اس میں شک نہیں کہ عالم میں جذب ودفع کی
دونوں قوتیں اپنے اپنے مقام پر عمل پیرا ہیں اورنظام عالم کی دیمومیت وبقامیں ان
کو خصوصی دخل ہے ورنہ اگران دونوں میں سے ایک کا وجود ختم ہوجائے تو پورا عالم عدم
کی گود میں جاآرام لے گا، زمین میں اپنی جگہ جذب موجود ہے جسے کشش کہا جاتا ہے
اورسورج میں اپنے مقام پر یہی جذب وکشش موجود ہے پس اگر ان میں دفع کی قوت موجود
نہ ہوتو ایک دوسرے سے ٹکراکر ختم ہو جا ئیں گے، اسی طرح عالم علوی کے تمام اجرام
چاند سورج اورستارے وغیرہ انہی دونوں قوتوں کی بنا پر برقرار ہیں یعنی عالم وجود
کے علوی یاسفلی اہم پرزے قوت جذب کی بنا پرایک دوسرے سے اس قدر دور نہیں جاسکتے کہ
باہمی افادہ واستفادہ سے محروم رہ جائیں اورقوت دفع کی بناپر ایک دوسرے کی طرف کھچ
کرتباہی وبربادی سے بھی ہمکنار نہیں ہوتے، پس جب تک یہ جذب ودفع کاتوازن قائم ہے
عالم باقی ہے اور جب یہ توازن ختم ہوگا بقاکی کشتی گرداب میں آکر ساحل فنا پر جادم
لے گی۔
اگر عالم علوی سے قطع نظر کرکے صرف عالم
سفلی کانظر غائر سے مطالعہ کیا جائے تو وجود عناصر وعنصریات میں انہی دونوں قوتوں
کی کار فرمائی موجود ہے نہ یہ ایک دوسرے سے اس قدر دور ہیں کہ باہمی نفع رسانی سے
محروم ہوں اورنہ ایک دوسرے سے اتنے قریب ہیں کہ لڑکر فنا ہوجائیں، اسی طرح زمین کی
ہر جزوی پیداوار کو الگ الگ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر ایک میں یہی دونوں اصول
کار فرمانظر آتے ہیں خواہ جمادات ہوں یانباتات اورحیوان ہوں یاانسان، یعنی کوئی ذی
روح یاغیر ذی روح مخلوق ایسی نہیں جوکلی نظام میں ان دونوں قوتوں سے متاثر ہوئے
بغیر افادیت کی حامل ہو۔
وجود انسانی جس کو عالم اصغر سے تعبیر کرکے
عالم اکبر کاخلاصہ کہاگیا ہے اورحضرت امیر المومنین ؑ کی طرف ایک شعر بھی منسوب
ہے:
اَ تَزْعَمُ اَنَّکَ جِرْم صَغِیْر وَ فِیْکَ انْطَوٰی الْعَالَمُ
الْاَکْبَرُ
وَ اَنْتَ الْکِتَابُ الْمُبِیْنُ
الَّذِیْ بِاحْرُفِہ یُظْھَرُ
الْمُضْمَرُ
کیا تو اپنے آپ کو ایک چھوٹاساجسم خیال
کرتاہے حالانکہ تجھ میں ایک عالم اکبر پنہاں ہے اورتو وہ کتاب مبین ہے جس کے حروف
سے راز ہائے پوشیدہ کھلتے ہیں
اس مختصر سے وجود کی طبیعت میں جذب ودفع کی
دونوں طاقتیں ظاہر وباہر ہیں اوردونوں کی بدولت نظام جسم قائم ہے اورجب تک ان میں
توازن موجود ہے نظام جسم باقی ہے اورجب توازن ختم ہوجاتاہے موت سوار ہوجاتی ہے
اورفرداً فرداً ہر حیوان کی یہی کیفیت ہے اوریہی تجاذب وتدافع جس طرح فرد فرد میں
نظام شخصی کا محافظ ہے اسی طرح ہر نوع اورصنف میں نظام نوعی وصنفی کاکفیل ہے
اورپورے وجود سفلی میں نظام کلی کا ضامن ہے اورتمام عالم میں نظام اتم واکمل کا
ذمہ دارہے جونظام کل ہے پس معلوم ہوا کہ یہ دونوں قوتیں فطری طور پر تحفظ و بقائے
نظام کلی و جزئی ہر دو طریقہ سے دخیل ہیں اور ان کاباہمی توازن روحِ حیات ہے۔
قرآن مجید میں اس مقام پر اسی فطری اصول کو
پیش فرماتے ہوئے جہاد کو انسان کشی کے الزام کے پیش نظر بربریت اور سفاکیت سے
تعبیر کرنے والوں کو متنبہ فرمایاہے کہ اگر دفع کااصول نہ ہوتا اورجذب ہی جذب پر
عمل ہوتا تو نظام انسانی درہم برہم ہوجاتا کیونکہ انسان میں تسخیر موجودات کا جذبہ
جو اسے فطرت سے تفویض ہوا ہے اس کے پیش نظروہ ہر معاملہ میں اورہرمرحلہ پر اپنی ہر
محبوب ومرغوب شئے کے حصول کامتمنی رہتا ہے اورہر شوق وخواہش کی تکمیل کا آرزومند
ہوتاہے بنابریں وہ اسی تلاش میں ہرگوشہ میں جھانکتاہے اورہر وادی میں قدم رکھنے کی
جرات کرتاہے اورچونکہ ہرانسان کی فطرت کاتقاضا یہی ہے تو مر غوبات ومشتہیات میں
تصادم ضروری ہے اوربغیر تدافع کے ناممکن ہے کہ کوئی بھی کسی مرغوب چیز سے بہرہ
اندوز ہوسکے بلکہ جذب کامعنی دفع کے بغیر اور دفع کا معنی جذب کے بغیر قطعاً پورا
ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ جذب کا معنی ہے کسی شئے کوحاصل کرنا یعنی اس کی ضدّ
اورنقیض کو دفع کرنا اوراسی طرح دفع کامعنی ہے کسی ناپسند حالت یاچیزکو دورکرنا
یعنی اس کی ضدّ یانقیض کو حاصل کرنا پس یہ دونوں مفہوم ایک دوسرے کے بغیر پورے
ہوہی نہیں سکتے۔
پس جب یہ دونوں قوتیں فطری ہیں تو تمدن
واجتماع سے ان کاٹکراﺅ ضروری ہے اورکانَ النَّاسُ اُمَّةً کی تفسیر میں
گزرچکاہے کہ لوگوںکی اس مقام پر وحدت سے مرادہے فطرت اوّلیہ میں یکسانگی یعنی فطرت
اولی کے اعتبار سے وہ سب کے سب مدنی الطبع تھے اوراتحاد وتعاون ان کاذاتی جوہر تھا
لیکن تجاذب وتدافع کے فطری اصولوں کے ماتحت ان میں اختلاف ضروری تھا لہذا خداوند
کریم نے انبیا ومرسلین کو بھیج کر ان کوجذب ودفع میں توازن قائم کرنے کی دعوت دی تاکہ
جذب ودفع اپنے نقطہ اعتدال میں رہ کرتمدن واجتماع سے ٹکر نہ لیں جونظام انسانی
کےلئے ازبس ضروری ہے، لیکن جذبات وخواہشات کا وفوراانبیا کی اس دعوت سے ٹکرا گیا
اورچونکہ انبیا کی یہ دعوت اقتدار پر ضرب کاری تھی لہذا بالخصو ص طاقت وثروت رکھنے
والاگروہ کھلم کھلابغاوت پر اُتر آیااوران کے اتباع اورچنچہ لاطبقہ جو علم ومعرفت
سے کورا ہونے کی وجہ سے ہاﺅہو اورشور وغوغا کاتماشائی طور پرنظارہ گرتھا
انہوں نے باسوچے سمجھے بڑوں کی ہاں میں ہاں ملانی شروع کردی اورانبیا کے خلاف اپنے
بڑوں کا سہارا لیتے ہوئے زبان درازی طعن وتشنیع اور ایذار سانی سے ان کوستانے لگ
گئے لیکن بالآخر حقیقت بین اورحق شناس طبقہ کم وبیش ہرزمانہ میں انبیا کا ہم آہنگ بھی ہوتا رہاتو چونکہ انبیا تمدن کی
اصلاح کے پیش نظر جذب ودفع میں اعتدال کی دعوت تھے تاکہ انسانیت صفحہ عالم پر خوب
پھولے پھلے اوران کے مخالفین خواہشات و شہوانی جذبات کے ماتحت جذب ودفع میں بے راہ
روی اوربے اعتدالی کے علمبردار تھے اوربالخصوص برسراقتدار گروہ جن کی عیاشانہ
زندگی اوررنگ رلیاں اس توازن واعتدال کے بعد موت سے ہم آغوش ہوجاتیں وہ خاص طور پر
دعوت انبیا سے برسر پیکار تھے اوران لوگوں کوبے اعتدالیوں کی کھلی چھٹی دینا چونکہ
پوری نوع انسانی کےلئے پیغام موت تھا اورزبانی تبلیغ کی ان کے ہاں کوئی پذیرائی نہ
تھی لہذا حکم جہاد دیا گیا تاکہ نوع انسانی میں سے اس حصے کو الگ کردیا جائے جو
پوری نوع کے وجود کےلئے باعث خطرہ ہے، پس معلوم ہوا کہ ذاتی مفاد کی خاطر کسی کو
قتل کرنا نفس کشی اورظلم ہے لیکن نوع انسانی کی حفاظت کےلئے فرد خبیث کو موت کے
گھاٹ اتار دینا پوری نوع پر احسانِ عظیم اورانسانیت نوازی ہے۔
آیت مجیدہ میں دفع کو خدانے اپنی طرف منسوب
فرمایا ہے کیونکہ یہ دفع عام فطری جذب ودفع پر حاکم ہے کیونکہ فطری جذب ودفع میں
افراط وتفریط کو ختم کرنے اوران میں اعتدال وتوازن کو قائم کرنے کےلئے انبیا کو جس
جہاد کاحکم دیا گیا وہ دفاع عام فطری دفاع سے الگ ہے جس طرح کہ ان کاجذب عام فطری
جذب سے جداگانہ ہے، کیونکہ انبیا کی تبلیغ جو انسان کے تمدن کو ہموار راہوں پر
چلانے کےلئے تھی وہی ان کاجذب تھا اورجو لوگ اس تمدن میں بے راہ روی اوربداعتدالی
کو اپناتے ہوئے درحقیقت پوری نوع کےلئے معرض خطرتھے بلکہ وجود انسانیت پر وہ حملہ
آور تھے ان کو اس طغیانی اورسر کشی سے باز رکھنا اورانسانیت پر ان کے اس حملہ کو
روکنا اوران کے سامنے علم جہاد بلند کرنا ان کادفع تھا گویا انبیا نوعِ انسانی
کےلئے حکیم وڈاکٹر تھے جس طرح ڈاکٹر بدن انسانی میں توازن واعتدال کی بحالی کی
کوشش کرتا ہے لیکن اگر کوئی عضو اس قسم کامریض ہو کہ اس کا مرض پورے بدن کےلئے
معرض خطرہواوراس کاعلاج بھی کسی صورت میں نہ ہوسکتاہو تو حفاظت بدن کےلئے اس کوسرے
سے کاٹ دیتا ہے اوراس عضو کوکاٹ دینا جو پورے بدن کے خلاف علَم بغاوت اٹھائے ہوئے
تھا ڈاکٹر کا ظلم وتشدد شمار نہیں ہوگا بلکہ پورے بدن پر اس کا یہ فعل احسانِ عظیم
ہوگا، اسی طرح نوع انسانی میں توازن واعتدال کی بحالی کےلئے انبیا روحانی ڈاکٹر
ہیں اورناقابل اصلاح افراد اورپوری نوع کے مفاد کو خطرہ میں ڈالنے والے مفسد اشخاص
کو صفحہ دنیا سے مٹا دینا وجودِ انسانیت پر ان کااحسان ہے اورچونکہ وجودِ انسانیت
کے علاج کےلئے خدانے ہی ان کو یہ اختیا رات دے کر بھیجا ہے تو بنا بریں ان کے دفع
کو اپنی طرف منسوب فرمایاہے۔
پس اسلام تمدن واجتماع انسانی کی حفاظت
اوراس سے برسر پیکار قوتوں یعنی تجاذب وتدافع میں توازن واعتدال کے قائم کرنے
والافطری دین ہے جس کے تمام قوانین انہی فطری اصول کے ماتحت ہیں لہذا اسلام سے
بغاوت فطرت انسانی سے بغاوت کرنے کے مترادف ہے اوراسلامی اصول وفروع سے الجھنا
انسانیت سے دشمنی کرنے کے برابر ہے اوراس بغاوت کو فرو کرنا اور باغیوں کی سرکوبی
کرنا انسانیت کا فطری حق ہے جس کاعلمبردار خداوند کریم نے انبیا کوقرار دیا ہے اسی
بناپر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر خداکادفاع نہ ہوتا بعض مفسدین کو بذریعہ بعض کے تو
پوری زمین فساد سے بھر جاتی یعنی پورا نظام درہم برہم ہوجاتا اورآخر میں فرماتا
ہے:
وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذَوْ فَضْلٍ عَلٰی
الْعَالَمِیْن: یعنی اللہ عالمین پر صاحب فضل ہے ارضی فسادات کے قلع قمع کا دارو
مدار دفاع کو قرار دینے کے بعد اس فقرہ کو آخر میں ذکر کرنا اس امر کےلئے ہے کہ
دفاع اگر چہ بعض مفسد افراد کے حق میں فائدہ مند تو بجائے خود نقصان دہ ہے لیکن
پورے عالمین کے لئے یعنی نظام کلی کےلئے حکم دفاع ضروری ہے اوردفاع کاحکم نظام
کےلئے مفید تر بلکہ عالمین کےلئے یہ حکم خدا فضل عمیم اوراحسانِ جسیم ہے۔
x
Leave a Reply