قرآن
کریم کی چند آیات کے خود ساختہ معانی کرکے ان لوگوں نے ایک اور بڑہانکی ہے کہتے
ہیَں کہ جب قرآن نے بشموں انبیاء وآئمہ تمام مخلوق سے غیب دانی کی نفی کی ہے تو
پھر یہ متدین اور اسلام نوازا فراد انبیاء وآئمہ کی طرف غیب دانی کو کیوں منسوب
کرتے ہیَں؟
یوں
تو ان کی فریبوں کی قلعی گذشتہ صفحات میں کُھل چکی ہَے۔ لیکن مناسب ہوگا اگر اس
مقام پر ہم ان مکاروں کی اشتباہ انگیزی کو مزید واضع کردیں تا کہ ان کی رسوائی میں
کوئی کسر نہ رہے۔ انہیں یقین رکھنا چاہئے کہ متدین اور مخلص مومنین میں سے کسی نے
بھی آج تک یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انبیاء و آئمہ بلا تعلیم ذات احدیت عالم الغیب
ہیَں۔ بلکہ متدین افراد ہمیشہ سے یہی کہتے چلے آرہے ہیَں کہ نہی و امام کا علم غیب
عنایت ایزدی ہے۔ اور قرآن کریم نے بھی اسی نظریہ کی تائید فرماتی ہے۔ قرآن کا
مطالعہ کیجئے جہاں بھی ذات احدیت نے علم غیب کی نفی کی ہے۔ وہاں اشتناء بھی کیا ہے اور صاف بتایا ہے کہ میرے علاوہ صرف وہی
افراد علم غیب جانتے ہیَں جنہیں میں نے تعلیم دی ہے۔
ہمارے
پاس اپنے دعویٰ کیلئے قرآنی شواہد موجود ہیَں کہ نہ صرف انبیاء علم غیب کے حامل
تھے بلکہ غیر انبیاء نے بھی غیب گوئی کی ہے۔ مخفی امور سے پردہ اٹھایا ہے۔ اور
ماضی و مستقبل کے بستہ رازوں سے آگاہ کیا ہے۔
الجن ۲۶؎ عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶)اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ
یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ(۲۷)
اللہ
عالم الغیب ہے وہ کسی کو علم غیب کی تعلیم نہیں دیتا مگر رسول مرتضیٰ کو جس کے
سامنے ماضی اور مستقبل کے پردہ ہٹادیتے ہیَں اور وہ ان کا نگران ہوتا ہے۔ میں
تمہیں تمہارے کھائے ہوئے کھانے کی اوور گھروں میں محفوظ ذخیروں کی اطلاع دے سکتا
ہوں۔ اور اگر تم مومن ہو تو اس میں تمہارے لئے نشانیاں ہیَں۔ سرور کونین نے جب
اپنی ایک بیوی کو راز کی بات بتائی جب اُس نے راز کا افشاء کردیا تو ذات احدیت نے
الحضور کو افشائے راز سے مطلع فرمایا ۔ سرور کونین نے اس بیوی سے باز پرس کی تو اس
نے کہا آپکو کس نے بتایا ہے ۔
العلیم الخبیر انحضور نے فرمایا مجھے
ذات علیم و خبیر نے اطلاع دی ہے۔
یہ
ہیَں تین آیات :جن ۲۶؎میں ذات احدیت نے اپنے رسول مرتضی ٰ کو علم غیب دینے کا
تذکرہ فرمایا ہے۔ آل عمران۴۳؎میں حضرت عیسیٰ اپنی امت کے سامنے اپنے عالم غیب ہعنے
کا دعویٰ کرتے ہیَں۔ اور تحریم۳؎ سرور کونینؐ اپنے عالم غیب ہونے کا ذکر کرتے
ہیَں۔
آگے
چل کر ہم یہ بھی بتائیں گے کہ غیر انبیاء میں سے مادر عیسیٰ جناب مریم کی غیب دانی
اور غیب کا تذکرہ بھی قرآن کریم نے فرمایا ہے۔
فی
الحال تو ہمیں اتنا بتا دیجئے کی کیا
ہم
آپ کی بات مان کر مذکورہ بالا تین آیات کو قرآن سے نکال دیں ۔ یا۔ آپ سے وقار کا
مسئلہ نہ بناتے ہوئے اپنے عقیدہ سابقہ سے تو بہ کرکے محکمات قرآن سے انکار کا
ارتکاب کرنے سے بچنے کی سوچیں؟
شہادت
فلاسفہ:۔
اگرچہ
ان مختصر اوراق میں اپنی گنجائش نہیں کہ اس قسم کے فلسفیانہ مسائل جن کا تعلق
فلسفہ اعلیٰ سے ہے پیش کرکے بحث کریں تا کہ علمی تحلیل و تحقیق سے غیب دانی اور
غیب کے اسرار کی نقاب کشائی کی جاسکے ۔ پھر بھی ہم قارئیں کرام کے اطمینان قلب کی
خاطر ذیل میں عالم فلسفہ کے چند سربراور وہ علماء کے نظریات پیش کرنے چلے ہیَں۔ تا
کہ غیب دانی اور غیب گوئی کا یہ پہلو بھی تشنہء تکمیل نہ رہے ۔ اور یہ حقیقت واضع
ہو جائے کہ انبیاء و آئمہ تو بجائے خود غیر انبیاء و آئمہ بھی اس منصب کو پا سکتے ہیَں۔ فرق صرف یہی رہیگا کہ
دیگر علوم کی طرح انبیاء و آئمہ کا غیب وہی اور عطائی ہوگا جبکہ غیر انبیاء و آئمہ
کا علم کسبی ہوگا۔
Leave a Reply