میزان اور حساب
یعنی انسانوں کی نیکیوں اور برائیوں کا حساب
ہوگا اور ذرہ ذرہ کا سوال ہوگا نہ ایک ذرہ
برابر نیکی کو نظرانداز کیاجائے گا اور نہ ذرہ برابر گناہ کو چھپایا جاسکے گا اور حضرت امام علی زین العابدین علیہ
السلام سے منقول ہے کہ مشرکین کےلئے میزان
کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ وہ بلاحساب جہنم میں جائیں گے پس میزان اور حساب صرف اہل
اسلام کےلئے ہوگا یعنی جن کےعقائد صحیح ہوں گے اور امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا اعمال کو تولا نہیں جاتا بلکہ میزان
سے مراد یہاں عدل ہے پس جس کےاعمال خیر کا
پلڑا بھاری ہوگا یعنی نیکیاں زیادہ ہونگی
وہ جنت میں جائے گا اور جس کی برائیوں کا پلڑا بھارا ہوگا یعنی برائیاں
زیادہ ہوں گی وہ دوزخ میں جائے گا۔
امام محمد باقر علیہ
السلام سےمروی ہے کہ حساب ومیزان کی سختی
یانرمی عقل وعلم کے ماتحت ہوگی یعنی جس کو دنیا میں اس نے عقل وعلم عطافرمایا اس سے باز پرس بھی زیادہ
ہوگی اور جو عقل وعلم میں کمزور ہوں گے
انکا حساب بھی سرسری اور آسان ہوگا حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کل امۃ یحاسبھاامام زمانھا یعنی ہر امت کا حساب
اس کے امام زمانہ کےسپرد ہوگا
Leave a Reply