جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھا اور حضرت علی ؑ کا تلمیذ رشید تھا، ’’اصابہ‘‘
میں حدیث غدیر مَنْ کُنْتُ مَوْلاہ اسی سے روایت کی گئی ہے اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں
مذکور ہے کہ عبدالرحمن نے شہادت دی کہ میں نے یہ حدیث جناب رسالتمآبؐ سے اپنے
کانوں سے سنی ہے اور ’’اصابہ‘‘ میں ہے کہ جب حضرت امیر ؑ نے قسمیہ لوگوں سے فرمایا
کہ میرے حق میں یہ حدیث جن جن لوگوں نے اپنے کانوں رسول خدا سے سنی ہے تو کھڑے ہو
کر گواہی دو تو صحابہ میں سے تیرہ آدمی کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک یہی
عبدالرحمن بن عبد ربہ انصاری تھا۔
میں حدیث غدیر مَنْ کُنْتُ مَوْلاہ اسی سے روایت کی گئی ہے اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں
مذکور ہے کہ عبدالرحمن نے شہادت دی کہ میں نے یہ حدیث جناب رسالتمآبؐ سے اپنے
کانوں سے سنی ہے اور ’’اصابہ‘‘ میں ہے کہ جب حضرت امیر ؑ نے قسمیہ لوگوں سے فرمایا
کہ میرے حق میں یہ حدیث جن جن لوگوں نے اپنے کانوں رسول خدا سے سنی ہے تو کھڑے ہو
کر گواہی دو تو صحابہ میں سے تیرہ آدمی کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک یہی
عبدالرحمن بن عبد ربہ انصاری تھا۔
یہ عبدالرحمن مکہ سے ہی امام ؑ کے ہمرکاب ہو گیا تھا۔۔۔ روز عاشور حملہ
اولیٰ میں شہید ہو گیا تھا، نیز یہ وہی عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری ہے جس کا نویں
محرم کے دن بریر بن خضیر سے خوش طبعی کی بات پر مکالمہ ہوا جو بیان ہو چکا ہے۔
اولیٰ میں شہید ہو گیا تھا، نیز یہ وہی عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری ہے جس کا نویں
محرم کے دن بریر بن خضیر سے خوش طبعی کی بات پر مکالمہ ہوا جو بیان ہو چکا ہے۔
Leave a Reply