غسل میّت : جب میّت کو غسل دینا ہوتو سایہ دار جگہ پر ایک لمبا گڑھا
کھودا جائے جس کا رخ قبلہ کی طرف ہواور اتنا گہرا ہو کہ غسل کا پانی اس میں
سماجائے پس اس پر تختہ بچھا کر اوپر میت کو قبلہ رُخ لٹائیں یعنی پاؤں قبلہ کی
جانب ہوں پس میّت کےکپڑے نہایت نرمی سے اتارلینے کے بعد اس کی شرمگاہ پر ایک کپڑا
ڈالیں اور دو آدمی اس کو غسل دیں ۔ کہ ایک صرف پانی ڈالے اور دوسرا نہلانے کا کام
کرے۔
طریقہ غسل
پہلے میّت کی تمام ناپاکی وغیرہ کو
دور کیا جائے اور ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر آگا پیچھے دھوئیں اس کے بعد پہلا غسل اس
پانی سے دیں جس میں بیری کے پتے ڈال کر اور مل کر جھاگ دار کیا ہوا ہو ۔ دونوں
نہلانے والے اس طرح نیّت کریں کہ غسل دیتے ہیں ہم اس میّت کو آب مدد سے واجب
قربتہً الی اللہ پھرتین بار فوراً ہی میّت کو بائیں کروٹ پر لٹا کر دائیں پہلو پر
تین دفعہ اس طرح پانی ڈالیں کہ شانے سے پاؤں تک مسلسل پڑتا رہے اور نہلانے ولا
میّت کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا جائے تاکہ پانی سب جگہ پہنچ جائے اور ہاتھ کو میّت کے
پہلو سے علٰحدہ کرتے رہیں کہ پانی نیچے تک جاسکے پھر میّت کو دائیں کروٹ پر لٹا کر
اسی طرح بائیں کروٹ پر پانی ڈال کر سب جگہ پہنچائیں پھر میّت کو چت لٹا کر نہلا نے
والا اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک خالص پانی سے دھوئے اس کے بعد میّت کو دوسرا غسل آب
کا فور سے واجب دیا جائے اور اب پھر نیت کریںن کہ غسل دیتے ہیں ہم اس مّیت کو آب
کافور سے واجب قربتًہ الی اللہ اور اس کو بطریق سابق بجا لائے پھر غُسل دینے والا
خالص پانی سے اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوئے اور تیسرا غسل دے بعد نیت کے
کہ غسل دیتے ہیں ہم اس میت کو آب خالص سے واجب قربتہ الی اللہ اور اس کو بطریق
سابق بجا لائے۔ اس تیسری دفعہ نہلانے کے
بعد میّت کے بدن کو کپڑے سے خشک کریں اور کفن پہنائیں۔
تنبیہ:۔(1) میّت کے کپڑے آہستہ اتاریں اگر میّت کے کپڑے تنگ ہوں تو
وارث کی اجاز سے چاک کر کے اُتارڈالیں۔(2) نہلانےوالے
کو چاہیئے کہ میت کو قبیلہ ردکھڑا ہوکر
نہلائے جس وقت مردے کو غسل دیا جائے تو اس کو کھڑا کرنا یا بٹھانا چاہئے ۔ بلکہ
لیا ہی رہنی دیں (3) نہلاتے وقت اگر میّت کے بال یا ناخن وغیرہ یا کوئی اور عضو
علیحدہ ہو جائے تو ان کو کفن مین رکھ دیں (4) اگر کسی جگہ بیری کے پتّے یا کافور
وغیرہ نہ مل سکے تو تینوں غسل خالص پانی سے دیئے جائیں (5) میّت کو گرم پانی سے
غسل دینا مکروہ ہے اگر سردی شدید ہو اور نہلانے والے کو تکلیف ہو تو اس قدر گرم
لرلیں کہ صرف ٹھٹر نکل جائے ۔ (6) عورت کو غسل دیتے وقت اس کے سر کے بال کھول دیئے
جائیں اور بعد غسل بھی کھلے رہنے دیں۔ (7)
مرد کی میّت کو مرد اور عورت کی میت کو عورت کا غسل دینا واجب ہے۔(8) ہر
غسل کے لئے لنگی اور وہ کپڑا جو ہاتھوں میں لپٹا تھا علیحدہ ہونا چاہئے۔ (9) اگر
میّت کا سرتن سے جُدا ہو تو ہر غسل میں پہلے سر کو دھوئیں اور بعد میں بدن کو۔
ترکیب کفن: میّت کو نہلانے کے بعد کسی پاک چیز پر کفن سے ایک چادر بچھا ئیں او ر اس پر
دوسری چادر بچھائیں۔ اور پھر کفن کا گریبان پھاڑ کر آدھا چادر پر پھلائیں اور آدھا
حِصّہ سر کی طرف رہنے دیں۔ پھر پاؤں کی طرف لنگی ناف سے لے کر پنڈلیوں تک بچھائیں
اور ان پیچ کا ایک سِر اپھاڑ کر کمرے کے برابر رکھیں ۔ پھر میّت کو کفن پر لٹا ئیں
اور ان پیچ کے دونوں گوشوں کمر کو باندھ کر ناف کے اوپر لگادیں اور بہت ساری روئی
لے کر آگے پیچھے رکھیں اور تھوڑا سا کافور چھڑک دیں۔ پھر ان پیچ کے دوسرے سرے کو
گرہ کے نیچے سے مثل لنگرٹ کے نکال دیں تاکہ روئی ہلنے نہ پائے اور میّت کے دونوں
پاؤں ملادیں ۔ باقی ران پیچچ کا کپڑا دونوں ٹانگوں پر لپیٹ دیں پھر یہ نیت کریں کہ
خوط کرتا ہوں ۔ اس میت کو واجب قر بتہ الی اللہ سات اعضاء جو سجدہ کےہیں یعنی
پیشانی ، دونوں ہتھیلیاں ، دونوں پاؤں کے انگوٹھوں پر کافور ہاتھ سے باریک کر کے
لگائیں اور مل دیں ۔ اگر کچھ کا فورمقدار سے زیادہ اور بچ رہے تو سینہ پر ڈال دیں
اور مستحب ہے کہ میت کی ناک پر بھی کافورمل دیا جائے اس کے بعد لنگی بادنھ دیں کہ
گرہ کمرہ پر آئے) بعد میں عمامہ سر پر باندھ دیں عمامہ باندھنے کے بعد دائیں طرف
کا سر ابائیں طرف اور بایاں دائیں طرف ڈال دیں ۔ لیکن اگر عورت کی میت ہو تو عمامہ
کی بجائے رومال یا اوڑھنی سر پر باندھ دیں پھر نیّت کریں کہ کفن دیتا ہوں میں اس
میت کو واجب قربتہً الی اللہ اور چادر کابایاں حِصہ ّ میّت پر دال دیں پھر دایاں
حِصہ اور سر کی جانب سے چادر کو اکٹھا کر کے باندھ دیں بعد میں نماز جنازہ پڑھ
کرمیت کو مقام قبر پر ے جا کر دفن کردیں واجب ہے کہ میت کو قبر میں داہنی طرف
بقلبہ بتائیں ۔
تنبیہ:۔ کفن کے لئے کم از کم کپڑوں کا ہونا ضروی ہے جو کہ واجب
ہیں۔
(1)
پیراسن یعنی کفنی (2) لنگ ناف سے زانو یعنی گھٹنوں تک (3) اتنی لمبی چادر جس میں میّت کا تمام
جسم چھپ جائے۔ اور باقی تین کپڑے مرد کیلئے سنّت ہیں۔
(1)
عمامہ (2) ران پیچ اورد (3) یمنی چادر ۔ اگر یمنی چادر مہیا نہ ہو سکے تو کوئی دوسری مگر لکھی ہوئی
چادر مستحب ہے عام کم از کم تین گز لمبا اور چار گرہ چوڑا ہونا چاہیئے اور ان پیچ
کم از کم ڈیڑھ باشت چوڑا اور اتنا لمبا ہونا چاہئے جس سے رانیں لپیٹی جائیں ۔
عورت کیلئے:
(1) رومال جو کم از کم ایک گز ہو (2)
چادر (3) ران پیج (4) سینہ بند جو کہ اتنا لمبا اور چوڑا ہو جس سے عورت کا سینہ
بااسانی ڈھانپا جا سکے ۔ سنّت ہے۔
(3) کافور کی
مقدار کم از کم چار تولہ ہر میّت کیلئے ہونی چاہیئے۔
(4) اگر
چار ماہ سے کم عمر کا بچہ ساقط ہو جائے تو
صرف ایک پاک کپڑے میں لپیٹ کر ہی دفن کر دینا کافی ہے باقی خواہ کسی عمر کی میت ہو
تمام کیلئے احکام کفن پورے کرنے چاہئیں اور اگر میت چھ سال سے کم ہو تو اس کو بغیر
جنازہ بھی دفن کر سکتے ہیں لیکن سنت ہے کہ
اس کی بھی نماز پڑھنی چاہئے۔
Leave a Reply