anwarulnajaf.com

فضائل بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم – Fazail Bismillah Hir Rahman Nir Raheem

فضائل بِسْمِ اللّٰہِ
الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

Fazail Bismillah Hir Rahman Nir Raheem
تفسیر برہان میں جناب
رسالتمآب
سے مروی ہے کہ جو شخص بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھے خداوند کریم اس کےلئے
جنت میں ستر ہزار محل یاقوتِ سرخ کے بناتا ہے کہ ہر محل میں ستر ہزار گھر سفید
موتی کے اور ہر گھر میں ستر ہزار تخت زبر جدسبز کے اور ہر تخت پر ستر ہزارفرش سندس
و استبرق کے اور ہر فرش پر ایک ایک حورالعین اور ہر ہر حور کے ستر ہزارگیسو جو موتیوں
اور یا قو توں سے آراستہ ہوں گے اور ان کے دائیں رخسا ر پر محمد رسول اللہ
اور بائیں رخسا ر پر علی ولی اللہ اور پیشا نی پرحسن اور ٹھڈی پر حسین اور دونوں
ہونٹوں پرلکھا ہوگا بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْ
م
راوی نے دریا فت کیا کہ
حضور! یہ انعام کس شخص کو ملے گا؟ تو آپ
نے فرمایاکہ جو حرمت و تعظیم سے پڑھے گا بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
روایت کی طرزبتلاتی ہے کہ یہ
انعام آلِ محمد
کے موالیان و محبان ہی کے لیے مختص ہے-
نیز حدیث نبوی میں ہے کہ مو
من پل صراط سے عبور کرے گا اور بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کو زبان پرجاری کرے گاتو
جہنم کے شعلے خاموش ہو جا ئیں گے اور جہنم کہے گی گزر جا اے مومن کیوں کہ تیرانور
میرے شعلوں کو بجھا رہاہے-
[1]
حدیث نبوی میں ہے کہ جب
معلّم کسی بچے کو بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کی تعلیم دیتا ہے تو خدا وند
کریم اس بچے اور اس کے والدین اور معلم کے لیے آتش جہنم سے آزادی فرض کر دیتا ہے-
[2]
ایک روایت میں ہے جس کو
تفسیرعمدة البیان میں بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ
ایک قبر سے گزرے کہ قبر والے پر
ملائکہ عذاب نازل ہو رہے تھے چپکے سے گزر گئے جب واپسی پروہاں سے گزر ہوا تو اس
قبر پر ملائکہ رحمت کا نزول دیکھ کر متعجب ہوئے، عرض کیا یا اللہ یہ کیا ماجرا ہے؟
تو وحی نازل ہوئی اے عیسیٰ
یہ بندہ بہت گنہگا ر تھالیکن جب مرا تو اس کی زوجہ حاملہ تھی اس کا بچہ پیدا
ہوا تو اس کو تعلیم کےلئے معلم کے سپرد کیا گیامعلم نے اس کو بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کا درس دیا پس مجھے شرم آتی
ہے کہ میں اس بندہ کو قبر میں عذاب کروں جس کا بچہ میرا نام لے رہا ہے-
بعض روا یات میں ہے کہ جب
ہما راشیعہ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کو ترک کر دیتا ہے تو خدااس
پر کو ئی آزما ئش نازل کر دیتا ہے اور اس کو اپنے شکر کی طرف متوجہ فرماتا ہے پھر
اس کی وہ کوتاہی معاف کردیتا ہے-
[3]
تفسیر عمدةالبیان میں ہے
جناب رسالتمآب
فرماتے ہیں کہ شب معراج میں نے پانی دودھ شہداور شراب کی چار نہریں دیکھیں
جبرائیل سے دریافت کیا تو جبرائیل نے عرض کیا کہ مجھے حکم ہے کہ آپ
کو ان نہروں کے منبع کی سیر کراوٴں پس ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک قبہ ہے
جس کا دروازہ مقفل ہے، جبرائیل نے کہا کہ آپ
انگلی کا اشارہ اس قفل کی طرف کریں تاکہ قفل کھل جائے؟ چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے انگلی کا اشارہ کیا وہ قفل کھل کرگرگیا میں اس قبہ میں
داخل ہوا اور اس قبہ کے اندر ایک ستون دیکھا جس پر بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھا ہوا تھا میں نے دیکھا پانی کی
نہر ”بِسْم
کے
میم کےحلقہ سے جاری ہے
اور دودھ کی نہر لفظ ”اَللّٰہ
کے ہا کے حلقہ سے جاری ہے اور شہد کی نہر ”اَلرَّحْمٰن
کے میم کے حصہ سے اور شراب کی نہر ”اَلرَّحِیْم
کے میم کے حلقہ سے جاری ہے اور بائے ”بِسْمِ
اللّٰہ
“ پر لکھا ہوا دیکھا کہ جو کوئی دنیا میں بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھے گا یہ قبہ اور چار
نہریں اس کو عطا کروں گا-
بعض روایات میں ہے کہ بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کا جہر سے پڑھنا مستحب ہے،
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کام سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھی جائے اس میں شیطان
شریک ہوتا ہے، اپنی عورت سے ہم بستر
ی  کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ
پڑھے بلکہ دستر خوان پر جتنے کھانے ہوں ہر ایک کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے
پانی پینے سے قبل بسم اللہ پڑھے، غرضیکہ ہر امر خیر کو بسم اللہ سے شروع کرے-
 حدیث نبوی میں ہے کہ جو کوئی اہم کام بغیر بسم
اللہ کے شروع کیا جائے وہ ناقص و ناتمام ہوتا ہے، جب کوئی ذبیحہ اللہ کے نا م لئے
بغیر حلال نہیں رہ سکتا حالانکہ ان کی اصل حلال ہے تو انسان کو ایسا ہی سمجھنا
چاہیے کہ تمام حلال ہیں لیکن شکر منعم کے طور پر عظمت خدا کو یاد کرنا اور اس کے
ذکر کے بعد حلال خداوندی میں تصر ف کرنا امور ضروریہ میں سے ہے، گو اس حکم کو شرعی
وجوب سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا تا ہم مستحب موکد ضرور ہے کیونکہ معصوم نے جہر بسم
اللہ کو علائم شیعہ سے قرار دیا ہے –

[1]
شرح العقیدۃ الطحاویہ ج۱ ص۴۷۲،حلیہ ابو نعیم ج۹ص۳۲۹، جامع الاخبار ص۱۲۰
[2]
مجمع البیان ج۱ ص۵۰
[3]
تفسیر صافی ج ۱ ص ۵۲

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *