anwarulnajaf.com

معجزات انبیاء پر ایک نظر:۔

ان
سر پھروں کے ہاتھ قرآن کریم کی ایک آیت لگی ہَے جسے سیاق و سباق ۔علیحٰدہ کرکے یہ
لوگ عجزوبے  اختیاری انبیائے کرام کی دلیل
بنا کر پیش کرتے ہیَں۔ اور لوح عوام کو دھوکا دیتے ہیَں۔ اگر معاملہ یہاں تک رہتا
تو قابل برداشت تھا لیکن یہ بے خرد انبیاء ثابت کرتے کرتے معجزہ سے انکار تک پہنچ گئے۔
آیت ملاحظہ فرمالیجیئے ۔

قُلْ لّآ
اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا
  انہیں بتادے کہ میں
اپنے نفع و نقسان تک کا راز نہیں رکھتا۔

انکا
معجزہ کے بعد ان بے مطالعہ افراد نے ایک قدم اور آگے بڑہایا۔ اور اعجاز نبوی دا
امامت کا مذاق اڑاتے ہوئے کہنے لگے کہ اگر ۔

            معجزہ کی کوئی حقیقت ہوتی تو سرور
کونین ابن ام متتوم اور

            حضرت امیر المومنین ؑ اپنے بھائی عقیل
کی نابینائی کو دور کیوں

            نہ فرمادیتے ؟ابن ام لکثوم اور عقیل
کا تادم آکر بے

            بسارت رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ
معجزاتی حکایات

            افسانہ محض ہیَں۔

جواب
سے قیل مناسب ہوگا اگر عقل سلیم سے ایک سوال پوچھتے چلیں۔

کیا
نبوت بلا اعجاز قابل مذیرائی ہوتی ہَے؟

عقل
سلیم کا مسلمہ فیصلہ ہَے کہ، ہر شخص کی 
ہربات یا ہر دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا مدعی خواہ امیر ہو یا غریب آقا ہو
یا نوکر اور افسر ہو یا  ماتحت اس کی صرف
وہی بات قابل قبول ہوگی جس میں دعویٰ کے ساتھ دلیل بھی ہو ۔ اگر ہمیں کوئی ایسا
آدمی مل جائے جو ہر شخص کے ہر دعویٰ  کو
بلا دلیل و حجت قبول کرلے تو دنیائے عقل و خرد کم از کم اسے وادیء انسانیّت سے بن
باس دے دی گئی ۔ بنا برایں اگر کوئی شخص دعوائے نبوّت کرے تو اسے اپنے دعویٰ کو
تسلیم کرانے کی کاطر کوئی دلیل بھی پیش کرنا ہوگی۔ اور دعوائے نبوّت کی دلیل صرف
وہی بات یاد وی کام بن سکے گا جو دعوائے نبوّت کے وقت دیگر افراد بشر کی قوت و
قدرت سے مادرا ہو۔ کیونکہ

یہی
کام ہمیں نبوت کے سامنے سر تسلیم جھکانے پر مجبور کرے گا اور اسی بنا پر ہم اس کے
مطیع و فرمانبر دار بن سکیں گے۔ اور اپنے دیگر ہم نوح افراد کو یہ کہنے کی پوزیشن
میں ہوں گے کہ یہاں اگر یہ کلام اس مدعی نبوّت کا اپنا اور ذاتی ہے ۔ یا ۔ یہ کام
اگر اس نے اپنی کسی طاقت و قدرت سے کیا ہَے تو پھر ہمیں بھی ایسا کلام لینا چاہیئے
 اور ایسا کام سرانجام دے سکنا چاہیئے
چونکہ ہم نہ تو ایسا کام کرسکتے ہیں اور نہ ہی اسے کلام پر قدرت و طاقت کا نتیجہ
ہے اور نہ ہی یہ کلام اس کی اپنی فکر کی ایجاد ہے بلکہ یہ دونوں خالق کی قدرتر
کاملہ کا کرشمہ ہیں۔ اور مدعی نبوّت اپنے دعویٰ میں صادق اور قابل اطاعت ہے۔ مثلاً
ایک شخص ہمیں کہتا ہےکہ۔

مجھے
ذات احدیت نے تمہارے پاس بھیجا ہے ۔اور اللہ نے تمہارے لئے مجھے کچھ پیغامات دیئے
ہیں لہٰذا ، میری باتوں کو تسلیم کرومیری طاعت کرو میری حمایت میں اپنی جانیں
قربانا کرو میرے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے سب کچھ قربان کردو۔ اور وہاں
جو شخص میرے احکام ماننے سے انکار کردے اسے قتل کردو اس کا گھر لوٹ لو۔ کیا دنیائے
خرد یہی کہتی ہے کہ ہم ایسے مدعی کا دعویٰ قبول کرلیں اور اس سے اتنا تک نہ پوچھیں
کہ آپ کس دلیل کی بنیاد پر ہم سے یہ سب کچھ منوانا چاہتے ہیں؟

آپ
کے پاس اپنے دعویٰ کا کیا ثبوت ہے؟

میری
کوئی ذات محتاج دلیل نہیں، جوکچھ میں کہتا جاؤں تم بلا تامل مانتے جاؤ اور عمل
کرتے جاؤتو۔

میرا
خیال ہے عقل سلیم ایسے دعویٰ کو قطعی ٹھکرادے گی۔ اسی بناپر ہمیں یہ کہنے کا حق ہے
کہ عجز انبیاء ثابت کرنے والے۔

یاتو
قرآن کو سرے سے دیکھتے ہی نہیں ۔یا اگر دیکھتے ہیں تو اپنی کور دماغی کی بدولت کچھ
سمجھتے نہیں یونہی جبیہ و دستار اوڑھ کر بقلم خود علامے بنے پھرتے ہیں۔ اور
یادیکھتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں تو پھر ان کا ہاضمہ اتنا تیزہے کہ آیات کو
شیر مادر سمجھ کربلاڈکار لئے پی جاتے ہیں۔ اغلب خیال یہی ہے کہ وہ ان جیسی تمام
آیات کو ہضم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ قارئی قرآن صرف
ہم ہیں ۔ تمام لوگ ہماری آنکھوں سے دیکھتے اور ہماری فکر سے سوچتے ہیں حالانکہ یہ
کندہا ئے ناتراش یہ نہیں سوچتے کہ ممکن ہے کوئی دوسرا اٹھ کر ان آیات کی تلاوت
کرلے اور پھر ہمارے منہ پردے ماراے عووام ان آیات سے آشنا ہوجائیں اور ہماری فریب
کاری کا راز کھل جائے ۔

لیجئے
ہم آپ کے سامنے چند آیات پیش کرنے چلے ہیں جن سے آپ کو اس حقیقت کا اندازہ ہوجائے
گاکہ انبیائے کرام نے معجزات دکھائے ہیں تو لوگوں نے ان کی نبوت کا کلمہ پڑھا ہے۔
اور کبھی بقلم خود نبی کی پیروی عوام نے نہیں کی۔

قصص:                                                                    وَ
اَنْ اَلْقِ عَصَاكَؕ-فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى
مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْؕ-یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ-
اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ(۳۱)

اے
موسیٰ اپنا عصا پھینک جب حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ کرنےلگاہے گویا کہ جن ہے تو آپ
پیچھے کو بھاگے اور مڑکر بھی نہ دیکھا (ہم نے کہا) اے موسیٰ آگے بڑھ اور مت ڈر
محفوظ ہے۔

قصص :                                                                    اُسْلُكْ
یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ
٘-وَّ
اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ
اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ(۳۲)

اپنا
ہاتھذرابغل میں دبا غیر معبود سفید نکلے گا اور اپنا ہاتھ سینہ پر رکھ لے تیرا خوف
زائل ہوجائیگا اللہ کی جانب سے یہ دو د لائل ہیں (جا) اور فرعون ان فرعونیوں کے
سامنے پیش کر جو ایک فاسق گروہ ہیں۔ حضرت موسیٰ کو عصا پھینکنے کا حکم ہوتا ہے۔ آپ
عصازمین پر رکھتے ہیں جونہی عصا زمین پر جاتا ہے اس میں زندگی کا اثر حرکت پیدا
ہوتی ہے۔ اور ا
ژدہے کی شکل اختیار
کرنے لگتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے جب اس تبدیلی کو دیکھا توڈرکر پیچھے کوہٹے قدرت کی
ندا آئی ارے موسیٰ ڈرکیوں گئے؟ وہی عصا ہی تو ہے آگے بڑھوواور اسے اٹھاؤ تجھے کچھ
نہیں کہے گا۔

اب
ذرا اپنا ہاتھ بغل میں لے جاؤ اور قدرت خدا کا معجزہ  دیکھو کہ تمہارا ہاتھ کس طرح ٹارچ کی مانند
چمکتا ہوا نکلتا ہے۔ اب وہی چمکیلا ہاتھ سینہ پر رکھ لو تاکہ خوف زائل ہوجائے یہ
ہیں فرعون و فرعونیوں کیلئے دومعجزے ۔

اب
یا تو یہ کہہ دیا جائے کہ یہ دونوں کام عادی اور معمول کے مطابق تھے۔ اور ان ہزرہ
سراؤں کی بات کو درست ثابت کرنے کے لئے یہ کہہ دیا جائے کہ یہ بات ہی لغواور بے
حقیقت ہے۔ تاکہ معجزہ سے انکار کا بھرم قائم رہے۔ جبکہ دونوں صورتوں میں ایمان
نہیں رہے گا۔

۲۔       حضرت عیسیٰ ؑ علیہ السلام کے متعلق ارشاد
قدرت:۔

آل عمران ۴۳؎:-        اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ
اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ
فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ

میرے منجانب اللہ تمہارے اطمنیان کیلئے کچھ نشانیاں ہیں میں
تمہارے سامنے مٹے سے پرندہ کی شکل ہٹاؤنگا اس میں روح پھونکوں گا باذن خدا پرندہ
بن جائیگا میں کوڑہی اور بروص کو شفا دونگا اور میں اذن باری ہے مردوں کو زندہ
کرونگا ۔

اب کیا خیال ہے؟ مردہ کو اندہ کرنا یا مٹی سے بنے بت کو روح
حیات دینا الواقع معجزہ ہے یا حضرت عیسیٰ ؑ ہونہی دیوانے کی بڑہانک رہے ہیں؟ آپ کو
تحریروں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی کسی بات میں کوئی حقیقت نہیں
آپ اپنی فکروں کی روشنی میں اتنا آگے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں کہ معجزہ سے انکارمیں
آپ کو بڑا مان معلوم ہوتا ہے۔اور جب ہم آپ کے انکار معجزہ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں
ان کے دو وجود نظر آتے ہیں۔

الف:    ممکن ہے آپ کا مبلغ علم ہی تنا ہو کہ قرآن کے
اعجاعب حقائق تک ان پھہنچے ہوں۔

ب۔     دور جدید کی مادی ترقی نے آپ کے ذہن کو اس
قدر مغلوب ومرعوب کردیا ہے کہ آپ اب قربانی حقائق 
کو بھی نظر انداز کرنے سے دریغ نہیں کرتے ۔اور اس کے نتیجہ میں قرآنی
طمانچے کھانا گوارا کرلیتے ہیں یہ توتھے دوسری قسم کے معجزات ۔ذراان آیات کو تو
ملاحظہ فرمائیے جن میں قرآن نے بذات خود اپنی اعجازیت کا تذکرہ کیا ہے اور نہ صرف
اپنے زمانہ نزول کے جن و انس کو مقابلہ کا چلینج دیا ہے بلکہ تا قیامت انیوالی ہر
نسل کے لئے چلینج موجود ہے۔ یہی چلینج آج تک ملت مسلمہ کے پاس ہے اور اسی سرمایہ
اسلام کو ہاتھ میں لے کر جس طرح آغاز اسلام میں غیر ترقی یافتہ نوع بشر کو چلینج
دیا تھا اس طرح آج کی ترقی یافتہ نوع بشر کو بھی چلینج کررہے ہیں۔ اور بنانگ  دمل پکارتے پھرتے ہیں۔

ہمارے
ہاتھوں میں انوار رسالت کی ضیا باریوں میں سے نور پاک کی صرف ایک شعاع موجود ہے
اگر کسی فرد۔ ادارہ یا انجمن میں دم خم ہے تو تاریکی وجہالت اور ظلم وبربریت کے اس
خونچکاں دور میں علم و دانش کا ایسا قابل عمل ضابطئہ حیات پیش کردے تو ہماری جیبین
نیاز آج بھی اس کے چرن چھونے کو حاضر ہے۔

ملاحظہ
ہو بنی اسرائیل

قُلْ لَّىٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا
بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ
لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا(
۸۸)

اگر
تمام جن وانس ہمارے اس قرآن جس ضابطءہ حیات بنانے کی کوشش کریں تو ہر گز ایسا نہ
کرپائیں گے اگر چہ انہیں ایک دوسرے کا تعاون بھی حاصل کیوں نہ ہو۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُؕ-قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ
مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ
صٰدِقِیْنَ(۱۳)
فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا
لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ

کیا
یہ قرآن ان کے بقول سرور کونین کی اپنی اختراع ہے؟ اگر ایسا ہے تو انہیں کہدو ہا
تم بھی اس جیسی کم ازکم دس سورتیں تو بنالاؤ ۔ اور یہی صداقت ثابت کرو۔ اگر کائنات
عالم کے جن وانس تمہااری آواز پر لبیک نہ کہیں تو پھر تم ہی یہ حقیقت  تسلیم کرلو کہ یہ ضابطہ حیات محمد عربی کی
اختراع نہیں بلکہ عطیہ رب اکبر ہے۔

کیا
ہی اچھا ہوتا اگر یہ منکرین معجزہ انآیات کریمہ کو قرآن پاک سے نکال دیتے۔ تاکہ
ایک تو قرآن مختصر ہوجاتا اور دوسرے ان کے واہیات اور بیہودہ نظریات کی تصدیق
ہوجاتی۔

مُترجم:

مناسب
ہوگا اگر اس مقام پر میں ایک ایسے نقطہ کی وضاحت کرتا چلوں ۔ جو آیتہ اللہ العظمی
خمینی اعظم کے سامنے  پیش نہیں ہوا۔ مجھے
روز روشن کی طرح یقین واثق ہے کہ اگر یہ مسئلہ آپ کے سامنے پیش ہوتا تو وہ یقیناً
یہی کچھ فرماتے جو مترجم عرض کرنے چلاہے۔ کیونکہ کشف الاسرار کی غیر مہم عبارت میں
بیان کئے گئے مواضح عقائد اور ان کا موجود انداز حکومت اسلامی اس بات کی واضح دلیل
ہے کہ حضرت خمینی کی نگاہ عالیہ نبوت وامامت کا ایک ایسا مقام ہے۔ جہاں ان کی اپنی
حیثیت بھی ہے۔ اور توحید بھی محفوظ ہے۔ جبکہ

ہمارے
بقلم خود علامے                بیش بہا
عباؤں اور قباؤں پر سجے ہوئے۔

سفید
و سیاہ عمامے                         علم
کلام کی ابجدی سے نا آشنا مدعیاں علم کلام

لغت
عرب کی مبادیات سے نا واقف ادیب

اور
اصول شریعت سے نا واقف قوانین شرعیہ کے حامل

افراد
جس خالصی توحید کا تصور پیش کررہے ہیں وہ آیت اللہ العظمیٰ کی بیان کردہ توحید سے
کوسوں دورہے وہ مسئلہ ہے فعل معجزہ کا:-

ہمارے
بناسپتی سیاہ قلب وسیاہ فتویٰ بازوں کا فیصلہ یہ ہے کہ

نبی
وامام کی حیثیت ٹائچ رائیٹر کی سی ہے نہ تو کوئی کام ان کا

اپنا
ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی بات اسی ضمن میں فرماتے رہتے ہیں

کہ
معجزہ فعل خداہے۔اس میں نبی وامام کا کوئی عمل ہے نہ دخل۔

محترم
قارئین؛۔

قرآن
کی واضح آیات آپ کے سامنے ہیں ۔ حضرت موسیٰ کو ارشاد قدرت ہے۔

الق عصاک                                تو اپنا عصا پھینک

ادخل یدک فی جیبک              تو
پنا ہاتھ بغل میں دبا ۔حضرت عیسیٰ فرماتے ہیں۔

انی قدجئتکم بآیۃ                   میں تمہارے پاس نشانی لایا
ہوں۔

انی
اخلق لکم
                    میں تمہارے سامنے خلق کرونگا۔

ابرءِ
الاکمہ
                       میں کوڑھی کو شفایاب کرتا ہوں۔

والابرص                        میں ممبروص کو شفادیتا ہوں۔

ہاشیہ
۷۴؎ سے آگے

احی الموتیٰ                       میں مردوں کو زندہ کرتا
ہوں۔

حضرت
عیسیٰؑ کے بیان کردہ دلائل میں ۔ لفظ باذن اللہ موجود ہے حضرت موسیٰ کے ارشاد کردہ
دلائل میں باذن اللہ کا لفظ موجود نہیں ۔ لیکن سیاق عبارت بتلاتا ہَے۔ کہ وہاں بھی
لفظ باذن اللہ موجود ہے۔ اور حضرت موسیٰ کے دلائل لفظ باذن اللہ شامل کرنے سے
یوں  بنیں گے۔

76 فرٱلماہاتہننز ۔ باذن اللہ                                                        جب حضرت موسیٰ نے عصاکو باذن خدا حرکت کرتے دیکھا

تَخْرُ جْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً                  تیرا
ہاتھ اذن خدا سے بے عیب چمکتا ہوا نکلے گا۔

واضم الیل جناحک من الرہب۔        تیرا ہاتھ سینے پر رکھنے سے باذن اللہ
تیرے لئے باعث

باذن اللہ۔                                       شفا بن جائے گا۔

ملاحظہ
فرمایا آپ نے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ دونوں انبیاء کے معجزات ہیں۔ اذن خدا۔
شامل ہَے۔

اذن اور فعل میں فرق:

اذن
کے معنی اجازت کہے ہیِں۔ اور لفظ اذن کا اطلاق جب ہوتا ہے۔ جب اجازت دینے والا۔
کام کرنے والے کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہَے۔ بالفاظ دیگر اذن لینے والے میں کام
کرنے کی صلاحیّت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ اسے صرف وقت کا انتظار ہوتا ہے۔ جو نہی
کام کا وقت آتا ہَے۔ حاکم اپنے محکوم کو کام بجالانے کی اجازت دے دیتا ہَے۔

فعل
کے معنی کام اپنے ارادہ اختیار اور قدرت سے عمل کرنے کا نام ہَے۔

نص
قرآن کے مطابق

حضرت
موسیٰ کے عصا اثر دہا بننے کی صلاحیت ۔ ہاتھ میں پھینکنے کا اثر ۔ بغل میں ٹارچ کی
راشنی دینے کی استعداد ہاتھ میں روشنی وصول کرنے کی قدرت ۔ سینہ میں شفا پانے کی
گنجائش اور ہاتھ میں شفا دینے کی قوّت پہلے سے موجود تھی۔ لیکن اذن نہیں تھا۔ جب
اذن مل گیا ۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھ نے عصا کو اثر دہا بنادیا ۔ بغل نے ہاتھ میں
نورانیت بھردی ۔ اور ہاتھ نے سینہ کو شفا دے دی۔

حضرت
عیسیٰ میں

خلق
طیر ۔ نفخ روح ۔ شفائے کوڑھی و مبروص ۔ اور احیائے اموات کی استعداد پہلے سے موجود
تھی اذن کے بعد پرندہ اڑنے لگا۔ کوڑھی و مبروص شفایاب ہوگئے ۔ اور مردے زندہ ہوکر
اٹھ

                                                                                                            (حاشیہ
جاری)

اور
اب جواب:

حقیقت
معجزہ کے سلسلہ میں ایک تو خود آیۃ اللہ العظمیٰ کا فی دور نکل گئے۔ اور پھر راقم
الحراف نے بھی آپ کو ذرامشقت میں ڈال دیا۔ لیجئے اب میں اپنے کو علیحٰدہ کرتا ہوں
اور وہابی گروپ کی پیش کردہ آیت کا جواب آیۃ اللہ العظمیٰ کی طرف سے سنواتا ہوں۔
چنانچہ فرماتے ہیَں۔ یہ تو قبل از جواب رمہید تھی۔ اب آئے اور دیکھیں کہ ان کی پیش
کردہ آیت۔

قُلْ لَّاۤ اَمۡلِكُ لِنَفۡسِىۡ نَـفۡعًا وَّلَا ضَرًّ

میں
تو اپنے نفع و نقسان کا مختار بھی نہیں ۔کامفہوم کیا ہے؟

اگر
ہم مان لیتے ہیَں ان کا بیان کردہ معنی تو پھر ہمیں سادہ لفظوں میں یوں تسلیم
کرلینا چاہیئے کہ

سرور کونین کی حیثیت جمادات سے بھی گئی گزری ہے۔ کیونکہ

جمادات میں بھی کم از کم قوّت ماسکہ تو ہوتی ہی ہے۔

گویا
ذات احدیت نے سرور کونین سے ارشاد فرمایا ہے کہ تو اپنی امت کو بتادے کہ میں

کسی وقت اور کسی جگہ کوئی کام بھی نہیں کر سکتا حتی کہ

نیک کام ۔ اچھی فکر۔ اور اچھّی بات بھی نہیں کر سکتا۔

حالانکہ
ہر کس وناکس اس حقیقت سے واقف ہَے کہ

ہر
انسان خواہ کوئی ہے۔ اور کہیں ہو اورایک لحاظ سے اپنے لئے سود مند ہوتا ہَے۔

اور
وہ پہلو ہے انسان کا اچھّے کاموں کا سوچنا ۔ اطھی فکر ۔ اور اچھّا عزم اس

طرح
ہر شخص ہر جگہ اور ہر حیثیت میں اتنا تو ضرور جانتا ہَے کہ ناشائستہ

کردا۔
ناگوار رفتار۔ اور نازیبا گفتار میرے لئے باعث ننگ و نقصان ہے۔

بنا
بریں ہمیں آیت کا مطلب یوں کرنا ہوگا کہ خلاق عالم مذکورہ آیت میں کمالات نبوّیہ
کی نفی نہیں کررہا بلکہ کمالات نبوّیہ کو بھی وہ اپنی قدرت کاملہ کے کمالات میں
ایک بتانا چاہتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بیٹھے  ۔اگر یہ کہا جائے کہ معجزہ فعل خدا ہَے۔ تو پھر
حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کا

باذن
اللہ کا جوڑ لگانا۔ اور اللہ کا قرآن میں دونوں نبیوں کو بلا سرزنش

ذکر
کردینا انتھائی لغو ہوگا۔ جبکہ تعالیٰ اللہ عن ذلک علووا کبیرا۔

لہٰذا
معجزات انبیاء وائمہ باذن خدا ہوتے ہیِں اور انصال انبیاء وائمہ ہی کے ہوتے ہیَں۔

ہاں
اگر کوئی کور باطن اور کندہ ناتراش اذن و فعل کے درمیان فرق ہی محسوس نہ کرے تو
پھر جو چاہئے کہے ۔ از مترجم)

اور
ذات کردگار کا مقصود یہ ہے کہ میری مرضی اور مثیّت کے بغیر کوئی بھی کسی معجزہ میں
مستقل بالذات نہیں ہَے۔ کوئی شخص اپنی طرف سے اعجازی استعداد کا حامل نہیں ہوتا۔
کوئی شخص میری غیبی امداد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا ۔ اور دیگر کائنات کی طرح
انبیاء بھی معجزات میں میرے محتاج ہیں۔ ان نجدی (اور خالص)عقائد کے حامل افراد سے
پوچھنے کا حق ہے کہ وہ بتائیں ان کا بتایا ہوا مطلب درست ہے جس کے نتیجہ میں ہم
انبیاء وائمہ سے انسانی صفات تو کجا جمادی اوصاف بھی چھین لیتے ہیَں یا ہمارا بیان
کردہ مفہوم صحیح ہے جس سے ایک طرف توحید محفوظ رہتی ہے اور دوسری طرف کمالات
بنوّیہ پر بھی حرف نہیں آتا۔

حضرت
موسیٰ کے ہاتھ سے پھینکا ہوا عصااڑ دہا بنتا ہے۔

حضرت
عیسیٰ اگر مردہ زندہ کرتے ہَیں اور نابینا کو بینائی سے بہرہ ور کرتے ہیَں۔

اور
حضرت سرور کونین اگر چاند کو دو نیم کرتے ہیں تو یہ سب اس قوت و طاقت کے نتیجہ سے
جو ذات احدیت نے ان ذوات مقدّسہ کو ودیعت فرما رکھی تھی۔

جب
ان کو ر دماغوں کے غلط اعتقادات میں قرآن حدیث اور عقل ان کا ساتھ نہ دے سکے تو
لگے کہ عوام کو دھوکا دینے کیلئے مرزہ سرائی کرنے ۔ اور اپنا آخری پتہ یوں پھینکا
کہ

اگر
واقعاً معجزہ کی کوئی حقیقت تھی سرور کونینؐ نے ابن ام مکثوم کو اور حضرت علیؑ نے
اپنے بھائی عقیل کو جو ہر بات بصارت سے کیون نہ نوازا؟

اگر
کوئی ذی شعور یہ بات سنے تو انصاف سے بتائیں کیا وہ قہقہہ نہیں لگائے گا۔ کیا
دانشمندان ،عالم ان کی عقل پر ماتم نہیں کریں گے؟ کیا یہ مقام عبرت نہیں کہ مسند
اسلام ایسے ہاتھوں میں آگئی ہَے جو اسلام اور اصول کو نابالغ بچوں کی طرح بازیچہ ء
اطفال بنا کر کھیل رہے ہیِں ۔ اور ان کے گلے میں۔۔۔۔ڈالنے والا نہیں ؟

خدارا
کسی پرائمری کلاس کے بچہّ سے تو پوچھئے کہ

ایک
واقعہ کی نفی یا ثبوت کسی قاعدہ کلیہ کی نفی یا ثبوت کا باعث بن سکتی ہَے؟

یا
کوئی ایک قصہّ قاعدہ کلیہ بنایا جا سکتا ہے؟

کیا
ہمیں یہ پوچھنے کا ھق ہے کہ اگر

ایک
مریض مرض میں ایڑیاں رگڑ تا رہے ۔ کسی طبیب یا ڈاکٹر کے پاس جائے اور مرجائے ۔ تو
ہمیں یہ قاعدہ بنا لینے کا حق ہَے کہ دنیا میں کوئی علاج نہیں ۔ یہ علاج و معالجہ
سب من گھڑت افسانے ہیں؟ کیونکہ اگر علاج و معالجہ ہوتے تو فلان شخص بھی علاج کے
لئے گیا ہوتا چونکہ وہ علاج کی خاطر نہیں گیا لہٰذا علاج نام کی کوئی چیز ہی نہیں،

ذرا
ایک قدم آگے بڑھ کر یوں کیوں نہ کہہ دیں۔ کہ یہ میڈیکل کا لجز اور ہسپتالیں وغیرہ
سب افسانے ہیَں۔ اگر ان کی کوئی حقیقت سوتی تو فلاں مریض بھی دوا کیلئے جاتا۔

میں
نہیں سمجھتا کہ کیا کہوں؟ یہ کندہ ہائے ناتراش یہ سمجھتے ہیَں کہ نبی و امام بھی
گلیوں بازاریوں ،کوچوں اور سڑکوں میں چکر لگا لگا کر صدائیں دیتے پھریں کہ

آؤ
جسے معجزہ دیکھنا ہو میں دکھاتا ہوں ۔ جسے کرامت دیکھنا ہو میں دکھاتا ہوں کتنی
بودی عقل ہَے۔ اور کتنا کام نظریہ ہے۔

(
ضعیف سے ضعیف ایک روایت بھی تو نہیں دکھا سکتے جس میں ابن ام مکثوم اور عقیل نے
بینائی کی خواہش کی ہوا اور سرور کونین یا حضرت علی نے انہیں مایوس کیا ہو)

خدا  معلوم ان کے دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ
معجزہ دلیل نبوّت ہے۔ معرفت خلاق کا ایک زینہ ہے۔ معجزہ ذریعہ

معاش
۔ باعث نمائش اور بازیچہء اطفال نہیں ہے۔

ان
کے خیال میں تو معجزہ اسی صورت میں حقیقت ہو سکتا ہے۔ جب ذات احدیت کسی نبی و امام
کے ذریعہ اس عالم کون کو تباہ و برباد کرکے ایک دوسرا عالم ایجاد کردے جس میں ہر
کام معجزانہ طور پر ہو۔ بصورت دیگر نہ   تو
اللہ قادر و مختار رہے۔ اور نہ ہی نبی و امام میں اعجازی استعداد ہے۔ کیا ان نام
نہاد دانشوروں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ

جس
قادر مطلق نے اس عالم کون و فساد کو زیور وجود سے آراستہ کیا ہے اس نے انسان کو
حصول معاش میں ایک دوسرے کا دست نگر کیوں بنادیا ہے؟

وہ
کونسے اسباب ہیَں جن کی بنیاد پر ایک آقا ہے دوسرا غلام ؟ کوئی افسر ہے کوئی ماتحت؟
اور کوئی مالک ہے کوئی مزدور؟

اگ
وہ چاہتا توں انسان کو بلا کسب و محنت رزق دیکر ان شکمی جھیلوں سے نجات!

نہیں
دے سکتا تھا؟

کیا
انہی قصورات کی بنا پر آپ کی دانشمندی تخلیق ارض و سما کو ناقص کہہ سکتی ہے؟ کیا
سلسلہ توحید کو آپ اپنی آرائے ناقصہ کے ترازو میں توں سکتے ہیں؟

کیا
ہی مناسب ہوتا اگر ان انتشار پسند انہ تحریروں اور تقریروں کی جگہ آپ مثبت کام
کرتے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *