anwarulnajaf.com

قارئین سے جائیز امید

 

ہرذی ہوش بخوبی جانتا ہے کہ سادہ لوح عوام میں نمکین تحریر
اور دلکش بیان وتقریب بہت سی غلط فہمیاں اور بدگمیانیانپیداکرتی ہیں۔ بلکہ بعض
اوقات اچھے خاصے دانشمند بھی مغالطہ کھاجا تے ہیں جسکا نتیجہ نقصان عظیم کے سوا
کچھ بھی نہیں ہوتا۔(مثلاً ہمارے پاکستان میں ایک بقلم خود علامہ صاحب آجکل اپنی
تقاریر میں ذولجناح کی بالواسطہ مخالفت میں کہتے پھرتے ہیں کہ گھوڑے پر اتنا خرچ
کرنیکی بجائے کسی! سیدانی کے سر پر چادر کیوں نہیں ڈال دی جاتی ۔ یہ بالکل وہی
انداز ہے جیسا کہ معاویہ نے جنگ صفین ہارتے ہوئے قرآن کو نیزوں پر اٹھادیا تھا۔
اور حضرت علی نے فرمایا تھا “کلمتہُ حقٍّ یُرادُ لبَھا الباطِل بات تو اچھی
ہے ۔ لیکن ذولجناح کی مخالفت ہے جو یقیناً سعی مذموم ہے۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ
ان صاحب کے دل میں حرمت سادات کِتنی ہے ؟ سادات کے تعاون میں ذوالجناح کی مخالفت
کیوں؟ کیا صرف شبیہ ذوالجناح کی مخالفتف ہی سادات نوازی کا ذریعہ ہے؟ سادات نوازی
کے دوسرے بیسوں ذرائع موجود ہیں۔ لیکن دل کا چور یہیں چھپا ہے۔ مقصد سادات نوازی نہیں
مقصد شبیہ زواالجناح کی چھپی ہوئی عداوت ہے جسے کھلے لفظوں میں ظاہر نہیں کیا جاسکتا
۔ مترجم) شاید اسی لئے عظیم مفکر شیخ بو علی سینا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ و، جو لوگ
کسی شخص کی کسی بات کو بلا دلیل قبول کر لیتے ہیں فطرۃ انسانیہ کے دائرہ سے باہر ہیں،
بنابریں میں اپنے قارئین محترم سے امید کرتا ہوں کہ وہ عصر حاضر کی چکنی چپڑی او مسجع
و مقفی عبارات و بیانات سے صرف نظر کر کے اس قسم کے بیہودہ مقالات دبیانات سے یکسو
ہوکر اپنی خدا داد فوت فکر و نظر کو بروئے کار لاکر دونوں قسم کے مقاصد نتائج اور استدلالات
کو سامنے رکھیں۔ یہ عہد کر لیں کہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بلا دلیل قبول نہ کریں گے۔
تاکہ حق و باطل اور صدق و کذب میں امتیاز ہو سکے ۔

چونکہ ان لوگوں کا اندازہ بیان دطریق تحریر ایسا ہے جس سے عموماً
یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ لوگ عقل سلیم اور قرآن کریم کے تابع ہیں۔ اس لئے ہم بھی اپنے
دائرہ بحث کو عقل و قرآن تک ہی محدود رکھیں گے تاکہ یہ لوگ اگر عقل و قرآن کی اتباع
میں مخلص ہیں تو پھر انہیں سرتسلیم خم کرنے میں دیر نہ لگے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اعتراض
کا جواب عقل و قرآن سے پیش کروں گا۔ ہاں یہ بھی یادر ہے کہ ان جوابات میں میرا ارادہ
نہ تو کسی کی دل آزاری ہے اور نہ ہی فتنہ انگیزی ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *