anwarulnajaf.com

قرآنی شہادت:

 قرآنی
شہادت:

ممکن
ہے تعجب سے اندھے یہ لوگ کہدیں کہ کاک شفا پر سجدہ جس نیت اور جس حیثیت میں شرک ہے
تو ہمارے پاس اس کے تین جواب ہیں۔

(۱)معنائے
شرک           (۲)ملّت مسلمہ کا عمل                  (۳)قرآن کریم

معنائے
شرک کے ذیل میں ہم تفصیل سے بتاچکے ہیَں کہ تعمیل حکم خداوندی میں جو سجدہ کیا
جائے اور جہاں کیا جائے شرک نہیں۔

ملّت
مسلمہ کا عمل: جو شخص بھی دائرہ اسلام میں داخل ہےَ ۔اور نماز کو حکم سمجھ کر بجا
لاتا ہے۔ اور دوران نماز وہ سجدہ کرتا ہے۔ آخر اسے سجدہ کسی جگہ پر تو کرنا ہی ہے۔
خواہ پیشانی کپڑے پر رکھے لکڑی پر رکھے ۔ گھاس پر رکھے یا مٹی پر رکھی ۔ نجدی کٹھ
ملاؤں کے مطابق جہاں بھی سجدہ ہوگا۔ شرک ہوگا لہٰذا تمام امت مسلمہ مشرک ہوگی۔ اگر
فقہ حنفی کا مطالعہ کریں تو اس کے مطابق نجس چیز پر بھی سجدہ ہوسکتا ہے گویا شرک
سے وہی محفوظ ہوگا جو نماز نہیں پڑھتا۔

قرآن:۔

حج
۷۷؎:
                                                                          یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ
افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ (
۷۷)

اے
ایمان والو !رکوع کرو۔ سجدہ کرو۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔اور اچھے اعمال بجا لاؤ۔ تا
کہ فلاح پاسکو۔

اس
آیت میں ایمان والوں کو اللہ نے سجدہ کا حکم دیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ سجدہ کا معنی
پیشانی کو کسی چیز پر رکھنا ہے اور نجدی مکتب فکر کے مطابق کسی چیز پر پیشانی کا
رکھنا باعث شرک ہے۔ گو یا اللہ نے تمام مومنین کو حکم دیا ہے کہ سجدہ کرکے دائرہ
ایمان سے نکل جاؤ ۔ اور مشرک بن جاؤ۔ تا کہ فلاح پا سکو اب قارئین ہی بتائیں کہ
کیا آیت قرآن کو چھوڑ دیں۔ یا سجدہ پر اعتراض کرنیوالا اسکی عقل پر ہنسیں ؟

علاوہ
ازیں سابقاً ہم نے ملائکہ کو حکم سجدہ ۔ یعقوب اور اولاد یعقوب کا حضرت یوسف کو
سجدہ بلکہ تمام انبیاء اور اولیاء جنہوں نے اجزائے عالم میں سے مٹی ۔ پتھر ۔ لکڑی
وغیرہ جیسے کسی بھی جزو پر سجدہ کیا ہے سب کے سب مشرک ٹھرے۔

بالفاظ
دیگریوں کہدیا جائے کہ نعمت عالم سے لفظ ایمان نکال دو اور شیعیان علی داد لا د
علی کو مشرک ثابت کرنے کے لیے اگر صفحہ عالم پر لفظ شرک لکھنا پڑے لکھدو۔ انبیاء
کو مشرک کہنا پڑے کہہ دو اور اللہ کو مشرک گر کہنا پڑے کہدو۔ سُبحان اللہ کیا
اسلام ہے اور کیا تبلیغ ہَے۔

عوام
فریبی اور جھوٹ:۔

سمجھ
میں نہیں آتا کہ خاک شفا پر سجدہ اور شیعوں کے دیگر مذہبی مراسم تو آپکی آنکھ کا
شہتیربن گئے لیکن ملت مسلمہ بلکہ قلب اسلام میں گھونپتے جانے والے خنجر نظر کیوں
نہیں آتے؟

سینما
ہال بنتے ہیَں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ۔ شراب کانے چلتے ہیں اسلام محفوظ ہے جو ا
خانے اور تعیش گھر پر مٹ حاصل کرکے چلتے ہیِں جہاں ملت مسلمہ کے نو خیز جوانوں کا
نہ صرف ایمان واسلام لٹتا ہے بلکہ عقل و جوانی بھی غارت کیا جاتا ہے۔ اسلام محفوظ
ہے۔ نہ تو ر ۸خ تبلیغ کا رخ اس طرف مڑتا ہے نہ غیرت اسلامی پر حرف آتا ہے ۔ اور نہ
ہی اسلام کو کوئی خطرہ ہے ۔ کیا آپ کے اسلام میں یہ سب کچھ جائز تو نہیں ؟ کیا یہ
شرعی مجرمات شرک و مدعت کے ذیل میں نہیں آتے؟

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

92۔ (آج
مورخہ۱۰ ستمبر ۱۹۸۲کی صبح کو ۶ بجے جب میں یہ ترجمہ لکھنے بیٹھا اور ریڈیو آن کیا
توریڈیو پاکستان سے خبریں نشر ہو رہی تھیں جن میں انا د نسر نے عالم عرب کے عرب
سربراہوں کی فیض کانفرنس ختم ہونے کا اعلان کیا اور مشترکہ اعلانیہ جو بتایا اس کا
خلاصہ یہ تھا کہ مملکت فلسطین قائم کی جائے۔

یہ
وہی عرب سربراہ تھے جن کی غیرت عراق ایران جنگ میں اتنی بھڑکی تھی کہ آنجہانی خالد
نے خمینی حکومت کے خلاف ملت مسلمہ سے جہاد کی اپیل کی تھی۔ اور اردن کے فرمانروانے
اپنی فوج ایران کے خلاف لڑنے کی خاطر عراق میں بھیجی تھی۔

کیا
ان ،غیور ،عربوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جب لبنان جل رہا ہے۔ لبنان میں مسلمان بچے
بھوک اور پیاس سے مررہے تھے ملت مسلمہ کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں دہائی دے رہی
تھیں جب بے گھر فلسطینوں کو لبنان بدر کیا جارہا تھا کیا پاسبان حرمین کی حمیت
اسلامیہ کا پانی مرچکا تھا ایران کے خلاف اپیل جہاد کرنے والے فرمانردا اسرائیل کے
خلاف کیوں منقا ر زیر پر  رہے ؟ شاہ اردن
کی جو فوجیں ایران کے خلاف محذ آرائیں انہیں امت مسلمہ کا کھویا ہوا۔

                                                                                                            (حاشیہ
اگلے صفحہ پر)

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *