غسل نذر عہد: اگر کوئی شخص کسی
کام کے لئے نذر مانے یا عہد کرے کہ میں غسل بجا لاؤں گا یا غسل کے ساتھ نماز پڑھوں
گا تو اس قسم کا غسل بھی واجب ہوجائے گا ۔
اغسال مستحبہ و
مسنونہ: شریعت مقدسہ نے صفائی اور طہارت کو اس قدر
اہمیت دی ہے کہ حدیث میں ہے۔ الطھارۃ نصف الدین یعنی طہارت و پاکیزگی آدھادین ہے اس لئے ہر وقت
باطہارت و باوضو رہنے کی ہدایات موجود ہیں اور اکثر مواقع پر خصوصاً جب اہل اسلام
کی کوئی اجتمائی تقریب ہو تو غسل کو زیادہ موکدقرار دیا گیا ہے۔ مثلاً مواقع پر خصوصاً جب اہل اسلام ی کوئی اجتمائی تقریب
ہوتو غسل کو زیادہ موکد قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً غسل جمعہ غسل عید الفطر غسل عید
قربان غسل عید عذیر غسل نور روز وغیرہ چنانچہ بعض باہمت لوگ ہر نما ز کو غسل کر کے ادا کرتے ہیں اور بعض روزانہ ایک
مرتبہ غسل کرنے کی سعادت حاصل کرلیتے ہیں اور جمعہ کا دن چونکہ ہفتہ وار اجتمائی
تہوار ہے اس میں غسل کر کے پاکیزہ لباس اور خوشبو یات کے استعمال کی زدیادہ کی
زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اسی مناسب سے اسی دن حجامت بنو انا بھی مستحب قرار دیا
گیا ہے۔
Leave a Reply