محکمات و متشابہات کا بیان
ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ
مِنْہُ اٰیٰت مُّحْکٰمٰت ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰت فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِھِمْ زَیْغ
فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآئَ
تَاْوِیْلِہ النبی وَمَا یَعْلَمُ
تَاْوِیْلَہ اِلَّااللّٰہُ
وَالرّٰسِخُوْنَ فیِ الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ کُلُّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ
(7) رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ
لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ
الْوَھَّابُ (8) رَبَّنَا اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ
فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لا یُخْلِفُ
الْمِیْعَادَ (9) ع
مِنْہُ اٰیٰت مُّحْکٰمٰت ھُنَّ اُمُّ الْکِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِھٰت فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِی قُلُوْبِھِمْ زَیْغ
فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَآئَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَآئَ
تَاْوِیْلِہ النبی وَمَا یَعْلَمُ
تَاْوِیْلَہ اِلَّااللّٰہُ
وَالرّٰسِخُوْنَ فیِ الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِہ کُلُّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ
(7) رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ
لَّدُنْکَ رَحْمَةً اِنَّکَ اَنْتَ
الْوَھَّابُ (8) رَبَّنَا اِنَّکَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّارَیْبَ
فِیْہِ اِنَّ اللّٰہَ لا یُخْلِفُ
الْمِیْعَادَ (9) ع
ترجمہ:
وہ وہی ہے جس نے نازل فرمائی آپ پر کتاب اس
میں کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں لیکن جو لوگوں کے
دلوںمیں کجی ہے تو وہ پیچھے پڑتے ہیں ان کے جو اس میں سے متشابہ ہیں بغرض فتنہ اور
بغرض (من مانی) تاویل کے حالانکہ کوئی نہیں جانتا اس کی صحیح تاویل مگر اللہ اور
وہ لوگ جو راسخ فی العلم ہیں حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سب
(محکم ہوں یا متشابہ) ہمارے ربّ کی طرف سے ہیں اور نہیں نصیحت لیتے مگر صاحبانِ
عقلo اے ہمارے
پروردگار! نہ پھیر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت فرمائی اور عنایت
فرما ہمیں اپنی رحمت تحقیق تو ہی عطا کرنے والا ہےo اے ربّ! تحقیق تو اکٹھا
کرنے والا ہے لوگوں کو اس دن کہ جس میں شک نہیں بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتاo
میں کچھ آیتیں محکم ہیں جو اصل کتاب ہیں اور کچھ متشابہ ہیں لیکن جو لوگوں کے
دلوںمیں کجی ہے تو وہ پیچھے پڑتے ہیں ان کے جو اس میں سے متشابہ ہیں بغرض فتنہ اور
بغرض (من مانی) تاویل کے حالانکہ کوئی نہیں جانتا اس کی صحیح تاویل مگر اللہ اور
وہ لوگ جو راسخ فی العلم ہیں حالانکہ وہ کہتے ہیں کہ اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ سب
(محکم ہوں یا متشابہ) ہمارے ربّ کی طرف سے ہیں اور نہیں نصیحت لیتے مگر صاحبانِ
عقلo اے ہمارے
پروردگار! نہ پھیر ہمارے دلوں کو بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت فرمائی اور عنایت
فرما ہمیں اپنی رحمت تحقیق تو ہی عطا کرنے والا ہےo اے ربّ! تحقیق تو اکٹھا
کرنے والا ہے لوگوں کو اس دن کہ جس میں شک نہیں بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتاo
محکمات و متشابہات کا بیان
مِنْہُ آیَات مُّحْکَمَات: محکم و متشابہ کے
متعلق چند اقوال ہیں:
متعلق چند اقوال ہیں:
(۱) محکم وہ ہے جس کا معنی
و مطلب بالکل ظاہر اور صاف ہو نہ اس میں کوئی اجمال ہو اور نہ کوئی گنجلک ہو اور
متشابہ وہ ہے جس کی مراد ظاہر نہ ہو اور مطلب واضح نہ ہو بلکہ اس کے سمجھنے کےلئے
کافی غور وخوض کی ضرورت ہو
و مطلب بالکل ظاہر اور صاف ہو نہ اس میں کوئی اجمال ہو اور نہ کوئی گنجلک ہو اور
متشابہ وہ ہے جس کی مراد ظاہر نہ ہو اور مطلب واضح نہ ہو بلکہ اس کے سمجھنے کےلئے
کافی غور وخوض کی ضرورت ہو
(۲) محکم سے مراد ناسخ اور
متشابہ سے مراد منسوخ ہے اور امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی ایک روایت میں
وارد ہے کہ منسوخ آیتیں متشابہات سے ہیں
متشابہ سے مراد منسوخ ہے اور امام محمد باقر علیہ السلام سے بھی ایک روایت میں
وارد ہے کہ منسوخ آیتیں متشابہات سے ہیں
(۳) محکم وہ ہے جس کی
تاویل کا صرف ایک ہی رُخ ہو اور اس سے صرف ایک ہی مطلب نکل سکتا ہو اور متشابہ وہ
ہے جس میں دو یا اس سے زیادہ معافی کا احتمال ہو
تاویل کا صرف ایک ہی رُخ ہو اور اس سے صرف ایک ہی مطلب نکل سکتا ہو اور متشابہ وہ
ہے جس میں دو یا اس سے زیادہ معافی کا احتمال ہو
(۴) محکم وہ ہے جس کی
تاویل معین کی جا سکتی ہو اور متشابہ وہ ہے جس کی تاویل کا تعین نہ ہو سکتا ہو
تاویل معین کی جا سکتی ہو اور متشابہ وہ ہے جس کی تاویل کا تعین نہ ہو سکتا ہو
سوال: خدا
وند کریم نے جب قرآن مجید عام مخلوق کی ہدایت کےلئے نازل فرمایا ہے تو چاہیے تھاکہ
سارا قرآن محکم نازل کیا جاتا تاکہ ہر ایک اس کا مطلب آسانی سے سمجھ سکتا لہذا
متشابہ نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی
وند کریم نے جب قرآن مجید عام مخلوق کی ہدایت کےلئے نازل فرمایا ہے تو چاہیے تھاکہ
سارا قرآن محکم نازل کیا جاتا تاکہ ہر ایک اس کا مطلب آسانی سے سمجھ سکتا لہذا
متشابہ نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی
جواب: آیاتِ
متشابہات نازل کرنے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں:
متشابہات نازل کرنے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) اگر سب کا بس محکم
ہوتا تو لوگوں کی قرآنی علوم سے دلچسپی ختم ہو جاتی صرف نقل پر اکتفا کر لی جاتی
اور غور و خوض کی طر ف توجہ نہ ہوتی
ہوتا تو لوگوں کی قرآنی علوم سے دلچسپی ختم ہو جاتی صرف نقل پر اکتفا کر لی جاتی
اور غور و خوض کی طر ف توجہ نہ ہوتی
(۲) عام خطوط و مکاتیب میں
یہی دستور ہے کہ اگر عبارت سلیس اور مطلب واضح ہوتو صرف ایک دفعہ اس کا سر سری
مطالعہ کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور دوسری مرتبہ اس کو دیکھنے کےلئے جی تک نہیں
چاہتا اور اگر اس میں ذرا گنجلک ہو تو اس کا با ر بار غوروخوض اور پورے دھیان سے
مطالعہ کیا جاتا ہے اور قرآن چونکہ صرف ایک وقت یا ایک دور کے لوگوں کےلئے نہ تھا
بلکہ تا قیامت تمام آنے والی نسلوں کےلئے بھی باعث ہدایت تھا اگر بالکل سلیس اور
عام فہم ہوتا تو اس کی بہجت و نضارت تھوڑے دنوں تک محدود ہو کر رہ جاتی اور اس کی
جاذبیت کے محدد و عرصہ کے اندر ناپید ہوجانے سے طبیعتوں میں بار بار شوق تلاوت نہ
رہتی اور یہ چیز قرآن مجید کی قیامت تک کی طویل زندگی کی راہ میں سدراہ ہو جاتی پس
خداوند علیم و حکیم نے اس مقدس کلام میں ایسا رنگ بھر دیا کہ جوں جوں زمانہ طول
پکڑتا جائے اس کی طرف طبائع کا رجحان روز افزوں ترقی کرتا جائے
یہی دستور ہے کہ اگر عبارت سلیس اور مطلب واضح ہوتو صرف ایک دفعہ اس کا سر سری
مطالعہ کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور دوسری مرتبہ اس کو دیکھنے کےلئے جی تک نہیں
چاہتا اور اگر اس میں ذرا گنجلک ہو تو اس کا با ر بار غوروخوض اور پورے دھیان سے
مطالعہ کیا جاتا ہے اور قرآن چونکہ صرف ایک وقت یا ایک دور کے لوگوں کےلئے نہ تھا
بلکہ تا قیامت تمام آنے والی نسلوں کےلئے بھی باعث ہدایت تھا اگر بالکل سلیس اور
عام فہم ہوتا تو اس کی بہجت و نضارت تھوڑے دنوں تک محدود ہو کر رہ جاتی اور اس کی
جاذبیت کے محدد و عرصہ کے اندر ناپید ہوجانے سے طبیعتوں میں بار بار شوق تلاوت نہ
رہتی اور یہ چیز قرآن مجید کی قیامت تک کی طویل زندگی کی راہ میں سدراہ ہو جاتی پس
خداوند علیم و حکیم نے اس مقدس کلام میں ایسا رنگ بھر دیا کہ جوں جوں زمانہ طول
پکڑتا جائے اس کی طرف طبائع کا رجحان روز افزوں ترقی کرتا جائے
(۳) اگر سب آیات محکمات
ہوتیں اور اس کا مطلب بآسانی سمجھ میں آسکتا تو قرآن فہمی میں طبائع کو سرور حاصل
نہ ہو سکتا کیونکہ جو چیز بلاتعب و مشقت حاصل ہو اس کے حصول پر اتنی خوشی حاصل
نہیں ہوتی جتنی کہ مشقت و محنت کے بعد حاصل ہونے والی شئے پر خوشی حاصل ہوتی ہے
یہی وجہ ہے کہ جس چیز کی توقع ہوتی ہو اور توقع کے مطابق کامیابی حاصل ہوجائے تو
وہ کامیابی اتنی موجب سرور نہیں ہوتی جتنی کہ بعض مطالب و مقاصد پر خلاف توقع
کامیابی حاصل ہونے سے ہوا کرتی ہے چنانچہ بو علی سینا (شیخ الرئیس) کا قول ہے:
ہوتیں اور اس کا مطلب بآسانی سمجھ میں آسکتا تو قرآن فہمی میں طبائع کو سرور حاصل
نہ ہو سکتا کیونکہ جو چیز بلاتعب و مشقت حاصل ہو اس کے حصول پر اتنی خوشی حاصل
نہیں ہوتی جتنی کہ مشقت و محنت کے بعد حاصل ہونے والی شئے پر خوشی حاصل ہوتی ہے
یہی وجہ ہے کہ جس چیز کی توقع ہوتی ہو اور توقع کے مطابق کامیابی حاصل ہوجائے تو
وہ کامیابی اتنی موجب سرور نہیں ہوتی جتنی کہ بعض مطالب و مقاصد پر خلاف توقع
کامیابی حاصل ہونے سے ہوا کرتی ہے چنانچہ بو علی سینا (شیخ الرئیس) کا قول ہے:
کہ جب مطلب کے سمجھنے کے لئے مجھے شب وروز
کی محنت شاقہ برداشت کرنی پڑے جس سے دماغ پرکافی بوجھ ڈال کر اس کو حل کرنا ضروری
ہو اوربالآخراس مقصد میں کامیابی کوکامرانی حل ہوجائے تو جہاں ایک طرف تمام ذہنی کاوشوں
کا شیریں وخوش مزہ پھل میسر آجانے سے تمام دماغی کو فتیں ختم ہوجاتی ہیں وہاں
دوسری طرف طبیعت میں اس قدر سرورو فرحت حاصل ہوتی ہے کہ شاید زمین وآسمان کے مابین
کی حکومت وشاہی ملنے سے بھی وہ خوشی حاصل نہ ہوسکتی
کی محنت شاقہ برداشت کرنی پڑے جس سے دماغ پرکافی بوجھ ڈال کر اس کو حل کرنا ضروری
ہو اوربالآخراس مقصد میں کامیابی کوکامرانی حل ہوجائے تو جہاں ایک طرف تمام ذہنی کاوشوں
کا شیریں وخوش مزہ پھل میسر آجانے سے تمام دماغی کو فتیں ختم ہوجاتی ہیں وہاں
دوسری طرف طبیعت میں اس قدر سرورو فرحت حاصل ہوتی ہے کہ شاید زمین وآسمان کے مابین
کی حکومت وشاہی ملنے سے بھی وہ خوشی حاصل نہ ہوسکتی
(۴) جو چیز آسانی سے
دستیاب ہوجائے اس کی نہ اہمیت ملحوظ رہتی ہے اورنہ اس کی قدر وقیمت ہوتی ہے بخلاف
اس کے جو چیز کسی قدر محنت طلب ہو اس کی اہمیت زیادہ اورقدر ومنزلت بلند ہوتی
دستیاب ہوجائے اس کی نہ اہمیت ملحوظ رہتی ہے اورنہ اس کی قدر وقیمت ہوتی ہے بخلاف
اس کے جو چیز کسی قدر محنت طلب ہو اس کی اہمیت زیادہ اورقدر ومنزلت بلند ہوتی
(۵) قرآن مجید قیامت تک
کےلئے معجزہ ہے اورہر مفسر اپنی ذہنی منزل کے پیش نظر اس سے مطالب تک رسائی حاصل
کرتاہے ہر بعد میںآنے والاایسے نکات ورموز پر مطلع ہوتا ہے جن تک گزشتہ مفسرین نہ
پہنچ سکے تھے اوریہی وجہ ہے کہ علمائے کرام انتہائی غور وفکر سے مطالب قرآنیہ حاصل
کرنے کے بعد یہ دعوےٰ نہیںکرسکتے کہ ہم اس کی کنہ وانتہاتک پہنچ گئے اورمطالب
قرآنیہ تک ہمیں کماحقہدسترسی حاصل ہوگئی اورجس قدر رُموز قرآنیہ میں خوض کرتے ہیں
اسی قدرطبیعت میں آگے بڑھنے کا جذبہ تیز سے تیز تر ہوتا جاتاہے اگر سارا قرآن محکم
آیات پر مشتمل ہوتا تو قرآن مجید میں تدبر وتفکر کی راہیں مسدودہوجاتیں پس یہ بھی
قرآن کا ایک معجزہ ہے کہ تیرہ سوسال سے ہردور میں علمائے اعلام نے اپنی توجیہاتِ
خاصہ کو قرآنی مطالب کے استنتاج پر وقف رکھا اوراس بحرِ ذخار سے نایاب موتیوں کی
دولت حاصل کی اوربالآخراُن کوناپید نہ کر سکے اور یہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گا۔
کےلئے معجزہ ہے اورہر مفسر اپنی ذہنی منزل کے پیش نظر اس سے مطالب تک رسائی حاصل
کرتاہے ہر بعد میںآنے والاایسے نکات ورموز پر مطلع ہوتا ہے جن تک گزشتہ مفسرین نہ
پہنچ سکے تھے اوریہی وجہ ہے کہ علمائے کرام انتہائی غور وفکر سے مطالب قرآنیہ حاصل
کرنے کے بعد یہ دعوےٰ نہیںکرسکتے کہ ہم اس کی کنہ وانتہاتک پہنچ گئے اورمطالب
قرآنیہ تک ہمیں کماحقہدسترسی حاصل ہوگئی اورجس قدر رُموز قرآنیہ میں خوض کرتے ہیں
اسی قدرطبیعت میں آگے بڑھنے کا جذبہ تیز سے تیز تر ہوتا جاتاہے اگر سارا قرآن محکم
آیات پر مشتمل ہوتا تو قرآن مجید میں تدبر وتفکر کی راہیں مسدودہوجاتیں پس یہ بھی
قرآن کا ایک معجزہ ہے کہ تیرہ سوسال سے ہردور میں علمائے اعلام نے اپنی توجیہاتِ
خاصہ کو قرآنی مطالب کے استنتاج پر وقف رکھا اوراس بحرِ ذخار سے نایاب موتیوں کی
دولت حاصل کی اوربالآخراُن کوناپید نہ کر سکے اور یہ سلسلہ قیامت تک باقی رہے گا۔
(۶) قرآن پاک میں محکمات و
متشابہات ہر دوقسم کی آیات کو نہایت موز ونیت ومنا سبت سے خلّاق عالم نے ترتیب دیا
تاکہ صرف متشابہات کو دیکھ کر معمولی قابلیت کے انسان اس کے مطالب سمجھنے سے
مایوسی کا شکار نہ ہوجائیں اورصرف محکمات کو ملحوظ رکھ کو سنجیدہ طبائع اوروقت
پسند مزاج اس کو سہل وسلیس قرار دے کر سرے سے نظر انداز کرنے پر آمادہ نہ ہو جائیں
پس ہر مزاج وطبع کے انسانوں کی جاذبیت کے لئے ذات علیم وحکیم نے ایک ایسا مکمل
ومنظم کلام بھیجا جس سے ہر مزاج اورطبیعت کا انسان اپنی حیثیت کے مطابق مطلب تک
رسائی حاصل کرسکے اورحسب لیا قت اس کی شیرینی سے بہرہ اندوز ہو کر اپنے دامن کو
گوہر مراد سے پر کرسکے تاکہ قرآن مجید ہر دور میں ہر قسم کے مزاج کے انسانوں کےلئے
جاذب طبع ہو کر مرکز التفات رہے
متشابہات ہر دوقسم کی آیات کو نہایت موز ونیت ومنا سبت سے خلّاق عالم نے ترتیب دیا
تاکہ صرف متشابہات کو دیکھ کر معمولی قابلیت کے انسان اس کے مطالب سمجھنے سے
مایوسی کا شکار نہ ہوجائیں اورصرف محکمات کو ملحوظ رکھ کو سنجیدہ طبائع اوروقت
پسند مزاج اس کو سہل وسلیس قرار دے کر سرے سے نظر انداز کرنے پر آمادہ نہ ہو جائیں
پس ہر مزاج وطبع کے انسانوں کی جاذبیت کے لئے ذات علیم وحکیم نے ایک ایسا مکمل
ومنظم کلام بھیجا جس سے ہر مزاج اورطبیعت کا انسان اپنی حیثیت کے مطابق مطلب تک
رسائی حاصل کرسکے اورحسب لیا قت اس کی شیرینی سے بہرہ اندوز ہو کر اپنے دامن کو
گوہر مراد سے پر کرسکے تاکہ قرآن مجید ہر دور میں ہر قسم کے مزاج کے انسانوں کےلئے
جاذب طبع ہو کر مرکز التفات رہے
(۷) محکم ومتشابہ کی
تقسیم کو ذاتِ ربّ العزت نے مسلمانانِ عالم کےلئے ایک امتحان گاہ قرار دیا تاکہ
معلوم ہو کہ تسلیم کس کو ہے اورعناد کس میں ہے؟ اورحکم فرمادیا کہ محکمات کی پیروی
کریں اوران کو چھو ڑ کر اپنی نظر یاتی غلطیوں میں آیات متشابہات کی آڑ لے کر راہ
گمراہی اختیار نہ کریں چنانچہ راسخین فی العلم کی مدح فرمائی کہ یہ لوگ تسلیم والے
ہیں اورمحکم ومتشابہ پرکلیتہً ایمان رکھتے ہیں اوردوسروں کی مذمت فرمائی کہ جن
لوگوںکے دلوں میں کجی اورکھوٹ ہے وہ آیات محکمات کو نظر انداز کرکے خواہ مخواہ
فتنہ پر وری کےلئے متشابہ آیات سے غلط طور پر مطلب برداری کے درپے ہوتے ہیں
تقسیم کو ذاتِ ربّ العزت نے مسلمانانِ عالم کےلئے ایک امتحان گاہ قرار دیا تاکہ
معلوم ہو کہ تسلیم کس کو ہے اورعناد کس میں ہے؟ اورحکم فرمادیا کہ محکمات کی پیروی
کریں اوران کو چھو ڑ کر اپنی نظر یاتی غلطیوں میں آیات متشابہات کی آڑ لے کر راہ
گمراہی اختیار نہ کریں چنانچہ راسخین فی العلم کی مدح فرمائی کہ یہ لوگ تسلیم والے
ہیں اورمحکم ومتشابہ پرکلیتہً ایمان رکھتے ہیں اوردوسروں کی مذمت فرمائی کہ جن
لوگوںکے دلوں میں کجی اورکھوٹ ہے وہ آیات محکمات کو نظر انداز کرکے خواہ مخواہ
فتنہ پر وری کےلئے متشابہ آیات سے غلط طور پر مطلب برداری کے درپے ہوتے ہیں
(۸) بحوالہ
احتجاج طبرسی جناب امیرا لمومنین علیہ السلام سے ایک حدیث میں مروی ہے جس کا خلاصہ
مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم کو علم تھاکہ لوگ قرآن مجید سے من مانے مطالب نکال کر
اس کے احکام میں تغیر پید ا کرنے کی کوشش کریں گے لہذا اس نے اپنے کلام کو تین
حصوں میں منقسم فرمادیا:
احتجاج طبرسی جناب امیرا لمومنین علیہ السلام سے ایک حدیث میں مروی ہے جس کا خلاصہ
مطلب یہ ہے کہ خداوند کریم کو علم تھاکہ لوگ قرآن مجید سے من مانے مطالب نکال کر
اس کے احکام میں تغیر پید ا کرنے کی کوشش کریں گے لہذا اس نے اپنے کلام کو تین
حصوں میں منقسم فرمادیا:
٭ ایک قسم
تو ایسی ہے کہ اس کو عالم وجاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں
تو ایسی ہے کہ اس کو عالم وجاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں
٭ دوسری
قسم ایسی ہے کہ جن کے ذہن صاف حس لطیف اورتمیز صحیح اورخدانے اس کو سینے علم کی
خوبیوں کو سمجھنے کےلئے کھول دیئے ہیںبس وہی سمجھتے ہیں
قسم ایسی ہے کہ جن کے ذہن صاف حس لطیف اورتمیز صحیح اورخدانے اس کو سینے علم کی
خوبیوں کو سمجھنے کےلئے کھول دیئے ہیںبس وہی سمجھتے ہیں
٭ تیسری
قسم وہ ہے جس کو خدا اور راسخوں فی العلم کے علاوہ اورکوئی نہیں سمجھ سکتا اورہ اس
لئے کیا کہ خداکو معلوم تھا کہ باطل پرست طبقہ میراث رسول پر غاصبانہ تصرف وقبضہ
کرے گا پس ان کو اس قسم کے غلط اقدامات کرنے کے باوجودعلم قرآن کے دعوےٰ کی جرات
نہ ہوسکے بلکہ جب بھی ان کے سامنے علم کتاب کے متعلق کوئی سوال پیش آئے تو جو لوگ
درحقیقت عالم قرآن اوراللہ کے سچے ولی ہیں ان کو مجبوراًان کے دروازہ پر جبہ سائی
کرنا پڑے (جس سے حقیقی وارثِ قرآن اور غلط دعوےٰ دار کے درمیان فرق کرنا آسان ہو)
قسم وہ ہے جس کو خدا اور راسخوں فی العلم کے علاوہ اورکوئی نہیں سمجھ سکتا اورہ اس
لئے کیا کہ خداکو معلوم تھا کہ باطل پرست طبقہ میراث رسول پر غاصبانہ تصرف وقبضہ
کرے گا پس ان کو اس قسم کے غلط اقدامات کرنے کے باوجودعلم قرآن کے دعوےٰ کی جرات
نہ ہوسکے بلکہ جب بھی ان کے سامنے علم کتاب کے متعلق کوئی سوال پیش آئے تو جو لوگ
درحقیقت عالم قرآن اوراللہ کے سچے ولی ہیں ان کو مجبوراًان کے دروازہ پر جبہ سائی
کرنا پڑے (جس سے حقیقی وارثِ قرآن اور غلط دعوےٰ دار کے درمیان فرق کرنا آسان ہو)
پس خداوند کریم نے قرآن مجید میں آیاتِ
متشابہات نازل فرماکر عوام کے سامنے علماکے فضل کا معیار قائم فرمادیا اورباطل کے
مقابلہ میں اس کو صداقت کا مینار مقررکیا اگر قرآن کی یات سب محکمات ہوتیں تو ہر
مسند رسول کا قابض عالم قرآن کہلاتا اورسچے وجھوٹے کی تمیز نہ ہوسکتی۔
متشابہات نازل فرماکر عوام کے سامنے علماکے فضل کا معیار قائم فرمادیا اورباطل کے
مقابلہ میں اس کو صداقت کا مینار مقررکیا اگر قرآن کی یات سب محکمات ہوتیں تو ہر
مسند رسول کا قابض عالم قرآن کہلاتا اورسچے وجھوٹے کی تمیز نہ ہوسکتی۔
سوال: ایک
مقام پر خداوند کریم نے تمام قرآن کو محکم بتایا ہے چنانچہ فرماتا ہے: الٓرٓکِتَاب
اُحْکِمَتْ اٰیَآتُہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات محکم ہیں اوردوسرے مقام پر تمام
قرآن کو متشابہ بتایا ہے چنانچہ ارشاد ہے: اللّٰہ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ
کِتَابًا مُّتَشَابِھًا اللہ نے نازل فرمائیں سب سے اچھی باتیں وہ کتاب متشابہ ہے
اوراب یہاں ارشاد ہورہا ہے کہ نہ سب آیات محکمات ہیں اورنہ سب کی سب متشابہ ہیں
بلکہ بعض محکم اوربعض متشابہ ہیں؟
مقام پر خداوند کریم نے تمام قرآن کو محکم بتایا ہے چنانچہ فرماتا ہے: الٓرٓکِتَاب
اُحْکِمَتْ اٰیَآتُہ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات محکم ہیں اوردوسرے مقام پر تمام
قرآن کو متشابہ بتایا ہے چنانچہ ارشاد ہے: اللّٰہ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ
کِتَابًا مُّتَشَابِھًا اللہ نے نازل فرمائیں سب سے اچھی باتیں وہ کتاب متشابہ ہے
اوراب یہاں ارشاد ہورہا ہے کہ نہ سب آیات محکمات ہیں اورنہ سب کی سب متشابہ ہیں
بلکہ بعض محکم اوربعض متشابہ ہیں؟
جواب: جس
مقام پرپوری کتاب کومحکم بیان فرمایا ہے اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی
میں وہ پختگی اور اس کے مطالب میں وہ سنجیدگی ہے جس میں تاقیامت کوئی خلل نہیں
پیدا ہوسکتا اس کے دلائل و براہین اس قدر ٹھوس اور مضبوط ہیں کہ تا قیامت ناقابل
تردید ہیں اس کے اوامرو نواہی میں وہ مصالح و مفاسد ملحوظ ہیں جو اَدوارِ مختلفہ
اور اَزمنہ متفاوتہ میں اذہانِ متفرقہ کی عیب جوئی سے بالا تر ہیں اور تا قیامت
ناقابل تنسیخ و ترمیم ہیں، اس کے قصص و واقعات ایسے حقائق پر مبنی ہیں کہ علمائے
کتب سابقہ اور ماہرین آثارِ متقدمہ اس کو غلط بیانی سے نسبت نہیں دے سکتے آئندہ کی
خبریں اس قدر صحیح اور مبنی بر حقیقت ہیں کہ حرف بہ حرف ان کے مطابق واقع ہونے کی
کسی کو مجالِ انکار نہیں گویا ہر لحاظ اور ہر حیثیت سے ہر دور ہر زمانہ اور ہر
طبقہ کے انسانوں کے لئے اس کی پختگی و مضبوطی ناقابل انکار حقیقت ہے، اس لئے
فرمایا کہ اس کتاب مقدس کی آیات محکم ہیں۔
مقام پرپوری کتاب کومحکم بیان فرمایا ہے اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن مجید کے معانی
میں وہ پختگی اور اس کے مطالب میں وہ سنجیدگی ہے جس میں تاقیامت کوئی خلل نہیں
پیدا ہوسکتا اس کے دلائل و براہین اس قدر ٹھوس اور مضبوط ہیں کہ تا قیامت ناقابل
تردید ہیں اس کے اوامرو نواہی میں وہ مصالح و مفاسد ملحوظ ہیں جو اَدوارِ مختلفہ
اور اَزمنہ متفاوتہ میں اذہانِ متفرقہ کی عیب جوئی سے بالا تر ہیں اور تا قیامت
ناقابل تنسیخ و ترمیم ہیں، اس کے قصص و واقعات ایسے حقائق پر مبنی ہیں کہ علمائے
کتب سابقہ اور ماہرین آثارِ متقدمہ اس کو غلط بیانی سے نسبت نہیں دے سکتے آئندہ کی
خبریں اس قدر صحیح اور مبنی بر حقیقت ہیں کہ حرف بہ حرف ان کے مطابق واقع ہونے کی
کسی کو مجالِ انکار نہیں گویا ہر لحاظ اور ہر حیثیت سے ہر دور ہر زمانہ اور ہر
طبقہ کے انسانوں کے لئے اس کی پختگی و مضبوطی ناقابل انکار حقیقت ہے، اس لئے
فرمایا کہ اس کتاب مقدس کی آیات محکم ہیں۔
اور جس مقام پر فرمایا کہ یہ کتاب متشابہ ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ اوّل سے لے کر آخر تک حسن و صداقت درستی و صحت پختگی و مضبوطی
اور بے عیب ولاریب ہونے میں اس کتاب کی تمام آیات ایک دوسری سے ملتی جلتی ہےں اور
ایک ہی جیسی ہیں جس طرح کہ ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ قرآن غیر اللہ
کا کلام ہوتا تو اس میں کافی اختلاف پایا جاتا، یعنی بعض پختہ بعض غیر پختہ کچھ
حصہ مطابق واقع کچھ خلاف واقع اور کہیں فصاحت و بلاغت کہیں عامی خطابات غرضیکہ
تفاوت اور تہافت کا ایک مرقع ہوتا، لیکن چونکہ خالق کا کلام ہے لہذا اس کی سب آیات
ایک جیسی ہیں اس میں کہیں نہ کمزوری ہے نہ غلطی نہ جائے تردید ہے نہ مقام ترمیم
اور یہی اس کے خدائی کلام ہونے کی اٹل دلیل ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اوّل سے لے کر آخر تک حسن و صداقت درستی و صحت پختگی و مضبوطی
اور بے عیب ولاریب ہونے میں اس کتاب کی تمام آیات ایک دوسری سے ملتی جلتی ہےں اور
ایک ہی جیسی ہیں جس طرح کہ ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ قرآن غیر اللہ
کا کلام ہوتا تو اس میں کافی اختلاف پایا جاتا، یعنی بعض پختہ بعض غیر پختہ کچھ
حصہ مطابق واقع کچھ خلاف واقع اور کہیں فصاحت و بلاغت کہیں عامی خطابات غرضیکہ
تفاوت اور تہافت کا ایک مرقع ہوتا، لیکن چونکہ خالق کا کلام ہے لہذا اس کی سب آیات
ایک جیسی ہیں اس میں کہیں نہ کمزوری ہے نہ غلطی نہ جائے تردید ہے نہ مقام ترمیم
اور یہی اس کے خدائی کلام ہونے کی اٹل دلیل ہے۔
پس معلوم ہو اکہ تمام اوصا فِ حسنہ اور
خصالِ حمیدہ کی جامعیت میں قرآن کی تمام آیات ایک دوسری کے متشابہ اور ایک جیسی
ہیں اور اسی لحاظ سے تمام کا تمام محکم اور متقن ہے اس میں کوئی رخنہ یا کمزوری
نہیں لیکن مطالب کی سہل بیانی اور وقت طلبی میں اس کی دو قسمیں ہیں:
خصالِ حمیدہ کی جامعیت میں قرآن کی تمام آیات ایک دوسری کے متشابہ اور ایک جیسی
ہیں اور اسی لحاظ سے تمام کا تمام محکم اور متقن ہے اس میں کوئی رخنہ یا کمزوری
نہیں لیکن مطالب کی سہل بیانی اور وقت طلبی میں اس کی دو قسمیں ہیں:
(۱) ایک سہل جس کو ہر ایک
سمجھ سکے پس وہ اس اعتبار سے محکم ہے
سمجھ سکے پس وہ اس اعتبار سے محکم ہے
(۲) دوسری وہ جس کو سمجھنے
کےلئے بلند ذہن و ذکا اور فہمِ رسا چاہےے یعنی بعض تک علماکی رسائی ہو سکتی ہے اور
بعض کا حل راسخون فی العلم کی رہبری کا مرہونِ منت ہے
کےلئے بلند ذہن و ذکا اور فہمِ رسا چاہےے یعنی بعض تک علماکی رسائی ہو سکتی ہے اور
بعض کا حل راسخون فی العلم کی رہبری کا مرہونِ منت ہے
تفسیر برہان میںکافی سے مروی ہے کہ آیاتِ
محکمات کی تاویل حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور باقی آئمہ طاہرین اور آیاتِ متشابہات
کی تاویل فلاں فلاں اور فلاں ہیں اور فَاَمَّاالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغ
فَیَتَّبِعُوْنَ سے مراد ان کے ساتھی اور ان سے دوستی رکھنے والے لوگ ہیں۔
محکمات کی تاویل حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور باقی آئمہ طاہرین اور آیاتِ متشابہات
کی تاویل فلاں فلاں اور فلاں ہیں اور فَاَمَّاالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغ
فَیَتَّبِعُوْنَ سے مراد ان کے ساتھی اور ان سے دوستی رکھنے والے لوگ ہیں۔
Leave a Reply