محترم
قارئین :۔آیۃ العظمیٰ خمینیء
اعظم کے اس فیصلہ کے بعد کہ عزاداری سیّد الشہداء علیہ السلام ضروریات میں سے ہے۔
اگرچہ مزید لکھنے کی ضرورت نہ تھی۔ لیکن مناسب ہوگا اگر آقائے موصوف کے اس جُملہ
کی تائید میں کہ، ذات احدیت نے تمام اعمال
خیر کی نسبت عزاداری کا ثواب زیادہ مقرر فرمایا ہے۔ چند ایک اھادیث بھی لکھ دوں تا
کہ دعویٰ بلا دلیل نہ رہے۔ اور جو دشمنان عزاداری اصطلاح عزاداری اور مساعدت سادات
کے نام پر مختلف قسم کے نازیبا اور غلط ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ ان سے ہوشیار
رہا جا سکے۔ اور آل محمدؐ کا یہ مشن روز افزوں ترقی کرے۔ یہ بھی نہ بھولیں کہ اس
سلسلہ میں بجائے اس کے کہ مین اپنی طرف سے ۔
کچھ
لکھوں میں زیادہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اسرار الشہادۃ کی چند روایات کی ترجمہ پیش
کردوں۔ تو لیجئے پڑھیئے ۔ دوسرا مقدمہ۔
بالعموم آل محمدؐ اور بالخصوص سید الشہداء کیلئے غم داندوہ۔
آلِ
محمدؐ علیھم السّلام کے مصائب میں رونے کی فضیلت احادیت متواترہ سے ثابت ہے اور یہ
بھی ثابت ہے کہ آل محمدؐ کے مصائب میں رونا موجب نجات اور افضل العبادات سے ہے۔
بنابریں اس سلسلہ میں جتنی احادیث نقل کرنے چلاہوں۔ خوف تطویل سے ان کے سلسلہ ہائے
سند حدف کردیئے ہیِں۔ ویسے بھی علم اصول سے شناسا اس حقیقت سے بے خبر نہیں کہ
متواترات محتاج سلسلہء سند نہیں تو میں یہ بھی یاد رہے کہ میں جتنی احادیث نقل
کرنے چلا ہوں۔ وہ تمام ان کتب سے منقول ہیں جو تمام علمائے متقدمین کے نزدیک اور
متاخرین کی اکثریت کے نزدیک معتبر ۔ قابل اعتماد اور قابل و ثوق ہیَں۔ محاسن برقی
میں فضل این یسار سے مروی ہے کہ۔۔۔۔۔
جناب
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ اگر کسی کے سامنے ہمارا نام لیا
جائے اور اس کے آنسو نکل آئیں ذات احدیت اس کے تمام گناہ معاف فرمادے گی اگرچہ
قطرات سمند کی مقدار کے برابر کیوں نہ ہون۔ محمدؐ ابن مسلم کی روایت صحیحہ میں ہے
کہ۔۔۔۔۔
حضرت
امام محمدؐ باقر علیہ السلام اپنے پدر بزرگوار کی زبانی نقل فرماتے ہیں کہ اگر کسی
مومن کے آنسو یاد حسینؑ علیہ السلام میں رخساروں تک بہہ آئیں تو ذات اھدیت سے
صدیوں تک جنّت کے اعلیٰ مراتب میں جگہ دے گا۔ اگر کوئی مومن ان مسائب کی یاد میں
روئے جو ہمیں دشمنوں نے پہنچائے ہیَں۔ اور اس کے آنسو رخساروں پر بہنے لگیں
۔ تو خداوند عالم مقام صدق میں جگہ عنایت فرمائے گا۔ اگر کسی مومن کو ہماری محبّت
کی وجہ سے تکلیف دی جائے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں تو خلا قعالم اسے
قیامت کے دن اطمینان و سکون سے نوازے گا۔
مزار
میں ابن قولویہ نے اپنے سلسلہ حسن ابن محبوب سے حسن نے حسن ابن فضال سے اور حسن
ابن فضال امام رضا سے نقل کیا ہے کہ امام رجا علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔ جو شخص
ہمارے مصائب یاد کرکے روئے یا رلائے تو بروز قیامت جب ہر آنکھ رو رہی ہوگی اللہ
اُسے نہ رلائیگا۔
ریان ابن شبیب!نے امام رجا علیہ
السلام سے نقل کیا ہے آپ نے فرمایا
اے ابن شعیب اگر کسی دن تجھے رونا آئے
تو برادر زینب کے غم میں رویا کر ۔وہ اس
اس
طرح شہید کئے
گئے ہیں۔ جس طرح حیوان کو ذبح کیا جاتا ہے سید الشہداء علیہ السلام کے ساتھ میدان
کربلا اٹھارہ ایسے ہاشمی جوان شہید ہوئے ہیں جن کا دنیا میں نظیر نہیں ۔آپ کی
شہادت پر آسمان اور زمین روئے ہیں۔
اے
ابن شبیب اگر تو جنت کے ان محالات میں رہنا چاہتے ہو تو سرور کونین کے پڑوس میں
تعمیر کئے گئے ہیں تو قاتلین حسینؑ پر لعنت کیا کرو۔
اے
ابن شبیب اگر تو یہ چاہتا ہے کہ تجھے اتنا ثواب ملے جتنا انصار حسینؑ علیہ السلام
کو ملا ہے تو ہمیشہ کہا کر یالیتنی کنت معکم فانور اً عظیما۔ کاش میں ان کے ساتھ
ہوتا اور فتح عظیم حاصل کرتا۔ اے ابن شبیب اگرتو جنت میں ہمارے ساتھ رہنا چاہتا ہے
تو ہمارے غم میں غم کیا کر۔ ہمارای خوشی میں مسرور رہا کر یاد رکھ ہماری ولایت کو
کبھی نہ بھولنا کیونکہ اگر کوئی شخص دنیامیں پتھر سے محبت رکھتا ہوگا تو قیامت میں
اسی پتھر کے ساتھ محشور ہوگا۔
عَللْ
میں عبداللہ ابن فضل ہاشمی سے منقول ہے عبداللہ کہتا ہے میں حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ آقا کیا وجہ ہے کہ یوم عاشورہ کو مصائب کے
دونوں میں سے عظیم تین حزن و حلال کا عظیم ترین دب کہا جاتا ہے۔ حالانکہ سرور
کونین ﷺ امیر المومنین علی ااب ابیطالب علیہما السلام جناب فاطمہؑ زہرا علیہما
السلام اور حضرت حسن علیہ السلام کے آیام غم
بھی باالترتیب کم نہیں؟ تو آپ نے فرمایا تجھے معلوم ہے کہ اصحاب کسا د پانچ
تھے۔جس دن سرور کونین ﷺ کی رحلت ہوئی آپ کے بعد چارصاحبان کساد موجود تھے جس دن
بنت رسولؐ نے کوچ کیا اس کے بعد تین صاحبان کسا بچ گئے اب بھلا خود ہی انصاف کر
کیا بقائے حسینؑ خمسئہ نجباد کی بقاء نہیں تھی ؟ اور کیا شہادت حسینؑ نے اصحاب
کساسے روئے ارض کو خالی نہیں کردیا یہی وجہ کہ یوم عاشورہ کی مصیبت کو تمام مصائب
سے بالا سمجھا جاتا ہے۔
ابن
فضال کی روایت موثقہ میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ نے فرمایا جو شخص
یوم عاشورہ دنیاوی کامچھوڑ دےگا۔ ذات احدیت دنیا اور آخرت میں اس کی حاجات پوری
کرے گی جو شخص عاشورہ غم داندوہ اور اگر یہ وزاری میں گزارے گا خالق کونین یومحشر
کو اس شخص کے لیے یوم مسرت بنا دیگا اور جنت میں سرور وشاداں ہمارے ساتھ ہوگا۔
جو
شخص یوم عاشورہ کو برکت اور خوشی کا دن بنائے گا فکر معاش میں گزارے گا اللہ
اس کے مال سے برکت سلب کرے گا یوم قیامت
یزید عبداللہ اب زیاد اور عمر سعد کے ساتھ محشور ہوگا اور جہنم کے آخری طبقہ میں
رہے گا۔
معاویہ
ابن وہب کی روایت صحیح جناب صادق آل محمدؐ
سے یوں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا اے ابن وہب تیرا گھر میرے جدا مجد کی
زیارت کو جاتے ہو؟ میں نے عرض کی اکثر جاتا رہتا ہوں آپ نے فرمایا دنیامیں واحد
یہی قتل ہے جس کا بدلہ خود ذزات احدیت لے گی دنیا میں ہر قسم کا ماتم وگریہ مکرہ
ہے لیکن امام حسین علیہ السلام کے لیے ماتم و گریہ مروہ بھی نہیں ۔
ثویر
ابن حسینؑ نے امام صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد ساتوں آسمان ساتوں زمینیں جو
کچھ آسمان و زمین میں اللہ کی جنت وجہنم میں بسنے والی تمام مخلوق اور نظرآنے والی
اور نظر نہ آنےوالی جملہ مخلوق غم حسینؑ پر نہیں روئے ثویر کہتا ہے میں نے عرض کی
وہ کونسے مقامات ہیں آپ نے فرمایا بصرہ دمشق اور آل عثمانؑ۔
مُسْمِع
حجرت جعفر صادق علیہ السلام نے نقل کیا ہے کہ آپ نے ایک طویل گفتگو میں فرمایا اے
مسمع کیا تو واقعات کربلا کا تذکرہ کیا کرتا ہے؟ میں نے عرض ہاں آقا آپ نے فرمایا
کیا دھاڑیں مار کر روتا ہے ؟ میں نے جواب دیا ہاں حضورؐ بلکہ تو اس حد تک آنسو
بہاتا ہے کہ میرے گھروالے میرے آنسوؤں کے آثار تک محسوس کر لیتے ہیں اور بعض اوقات
تو میں کھانا بھی چھوڑ دیتا ہوں حتیٰ کہ ضعف کے آثار میرے چہرہ اور جسم سے بھی
عیاں ہونے لگتے ہیں۔
آپ
نے فرمایا اللہ تجھ پر رحمت نازل کرے اے مسمع یقین رکھ تو ان لوگوں سے محشور ہوگاجو
ہمارے غم میں آنسو بہاتے ہیں اور ہماری خوشی میں مسرور رہتے ہیں میرے آباء کو بوقت
موت اپنے سرہانے پائے گا اور وہ ملک الموت کو تجھ سے نرمی سے پیش آنے کی وصیت کریں
گے چنانچہ مِلک الموت کا سلوک تجھ سے وہی ہوگا جو ایک شفیق ماں اپنے عزیز ترین
فرزند سے کرتی ہے۔
مسمع
کہتا ہے کہ آپ نے اتنا فرمایا تھا کہ آپ کی آنکھوں میں آنسواور میں بھی رونے لگا پھر
فرمانے لگے حمد ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں اپنی تمام محور پر فضیلت دی ہے اور ہم
اہلبیت کو اپنی رحمت محضوصہ سے نوازا ہے اے مسمع جب سے امیر المومنین حضرت علیؑ
شہید ہوئے ہیں اس وقت سے آسمان وزمین میں روتے ہیں بھلا کون ہے جو ملائکہ سے بھی
ہم پرزیادہ روسکے جب سے شہادت ہمارے گھر میں آتی ہے اسا وقت سے ملائکہ اشکبار ہیں
اے مسمع جو بھی ہماری غربت ترس کھاتے ہوئے روئے اللہ اس پر رحم فرمائے گا اگر
ہمارے غم میں رونے والے کا ایک آنسو جہنم میں ڈال دیا جائے جہنم سرد ہوجائے ۔
اے
مسمع : جس کا دل ہمارے غم میں مغموم ہوتا ہے وہ اپنے بستر مرگ پر ہمیں دیکھ کر خوش
ہوگا۔ اور اس کی یہ خوشی حوض کوثر کے پہنچنے تک اس کے دل سے دول نہیں ہوگی ہمارے
محب کو دیکھ کر حوض کوثر بھی خوش ہوجائے گا۔ اے مسمع جس نے حوض کوثر سے ایک مرتبہ
پی لیا پھر وہ کبھی پیا سا نہیں ہوگا۔ حوض کوثر میں کافور کی ٹھنڈک مشک کی خوشبو
انجیل کا ذائقہ شہد کی شیرنی مکھن کی نرمی آنسؤں کی صفائی اور عنبر کی پاکیزگی
ہوگی جنت کی نہروں سے گزرتا ہوا اور یاقوت و دردن کو بہاتا ہوا یہ پانی حوض کوثر
میں آرہا ہوگا۔ اب حوض کوثر پر رکھے
گئے پیالے سونے چاندی اور رنگارنگ جواہر
سے بنےھ ہوں گے پینے والے کے منہ سے عجیب و غریب قسم کی دلربا خوشبوئیں مہکیں گی
حتیٰ کہ پینے والا خواہش کرے گا کہ کاش مجھے یہاں سے کہیں اور نہ جایا جاتا۔ اے
ابن کردیں مجھے تجھے بشارت دیتا ہوں کہ تو حوض کوثر پینے والوں میں ہوگا۔
اے
مسمع ! جو انکھ بھی ہمارے غم میں روئے گی اللہ اُسے حوض کوثر کی زیارت سے شرفیات
فررمائے گا حوض کوثر پر ساقی کوثر امیر المومنین علی ؑ ہوں گے جن کے ہاتھ میں عصہ
ہوگا۔ اور حوض پر آنیوالے ہمارے دشمنوں کو حوض سے دور فرمارہے ہوں گے آنے والا کہے
گا اے علیؑ میں اشہد ان لا الہ الا للہ و اشہد ان محمداً رسول اللہ پڑھتا تھا تو
حضرت علی جواب میں فرمائیں گے ہا ں ہاں تو درست کہتا ہے۔ لیکن سرورو کونین کے بعد
دین رسول ؐ تو نے فلاں امام سے لیا تھا۔ لہٰذا اب جاؤ اور اپنی تشنگی کا شکوہ بھی
اسای امام سے کر وہ لوگ کہیں گے یا علیؑ وہ تو ہمیں جواب دے چُکے ہیں۔ آپ فرمائیں
گے تو پھر ان افراد کے پاس جا جنہیں بعد از نبیؐ افضل الخالق سمجھتا تھا جا اور اے
کہہ کہ میری شفاعت کرو کیونکہ جو افضل الخلاق ہیں اللہ ان کی شفاعت مسترد نہیں
فرمارہا وہ عرض کرے گا آقا میں پیاس سے مرگیا آپ فرمائیں گے تجھے مرجانا چاہئے
اللہ تیری پیاس میں مزید اضافہ فرمائے۔
مسمع
کہتا ہے میں نے عرض کی حضور ؐ آخر ایسے افراد حوض تک پہنچ کیسے جائیں گے ؟آپ نے
جواَب دیا۔ اس کی وجہ واضع ہے کہ ایسے افراد دنیا میں اپنے کو زائد سجھتے تھے۔ اور
ہمیں بُرا نہیں کھتے تھے۔ اور ہمارے خلاف جسارت نہیں کرتے تھے۔ لیکن ان کی یہ
پرہیزگاری ہمارا بُرا نہ کہنا اور ہمارے گستاخی نہ کرنا محّبت کی بدالت نہیں تھا۔
اسے وہ اپنی نیکی سمجھتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ میاں ہم کسی کو کچھ نہیں کہتے ور ان
کے دل منافق تھے یہ ہمارے اعداء سے تو لیٰ رکھتے تھے ۔ اور انہیں افضل الخلائق
سمجھتے تھے۔
زراہ
نے حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا۔
اے
زرارہ ! آسمان سیّد الشہداء پر چالیس دن خون روتا رہا۔ زمین چالیس دن تک سیاہ رہی
سورج چالیس دن تک غم حسین ؑ میں گرہن زدہ رہا۔ غم حسین ؑ میں پہاڑ پھٹ گئے۔ غم
حسین ؑ میں سمندر کھول اُٹھے ۔ اور ملائکہ
چالیس دن تک سوگوار رہے۔ اے زرارہ!ہمارے اہلیت کی عورت نے اس وقت نے اس وقت تک
خضاب نہیں کیا سر میں تیل نہیں ڈالا
آنکھوں میں سُرمہ نہیں لگایا۔ اور بالوں میں کنگھی نہیں کی۔ جب تک مختار نے
ابن زیاد کا سر نہیں بھیجا ۔ ابن زیاد کے سر آنے کے باوجود بھی ہمارے غم کم نہیں ہوئے۔ میرے جدا مجد حضرت ؐ سجاد علیہ السّلام کے سامنے جب بھی
سید الشہداء علیہ کا نام لیا جاتا آپ کی آنکھیں اشکبار ہوجائیں اور آنسو ریش مقدّس
سے ٹپکےلگتے
۔جو
شخص بھی آپ کو دیکھتا روئے بغیر نہ رہ سکتا تھا اور آپ زندگی کے آخری سانس اپنے
پدر بزرگوار کے غم میں آنسو بہاتےگئے۔ اے زرارہ قبر سیّد الشہداء علیہ السلام پر
رہنے والے ملائکہ ہر وقت مصروف گریہ رہے ہیَں۔ اور انہیں دیکھ کر آسمان و زمین میں
موجود تمام ملائکہ مصروف گریہ رہتے ہیں۔
اے
زرارہ! نگاہ میں وہی آنکھ محُبوب ہے جو ذکر حسین ؑ میں آنُسو بہائے ۔ ہمارے غم میں
ہر رونے والے کے آنسو ہمارے جدہ معظمہ حضرت فاطمہ السلام اور سرور کونین صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ اے زرارہ! روز قیامت ہر آنکھ روئے گی۔
البتہ وہ آنکھ مسرور ہوں گی جو دُنیا میں سیّد الشہداء علیہ السلام کے غم میں روئی
ہوں گی۔
ان
کے چہرے پر خوشی ہوگی۔ اور ملائکہ انہیں جنّت کی بشارت سنا رہے ہوں گے۔ غم حسینؑ
میں رونے والے زیر عرش سایہ عرش میں سیّد الشہداء کے ساتھ بے فکر ہوں گے۔ انہیں حساب
کا ڈر ہوگا۔ نہ جہنم کا خوف ۔ انہیں کہا جائے گا چلو جنّت میں لیکن وہ جنّت میں
جانے سے انکار کردیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اپنے مولا حسین ؑ کا ساتھ تو ابھی
نصیب ہوا ہے۔ حوران و غلمان جنت انہیں بلائیں گے۔ لیکن وہ سر اٹھا کر بھی ان کی
طرف نہ دیکھیں گے۔ اے زرارہ!دشمنان اہلیت پیشانی کے بل سوئے جہنم لے جائے جائیں گے
اور مایوس ہو کر دائیں بائیں دیکھ کر حسّرت سے کہیں گے ہمارا تو کوئی شفیع نہیں ہے
، اور نہ دوست ۔ دشمنان اہلیّت محبان آل رسول کے مراتب جنّت میں دیکھ رہے ہوں گے
لیکن وہاں تک پہنچ نہ سکیں گے۔
اے
زرارہ جب ماتمدارن حسین ؑ علیہ السّلام جنّت میں جانے کے لئے حوران جنّت کی
درخواست پر توجہّ نہ دیں گے پھر ملائکہ ان کی خدمت میں سواریاں لے کر حاضر ہوں گے۔
اور محبان ابلیت جنّت کی سواریوں پر بیٹھ کر سوئے جنّت جائیں گے۔ ان کی زبان پر
حمد خدا اور محمدؐ پر درود ہوگا۔
منتخب
میں دعبل خزاعی سے مروی ہے۔
دعیل
کہتا ہے کہ میں امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا دیکھا تو محفل
میں حزن و غم کے آثار تھے آپ انتہائی غمزدہ صورت لئے بیٹھے تھے آپ کے ارد گرد
بیٹھنے والے اصحاب بھی افسردہ صورتوں میں
تھے۔ جب آپ نے مجھے آتے دیکھا تو بادانہ بلند فرمانے لگے۔ مرحباً بک یا د عبل
مرحباً بنا صرنا بیدہ ولسانہ۔ اپنے ہاتھ اور زبان سے ہماری نصرت کرنیووالے نیزاآنا
مبارک پھر آپ نے مجھے اپنے قریب جگہ خالی کرکے بٹھایا اور فرمایا۔
اے
عدبل میں چاہتا ہوں کہ مجھے کچھ مرثیے سنا کیونکہ یہ دن ہم اہلبیت کے لیے غم
واندوہ کے ہیں اور ہمارے دشمنوں کے لیے مسرت و خوشی کے ہیں اے دعبل جو شخص ہمارے
غم میں خورودئے یا دوسروں کو رلائے خواہ ایک بھی کیوں نہ ہو اس کا اجرذات احدیت نے
اپنے ذمہ لے رکھا ہے اے عدبل اگر کوئی شخص ہمیں پہنچنے والے مصائب کو یاد کرکے روئے
تو اللہ قیامت میں اسے ہمارے ساتھ محشور فرمائے گا۔ اے دعبل جو شخص میرے جدامجد
شہید کربلا کے غم میں آنسو بہائے اللہ یقیناً اسے بخش دے گا۔ پھر آپ اُٹھے اور
ہمارےسامنے ایک پردہ لٹکا دیا تاکہ آپ کے اہلبیت بھی مرثیہ سن سکیں اور مجھے
فرمایا اے دعبل اب مرثیہ پڑھ تو ہمارا ناصر ہے اور جب تک زندہ ہے ہماری نصرت کرتے
رہنا ۔
کیا
غنا حرام ہے۔
میرے
خیال میں سید الشہداء علیہ السلامپر گریہ کے سلسلہ میں مشتے نمونہ ازخردار ے کے
طورو پر اتنا ہی کافی ہے ذرا آئیے اور عزاداری میں آواز اور سُر کی حیثیت بھی دیکھ
لیں کہ کیا یہ بھی جائز ہے یا نہیں تاکہ ہمارے بعض مبلغین جو سراور سوز کی مخالفت
میں انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ سرے سے ہی عزاداری کو
بند کردیں ممکن ہے اس سے کچھ نصیحت حاصل کرلیں اور اگروہ خودنصیحت حاصل نہ کریں تو
ان ان کے غالی پیروکاروں میں سے ممکن ہے کچھ حقائق سمجھنے کی کوشش کریں اور مقصرین
آل محمدؐ کے نقش پا ڈھونڈنے سے باز آجائیں۔
اس
وقت میرے سامانے درجۂ اجتہاد کی کتاب مکاسب ہے۔ اور نجف اشرف وقم مقدسہ کا ہر وہ
متعلم جس نے درس خارج دیکھنے کا شرف حاصل کیا ہے وہ لا محالہ مکاسب کو پڑھ کرہی
درس خارج میں شامل ہوا ہوگا۔ میرے خیال کے مطابق علی الا طلاق اور بلا قید حرمت
غناکے وہی افراد قائل اور مبلغ میں جومکاسب کے قریب ہی نہیں بٹھکے بلکہ نجف اشرف
اور قسم مقدسہ سے صرف عمامہ عبااور قبالے کر کر واپس پلٹے ہیں ورنہ اگر ان لوگوں
نے کچھ پڑھا ہوتا تو یقیناً یوں فتویٰ بازی نہ کرتے جس طرح آج بیسا کی سے فتادیٰ
دے رہےہیں۔ مکاسب میں ان چیزوں سے بحث کی گئی ہے جو شر عاً ناجائز ہیں اور ان
ناجائز امور کے زریعہ کسب معاش فعل اور حاصل شدہ سرمایہ حرام ہے چنانچہ صاحب مکاسب
نے تیرہویں نمبر غنا کو لکھا ہے اور اس سلسلہ میں آیات احادیث روایات اور اقوال
علماء کی طویل بحث پیش کرنے کے بطور نتیجہ لکھتے ہیں۔
والذی
اظن ماذکر نافی معنی الغنا اللہوی ان ھُو
لاء فیہ وامامالم یکن علی وجہ اللمو المناسب السایرالاّ لۃ فلادلیل
جو
کچھ میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ ایسا غنا جو بقصد ورادۂ لہو وغیرھم غیر مخالفین
اسکی حرمت اور عدم جواز میں علماء امامیہ میں سے ہمارا کوئی بھی مخالف نہیں اور وہ
غنا جواراۂ لہوولعب سے نہ ہو تو اسکے عدم ۔ جواز اور حرمت پر کوئی دلیل نہیں۔
علی
تحریمہ الوفرض شمول الغنا لہ لان مطلقات الغنا لۃ علی مادل علی انا طۃ الحکم فیہ
باللمووالباطل من بتما مہا الاخبارا المتقد مۃ خصوصاً مع انصافہا ہیں خصوصاً فی انفسہا کا خبارالمغیۃ الی ھذاالفرد غناکو
ارادۂ قصائد ورشان آلی محمدؐ۔
اگرچہ
آواز کو غنا کی فہرست میں شامل بھی کیا جائے۔ کیونکہ تمام وہ احادیث جو علی
الاطلاق حرمت غنا کی مُتعر ہیں حکم حرمت کو رائرہ لہو اور گفتگو گے باطل سے منزدہ
وہ کرتی ایسی صورت میں جبکہ بعض احادیث خود حرمت غنا کو ارادۂ لہو سے مشروط کرتی
ہیں جس طرح مغینہ عورت کی احادیث ہیں ۔
قارئین
کرام نے صاحب مکاسب کی عبارت کو ملاحظہ فرمالیا ہے جس میں واضح طور پر حسب ذیل
امور کی نشاندہی کی گئی ہے ۔
آیات
قرآن احادیث نبیؐ روایات آئمہ اور اقوال علماء کے مطابق علی الاطلاق حرمت غنا کا
ثبوت نہیں ملتا۔
غنامشروط
طور پر ناجائز ہے۔
وہی
غنا ناجائز ہے اور اسی غنا کا کسب حرام ہے جو بازاراؤں لہو ولعب کیا جائے، وہی غنا
ناجائز اور اسی غنا کا کسب حرام ہے جس میں راگ الاپنے والا جھوٹ اور غلط لول
الاپے۔
بنابریں
فضائل شہداء کربلا علیہم السلام فضائل امیر المومنینؑ علیؑ اور فضائل نبی وائمہ
کرام میں پڑھے جانیوالے قصائد اگر بارازہ
لہو لعب ہوں تو یقیناً ناجائز اور ان کی فیس حرام ہوگی ۔اور اگر مذکورہ امور بقصد
لہو لعب نہ ہوں تو صاحب مکاسب کے مطابق ان کی حرمت کی کو ئی دلیل نہیں ان رہا یہ
معاملہ کہ آیا ذاکرین یہ سب کچھ بازادہ لہو لعب کرتے ہیں یا سامعین یہ سب کچھ
باردہ لہو لعب سنتے ہیں۔
اب
اگر قصیدہ کوناجائز کہنے والے اصرارا کریں کہ گوذاکرین اور مومنین میں سے کوئی بھی
کہو و لعب کا اقرار نہیں کرتا لیکن فی الواقع اُنکی انکار راوہ لہو لعب ہی کا ہوتا
ہے تو پھر ہمیں یہ پوچھنے کا حق ہوگا کہ سرکار عالی آپ تو انبیاء و آئمہ کے علم
غیب کے قائل نہیں اور آپ کا دعویٰ علم غیب پر مبنی ہے آپ کو ذاکرین اور مومنین کے
دل کا حال کیسے معلوم ہوگیا؟ کیا یہ حقیقت تو نہیں کہ آپ غیر شعوری طور وہا بیت
زدہ ہوچکے ہیں جہاں علم غیب کی بات ہوتی ہے تو آپ اتنے بخیل ہوجاتے ہیں کہ کسی
نبیؐ و امام کو علم غیب کی جاردیواری میں قدم نہیں رکھنے دیتے اور ان کے اس موہوبی
کمال پر شرک کاپس لگادیتے ہیں۔
اور
جب ان فضائل کے بیان کا وقت آتا ہے تو آپ عدم جواز کا فتویٰ ہانک دیتے ہیں لیکن
اپنے لئے آپ علم غیب کو جائز قرار دیتے ہیں ہمیں بھی تو سمجھائیں کہ اس پالیسی پا
پس منظر کیا ہے۔
علاوہ
ازیں اعزاداری سید الشہداء علیہ السلام کا ایک دوسرا پہلو ہے اور وہ ہے سوزمیں
مرثیہ خوانی یا ویسے ذکر شہداء کربلا علیہم السلام متواتر احادیث آئمہ کرام سے یہ
ثابت ومسلم ہے کہ مرثیہ خوانی نہ صرف جائز ہے بلکہ مستحب ہے جب مرثیہ خوانی مستحب
ہے تو پھر غنا کو درمیاں سے کیسے نکالا جائیگا مرثیہ بلاغنا پڑھا ہی نہیں جاتا۔ یا
تو آپ اپنی قلت مطالعہ کا اعتراف کریں اور مان لیں کہ دیگر فتویٰ کی طرح علی الا
طلاق حرمت غنا کا فتویی بھی خانہ ساز اور خود ساختہ ہے۔ اگر آپ نے احادیث کو پڑھا
ہے تو پھر یہ تسلیم کرلیں کہ آپ احادیث کا مفہوم متعین کرنے میں ناکام رہے ہیں
جبکہ آپ کی تعلیمی اسقداد سے توقع بھی یہی ہے۔
اور
اگر آپ نے احادیث پڑھی بھی ہیں اور ان کا مفہوم بھی درست معین کیا ہے تو پھر ہ
تسلیم کرلیں کہ آپ عزاداری آئمہ اہلبیت کے خلاف اموی ایجنٹوں میں سے ایجنٹ ہیں اور
نبیؐ اُمیہ کماحقہ وکالت کر رہے ہیں۔ یوں
تو آپ سے توقع ہربات کی ہوسکتی ہے لیکن حالات وقرائن کا تقاضا یہی کہ آپ اموی وکیل
ہیں کیونکہ سادانیوں سے تعاون کے نام پر ذوالجناح کی کھلے عامسٹیج پر مخالفت اور
مولینا تاج الدین حیدری ست تسلسل بیان کے نام پر نعرۂ حیدری چھوڑ دینے کی اپیل یہ
ایسے امور ہیں جن سے رزی شعور یہی سمجھ سکتا ہے کہ آپ کے دل میں بعض اہلبیت کے
شعلے بھڑک رہے ہیں۔
ورنہ
اس حدیث متواتر کر قلتند النوارب علی مثل حھرۃ ابن عبدالمطلب حمزہ ابن عبدالمطلب
پر مذبہ کرنے والوں کو مذبہ کرنا
چاہیے میں آپ مذبہ کا کیا معنی کریں گے
اور بتائیں کہ کیا مذبہ بلاغنا ہوسکتا ہے؟
اس
کے علاوہ شیخ صدوق علیہ الرحمۃ نے تو اب اعمال میں اپنے والد سے آپ کے والد نے سعد
سے سعد نے محمدابن حسین سے محمد ابن حسین نے محمد ابن اسمائیل نے صالح ابن عقبہ سے
صالح ابن عقبہ سے ابوہارون کنوف سے اور ابو ہارون مکنوف نے حضرت جعفر صادق ؑ سے
روایا ت نقل کی ہے اس کے کیا معنی ہوں گے روایت یہ ہے ۔
ابو
ہارون کہتا ہے کہ میں امام صادق علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا آپ نے
فرمایا اے ابو ہارون مجھے غم سید الشہداء علیہ السلام میں اشعار سنا چنانچہ میں نے
بلا سوز اشعار سنائے تو آپ نے فرمایا نہیں اس طرح نہیں بلکہ جس طرح اپنی مجالس میں
پڑھے ہو تو پھر میں نے سو ز سے یہ مرسیہ پڑھا ۔امرر علی جدث الحسینؑ وقل لا عظمہ
الزکیہ قبرحسین پر جا کر میری طرف سے اس مقدس وجود کو عرض کردینا ۔ آپ نے بہت گریہ
کیا اور فرمایا اب دوسرا مرثیہ سناؤ پھرمیں نے دوسرا مرثیہ سنایا آپ تو پہلے سے
رورہے تھے لیکن میں نے گریہ کی آواز پردہ کے پیچھے سے بھی سنی جب میں مرثیہ سے
فارغ ہوا تو آپ نے فرمایا ۔
اے
ابوہارون جو شخص اشعار میں ذکر حسینؑ کرے اور خود روئے یا دس ادمیوں کو رُلائے تو
اُسے جنت ملے گی۔
جو
اشعار میں ذکر حسینؑ کرکے روئے اور پانچ افرادد کو رلائے اس کے لئے جنت ہے ۔جو
اشعار میں ذکر حسین ؑ کرکے روئے اور ایک فرد کو رلائے اس کے لیے جنت ہے۔اگر کسی کے
سامنے حسینؑ کا جائے اور اس کی آنکھ مکھی کے پرکے برابر آنسو نکل آئے تو اس کا
ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور اللہ جنت سے کم نہیں دے گا۔ اب بھلا بتا یا جائے کہ کیا
شیخ صدوق علیہ الرحمۃ کی مذکورہ حدیث سند کے اعتبار مخدوش ہے؟
اگر
سلسلۂ سند میں کہیں ضععف ہے تو نشاندہی کی جائے۔
اگر
سلسلہ سند میں ضعف نہیں تو کیا یہ حدیث جواز غنا پر دلالت نہیں کرتی ؟
اگر
جواز غنا پر دلالت نہیں کرتی تو بتایا جائے کہ امام علیہ السلام نے کس بنا پر ابو
ہارون لواس طرح سنانے کا حکم دیا جس طرح وپ اپنی مجالس میں سناتا تھا؟
اگر
یہ حدیث اور اسا قسم کی دیگر بیسوں احادیث جو جواز غنا پر دلالت کتی ہیں تو آپ کے
پاس حرمت غنا کا کیا ماخذ ہے۔
زیادہ
سے زیادہ آپ یہی کہیں گے کہ ہمارے حرمت غنا کی متواتر احادیث ہیں لیکن آپ کے اس
استدلال کو صاحب مکاسب مسترد کرچکے ہیں اور ہم ان کا نظریہ پہلے ہی بیان کرچُکے
ہیں کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ موجود دور میں ملت شیعہ کے حالات کی نزاکت انقلاب
ایران کے خلاف پوری دنیا کا اتحاد اور تمام بڑی اور چھوٹی حکومتوں کے دل میں
شیعیان آل محمدؐ کے خلاف شعلہ زن چنگاریاں محسوس کرتے ۔انتشار پسندی سے بازآتے
اختراق کی تبلیغ چھوڑدیتے۔
کیا
بھٹو کے خلاف تحریک نظام مصطفیٰ میں آپ نے مفتی محمود کا ساتھ نہیں دیا؟
کیا
تکفیر مزاریت میں آپ نےجمیعۃ العلماء اور جمائت السلامی کا ساتھ نہیں دیا؟
کیا
سوشلزم کے مقابلے میں آپ نے دیگر فرق السلام کی ہمنوائی نہیں کی؟
آپ
نے یقیناً مفتی محمود جمائت السلامی اور فرق اسلام سے اپنے اپنے وقت پر تعاون کیا
تھا آپ کو معلوم ہے کسی دانشمند نے آپ کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ بلکہ
آپکی تعریف کی گئی تھی ۔لیکن کیا ذاکرین آل محمدؐ آپ کی نگاہ میں مذکورہ مقامات
اتحاد کا درجہ بھی نہیں رکھتے؟
کیا
سبزپر اصلاح عزاداری کے نام پر سدیوں رائج مراسم عزاداری میں کیڑے نکالنا قومی
انتشار کا موجب نہیں؟
آپ
نے دیکھ لیا ہے کہ ملت جعفریۂ پاکستان کتنے عظیم انتشار کا شکارہوگئی ہے۔ کیا اس
افتراق کا سہرہ آپ کے سرپر نہیں ؟ آکر میں ایک مرتبہ پھر گذارش کروں گا جس دین کا
درد آپ کو بستر پر لیٹنے نہیں دیتا اُسی دین کے نام پر ہی آپ سٹیج کا تقدس پامال
نہ کریں۔ انتشار کی جگہ اتحاد اور افتراق کی جگہ تنظیم کی فکر کریں آپ کی عزت بھی
محفوظ رہے گی۔ آپ کی جیب بھی گرم رہے گی اور آپ کے معاش پر بھی زدنہ پڑے گی۔ مقدر
ملتا رہے گا بصورت دیگر اگر آپ نے اس گذارش پر کان نہ دھرے تو آیتہ اللہ العظمیٰ
خمینئی اعظم کے ارشاد گرامی پر عمل کرنے کا وقت
آن پہنچا ہے۔ ار وہ دن دور نہیں جب شیعان آل محمدؐ ولایت فقیہہ کے مطابق آپ
کے سروں سے عمامے آپ کے نتیجے سے مسند قضا اور آپ کے جسم سے عبا قبا چھین لیں گی۔
اور پھر تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔
ماعلینا
الاالبلاع والسلام علی من اتبع الہدیٰ
احقر
جاڑوی ۲۲۔۹۔۸۲ 12:30 بجے شباجحاججحا
Leave a Reply