے کہ کیاتم نے فلاں 
گناہ کیاہے ؟  میں نے جھوٹ نہ
بولنےکا پکا وعدہ کیاہے پس سچ ہی بتانا پڑے گا اور شرمساری ہوگی پس اپنےاوپر زور
ڈال کر اس گناہکو چھوڑ دیا پھر دوسرے گناہ کا وقت آیا تو وہی خیال پیدا ہوا اور
طبیعت پر زور دیکر  اسکی بھی ترک کردی
اوعلی ہذالقیاس

چند دنوں میں اس نےتمام گناہوں سے توبہ کرلی اور یہ صرف سچ
بولنے کی ہی برکت ہے


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *