anwarulnajaf.com

قیامت

قیامت

خداوند کریم نے اپنے لطف عمیم اور فیض جسیم  سے انسانی زندگی کو خوشگور بنانے اور پر امن
وپر سکون کرنے کےلئے جہاں اقدار انسانیہ کی تعلیم وترویج کے لئے  اپنی جانب  سے معصوم نمائندے بھیجے  وہاں کرامت وشرافت  انسانیہ 
کے مقبول عام کرنے کی خاطر باز پرس کےلئے بھی ایک  دن مقرر فرمادیا تاکہ اپنی ہدایات پر عمل  کرنے والوں کو انعام واکرام کے طورپر جنت
عطافرمائے  اور انسانی شرافت کی حدود کو
توڑ کر معاشرتی وتمدنی زندگی کو بدامنی وبے جینی کی نزر کرنے والوں کو دائمی جہنم
کی سزادے کفارمکہ اور مشرکین قریش کےلئے جو آوارہ مزاجی اور آزادانہ عیاشی کی
خاطر  ہر بھیانک جرم کے کرگزرنے کو اپنی
روشن ضمیری بلند نگری ارتقاء پسندی اور جرات مندی شمار کرتے تھے جس طرح عقیدہ
توحید بار خاطر تھا اسی طرح قیامت کا تصر بھی فرسودہ  خیالی سمجھتے تھے پس قرآن مجید نے جہاں تو حید
کے عقیدہ پر ناقابل تردید براہین پیش کرے انہیں باطل مصنوعی خداؤں کے بجائے خدائے
واحد حقیقی کا ئل  کیا اسی طرح عقیدہ قیامت
کو بڑے زور وشور سے بیان کیا اور اس بارے میں انکےدلوں میں پیدا ہونے والے شکوک
وشبہات کو احسن انداز سے روفرماکر آنے والے روز جزا وسز کو ایسے طرز بیان سے پیش
کیاکہ لوگ جوق درجوق  حوزہ اسلامیہ میں
داخل ہوتے چلے گئے

انکا سب سےبڑا اور سنگین سوال یہ تھاکہ مٹی ہوجانے اور گل
سٹر جانے کے بعد انسان کو دربارہ کس طرح اٹھایا جائے گا اسکا جواب نہایت مختصر اور
قابل قبول طریقہ سےدیاکہ جو اللہ تمام مخلوق 
کو پہلی دفعہ کتم عدم سے معرض وجود میں لاسکتاہے اور پہلی دفعہ ایسا پیدا
کیا کہ کسی لحاظ سے اس میں کوئی سقم نہیں نہ تخلیق میں سقم ہے نہ نظم ونسق میں
خرابی ہے  اور کائنات عالم میں بار بار
تدبر کرنے  کی دعوت دی کہ اگر ان میں کوئی
سقم  ہے تو بتاؤ اور جب کوئی سقم نہیں تو
مانناپڑے گا کہ اس کا پیدا کرنے والا قادر حکیم ہے توجو پہلی دفعہ پیدا
کرسکتاہے  اس کے لئے دوبارہ پیداکرنا کیا
مشکل ہے کیونکہ دوبارہ چیز کا بنانا اس کی ایجاد 
سے بدرجہاآسان تر ہوتا ہے پس تمام انسان انہی دنیاوی جسموں کےساتھ زندہ
ہوکر محشور ہوں گے

بہر کیف جب انسان کو یقین ہوجائے کہ میں   نے ایک دن ضرور اللہکی بارگاہ میں جوابدی کےلئے
کھڑا ہونا ہے تو اس کو عادات رذیلہ سے بچنے اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کا ایک
اور مرک دستیابہوجائے گا پس انسانی کردار کی تصیح  کےلئے خالق نے انسان پر احسان کے طورپر  کئی محرک 
پیداکردیئے  تاکہ انسانی زندگی
پرسکون رہے

1                    
اس نے انسان کو عقل بخشی تاکہ اس کے ذریعے سے بری عادات سے اجتناب کرکے نیک عادات
کو اپنے اندر جذب کرے

2                    
اس نے اپنی جانب  سے معصوم
نمائندے  نبی اور امام بھیجے تاکہ انسانوں
کےلئے صحیح  وغلط  راستوں کی نشاندہی کریں  اور سیدھے رستے پرچلنے کے فوائد اور غلط راستہ
پر چلنے کے نقائص  کی وضاحت کریں

3                    
موت مقرر کردی اور اس کےوقت  کا علم
انسان کو نہ دیا تاکہ ایک طرف زندگی میں اطمینان محسوس  کرے اور دوسری طرف زندگی کو چند روزہ سمجھتے
ہوئے ناپاک عادات سے گریز کرے اور نیک عادات کو اپنےائے کیونکہ موت  کے تصور کے پیش نظر ظلم وجور اوردیگر بری
صفات  سے بچنے کی صورت آسان ہوجاتی ہے اور
نفس پرستی کاجوش ٹوٹ جاتاہے

4                    
قیامت کادن جزا وسزا کے لئے مقررکردیا تاکہ اگرانسان  کو آوارگی کی طرف نفس امارہ  دعوت  دے
تو قیامت کا تصور اس کو بھٹکنے سے بچالے

5                    
میزان وحساب کا اعلانکرکے انسان کو ہر چھوٹی 
سے چھوٹی  غلطی  کرنے سے روک دیا اور ہر چھوٹی  سے چوٹی نیکی کو چھوڑنے  سے منع کریا  تاکہ 
معاشرہ  انسانی نہایت خوشگواررہے

6                    
نیکی کرنے والوں کو جنت الخلد کی پیش کش 
کردی کہ قیامت کے دن صرف باز پرس اور جوابدہی  پر اختتام نہ ہوگا بلکہ خدا کے فرمانبرداروں
اور حقاوق النفس حقواللہ اور حقوق الناس سے عہدہ برا ہونے  والوں کو دائمی انعام  کے طور پر جنت عطاہوگی جس میں نہ موت ہوگی نہ
غم ہوگا اور نہ حزن وملال ہوگا

7                    
انسانی شرافت وکرامت  کی قدر نہ کرنے
والوں اور انسانی اقدار کو پامالکرنے والوں کو قیامت کے دن حساب کےبعد جہنم کے جیلخانہ  میں قید دی جائے گا جس کا عذاب اختتام پذیر نہ
ہوگا

8                    
قرآن مجید میں خدا نے اپنے احسان واکرام کاباربار تذکرہ کرکے لوگوں کو احسان
شناسی کے طورپر بھی بری عادات سے بچنے اور نیک عادات کو اپنانے کی طرف رغبت دلائی
دعاہے کہ خداوند کریم تمام انسانوں کو شرافت انسانیہ کی لاج رکھنے کی توفیق
عطافرمائے  اور یہی نظام مصفطےٰ ہے جس
کےلئے امن پسند شرفاء ترستے ہیں


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *