anwarulnajaf.com

میزان اور حساب

 میزان اور حساب

 یعنی انسانوں کی نیکیوں اور برائیوں کا حساب
ہوگا اور ذرہ ذرہ کا
  سوال ہوگا نہ ایک ذرہ
برابر نیکی کو نظرانداز کیاجائے گا اور نہ ذرہ برابر گناہ کو چھپایا جاسکے گا
  اور حضرت امام علی زین العابدین علیہ
السلام
  سے منقول ہے کہ مشرکین کےلئے میزان
کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ وہ بلاحساب جہنم میں جائیں گے پس میزان اور حساب صرف اہل
اسلام کےلئے ہوگا یعنی جن کےعقائد صحیح ہوں گے اور امام جعفرصادق علیہ السلام
  نے فرمایا اعمال کو تولا نہیں جاتا بلکہ میزان
سے مراد یہاں عدل ہے پس جس
  کےاعمال خیر کا
پلڑا بھاری
  ہوگا یعنی نیکیاں  زیادہ ہونگی 
وہ جنت میں جائے گا اور جس کی برائیوں کا پلڑا بھارا ہوگا یعنی برائیاں
زیادہ ہوں گی وہ دوزخ میں جائے گا۔

امام محمد باقر علیہ
السلام  سےمروی ہے کہ حساب ومیزان کی سختی
یانرمی عقل وعلم کے ماتحت ہوگی یعنی جس کو دنیا میں اس نے عقل  وعلم عطافرمایا اس سے باز پرس بھی زیادہ
ہوگی  اور جو عقل وعلم میں کمزور ہوں گے
انکا حساب بھی سرسری اور آسان ہوگا  حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کل امۃ یحاسبھاامام  زمانھا یعنی ہر امت  کا حساب 
اس کے امام زمانہ
کےسپرد ہوگا


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *