anwarulnajaf.com

علمائے اسلام کے خلاف طوفان بدتمیزی

 چونکہ وہابیت زدہ نجدی
خود اور ان کے ہمنوا۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے دام سرنگ زمین کو ظاہر کرنے والے
۔ ان کی فریب کاریوں کا پردہ چاک کرنے والے ۔ اور ان کے علمی حدود اربعہ کا پوسٹمارٹم
کرنیوالے ۔ اگر کچھ افرادہیں تو وہ صرف اور صرف علماء ہی ہیں۔ کیونکہ سادہ لوح عوام
، اولاًتو ان کی مکاریوں سے آشنا ہی نہیں ہوتے۔ اور اگرچند ایک واقف ہو بھی جائیں تو
وہ اپنے کو مذہبی نزاعات سے علیٰحدہ رکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس لیے یہ دجال منش
اپنے مذموم اور مسموم مقاصد کی راہ میں صرف علمائے اعلام ہی کوروڑا سمجھتے نہیں۔ یہی
وجہ ہے کہ یہ بد باطن جیسے ہو سکے۔ جہاں ہو سکے۔ اور جب ہر سکے علما نے اعلام کی قبائے
دیانت کو تار تار کرنے اور دستار شرافت کو گندیدہ کرنے کی نامحدود کوشش میں مصردف عمل
رہتے ہیں۔ علمائے حق کو مطعون کرتے ہیں(ا جی فلاں توشیخی ہے) علمائے حق پر تہمتیں لگاتے
ہیں (کیا آپ کو معلوم نہیں فلاں صاحب تو ملائکہ کے منکر ہیں) نگاہ عوام میں علماء کا
وقار ختم کرنے کی فکر میں رہتے ہیں (ارے اس کی کیا بات کرتے ہودہ کوئی لکھا پڑھا ہوا
تو نہیں ہے بس عمامہ باندھ رکھا ہے) مقصد یہ ہوتا ہے کہ یہ سادہ لوح عوام علمائے حق
تک پہنچ ہی نہ سکیں۔ اور ان کی آواز عوام میں مؤثرنہ ہونے پائے ۔ اور ہمارے سامنے فکری
غارتگری کا میدان صاف رہے ۔ اور ہم انتھائی یکسوئی سے ایک طرف نجدی دولت کا حق نمک
ادا کرتے رہیں۔ اور دوسری طرف سادہ لوح عوام میں اپنے علم وعمل اور زہد و تقویٰ کا
بھرم رکھتے رہیں ۔

جبکہ نہ صرف حقیقت یہ
ہے بلکہ تاریخ اسلام اس حقیقت کی شاہد عادل ہے۔ کہ :سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی رحلت کے لمحہ اول سے تادم تحریر علمائے حق ہیں جنہوں نے دین اسلام کی حفاظت
کی ہے۔ وہ علماء ہی تھے جنہوں نے یہودیت کی فکری یلغار اور عیسائیت کی ذہنی زہرآلودگی
وغیرہ جیسے طوفان کی راہ میں ناقابل تسخر بند باندھے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *