’’قمقام
فرہاد میرزا‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے ’’تذکرہ الخواص‘‘ سے نقل کیا ہے جب سرہائے
شہدأ کو کوفہ میں لایا گیا توقاسم بن اصبغ مجاشعی روایت کرتاہے میں نے ایک گھوڑے
سوار کودیکھا کہ اس کے گھوڑے کی گردن سے ایک نوجوان کا سرلٹکا ہواتھا جس کا چہرہ
مبارک چودھویں کے چاند کی مانند تاباں تھا اورپیشانی نورانی سے سجود کے آثار
نمایاں تھے، گھوڑا جب سرکو بلند کرتاتھا تو وہ سرمبارک گھوڑے کے گھٹنوں سے
ٹکراتاتھا اورجب گھوڑ ا سرنیچے کرتاتھا تووہ سر مبارک زمین پرپہنچ جاتاتھا، میں نے
اس سوار کا نام پوچھا توکہا گیا کہ یہ حُرملہ بن کاہل ہے اوراس سر کے متعلق دریافت
کیا توبتایا گیا کہ یہ عباس بن علی ؑ کا سرہے، اس وقت حُرملہ کی شکل بھلی معلوم
ہوتی تھی جب چند دنوں کے بعد میں نے حُرملہ کودوبارہ دیکھا تونہایت بد شکل
اورروسیاہ نظر آیاکہ پہچانا نہ گیا، تو میں نے اس سے وجہ پوچھی کہ کربلاسے واپسی
کے روز میں نے تجھے اچھی شکل سے دیکھا تھا لیکن آج تجھے نہایت بد صورت دیکھ
رہاہوں تو اس نے روکرجواب دیا کہ جب سے میں نے وہ سراٹھایا ہے اس دن سے آج تک
ہررات خواب میں میرے پاس دوآدمی آتے ہیں اورمجھے گرفتار کرکے جہنم میں ڈال دیتے
ہیں تمام رات جلتارہتاہوں اورقبیلہ کے تمام لوگ میری تمام رات کی چیخ وپکار سنتے
رہتے ہیں لیکن میری فریاد رسی کوئی نہیں کرسکتا؟ پس وہ تازیست اس عذاب میں
مبتلارہا (اس پر خداکی لعنت ہو ) اورپھر عذاب دائمی کی طرف منتقل ہوگیا۔۔۔ اُردوتر
جمہ تذکرۃالخواص ص۳۳۶ میں یہ روایت
باختلافِ الفاظ موجود ہے۔
فرہاد میرزا‘‘ سے منقول ہے کہ انہوں نے ’’تذکرہ الخواص‘‘ سے نقل کیا ہے جب سرہائے
شہدأ کو کوفہ میں لایا گیا توقاسم بن اصبغ مجاشعی روایت کرتاہے میں نے ایک گھوڑے
سوار کودیکھا کہ اس کے گھوڑے کی گردن سے ایک نوجوان کا سرلٹکا ہواتھا جس کا چہرہ
مبارک چودھویں کے چاند کی مانند تاباں تھا اورپیشانی نورانی سے سجود کے آثار
نمایاں تھے، گھوڑا جب سرکو بلند کرتاتھا تو وہ سرمبارک گھوڑے کے گھٹنوں سے
ٹکراتاتھا اورجب گھوڑ ا سرنیچے کرتاتھا تووہ سر مبارک زمین پرپہنچ جاتاتھا، میں نے
اس سوار کا نام پوچھا توکہا گیا کہ یہ حُرملہ بن کاہل ہے اوراس سر کے متعلق دریافت
کیا توبتایا گیا کہ یہ عباس بن علی ؑ کا سرہے، اس وقت حُرملہ کی شکل بھلی معلوم
ہوتی تھی جب چند دنوں کے بعد میں نے حُرملہ کودوبارہ دیکھا تونہایت بد شکل
اورروسیاہ نظر آیاکہ پہچانا نہ گیا، تو میں نے اس سے وجہ پوچھی کہ کربلاسے واپسی
کے روز میں نے تجھے اچھی شکل سے دیکھا تھا لیکن آج تجھے نہایت بد صورت دیکھ
رہاہوں تو اس نے روکرجواب دیا کہ جب سے میں نے وہ سراٹھایا ہے اس دن سے آج تک
ہررات خواب میں میرے پاس دوآدمی آتے ہیں اورمجھے گرفتار کرکے جہنم میں ڈال دیتے
ہیں تمام رات جلتارہتاہوں اورقبیلہ کے تمام لوگ میری تمام رات کی چیخ وپکار سنتے
رہتے ہیں لیکن میری فریاد رسی کوئی نہیں کرسکتا؟ پس وہ تازیست اس عذاب میں
مبتلارہا (اس پر خداکی لعنت ہو ) اورپھر عذاب دائمی کی طرف منتقل ہوگیا۔۔۔ اُردوتر
جمہ تذکرۃالخواص ص۳۳۶ میں یہ روایت
باختلافِ الفاظ موجود ہے۔
’’مقاتل
الطالبین‘‘ مطبوعہ ایران ص۴۸سے منقول
ہے قاسم بن اصبغ کہتاہے میں نے قبیلہ دارم کے ایک شخص کو دیکھا جس کا منہ شب تاریک
کی طرح سیاہ تھا حالانکہ اس سے قبل وہ ایک خوبصورت جوان تھا میں نے اس سے دریافت
کیا کہ تیری اچھی خاصی شکل مسخ کیسے ہوگئی؟ تواس نے جواب دیا کہ حسین ؑ کی فوج میں
ایک نوعمر جس کی داڑھی ابھی نہیں آئی تھی اوراس کی پیشانی سے سجود کے آثار
نمایاں تھے میں نے اس کوشہید کیا، اس دن سے لے کر آج تک وہی جوان خواب میں مجھے
ہرشب گرفتار کرلیتاہے اورمجھے دوزخ میں دھکیل دیتا ہے، میں فریاد کرتا ہوں کہ
ساراقبیلہ تمام شب میری آہ وفغاں کو سنتارہتاہے اوریہ سب کچھ اسی عذاب کا نتیجہ
ہے جوتودیکھ رہاہے۔۔ وہ جوان جس کو میں نے قتل کیا تھا عباس بن علی ؑ تھا۔
الطالبین‘‘ مطبوعہ ایران ص۴۸سے منقول
ہے قاسم بن اصبغ کہتاہے میں نے قبیلہ دارم کے ایک شخص کو دیکھا جس کا منہ شب تاریک
کی طرح سیاہ تھا حالانکہ اس سے قبل وہ ایک خوبصورت جوان تھا میں نے اس سے دریافت
کیا کہ تیری اچھی خاصی شکل مسخ کیسے ہوگئی؟ تواس نے جواب دیا کہ حسین ؑ کی فوج میں
ایک نوعمر جس کی داڑھی ابھی نہیں آئی تھی اوراس کی پیشانی سے سجود کے آثار
نمایاں تھے میں نے اس کوشہید کیا، اس دن سے لے کر آج تک وہی جوان خواب میں مجھے
ہرشب گرفتار کرلیتاہے اورمجھے دوزخ میں دھکیل دیتا ہے، میں فریاد کرتا ہوں کہ
ساراقبیلہ تمام شب میری آہ وفغاں کو سنتارہتاہے اوریہ سب کچھ اسی عذاب کا نتیجہ
ہے جوتودیکھ رہاہے۔۔ وہ جوان جس کو میں نے قتل کیا تھا عباس بن علی ؑ تھا۔
ان روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت امیر ؑ کے عباس نامی دوفرزند تھے ایک
عباس اکبر جو حضرت ابوالفضل سقّاوعلمبر دارِ فوجِ حسینی تھے ان کی عمر ۳۵برس تھی اوردوسرے عباس اصغر جو غالباً ۱۹یا ۲۰بر س کے تھے۔۔۔
اوراس کی تائید متعدد کتب سے ملتی ہے، چنانچہ کتاب ’’العباس‘‘ سید عبد الرزاق نجفی
ص۵۲ سے منقول ہے کہ حضرت امیر ؑکے فرزند سولہ
تھے:
عباس اکبر جو حضرت ابوالفضل سقّاوعلمبر دارِ فوجِ حسینی تھے ان کی عمر ۳۵برس تھی اوردوسرے عباس اصغر جو غالباً ۱۹یا ۲۰بر س کے تھے۔۔۔
اوراس کی تائید متعدد کتب سے ملتی ہے، چنانچہ کتاب ’’العباس‘‘ سید عبد الرزاق نجفی
ص۵۲ سے منقول ہے کہ حضرت امیر ؑکے فرزند سولہ
تھے:
(۱) حسن ؑ (۲) حسین ؑ(۳)محسن ؑ ان کی والدہ
حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاتھیں۔
حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہاتھیں۔
(۴) محمد بن حنفیہ ان
کی والدہ کا نام خولہ تھا۔
کی والدہ کا نام خولہ تھا۔
(۵) عباس (۶) عبداللہ
(۷) جعفر(۸) عثمان ان کی والدہ امّ البنین تھیں۔
(۷) جعفر(۸) عثمان ان کی والدہ امّ البنین تھیں۔
(۹) عمراطرف(۱۰) عباس
اصغر ان کی والدہ کا نام صہباتھا۔
اصغر ان کی والدہ کا نام صہباتھا۔
(۱۱)محمد اصغر ان کی والدہ امامہ بنت ابی العاص تھیں۔
(۱۲)یحییٰ(۱۳)عون ان کی والدہ
اسمأبنت عمیس تھیں۔
اسمأبنت عمیس تھیں۔
(۱۴)عبداللہ (۱۵) ابوبکر ان کی والدہ
لیلیٰ بنت مسعود تھیں۔
لیلیٰ بنت مسعود تھیں۔
(۱۶)محمد اوسط ان کی والدہ ایک امّ ولد تھیں۔
اور’’مقاتل الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ حضرت علی ؑ کے ایک فرزند کا نام
ابراہیم بھی تھا جس کی والدہ امّ ولد تھیں۔
ابراہیم بھی تھا جس کی والدہ امّ ولد تھیں۔
’’ناسخ
التواریخ‘‘ سے منقول ہے بعض علمأ نے ذکرکیا ہے کہ عباس ؑ بن علی شب عاشور شہید
ہوئے لیکن اکثر علمائے تاریخ حضرت عباس ؑکی شہادت روز عاشور ذکرکرتے ہیں۔۔۔ تو وجہ
یہ ہے کہ حضرت امیر ؑ کے دوفرزندوں کا نام عباس ؑ تھا ایک عباس اکبر اوردوسراعباس
اصغر۔۔۔ پس ممکن ہے کہ عباس اصغر شب عاشور پانی لینے کے لئے گئے ہوں اوردرجہ شہادت
پر فائز ہوئے ہوں (واللہ اعلم)
التواریخ‘‘ سے منقول ہے بعض علمأ نے ذکرکیا ہے کہ عباس ؑ بن علی شب عاشور شہید
ہوئے لیکن اکثر علمائے تاریخ حضرت عباس ؑکی شہادت روز عاشور ذکرکرتے ہیں۔۔۔ تو وجہ
یہ ہے کہ حضرت امیر ؑ کے دوفرزندوں کا نام عباس ؑ تھا ایک عباس اکبر اوردوسراعباس
اصغر۔۔۔ پس ممکن ہے کہ عباس اصغر شب عاشور پانی لینے کے لئے گئے ہوں اوردرجہ شہادت
پر فائز ہوئے ہوں (واللہ اعلم)
Leave a Reply