فلم بینی
صنعت فلم بھی اگرچہ افادیت کا اہلم پہلو اپنے اندر رکھتی ہے نیز اسلامی اقدار
و روایات کی ترویک و اشاعت اس کے ذریعے سے کافی آسان ہے لیکن اس کو بھی کافی حد تک
عیاشی تک ہی محدود کر دیا گیا ہے عموماً نوجوان طبقہ چونکہ آوارگی کا دلدادہ ہوتا
ہے لہذا عوام نوجوانوں کے تسکین جذبات کے پیش نظر ایسے جاذب نظر اور دل کش افسانوں
کو زیب فلم بنایا جاتا ہے جو اخلاق باختہ اور حیا سوز ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی
تعلیمات کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں بعض اچھے بھلے خاندان اسی فلم بینی ہی
کی بد عادت کے نتیجے میں اپنی خاندانی شرافت و حیا کی روایات کو دفن کر کے پردہ
بلکہ غیرت کی اہمیت کا انکار کر بیٹھے ہیں انسانی کردار پر جس قدر برے اثرات اس کے
پیدا کردہ ہیں وہ ان گنت ہیں عشقیہ مناظر اور محبت و پیار کے غیرت سوز طریقے جو
نوجوان طبقہ کے حسن کردار کےلئے پیغام موت ہوتے ہیں فلم کی مقبولیت کے اسباب شمار
ہوتے ہیں بلکہ چوری اور ڈاکہ کی نئ قسم کی وارداتیں بھی اکثر فلمی انسانوں کی
تربیت کا نتیجہ ہوا کرتی ہیں بہر کیف اس کا وجود معاشرہ انسان کے لئے بالعموم اور
اسلامی اقدار کے لئے بالخصوص ایک نا قابل اصلاح ناسور کی شکل اختیار کر چکا ہے خدا
جملہ مومنین کو اس قسم کی عادات بد سے محفوظ رکھے۔
Leave a Reply