anwarulnajaf.com

نقطہ آغاز ۔ توحید

سوال نمبر۱۔ کیا سرور کونین ﷺ اور ائمہ کرام علیہ السلام حاجت روائی خاک کربلا سے شفا جوئی۔ خاک کربلا پر سجدہ اور مزارت ائمہ کرام علیہم السلام پر گیند سازی وغیرہ شرک ہے یانہیں؟
اگر شرک ہے تو درست ہے۔ اگر شرک نہیں تو شرک کا وہ معنی بتائیں جس کے خلاف اسلام اور قرآن نے آغاز جنگ کیا ہے۔ اس شعک اور سوال کردہ امور کے شرک میں کا فرق ہے؟
جواب: مناسب ہوگا اگر جواب سے قبل سوال کا تجزیہ کرلیں تاکہ قائین کے لئے آسانی ہوجائے تجزیہ کرنے سے آپ دیکھیں گہ کہ سوال ایک نہیں بلکہ کئی بن جائیں گے کچھ تو وہ سوال ہیں جو یہ گندم نما جو فروش تو حید کرتے ہیں۔ اور کچھ سوال جو انکی نگاہ میں نہ آسکے ہم اپنی طرف سے انہیں دے گے۔ تجزیہ
الف۔ نبی وامام علیہم السلام سے حاجت روائی شرک ہے یانہیں۔
ب۔ خاک کربلا سے طلب شفا شرک ہے یانہیں۔
ج۔ خاک کربلا پر سجدہ کرنا شرک ہے یانہیں۔
د۔ مزارات ائمہ پر گنبد سازی شرک ہے یا نہیں۔
لا۔ اگر یہ سب کچھ نہیں تو وہ کونسا شرک ہے جس کے خلاف اسلام اور قرآن نبردآزمارہے ؟ نیز معنائے شرک کیا ہے تاکہ اور مذکورہ امور میں امتیاز کیا جاسکے اپنی طرف سے اضافی سوال۔
د۔ مزارارت انبیاء:- ائمہ اور شہداء کی تعظیم شرک ہے یانہیں ؟
ان سوالات کا محوری نقطہ چونکہ شرک ہے لہٰذا مناسب یہی ہوگا کہ سب سے پہلے معنائے شرک کی تعین کریں۔ اس کے بعد یہ دیکھیں کہ اسلام وقرآن نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ(یعنی بوقت ضرورت ، یانبیؐ مدد ۔ یارسول مدد۔ یاعلیؑ مدد۔ یاحسنؑ مدد۔ یاحسینؑ مدد۔ یا سجادؑمدد۔ یاباقرؑمدد۔ یا جعفرؑمدد۔ یاکاظمؑ مدد۔ یا رضاؑمدد۔ یاتقیؑ مدد۔ یانقیؑ مدد اور یاعکسریؑ مدد کہنا ہے یانہیں ؟)
کس سے جنگ کی ہے ۔ جہانتک میں سمجھتا ہوں ہمارے سامنے سب سے اہم سوال معنائے شرک۔اقسام شرک اور مشرکین عرب وغیرہ عرب کے نظریات کی تعین ہے جب ہم اس سے عہدہ برا ہوگئے تو اسلام اور قرآن جنگ کا نقشہ از کود ہمارے سامنے آجائیگا ۔
قارئین یہ نہ بھولیں کہ میری نگاہ میں تفصیل نہیں اختصار ہے۔ بنا بریں اگر کسی قاری کو تفصیل درکار ہو تو اُسے از کود کتب تواریخ و مذہب کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اب آئیے شرک اور اس کے اقسام دیکھیں
۱۔ مجوسیت ۔اور اس کے فرقے۔
مجوسی سٹریچر سے کچھ دستیاب ہوا ہے وہ بھی معانی شرک میں سے ایک ہے۔ جسکا خلاصہ یوں ہے۔ خالق کائنات دو ہیں۔ (۱) نور یعنی یزدان (۲) ظلمت یعنی اہریمن ان دو میں سے مجوسی نظریہ کے مطابق قدیم اور اصلی خالق صرف یزدان ہے۔ اور اہریمن یزدان کی تخلیق ہے جو قدیم نہیں بلکہ حادث ہے۔
مجوسیوں میں فرقہ واریت کا سبب اہریمن کی تخلیق ہے۔ چنانچہ کیومرثیہ مجوسی اہریمن کو یزدان کے غلط تصورات اور لغزش آشناتفکرات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ جبکہ زوانیہ اور زرد شتیہ مجوسی ان سے مختلف نظریہ رکھتے ہیں۔ اور اس سلسلہ میں ان لوگوں نے انتھائی عجیب و غریب خیالات کا اظہار کیا ہے جنکا تذکرہ موجب طوالت بھی ہوگا۔ اور بے فائدہ بھی ہوگا۔ یہ چرک کا ایک نظریہ ہے۔
۲۔ ثنویہ مسلک۔
ان کے مطابق کائنات کے دو خالق ہیں۔ دونوں اصلی اور قدیم ہیں۔ ان دونوں خالقوں میں مشترک صرف قدیم ہونا ہے۔ دیگر تمام اوصاف مثلاً جو ہریت ۔ ظبیعت۔ فعلیت۔ مکانیت ۔ جسمیت۔ اور وحانیت وغیرہ میں کلیتہ” ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
۳۔ فرقہ مانویہ۔
ثنویہ مسلک ہی کی ایک ژاخ ہے۔ بعد از مسیح شاپورا بن اُرد شیر کے زمانہ میں اس کا بانی ابھرا جس کو بہرام ابن ہر مزلہ نے قتل کر ڈالا ۔ ان کے عقیدہ میں کائنات دو قدیم اور طاقتور خالقوں کی ایجاد ہے۔ جو نفس ۔ صورت۔ فعل۔ اور تدبیر میں ایک دوسرے کی ضد ہین ۔ اور حُسّیز مین متحاذی یہ لوگ جو ہر کونیا۔ فاضل ۔ خوشبوخوش رو۔ خوش عمل اور خوش خواہ سمجھتے ہیں۔ جو ہر کے ہر عمل کو۔ خیر۔ صلاح مسرت تنظیم ۔ اور خوبی سمجھتے ہیں۔ اسکا مکان عالم بالا میں بتاتے ہیں۔
نور کے مقابلے میں دوسرے قوّت ظلمت مانتے ہیں جو ہر لحاظ سے نور کی ضد ہے ان کے خیال میں نور و ظلمت میں سے ہر ایک کی پانچ پانچ اجناس ہیں۔ جن میں سے چار جسم اور ایک روح ہوتی ہے۔ بنابریں نور میں ۔آگ۔ ہوا۔ پانی اور روشنی چار جسم ہین اور نسیم روح ہے۔ جو کہ ہر جسم میں متحرک ہے۔ ظلمت میں سوزش ۔ تاریکی ۔ زہر اور حباب چار جسم ہیں۔ انکی روح بخارات ہیں جو ابدار ن اربعہ میں عامل متحرک ہے۔ ان کے نظریات بھی انتھائی حیران کن ہیں۔ چونکہ ہمارا مقصود صرف ان مشرکانہ نظریات کا تعارف ہے اس لئے تروید یا تصدیق کئے بغیر آگے گزر نا چاہتے ہیں۔
۴۔ مزدک اور مزدکیاں
نوشیروان کے والد قباد کے زمانہ میں مزدک اپنا مذہب لیکر اٹھا۔ قباد کو اپنے نظریات کی تبلیغ کی جس نے مزد کی مذہب اختیار کرلیا۔ لیکن بعد میں نوشیروان نے نہ صرف مزد کی مذہب کو مسترد کردیا ۔ بلکہ مزدک کو گرفتار کرکے قتل کروا ڈالا۔ ان کے عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ۔
جس طرح ایرانی حکمران خسرد کے چار وزیر ہیں اس طرح میرا خدا عرش پر کوسی نشین سے اور چار قوتوں کا مالک ہے۔
اگر خسرد کے سامنے مؤیدان ہے تو میرے خدا کے سامنے قوت تمیز ہے
اگر خسرد کے سامنے ھر بداکبر ہے تو میرے خدا کے سامنے قوت فہم ہے
اگر خسرد کت سامنے اسپہبد تو میرے خدا کے سامنے قوت خفط ہے
اگر خسرد کے سامنے رامشگرہے تو میرے خدا کے سامنے قوت سرور ہے
ان خیالات میں خدا ان چار قوتوں کو سات دیگر امور سے مربوط کرکے تدبیر عالم کرتا ہے۔ وہ سات امور یہ ہیں۔
۱۔ سالا ۲۔ پیشکار ۳۔ بالون ۴۔ بروان ۵۔ کاروان ۶۔ دستور ۷۔ کورک ان سات امور کو بارہ ذحانیوں میں دو ۔ کرنا ہوتا ہے۔ بارہ روحانی یہ ہیں۔
۱۔ خوانندہ ( پڑہنے والا) ۲۔ دہندہ ( دینے والا) ۳۔ ستانندہ (تعریف کرنیوالا) ۴۔ برندہ ( کاٹنے والا) ۵۔ خورندہ ( کھانپوولا) ۶۔ دوندہ (دوڑنیوالا) ۷۔ خیزندہ ( اٹھنے والا) ۸۔ کشندہ ( قتل کرنیوالا) ۹۔ زنندہ ( مرنیوالا) ۱۰۔ کنتدہ
(کرنیوالا) ۱۱۔ آئیندہ ( آنیوالا) ۱۲۔ شوندہ ( ہونیوالا)
مزدک کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے اندر کالق کی چار۔ سات۔ اور بارہ قوتیں پیدا کرلے تو وہ کرہ ارض میں ربانی ہوجاتا ہے۔ اور ہر قسم کی شرعی تکلیف سے آزاد۔ ان کے دیگر بھی بہت سے فرقے ہیں۔ مثلاً۔ دیصانیہ ۔ مرقونیہ ۔ کینونیہ۔ اور اصحاب تناسخ وغیرہ ۔ ان میں سے ہر فرقہ کے عقائد کی تفصیل میں جانا لاطائل تطویل کا موجب بنے گا۔ آتش پرست مجوسی بھی اسی درخت کی ایک شاخ ہیں جنہوں نے آتش کدے تعمیر کئے۔ طوس میں سب سے پہلا آتشکدہ فرید دن نے تعمیر کیا۔ اس کے بعد دیگر آتش کدے۔ بخارا ۔ سجستان ۔ چین اور فارس میں بنائے گئے۔ یہ تمام آتش کدے زردشت سے قبل موجود تھے۔ زردشت سبھی اپنے دور میں نیشاپور وغیرہ میں نئے آتش کدے تعمیر کرائے۔
۵۔ خواہش پرستوں کے عقائد:
یہ لوگ ہمیشہ انبیاء سے متصاد م رہے۔ ان کے معتقدات کا تمام ترانحصارا پنی فطرت۔ عقل۔ اور فکر پر رہا ہے۔ دھریہ بھی انہی کا ایک گروہ ہے۔ جنہیں ان کی عقل مشاہدات کے سوا کسی چیز کی راہنمائی نہیں کرتی ۔ انہی میں سے ایک اور گروہ نے جنم لیا۔ جو مذہب کے آغاز تخلیق اور یوم حشر کے نظریہ کو تسلیم کرتے ہَیں۔ لیکن دیگر مذہبی احکام و مسلمات کو اپنی فکر خام کے ترازو میں تو لتے ہَیں۔ چنانچہ آج کے بعض روشن فقر بھی اس ڈگر پر چل رہے ہیَں ۔ اور اپنے کو فقر جدید کا حامل سمجھتے ہَیں۔ حالانکہ یہ کور فہم اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ آج سے ہزاروں برس قبل مذہبی مسلمات سے انکار بھی کیا جاچکا ہے اور اس نظریہ میں یہ لوگ ان منکرین کے متقد ہیَں ۔ اور آغاز تخلیق اور یوم حشر کا اقرار بھی ہوچکا ہَے جس کی تبلیغ انبیاء نے کی تھی۔
۶۔ حرنانی نظریات۔
یہ فرقہ بھی مجوس کی ایک شاخ ہے۔ ان لوگوں نے نصارائی تثلیت اور ثنوی شرک کو جمع کرکے ایک نئے نئے مذہب کی بنیاد رکھی ہے۔ چنانچہ یہ لوگ اصول خمسہ کے قائل ہیں ۔
۱۔ ذات باری ۲۔ نفس ۳۔ سیولیٰ ۴۔ دھر ۵۔ خلا
ان کے حیرت آشنا معتقدات کی تفصیل میں جانا تضیع وقت کے سوا کچھ نہیں لہٰذا آیئے شرک کا ایک اور پہلو دیکھ لینے کے بعد اب ذرا شرک کا دوسرا معنی اور مشرکین کے گرد ہوں کو دیکھیں ۔ شرک کا دوسرا معنی اور مشرکین کے چند گروہ۔
شرک کے پہلے معنی کو اگر شرک فی الذات سے تعمیر کیا جائے تو مناسب ہوگا۔ اور دوسرے معنی کو شرک فی العباد سے تعبیر کرنا ہی بہتر رہیگا۔ جسکی تعریف یونبیگی۔
ایک سے زیادہ معبودوں یا انکی تصاویر کی عبادت کرنا۔
شرک فی العبادت کی تعریف کے بعد آیئے اب پہلے یہ دیکھ لیں کہ عبادت کیا ہے؟ یہ بات خصوصًا ذہن نشین کرلیں کہ مشرکین کے اکثر فرقے شرک فی العبادۃ کی تاریخی میں ڈوبے ہوتے ہیں : البتہ ان تمام فرقوں میں سے زیادہ معروف اور نمایا دو فرقے ہیَں، جنکا تذکرہ انتھائی ضروری ہے۔ ایک فرقہ کو اصحاب ہیاکل اور دوسرے فرقہ کو اصحاب اشخاص کہا جاتا ہَے(بالفاظ دیگر تصویر پرست۔ اور شخصیت پرست)
۱۔ اصحاب ہیاکل کے معتقدات
ان کے تمام عقائد کی بنیاد اس نظریہ پر ہَے کہ
ہم اتنے حقیر اور پست ہیَں کہ ذات احدیث جیسی بزرگ دہر ترستی کے حضور جھکنے یا دست سوال دراز کر نیکے قابل نہیں۔ لہذا ہمیں ایک ایسے واسطہ کی ضرورت ہَے۔ جس کے سامنے ہم جبہ سائی کریں۔ اور اس جبہ سائی کے ذریعہ ہمتقریب ذات احدیث حاصل کریں۔ اس بنیاد ی نظریہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان لوگوں نے ارواح کو مدبر عالم سمجھ لیا۔ پھر جب کسی کے سامنے سرخم کرنے کا وقت آیا۔ تو ان کے تصور کے مطابق معبود کا عابد کے سامنے ہونا ضروری تھا جس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر انکساری اور خضوع کیا جائے ۔ جبکہ ان کے عقیدہ کے مطابق ارواح مدبر عالم تو تھیں لیکن وہ بھی خالق کی طرح آنکھوں سے غائب تھیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے ضرورت محسوس کی کہ ارواح کو رہنے کیلئے مکان کی ضرورت ہَے۔ لہٰذا سبعہ کو ان لوگوں نے مسکن ارواح قرار دیا۔ ہر سیارہ کو ایک روح دی۔ روح اور سیارہ میں بالکل ویسا ربط فرض کیا جیسا ربط جسم انسانی اور روح میں موجود ہَے۔ پھر ان لوگوں نے سیاروں کی زندگی کو حیات اروح سے منسلک کرکے ایک ڈھانچہ بنالیا۔ جس کا نتیجہ یوں برآمد ہوا کہ۔
جسم سے تقریب تقریب روح کا ذریعہ ہے۔
اجسام سبعہ کی عبادت ارواح سبعہ سیارہ کی عبادت ہَے۔
ستارہ پرستی تقریب ذات احدیث کا وسیلہ ہَے۔
چونکہ سبعہ سیارہ میں انفرادیت تھی۔ اس لئے ان لوگوں نے محسوس کیا کہ انفرادیت کی جگہ ایک مرکزی محور ہونا چاہیئے۔ چنانچہ ان لوگوں نے سورج دیوتا کہ سبعہ سیارہ کا مرکزی نقطہ تسلیم کرکے سبعہ سیارہ کے خانے۔ منازل۔ ہرخانہ اور منزل کا علیحٰدہ نام۔ وقت طلوع ۔ وقت غروب۔ ہر سیارہ کی مخصوص طبیعت۔ اشکال مخالفہ ۔ اشکال موافقہ ۔ شب دروز میں ہر سیارہ کے معین اوقات ــــــ انکی صورتوں کی تعیین ۔ ان کے مخصوص ۔ موکل ۔ ہر سیاہ کی علیحٰدہ اقلیم ۔ ہر سیارہ کا علیحٰدہ ملک ۔ ہر سیارہ کے ہر وقت کی علیحٰدہ د عا ہر سیارہ کی جدا گانہ بخور۔ ہر سیارہ کا مخصوص کام معین کئے۔
اپنے روز مرہ ضروریات کو سیاروں پر تقسیم کرکے ہر سیارہ کو مخاطب کر نیکی علیحٰدہ دعائیں بنائیں۔
ان کے خیال میں یہ سیارہ اِلہٰ اور ارباب ہیَں۔ جبکہ ذات احدیث لا الالھرارب الارباب ہے۔ انہی میں سے ایک فرقہ نے سورج کو رب الارباب کہا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *