غلّااف یعنی گندم جو خرما اور انگوروں
کی زکواۃ : امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہا السّلام سے مروی ہے کہ خدا وند کریم نے نماز کے ساتھ ساتھ زکواۃ کو مال میں واجب کیا ۔ اور جناب رسلتماب نے نو چیزوں میں اس کا وجوب بیان کیا اور باقی چیزوں سے معاف
فرمایا اور وہ نو چیزیں یہ ہیں ۔ سونا، چاندی، اونٹ ، گائے، بکری، گندم، جو، کھجور ان کے علاوہ معاف ہے ۔
نصاب زکواۃ غلّہ: پس گندم یا
جَو یا انگور یا خرما میں سے ہر ایک جنس پر زکواۃ تب واجب ہوگی جب الگ الگ نصاب کو
پہنچ جائین ورنہ اگر مِل جُل کر نصاب بنیں
تو زکواۃ واجب نہ ہوگی اور غلہ کی
ان چاروں جنسوں کا نصاب پانچ وسق ہے جبکہ
ہر سوق ساٹھ صاؑک کا ہوا کرتا ہے اور ایک
صا ع کا وزن چھ رطل مدنی اور ایک رطل کا
وزن 195 درہم اور ایک درہم اڑتالیس جو کہ
متوسط دانوں کے ہم وزن ہوا کرتا ہے اور ہم
نے اس کا صحیح وزن اس طرح معلوم کیا ہے ۔ 48 جو پاکستانی اوزان کی مقدا ر کے لحاظ
2 ماشہ 2 رتی بنتی ہیں گویا ایک
درہم بوزن پاکستان 2 ماشہ 2 رتی ہٹوا۔ پس
195 کے ساتھ ضرب دینے سے رطل کا وزن سات
چھٹانک ایک تولہ6 ماشہ اور 6 رتی
نکلا۔ پھر 6 سے ضرب دے کر صاع کا وزن معلوم کیا جو 2 سیرا اچھٹانگ 4 ماشہ
نکلا پس پانچ وسق جو نصاب زکواۃ ہے۔ بیس من بائیس سیر دس چھٹانک 2 تولہ اور 6 ماشہ
ہوئے گو یا احتیاطاً ساڑھے بیس من کو زکواۃ
نصاب سمجھنا چاہیئے ۔ واللہ اعلم ۔
مسئلہ:۔ جب گندم اور جو کا دانہ قائم ہو جائے اور نگور وخرا کے خوشوں
پر عرفِ عام میں انگور اور خرما کا اطلاق کیا جاسکے تو زکواۃ اس سے متعلق ہوجائے گی۔ بشرطیکہ نصاب کی حد کو
پہنچ جائے اگر چہ ادائیگی اس وقت واجب
ہوگی جب ان کو صاف اور اکٹھا کیا جائے گا۔
مسئلہ:۔ جو شخص وقتِ وجوب سے قبل ان
جنسوں کو فروخت یا ہبہ کردے تو اس سے
زکواۃ ساقط ہوگی اور اس پر واجب ہوجائے گی
جو وقت ِ وجوب سےپہلے مالک ہوجائے گا۔
مسئلہ:۔ بارش سیلاب اور دریا
وغیرہ سے جن کی سیرابی ہوتو اس میں سے
زکواۃ دسواں حصہ ہوگی۔ لیکن اگر کنوان
نلکا اور ڈول وغیرہ سے سیرابی ہوتو
زکواۃ بیسواں حِصہ ہوگی ۔
مسئلہ:۔ اگر بعض فصل بارانی اور بعض
چاہی ہوتو مجموع کے نصاب تک پہنچ جانے کے
بعد دسواں یا بیسواں حِصہ زکواۃ
۔ بارانی یا چاہی فصل کی الگ الگ
نسبت سے ہوگی یعنی بارانی کا دسوان اور چاہی کا بیسواں حِصہّ
زکواۃ ہوگی۔
مسئلہ:۔ اگر ایک ہی فصل چاہی اور بارانی
یا نہری ہوتو نسبت کے لحاظ سے
زکواۃ ادا کرے لیکن اگر دونوں کا دخل
برابر ابر ہو تو فصل کے برابر دو حِصّے کر کے ایک نصف سے دسواں
حِصّہ اور دوسرے نصف سے بیسواں
حصّہ زکواۃ ادا کرے مثلاً اگر
چالیس من گندم ہوئی ہو تو تین من زکواۃ
ہوگی کیونکہ ایک نصف سے ایک من ہوگی
اور دوسرے نصف سے دومن نکلے گی۔
مسئلہ:۔ اج کل ٹیوب ویل کا زمانہ ہے لہٰذا اگر ٹیوب ویل سے فصل سیراب ہوئی
ہوتو اسے چاہی فصل کے حساب سے زکواۃ ادا
کرنی ہوگی۔
مسئلہ:۔ اکثر علمائے محققین کا یہ
مسلک ہےکہ جنس زکواۃ پر زمان ِ کاشت سے
زمان برداشت تک جس قدر خرچہ ہوا ہے وہ سب زکواۃ
سے متسشنیٰ ہوگا حّی کہ مالیانہ
وآبیانہ دویگر سرکاری مطالبات جن کا تعلق اسی فصل سے ہوگا وہ ذکواۃ سے مستشنیٰ ہوں
گے۔
مسئلہ :- آیا نصاب کا اعتبار مذکورہ
بالاخرچہ نکالنے کےبعد ہوگا یا پہلے ۔ اس میں تین قول ہیں:-
(1)
یہ کہ نصاب کا اعتبار پہلے
ہوگا ۔ پھر خرچہ نکال لینے کے بعد دسواں یا بیسواں حصہ ذکواۃ دی جائے گی خواہ خرچہ
نکالنے کے بعد نصاب سے کم مقدار ہی بچ جائے ۔
(2)
یہ کہ خرچہ نکال لینے کے بعد
نصاب کا اعتبار کیا جائے گا اگر نصاب بچے گا تو
ذکواۃ واجب ہوگی ورنہ ذکواۃ واجب نہ ہوگی۔
(3)
ذکواۃ کے تعلق اور وجوب سے
پہلے کا خرچ نکال کر نصاب کا اعتبار ہوگا یعنی گندم یا جو کادانہ بننے سے پہلے جو
خرچ ہوامثلا مالیہ۔ آبیانہ یا کاشت وغیرہ کو نکالنے کےبعد اگر نصاب ہوگا تو ذکواۃ
واجب ہوجائے گی۔ پھر کٹائیوصفائی کے اخراجات نکال کر ادا کردی جائے گی – پہلا قول
احتیاط کے قریب ترہے لہذا اسی پر عمل کرنا مناسب ومرزوں ہے۔
مسئلہ :۔ ذکواۃ جس طرح ذمیندار پر واجب ہے اُسی طرح مزارع پر بھی واجب ہے جبکہ اس کا
حصہ نصاب تک پہنچ جائے۔
مسئلہ :۔ مزدور پیشہ لوگ جن کو اُجرت
میں گندم دی جاتی ہے ۔ مثلا لوہار ۔ ترکھان اور حجام وغیرہ تو ان پر ذکواۃ واجب نہ
ہوگی اگر چہ نصاب کو پہنچ بھی جائے ۔
مسئلہ :۔ ٹھیکہ پر زمین کو حاصل کرنے والا مالک زمین سمجھاجائے گا اور بعد
نصاب اس پرذکواۃ واجب ہوگی۔
مسئلہ:۔ اگر جنس کچھ عمدہ اور کچھ ناقص یا کچھ بلند قیمت اور کچھ کم قیمت ہو
تو ذکواۃ نسبت سے اداکی جائے گی۔
مسئلہ :۔ ذکواۃ ادا کرنے والا مین ادا کرنے کی بجائے موجودی وقتی نرخ سے قیمت
بھی ادا کر سکتا ہے۔
مسئلہ:۔ مال تجارت اور چارمذکورہ جنسوں کے علاوہ زمین کی باقی پیداوار جو کیل
دوزن رکھتی ہو ۔ ان سب پر زکواۃ مستحب ہے۔
Leave a Reply