اقسام
وجود میں سے کسی قسم کے دامن میں نفس جسم سے قبل حتماً موجود تھا مراتب کمال میں
تکمیل کے لئے نفس کو جسم سے متصل کیا گیا
ہے۔ جسم کی حیثیت نفس کیلئے آلہ کار اور خول کی ہے ۔ اپنے وقت محداد کے بعد فنا
ہوجاتا ہے۔ اور نفس اپنے عالم کلی میں واپس چلا جاتاہَے۔ سقراط نے اپنے قاتل
بادشاہ سے آخری خطاب ان لفظوں میں کیا تھا۔
سقراط
ایک مٹکے میں ہے۔ آپ مٹکے کو توڑ سکتے ہیَں۔ لیکن سقراط کو نہیں کار سکتے ۔ اور
یاد رکھا!
جب
مٹکا ٹوٹے گا تو مٹکے میں موجود پانی ( نفس سقراط ) دریا مین شامل ہوجائے گا۔
۸۔افلاطون:۔
یہ
بھی فلسفہ کے ہفت ارکان میں سے ایک ہَے۔ فلسفہ میں زیادہ تر سقراط کا شاگرد ہے البتہ کچھ کچھ طیمادس سے
بھی شرف قلمندرکھتا ہے۔ اور شیرابن دار کے زمانہ میں پیدا ہو۔ موت سقراط کےبعد
سقراط کا جانشین ہوا۔
شیخ شہاب الدین
اشراقی اور صدر اللہ ھین نے افلاطون کے بعض نظریات کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ آپ
کی تائید میں مزید دلائل دبراہین بھی پیش کئے ہیں۔ نفوس کے متعلق افلاطون کا نظریہ
یوں ہے۔
نفوس اقصال جسم سے
قبل کسی دوسرے عالم میں تھے۔ جس عالم میں بھی تھے انتھائی مسرور شاداں تھے۔ لیکن
اس فرحت و شادمانی کے باوجود ان میں کچھ نقائص تھے۔ اور ان خامیوں کو دور کرنے کے
لئے کسی آلٰہ کار کی ضرورت تھی جو نفوس کو بصورت
جسم حاصل ہوگیا۔ اس عالم میں اقصال جسم کے لئے بوقت نزول نفوس کی قوت پرواز
ختم ہوگئی۔ نفوس کو آلئہ کار حاصل ہوجانے کے بعد نئی قوّت پرواز میسر آجاتی ہے۔ جس
کے بعد یہ دوبارہ اپنے عالم میں پرواز کر جاتے ہیں۔
۹۔ ارسطو:-
دنیائے فلسفہ میں ارسطو
بھی ایک حیثیت کا مالک ہے۔ اس کےوالد کا نام نیقو مانعوس اور مقام دلادت اسطا
جرانامی بستی تھی ۔ چونکہ علم منطق کی بکھری
اصطلاحات اور منتشر قواعد کو اس نے جمع کیا تھا۔ اس لئے ارسطو کو معلوم اوّل کانام دیا گیا۔ عالم اسلام کے عظیم مفکر اور
بلند پایہ فلسفی شیخ الرئیس ابوعلی سینا ارسطوی کا شاگرد ہے۔ بقائے نفس کے سلسلہ میں
ارسطو کا نظریہ کچھ اس طرح ہے ۔
اگر نفس انسانی علم و
عمل میں کامل ہوجائے تو آیات الٰہیہ سے ہوجاتا ہے۔
اور اس عالم رنگ و بو
میں خالق کون ومکان کی طرح تصرف کرنے لگتا ہے ۔
ا۔ کا
ایک ہی نظریہ ہے۔ ۱۰ شیخ الرئیس ابوعلی
سینا : یوں تو ابوعلی حسین ابن عبد الله ابن سینا کا والد بلیغ سے تھا لیکن شہرت کے
لحاظ
یہ علیحدہ
بات ہے کہ اس کی استطاعت و قدرت کا دائرہ اس کے کمالات کے تابع ہوتا ہے، علم و عمل میں جتنی رفعت ہوگی کمالات
میں اتنی وسعت ہوگی جب نفس انسانی جسم سے جدا ہوتا ہے توروحانیت اور ملا ئکہ مقبرین
کی محبت میں پلٹ جاتا ہے اور اس کے لذات و سرور میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ
ہوجاتا ہے۔
یہ
تو تو تھے غیرمسلم فلاسفہ جن کے نظریات بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔ چونکہ تمام غیرمسلم
فلاسفہ کی افکار کا تذکرہ موجب تطویل ہے اس لئے انہی پر اکتفا کر کے اب آپ کو مسلم
فلاسفہ کے نظریات سے آگاہ کرنے چلا ہوں تاکہ آپ دیکھ لیں کہ ابقائے روح میں دنیائے
فلسفہ کا ایک ہی نظریہ ہے۔
۱۰۔ شیخ الرئیس ابوعلی سینا:-
یوں
تو ابو علی حسین ابن عبداللہ ابن سینا کا والد بلخ سے تھا لیکن شہرت کے لحاظ سے
انکا تعلق بخارا سے ذکر کیا جاتا ہے۔ ابو علی
کی قدرت نے ذہن وذکاء کی اتنی دولت سے نوازا
تھا کہ انسان ابوعلی کی زندگی اور زمان حصول
تعلیم کو دیکھ کر حیرت زدہ ہو جانا ہے۔ شیخ نے معروف کتاب قانو کی تصنیف سولہ برس کی
عمر میں کی تھی۔ شیخ نے اپنی تمام تصنیفا میں جسم کے فنا ہو جانے اور اس کے فنا ہونے
کو ثابت کیا ہے ۔ بلکہ فنائے نضر کے امکان ہی کو شیخ نے مسترد کر دیا ہے۔ شفا میں ایک
مقام پر لکھا ہے ۔
نفس
ناطقہ جو تمام صور معقولہ کا موضوع ہے چونکہ اپنے قیام
میں
کسی کا محتاج نہیں۔ اس لئے موت اگر نفس سے اس کا آلہ کار
یعنی
جسم چھین بھی لے جب بھی نفس کسی کمی یا نقصان سے دوچار
نہیں
ہوتا، بلکہ نفس باقی رہتا ہے۔ دوسرے مقام پر لکھا ہے۔
چونکہ
نفس ناطقہ نے جسم سے بلکہ انسان کا استفادہ عقل فعال
کی
وساطت سے کیا ہے بنابر میں اگر نفس سے اس کے آلات سلب
بھی
کرلئے جائیں تو اس کیلئے موجب نقص وضر رنہیں کیونکہ تعقل
نفس
آلات کا محتاج نہیں بلکہ ذاتی ہے ۔
۱۱۔ شیخ شہاب الدین اشراقی –
یوں تو اس یکتائے روزگار دانشمند کی تصنیفات کی تعداد بہت زیادہ
ہے، لیکن تمام تصنیفات میں شیخ کی حکمتہ الاشراقی کو جو عظمت، مقام حاصل ہے وہ کسی
اور کو نہیں۔ اسی حکمۃ الاشراق ہی میں شیخ موصوت نے بعد از موت حالات نفس مراتب نفس۔
اور طبعات نفس کو انتقالی شرح وسط سے لکھا ہے اور ہرطبقہ کے لئے مقام کا تعین بھی کیا
ہے ۔ اسی سلسلہ تحریر میں نفوس کاملہ کے متعلق رقمطراز ہے۔
انوار اہپسبدیہ یعنی نفوس مجردہ کو جب نور محض کے
عالم سے
ملکئہ
اتصال حاصل ہو جاتا ہے۔ اور جسدفاسد ہوجاتا ہے ۔ تو
نفوس
کاملا چشمئہ حیات میں مجذوب ہو جاتے ہیں۔ عالم کثیف سے
آزاد ہو کر نور محض کی دنیا میں جا بستے ہیں، جہاں قدسی الصفات
ہوجاتے
ہیں
۱۲۔
صدالمائمین محدؐ ابن ابراہیم شیرازی :-
محمدؐابن
زبراہیم کو نیلسفو فانہ قوائد الٰہیہ کا حوہ س ۔اور بعد ابطبیعت حکمت کا موجد مانا
جاتا ہے ۔ محمدؐ ابن ابراہیم شیرازی پہلا شخص ہے جس نے مبداء اورر معاد کی بنیاد
کو ایک ناقابل شکست اسا فراہمی کی ہے۔
معیاد
جسمانی کو عقلی دلائل سے ثابت کیا ہے۔
میں
نے انتہائی دقت نظر سے اس عظیم اسلامی سرمایہ کی تمام کتب کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد۔
اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جس کسی نے بھی ان کے متعلق کوئی بات کی ہے، وہ اس کی اپنی
ذنی کو تاہی اور اس کے مطالب کو نہ سمجھنے
کا نتیجہ ہے ، یہ علیحدہ یہ بات ہے کہ صدرالمتابھین
نے اپنے مخصوص انداز میں بلا لو مئہ لائم اشاعرہ او رمنزہ کے مقفدات پر بیدریغ اعتراضات
گئے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان علماء نے صدرالمتأمھین کو دین اور بزرگان دین کا مخالف ثابت
کرنے کی سعی ہے ۔ بقائے نفس کے سلسلہ میں صدر
التامھین کے ہاں انتہائی طویل وعریض مباحث ملیں گے۔ یہ مفکر جس طرح معاد روحانی کا قائل
ہے اس طرح معاد جسمانی کا بھی قائل ہے۔ مواد روحانی کے سلسلہ میں یوں رقمطرازہ ہے
۔
جب
ہماراے نفوس کامل اور طاقتور ہوجاتے ہیں تو جسم سے انکارشتہ ٹوٹ جاتا ہے جس کے بعد
نفوس اپنی ذات حقیقی اور اپنے موجدا علیٰ کی جانب رجوع کرتے ہیں وہاں ان نفوس کو
جولذات و مسرات حاصل ہوتی ہیں نہ تو ان کا مقابلہ عالم محسوس کی لذات سے کیا جا
سکتا ہے اور نہ ہی ان کی تعریف ممکن ہے ۔
اسی
فصل میں آگے چل کر لکھتے ہیں۔
جسمانی
وجود کا تعلق موت غفلت ۔ فراق اور فنا سے ہے جس چیز
کا
تعلق مادہ سے جتنا زیاداہ ہوگا اس میں قوّت حجور و ادراک اتنی
کم
ہوگی حتیٰ کہ مفارقت بدن کے وقت ہمیں خود اس کا ادراک
قومی
تر ہوتا ہے اکثر لوگ ابدان ماویہ میں زیادہ انماک واستغراق
کی
بدولت اپنے کو بھول جاتے ہیں اور انہیں اپنا احساس تک نہیں رہتا
یہ
ہیں مسلم فلاسفہ جن کے نظریات آپ نے دیکھے ہیں۔ لیکن چونکہ ہماراے فکر جدید کی
اکثریت مغرب زدہ ہے اسا لئے مناسب ہوگا اگر مغربی فلاسفہ میں سے بھی چند ایک کے
نظریات قارئین کی خدمت میں پیش کرتے چلیں تاکہ معاملہ واضع ترہو جائے ۔
۱۳۔ ڈی کارٹ:- DECART
وادی
فلسفہ میں یورپین مفکرین نووارد ہیں ۔ چند صدیاں سی گزری ہیں کہ یورپ نے فلسفہ میں
قدم رکھا ہے نقطہ آغاز پرتو یورپی فلاسفہ بھی یونانیوں کی طرح روح کے اثبات اور
غیرفانی ہونے کو دلائل وبراسین سے ثابت کرتے رہے۔لیکن جلدہی ان مفکرین نے محسوس
تجرباتا کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ روح نہ صرف فنا نہیں ہوتی بلکہ بند جسم سے آزاد
ہونے کے بعد اس کی قوٗت متصرفہ میں کئی گنا اضافہ بھی ہوجاتا ہے۔ ڈیکارٹ کی فکر کے
مطابق روح صرف روح عاقلہ ہے جس کے مخصوص
صفات میں سے فکر ہے۔ اور جسم کے صفات میں
سے طول ہے ۔ڈیکارٹ روح اور جسم کو ایک دوسرے سے قطعی ممتاز اور جدا سمجھتا ہے
چنانچہ ایک جگہ لکھتا ہے۔
چونکہ
روح الگ چیز ہے اور جسم الگ چیز ہے۔
اس لئے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ کر روح اپنی روشن
میں جسم کے تابع محض
ہو۔ کیونکہ روح باقی اور غیر فانی
ہے۔ جبکہ ہم فانی ہے ۔
یورپین فلاسفہ کی اکثریت ڈیکارٹ کی ہمنوا ہے ۔البتہ
جستجو ئے بسیار کے بعد اہم مقامات ایسے بھی ملتے ہیں جن میں یورپین فلاسفروں نے ڈیکارٹ
سےاختلاف بھی کیا ہے لیکن ان اختلافات میں کسی مغربی فلسفی کا کوئی ایک جملہ بھی ایسا
نہیں ملتا جس میں ڈیکارٹ – کے نظریے عدم فنائے روح سے بھی اختلاف کیا گیا ہو۔ یہی مغربی
فلاسفری تو نہیں جن میں سے دور جدید کے فلسفی روح میدان محسوس میں لے آئے ہیں، اور
روح کے نظریہ عدم فنا کو اخصا ارواح کے عمل سے ثابت کر دکھایا ہے۔ دور حاضرکے مغربی
اخبارات ورسائل کے مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج کی دنیا نے مغرب اس نظریہ
میں کافی ترقی کر چکی ہے ۔ اور مادیت سے اکتائے ہوئے امریکین اور یورپین روحانیت کے
سایہ میں سانس لینے لگتے ہیں، اور رفتہ رفتہ نظر یہ بقائے روح کے جذباتی مبلغ بن جاتے
ہیں دائرۃ المعارف کے مصنف فرید و جدی نے برطانیہ، فرانس امریکہ جرمن اوراٹلی کے سنتالیس
ایسے معروف فلاسفہ کے نام لکھے ہیں جو عمل تنویم اور اخصار ارواح کے ذریعہ خارق عادات
روایات کے قائل ہیں۔ اتنی تعداد میں نام گنوانے کے بعد فرید وجدوی نے یہ بھی لکھا ہے
کہ چونکہ ہمارامقصد ایسے عاملین و معتقدین کی مردم شماری نہیں اس لئے ان اعتقادات کے
مبلغ چند افراد کے نام بطور نمونہ لکھے ہیں، ور نہ اس عقیدہ کے معتقدین کی تعداد توہزاورں
سے بھی تجاوز کرتی نظر آتی ہے ۔ اگر کسی کو ان واقعات و روایات سے دلچسپی ہو تو اس
موضوع پر لکھی گئی اور لکھی جانیوالی کتب کا مطالعہ کر کے نظریہ حیات روح کا یقین کر
سکتا ہے۔
یہ
تو تھا نظر یئہ بقائے سورج کے متعلق قدیم و
جدید اور مسلم و غیر مسلم فلاسفہ کے نظری کا ایک نمونہ جو بطور مثال پیش کیا گیا ہے۔
اب آیئے چلتے چلتے اسلام کے سرمایہ صد افتخار قرآن کریم سے بھی بقائے روح کا حال پو
نچھتے چلیں تاکہ امت مسلمہ میں یہ پہلو بھی تشنہ کام نہ رہے ۔
اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي
مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى
إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
وہ
خداہی ہے جو ہنگام مرگ اور عالم خواب میں ان نفوس کو جن کی تقدیر میں موت ہوتی ہے اپنے قبضئہ قدرت
میں لے لیتا ہے اور جن کے لئے موت مقدر نہیں۔ ہوتی انہیں وقت معین تک کیلئے آزاد
چھوڑدیتا ہے اس میں اس فکر کیلئے یقیناً کافی نشانیاں موجود ہیں۔
اس
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ مرنے والے کسی مقام
مخصوص پر ذات احدیت کی زیر نگرانی سے ہیں
مومنون: حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ
ارْجِعُوْنِۙ(۹۹) لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّاؕ-اِنَّهَا
كَلِمَةٌ هُوَ قَآىٕلُهَاؕ-وَ مِنْ وَّرَآىٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(۱۰۰)
جب
کسی کا وقت موت قریب آتا ہے تو کہنے لگتا
ہے ۔ اے اللہ مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ متروکہ اعمال صالحہ بجا لاسکوں ۔ اب
تو ہر گز ایسا نہیں ہوگا، یہ تو صرف کہنے کی باتیں ہیں۔ اور اب قیامت تک ان کے لئے
برزخ ہے ۔
بقرہ
: وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴)
راہ
خدا میں قتل ہوجانے والوں کو مردہ مت کہو وہ تو زندہ ہیں البتہ تمہیں ان کی زندگی
کا شعور نہیں۔
آل عمران : وَلَا
تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا
فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ
رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ(۱۶۹)
جو
لوگ راہ خدا میں جان دے چکے ہیں انہیں مردہ مت سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں۔اور اللہ کے
ہاں رزق سے بہرہ درہیں۔
مومن
: وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ(۴۵)
فررعون
پرستوں پر بدتین عذاب نازل ہوچکا ہے انہیں ہر صبح شام آتش کیا جاتا ہے۔
اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّاۚ-وَ یَوْمَ تَقُوْمُ
السَّاعَةُ- اَدْخِلُوْۤا اٰلَ فِرْعَوْنَ
اَشَدَّ الْعَذَابِ(۴۶)
اور
جس دن قیامت ہوگی اس دن انہیں کہا جائیگا اے فرعون پرستوں اب پہلے سے بھی شدید
ترین عذاب کا سامنا کرو ۔
ممتحنہ
: قَدْ یَىٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَىٕسَ الْكُفَّارُ
مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠(۱۳)
یہ
لوگ آخرت سے اس طرح مایوس ہوچکے ہیں جس طرح کافر صاحبان قبور سے مایوس ہوچکے ہیں۔
ملاحظہ
فرمایا آپ نے ذات احدیت نے اصحاب قبور سے مایوسی کو خصوصیت کے ساتھ کفار کے اوصاف
سے شمار فرمایا ہے۔
میرے
محترم قارئیں!
گذشتہ صفحات کا بغورو مطالعہ فرمانے
والے محترم قارئیں!
غیر مسلم اور مسلم فلاسفہ کی راءِ سے
مطلع ہونیوالے ہوشمندو!
یورپین فلاسفروں کے جدید مالی انکشافات سے باخبر نوجوانو!
عمل تنویم اور پنساٹزم
میں دلچسپی رکھنے والے روشن کردی
اقوام
عالم کی تاریخ ۔ اور قرون مانیہ حاضرہ کے مذہبی علماء کے نظریات سے واقفددیندارو.
آپکی
فکر آپ کی عقل، آپ کے سامنے قرآنی محکم شواہد کی غیرمبہم شہاد تیں آپ کی سوچ او رآپ
کی رائے اب کیا فیصلہ کرتی ہے کیا ہم ہزاروں دانشمندوں سینکڑوں فلاسفہ واضح دلائل اور
چشم دید مشاہدات سے دست بردار ہو جائیں؟
کیا
فرمودات انبیاء علیہم السلام اور ان کے لاکھوں متدین عقیدت مندوں کے مسلات کو پامال
کر ڈالیں؟
کیا
قرآن کریم کی دسیوں ایسی آیات کریمہ جن میں غیرمبہم الفاظ کے ساتھ روح کی حیات ابدیہ
کا اعلان کیا گیا ہے پس پشت ڈال دیں ؟
اور
ان تمام واضحات کو ٹھکراکر ۔
چند
نجدی سیاہ بختوں ، محمد ؐابن عبد الواب جیسے کور باطنوں، اور ابن تیمیہ سے ناعاقبت
اندیشوں جنہیں خود بھی اپنے کئے کا علم نہیں کی اندھی تقلید کرلیں ؟
یا
یہ کہ
ابن
یتیمہ اور اس جیسے اس کے دیگر ایسے بے بصیرت
اوربے لگام مقلدین جن کا دنیائے علم میں کوئی
مقام ہے نہ قیمت کو دنیائے علم و خرد سے دور اور راہ دین دریانت سے برگشتہ سمجھتے ہوئے
انہیں تمدنی اور شرعی حدود سے نکال باہر کریں؟ تاکہ امت مسلمہ وحدت و اتحاد کی سکوں
بخش فضا میں اطمینان کا سانس لے کہ اقتصادی اور معاشی ترقی میں اقوام عالم کے دوش بدویش
چل سکے ۔
خدمت
دین :
جو کچھ
اب تک آپ کے سامنے آیا ہے اس سے یہ تو معلوم ہو گیا ہوگا کہ درد گوعوام فریب اور خیانت
کار کون ہے ؟ اب آئیے اور دیکھیں کہ اس افتراق ملی اور انتشار بين المسلمین کی وجہ
یہ لوگ خود کیا بتاتے ہیں؟ انکا دعویٰ یہ ہے کہ اگر خلوص نیت سےخدمت دین کرنا ہے تو
اس کے لئے سب سے پہلے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہزار سالہ جھوٹے اعتقادات اور رائج غلط مراسم کا قلع قمع کریں۔
اب سابقہ بیان اور ان کے دعویٰ کا جز ہیں یہ کیوں
ہوگا کہ ان کے انتشار والے مسموم قلموں۔ اور افتراق بونے والی زہریلی زبانوں کے مطابق
خدمت دین کا دارو صرف اور صرف اس عقیدہ میں پنہاں ہے کہ ہم
لاکھوں خادمان دین مبین ، محافظان آئین بزرگان دین
اور راہ خدا میں جان دین والے شہدا ئے صالحین جو فلاسفہ عالم اور محکمات قرآن کے مطابق
صرف زنده جان ہیں بلکہ بارگاہ ذات احدیت میں
مراتب علیا پر فائز ہیں ۔کو عبادات کی مانند بے حس اور بوسیدہ ہڈیاں سمجھیں۔ ان کے متعلق توہین آمیز
عقیدہ ہو، ان سب کو پس پرده فراموشی پھینک دیں۔ ان کی جاں نثاری اور فداکاری کو بے
وقعت بنا کر عوام میں پیش کریں۔ قرآن حکیم کے ان واضح اور غیر مبہم بیانات کو جو شخص
اجتماعی، معاشی ، اور اقتصادی لحاظ سے فطرت انسانیہ کے مطابق میں ہزار سالہ کہنہ کہ
کرنا قابل عقیدہ سمجھ لیں ۔
یہ ہے
خدمت دین ۔ اور اسی میں سے حفاظت آئین
تف سے
تیری خیرہ سری پراے اولاد آدم ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سوال:-
خاک کربلا سے شفا خواہی شرک ہے یا نہیں ؟
جواب :۔ قرآن کریم سے منائے شرک جو سابقا ًتفصیل
سے پیش کیا گیا ہے ۔ کے مطابق کسی کو خدا سمجھنا خدا ئی عنوان سے پرستش کرنا۔ اور اس
ارادہ و نیت سے التجائے مشکل کشائی کرنا کہ جس سے مشکل کشائی کی درخواست کی جارہی ہے
وہ حاجت روائی میں مؤ ثرہے شخص غیر محتاج اور مستقل بالذات ہے۔ ایسا شخص یقیناًمشرک
ہے۔ اور قرآن کریم نے باد یا بلا واسطہ انہی کو مشرکین سے تعبیر کیا ہے ۔
بنابریں ، اگر کوئی شخص خاک شفا یا کسی اور چیز
۱؎سے شفا مانگے کہ یہ چیزیں خدا ہیں۔۔ یا شراب خدا ہیں، یاذات احدیت کے مقابلہ میں
ان کی مستقل اور مؤثر حیثیت ہے یا یہ کہ
صاحب
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱؎ مثلاً شبیہ علم شبیہ فعالجارح اورشبیہ ضرائح معصومین علیهم السلام مترجم )
مزار
خدا یا شریک خداہے۔
توایسا شخص مشرک ہے، یہ علیحہ بات ہے کہ ایسے شخص
کو مشرک کی بجائے دیوانہ پاگل اور ذہنی
مریض کہلانے کا زیادہ مستحق ہے ۔
لیکن
کر کوئی شخص کسی چیز سے اس عنوان سے شفامانگے کہ خدا نے قادر مطلق نے اپنی قدرت کاملہ
سے اپنے دین کی راہ میں عظیم قربانی پیش کر نیوالی کسی عظیم ہستی کو بطور اعزاز اس
انعام سے نوازاہے کہ اس دنیا میں اس کی خاک میں جو ہر شفاء دیعت کر دیا ہے تو یہ نہ
مشرک ہے اور نہ ہی عبادت غیر اللہ۔
آئیے قرآن کامطالعہ کریں کہ کیا ہمارے اس نظریہ کی
تائیدکلام خدا سے بھی ہوتی ہے یا نہیں؟
یَخْرُ جُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ
لِّلنَّاسِؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ(۶۹)
شہد
کی مکھی کے شکم سے ونگارنگ مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کیلئے شفا ہے یقیناً اس
میں صاحبان فکر کیلئے نشانیاں ہیں۔
اب دعوت
قرآن کے مطابق شہد میں شفا صاحبان فکر کیلئے کئی آیات کی حامل ہے ۔ اگرشہدسے اس عنوان
سے شفا مانگیں کہ ذات احدیت نے شہد کو شفا بخش قرار دیا ہے تو کیا ہم مشرک ہو جائیں
گے ؟
وہ خدائے قدیس جس نےانبیاء کو صرف اور صرف تبلیغ
توحید کیلئے بھیجا ہے کیا خود شرک کا دروازہ کھول رہا ہے ؟ کیا خداوند ذوالجلال نے انبیاء کو بھی دعوت شرکت دی ہے ؟
یا
سیدھا سادہ یہ عقیدہ رکھیں کہ۔
کیوں
آپ لوگ یہ ہسپتالیں۔ یہ میڈیکل کالجز یہ میڈیکل سٹورز اور علاج ومعالجہ کے سینکڑوں
مراکز بند نہیں کرادیتے ؟ تاکہ ایک طرف حکومت اخراجات سے بچ جائے ۔ اور دوسری طرف عوام
مفت علاج کی سہولت سے بہرہ ور ہوسکیں ۔
تومیرے
عزیز دوستو!
یہ ایک
مغالطہ ہے، دھوکا ہے اور فریب فکرہے۔ہم کچھ دیر کیلئے خاک کربلا کے شفا ہونے کے دعویٰ سے دست بردار ہورہے ہیں اور ہم کہتے
ہیں کر چلو اتحاد کی خاطر خاک کربلا میں کوئی
شفا نہیں۔ لیکن آپ کے دعویٰ کے مطابق قرآن جو کچھ فرما تا ہے سچ فرماتا ہے۔ اس دعویٰ پر آپ کی نسبت پہلا ایمان زیادہ
پختہ ہے تمہاری طرح آپ بھی دعوائے فکر کو خلاف واقعہ نہیں کہیں گے۔
نحل
۷۱؎ آیت تو آپ نے قرآن میں دیکھ لی ہو گی۔
اور اس کا ترجمہ بھی آپ کے ذہن میں اس آیت کے مطابق شہد میں شفا ہے۔ ذرا اُٹھیے
اور لوگوں سے کہیئے کہ،
ڈاکٹروں کے پاس مت جاؤ گرانی سے اخراجات میں کمی
کرو۔ اتنی بھاری فیسیں مہنگے مہنگے دوا مت
خریدو۔ گھر میں شہد کی بوتلیں رکھ لو اور صحت
ہی صحت ہے۔او رہی شفا ہے حکومت کو کہومیڈیکل کالجز بند کردے، دواسازی کی فیکٹڑیوں پڑتا
لا۔ ڈالدے۔ ڈاکٹروں کی تنخواہیں اور ہسپتالوں پر اٹھنے والے اخراجات روک لے۔ قرآن کریم
نے ہمیں نسخہ شفا دیا ہے جو آل راؤنڈہے۔ اور باعث شفا ہے۔
میرے
دوستو! ذات احدیت کی بتائی گئی یہ دوا واقعاًشفا ہے۔ لیکن یہ لوگ جانیں کہ اس کے اوقات
استعمال اور مقامات استعمال کیا ہیں ؟ انہیں مصالح تو حیدکیا واسطہ؟ الہی معالجات اور تمام امور غیبہ سے توسل
اس وقت ہوتا ہے۔ انسانی طبیعت اور طبعی اسباب جواپنے مقام پر قدرت کا ایک عظیم کارخانہ
مرض کے مقابلہ سے عاجز آجائیں ۔ ظاہری اسباب سے انسانی ہاتھ کوتاہ ہوجائے ناکام ہوکر
ر ڈال دیں۔ ایسے حالات میں خلاق عالم نے انسان کو کلیتہ مایو بچانے کی خاطر امید کی
ایک راہ دکھائی ہے ۔ تاکہ انسان اپنی فکر ناقص کی بدولت اس ظاہری سے مایوس ہوکر دامن
توبہ نہ چھوڑ بیٹھے ۔ آپ تجربہ کریں ایسے حالات کہیں بھی اپنی شرائط کے ساتھ خاک کربلا
کو استعمال کیا گیا ہے وہاں ناقابل علاج شفایاب
ہوئے ہیں۔
یہ سمجھنا حماقت
ہوگی کر نحل ۷۱؎میں ذات احدیت نے شہد کو شفا قرار دےکر اور فطری عوامل کو اپنے فرائض
سے بے کار اور معطل کر دیا ہے۔ اور نہ ہی خاک شہد کو شفا بخش مان لینے۔ یا بطور
علاج استعمال کرنے سے ہسپتالوں اور
ڈاکٹروں کے وجود سے تضاد لازم آتا ہے۔دواؤں میں جو اثر ہے وہ کیا عنایت خالق نہیں
؟یقیناً ہماری طرح آپ بھی یہی کہیں گے کہ عطیہ قدرت ہے۔ تو کیا ہم آپ سے پوچھہ
سکتے ہیَں کہ
جو
قادر کسی جڑی بوٹی یا دھات میں جو ہر شفا رکھ سکتا ہَے وہی خالق وہی جو ہر شفا کسی
خاک کی چٹکی میں نہیں رکھ سکتا جو ایک مظلوم مجاہد کے راہ خدا میں بہنے والے خون
سے رنگین ہوئی؟تا کہ غافل انسان دم مرگ بھی اس مظلوم کی مظلومیّت جذبہ ء ایثار ولولہ ء جہاد۔ اور شوق شہادت کو
نہ بھولے ۔ یا اگر منثائے قدرت ہوجائے تو اس خاک کی بدولت بستر مرگ پر موت و زیست
کی کشمکش میں تڑپنے والا انسان ردبصحت ہوجائے؟
ایک
خدا پرست موحد جو اپنی خواہش دارزو کے مطابق چند دن اور اس دار فانی میں رہنا
چاہتا ہَے۔ لیکن کسی ڈاکٹر کا کوئی علاج اس کے مرض کا مقابلہ نہیں کررہا۔ کیا یہی
بہتر ہے کہ وہ یونہی نا امید اور دل برداشتہ ہرکر دنیا چھوڑے۔ یا آخر ی لمحات
زندگی میں ایک شہید راہ خدا کی خاک سے امید شفا لے کر دنیا سے جائے؟
آپ ہی
بتائیں نا امیدی کی موت بہتر ہَے یا اُمید کی؟ اور یہ شرک ہے یا عین توحید ؟ اگرچہ
اپ کے استدلات کے مطابق تو ایسے شخص کو نا امید ہوکر ہی مرجانا چاہیئے لیکن دنیائے
ہوش وخرد کا کوئی دوسرا باسی نا امیدی کی موت کو پسند کرنے کی بجائے مرگ اُمید ہی
کو ترجیح دے گا۔
روحانی
علاج:۔
اگرآپ
خاک شفا کو جڑی بوٹیوں جیسا اسبابی طریق علاج نہ سمجھیں اور کہیں کہ یہ تو محض
عقیدت سے تعلّق رکھتا ہَے تو پھر آیئے ہم آپ کو
اس طریق علاج کی صداقت اور حقانیّت سے بھی روشناس کرادیں ۔ اس طریق علاج کو
طب قدیم میں روحانی اور طب جدید میں نفسیاتی طریق علاج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور
شیخ الرئیس بو علی سینا جیسے قدیم معالجین ایسے اسلوب علاج کے نہ صرف قائل تھے بلکہ طبی طریق علاج کی نسبت
روحانی طریق علاج کو زیادہ سریع الاثر اور مُفید بھی مانتے تھے۔
اور
دور جدید کا تو کوئی ڈاکٹر ہی۔ ایسا ہو جو نفسیاتی طریق کا قائل نہ ہو ور نہ تمام
ڈاکٹرز نفسیاتی طریق علاج کے نہ صرف قائل ہیَں بلکہ اپنی روز مرہ کی پریکٹس میں اس
کے عامل بھی ہیَں۔ اور اس حد تک کہنے لگے ہیَں کہ اگر کوئی شخص دو تین صرف اتنا ہی
کہہ دے کہ میں بالکل تندرست ہوں تو اس کی صحت رفتہ بحال ہوجاتی ہَے۔ اور اگر کوئی
مریض ذہنی طور پر یہ فرض کرے کہ میں بالکل تندرست ہو مجھے کسی قسم کا کوئی روگ نہیں تو عین ممکن
ہَے کہ اس کا عقیدہ تندرستی فی الواقع بھی اسے صحت مند و توانا کردے۔
اس
نفسیاتی طریق علاج کی اساس روحانی قوّت تاثیر ہَے۔ کیونکہ روح کو بہر طور بدن از جو تابع جسم ہے میں عمل دخل ہَے۔ صدر
المتالھین علامہ ابراہیم شیرازی کی نگاہ میں تو صحت مرض دونوں کی بنیاد روح انسانی
ہَے۔ اگرچہ فلسفہ جدید اور طب موجود کی طرف۔ تا حال صدر المتالھین کے نظرّیہ کی
تائید نہیں ہوئی تا ہم نظریہء اوّل تو بہر صورت جدید یورپ میں نفسیاتی طریق علاج
کے نام سے نہ صرف رائج ہَے۔ بلکہ کامیاب سے کامیاب تر چلا جا رہا ہ۔ے۔ عصر جدید کی
فکر نوسے آشنا افراد جو پنساٹزم سے واقف میں بخوبی جانتے ہیَں کہ حیات روح کا عقیدہ
کتنے ارتقاء پر ہَے۔
ایک
انتھائی قابل و ثوق مریض کا کہنا ہَے کہ میں اسی کے ہسپتال میں بغرض علاج گیا۔
وہ رہائش اکثر اوقات دوسرے مریضوں سے بات
بے بات الجھ جاتا تھا۔ ہسپتال کا انچارج ایک یورپی ڈاکٹر تھا۔ یون تو وہ ہسپتال
میں زیر علاج کسی مریض کو کچھ نہ کہتا تھا۔ لیکن میرے میں اس کا رویہ اور بھی
زیادہ حیرت انگیز تھا۔ مجھے کہا کر تا تھا کہ آپ جب چاہیں اور جو چاہیں کریں کہیں
ہم آپ کو نہ روکیں گے البتہ جب ہم اپنا کام کرنے لگیں تو آپ ہمیں مت روکیں۔
اگر
ایک لمحہ کے لئے ہم مذہب سے ہٹ کر بھی دیکھیں تو قدیم و جدید معالجوں کے نظر اس بات کے مؤید ہیں کہ روحانی مسائل اور
نفسیاتی امیدیں فضول محض نہیں یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کا یہ نظریہ ہوجاتا ہے کہ
میری شفافلاں چیز میں ہے تو قدیم و جدید طرزکے بقول اس چیز کا استعمال اس مریض کی
تندرستی میں یقیناً
محدو معاون ثابت ہوگا۔ اب قارئیں ہی فیصلہ فرمائیں کہ کیا روحانّیت جس کی تربیت
مذہب کرتا ہَے۔ اور نفسیاتی جو فطرت کے
عین مطابق ہیَں کو چھوڑ کر طبعی اور مادی اسباب و ذرائع کو اوڑھنا ۔ بچھونا لین
اور لوگوں کو باطنی حقائق سے منحرف کرکے اسباب موت میں فروغ کی اعانت اور بشر سے
خیانت کرنا شرُوع کردیں ؟یا ان مٹھی بھر گلہ بانوں کے نظریات دیوار پر ماردیں
؟زندہ افراد کی خاک پا موجب حیات ہَے۔
خاک
کربلا تو اپنے مقام پر شہدائے کربلا کے خون بے گناہ سے ایک اعلٰی مرتبہ کی خاک ہے۔
میں تو قرآن پاک ایک ایسی خاک کی راہنمائی کرتا ہے جو کربلا سے کئی درجے کم ہَے۔
لیکن قدرت نے اس خاک کو بھی روح حیات سے نوازا ہَے۔ اور اس خاک کی ایک چٹکی نے وہی
کر دکھایا ہَے۔ جو ذات احدیث کی نفخ روح میں ظاہر ہَے۔ ملاحظہ ہو۔
طہ ۹۵؎ قَالَ
فَمَا خَطْبُكَ يَٰسَٰمِرِىُّ
جناب
موسیٰ نے فرمایا ۔ اے سامری تیرا کیا قصہ ہے۔
طہ ۹۶؎ قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُواْ بِهِۦ فَقَبَضْتُ
قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ ٱلرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا
سامری نے عرض کی میں ایک ایسی چیز دیکھی تھی جسے یہ لوگ نہ دیکھ سکے میں نے
جبریل کے قدموں کی مٹی ایک مٹھی لی اور بچھڑے پر چھڑک دی۔
ساتھ یہ واقعہ طہٰ ۹۰؎شروع ہوتا ہَے۔ جس میں گو سالہ کی
زندگی اور اس کا آواز نکالنا ہَے۔ البتہ بیان کردہ کردہ آیت۹۶؎میں سبب حیات بتایا گیا
ہَے۔ اب دیکھ لیجئے ۔ذات احدیث نے ایک زندہ چاک
پا
میں وہ تاثیر پیدا کردی کہ اپنے ہاتھ کے تراشے ہوئے بت میں روح حیات آگئی اب بھی
اس جسارت کی جرٱت رہ جاتی ہَے۔ کہ ذات احدیت نے بے روح مٹی میں کیا اثر رکھا ہَے؟ قرآن
جبریل کی مٹھی بھر خاک پا میں قدرت کی عنایت کردہ یہ تاثیر ہے کہ سامری کے ہاتھوں
ہدایت جو ہر حیات سے موصوف ہوجاتا ہَے۔ تو کیا وہ خاک جس میں زندہ جاوید شہدائے
کربلا شامل ہے تاثیر شفا سے کیوں محروم ہوگی؟
کہنا
زیادہ مناسب ہوگا کہ خاک کربلا کی قوّت تاثیر سے انکار قدرت خدا سے انکار ہے۔ عالم
نے اپنی قدرت کاملہ کے دائرہ اختیار کو اس حد
تک و سعت دے رکھی ہَے کہ وہ ابھی چاہے کسی شیئی سے کوئی اثر چھین لے اور جب
چاہے کسی مؤثر کو مؤثر بنادے۔
قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ(۶۹)
ہم
نے کہا اے آگ !ابراہیم کیلئے سلامتی ٹھنڈک
بن جا۔ ہمارے عقیدہ کے مطابق پروردگار عالم کلیتہ اس طرح مدبر کائنات ہَے۔ کہ جود
کا ہر ذرہ اس کے حضور تسلیم خم کئے ہوئے ہَے۔ اور موجودات عالم کے ہر موجود کی جس
کے ارادہ قدرت کی منتظر رہتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو آگ پانی کا اثر پیدا کرلیتی ہَے۔
اور اگر وہ چاہے تو کسی شہید کی خون آمیز خاک اثر شفا پیدا کرلیتی ہَے۔
اگر
کسی معاملہ کی صحت اور غلطی کا میزان ہماری اور آپ کی عقل ہے۔ تو پھر خلاق عالم سے
کہہ دینا چاہئے کہ آتش نمرود سے آگ کی فطری تاثیر کی سلبی ۔ حیات مرد گان ۔ اور
چیونٹیوں کے فساحت آشنا تکلم وغیرہ جیسی آیات نکال دے۔
اگر
ذات احدیت آپ کی اس درخواست پر کان نہ دھرے تو پھر خود آگے بڑھیئے اور ہمت کام
لیجئے اور جس طرح جامعین قرآن نے بہت بڑی جرات سے کام لے کر ترتیب قرآن کو بدل
ڈالا ہَے۔ اِس طرح آپ بھی چند ایک ایسی آیات کو قرآن سے نکال دیں تا کہ آکی
ناشائستہ باتیں عقل و خرو سے خالی ذہن سُنیں ۔ اور آپ کے علامہ ہونے کا اقرار کریں
سادہ لوح عوام آپ کی فکری لوٹ مار کے آگے ہتھیار ڈال دیں ۔ اور آپ کے مقاصد مذمومہ
ملّت مسلمہ پر تھوپےجا سکیں۔
بصورت
دیگر قدرت خدا کا مشاہدہ اگر قرآن کریم اور عقل سلیم سے کرنا ہے تو ہم زندگی ۔
آخری سانس تک حاضر ہیَں ہاں عقل و خرد کی دانشمندانہ ترازو ہماری پہلی شرط ہوگی
ہماری پاس ایسی طفلانہ باتوں میں الجھنے کیلئے وقت نہیں جن پر دنیا ئے علم و خرد
کے باسی سننے اور جواب دینے والوں کا مذاق اڑائیں۔
Leave a Reply