anwarulnajaf.com

طواف وداع . حالت احرام میں شکار کا حکم

 طواف وداع     :   ان اعمال سے فارغ ہوکر مستحب ہے کہ مکہ معظمہ
میں داخل ہو اور طواف وداع کرے اور زیادہ سے زیادہ کرنے کی  کوشش کرے اور 
360 چکر مستحب ہیں بیت اللہ میں 
طواف کرنا  نافلہ پڑھنے سے افضل ہے
وہاں اپنے بھائیوں کے لئے دعاطلب کرے کعبہ کے اندر داخل ہوکر ذکر خدا بجالائے ،

مسئلہ:۔ ہر طواف میں خدا  واجب
ہوخواہ مستحب۔ حجراسود کو بوسہ دینا مستحب ہے اگر بھیڑ واروہام کی وجہ  سے بوسہ دینے 
پر قدرت نہ ہوتو ہاتھ  سے مس کرے
دیوار کعبہ سے اپنے جسم کوئمس کرنا نہتر ہے خصوصآ   تمام ارکان سے چٹنا م ستحب ہے اور ان تمام
حالات میں حمد ژناء پروردگار اور درودشریف کے ذکر خیر سے اپنی  زبان کوتررکھتے ، بیت اللہ کو اسی طرح وداع جرے
جس طرح اپنے انتہائی  قریبی  دوست سے وداع کررہا ہوا اور خدا سے دوبارہ حج
پر موقف ہونے کی دْعا  طلب کرے ۔ روانگی
جےوقت کچھ کھجوریں خرید کر صدقہ کرے آب زم زم 
کو واپسی پر شفاء  کے  لئے ہمراہ لانا خوب ہے۔

مسئلہ:   حج بیت اللہ سے فارغ  ہونے کے بعد 
یا حج  سے پہلے مدینہ منورہ میں
جناب   رسالمٓاب اور دیگر معصومین کی
زیارتکو جانا کو جانا مستحب ہے اور حضور رسالماب کا فرمان ہے کہ مَن حَجَّ
وَلَم  یَزُ دنِی ۔ جو حج کرے اور میری
زیارت کو نہ آئے تو تحقیق  اس نے مجھ پر
خفا کی۔

حالت احرام میں شکارکا حکم:   نہ صرف برمی شکار حالت
احرام میں حرام ہے نہ کہ سجری اور بعضوں نے کہا 
ہے  کہ جس امئست موسیٰ کا امتحان
سجری شکار میں رکھا گیا تھا ، اسی طرح امست اسلامیہ کا امتحان بری شکار میں رکھ
دیا گیا۔ صافی میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ جب احرام باندھ لو تو
ہر جانوری کے مارنے سے بچو  سو ائے
مانگ  سجٌپواور چوہے کے چوہاس لئےکے
مشکیزوں کو کتر جاتا ہے،  اور کھر جلا دیتا
ہے ٓٓٓٓٓٓ اس لئے کہ  خدا کے پیغمبر نے
پتھر کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا تو ایک بچھر بے انہیں کا ٹا تھا تو انہوں نے اس کو
لعنت کی تھی کہ تو نیک دبد کو نہیں چھوڑتا اور سانپ اگر تم پر حملہ کرے تو اس کو
مارورنہ جانے دوا اور لڑاگا کتا اور دوسرا 
درندہ اگر تمہیں چھوٹی تو ان کو قتل کرو۔ ورنہ ان کو کچھ نہ کہو لیکن کالے
ناگ کو ہر حالت میں مارو اور کوّے اور چیل کو اونٹ پر بیٹھے  ہوئے کنکرہ پھینک کر دور کرو۔ ایک روایت میں
ایک بھیڑئیے کے قتل کی اجازت دی گئی ہے اور ایک روایت میں معصوم نے ایک ایک قاعدہ
کلیہ بیان فرمایا ہے ۔
 کہ  حالت
احترام میں محرم جن جانوروں سے اپنی جان کا خوف محسوس کرے ان کو قتل کرنا جائز ہے
خواہ درندہ ہو یا سانپ ہاں اگر نہ چھیڑیں تو خواہ مخواہ ان کو نہ چھیڑو۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *