یہ نام نہاد حقیقت جو افراد امت مسلمہ کی پسماندگی علمی سست
روی مغرب کے مقابلہ میں معاشی زبوں حالی اور تمدنی بے راہ روی اسلام اور مراسم اسلام
میں دیکھتے ہیں، حالانکہ اگر یہ کور باطن یورپ کے اندر جھانک کر دیکھیں تو ان کی تمام
خوش فہمیاں دور ہو جائیں۔ اور انہیں سمجھ آجائے کہ جس یورپ کو ہم تہذیب دیوتا اور تمدن
کا استاد سمجھتے ہیں وہ اندر سے کتنا کھوکھلا ہے چونکہ ہماراموضوع یورپی تمدن نہیں
اس لئے اسے چھیڑنے کے بجائے صرف یورپی مذہبی
مراسم کی طرف توّجہ تر دلاؤں گا اور اپنے ناپختہ عقل ان روشن فکروں کو یورپی مراسم
کے متعلق بتاؤں گا۔جو معربی اساتذہ سے سبق لیکر اسلامی مراسم کو بدعت کہنے کی جسارت
کرتے ہیں۔ اور اپنی راہ ترقی کا پتھر سمجھ کر انہیں راستہ سے ہٹانے کی فکر میں ہیں
میں درخواست کروں گا کہ ذرا یورپ کی مذہبی
دنیا میں جھانک کر دیکھیں کہ
کیا ان کے اساتذہ تہذیب و تمدن اپنے مذہبی مراسم سے اس طرح پیش
آتےہیں جس طرح انہیں درس دیتے ہیں ؟
کیا اسلامی مراسم پر
اعتراض کرنے والے یورپین عیسائی کلیسا اور چرچ کی تعظیم نہیں کرتے؟
کیایہی دانشور نہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ کو مقام عبودیت سے اٹھاکر
مقام انبیت دیا ہے؟ کی جناب مریم کی عظمت میں یہ لوگ حدود سے آگے نہیں بڑھ گئے ؟
کیایہ وہ نہیں جنہوں نے جناب مریم کو ایک پاکباز معصومہ مطہرہ
اور شریف النفس ستور کی جگہ زوجہ خدا بنا ڈالاہے
کیاعالمی پریس میں یورپی
ناخداؤں کی چرچ میں مانگی جانے والی منکرانہ دعائیں نہیں چھپتیں۔
کیا حقیقت آشنا لوگ یہ بتاتے نہیں کہ یورپی اورامریکی نا خدا
ہر صبح اپنےمذہبی مراسم بجالاتے ہیں ؟
کیا سب کچھ ایسے نہیں
جیسے اسلامی مراسم ہیں، اور جنہیں ہمارے نام نہادروشن فکر بنگاه تمسخر دیکھتے ہیں ؟
Leave a Reply