anwarulnajaf.com

نمازِ باجماعت

 نمازِ باجماعت

جناب رسالت مآب ﷺ سے مروی ہے کہ اگر نماز جماعت میں تعداد
دس سے زیادہ ہوجائے تو ایک رکعت کا ثواب لکھنے سے ملائکہ عاجز آجاتے ہیں۔ کافی میں
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ صفوں میں سے پہلے صف افضل ہے اور
جس قدر پیش نماز کے قریب ہوگا افضل ہوگا۔ تنہا نماز پڑھنے والے سے باجماعت نماز
پڑھنے والا جنت میں پچیس درجے بلند ہوگا، نیز مروی ہے کہ دائیں طرف والوں کا درجہ
بائیں طرف والوں سے اتنا زیادہ ہے جتنا جماعت کا درجہ تنہا نماز سے زیادہ ہے۔

امام محمد باقر سے منقول ہے کہ ایک شخص جناب رسول خدا ﷺ کی
خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں بایہ نشین ہوں میرے پاس میری بیوی بچے اور
غلام ہوا کرتے ہیں، کیا میں اذان و اقامت کہہ کر ان کو نماز پڑھاؤں تو جماعت کا
درجہ ہوگا۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں! عرض کی کہ میرے غلام بعض اوقات پانی کی تلاش میں
باہر چلے جاتے ہیں تو کیا میں اپنی بیوی بچوں کو اذان اقامت کہہ کر نماز پڑھاؤں تو
جماعت کا درجہ ہوگا؟ فرمایا ہاں! اس نے عرض کی کہ بعض اوقات میرے بچے مال مویشی لے
کر ادھر ادھر چلے جاتے ہیں تو کیا میں اپنی بیوی کو اذان و اقامت کہہ کر نماز
پڑھاؤں تو جماعت کا ثواب ملے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اس نے عرض کی کہ اگر عورت کسی
کام کے لئے چلی جائے اور میں تنہا اذان و اقامت سے پڑھوں تو جماعت کا ثواب
ہوگا۔  آپ نے فرمایا: ہاں! مومن اکیلا بھی
جماعت ہے۔ (کافی)

لیکن روایت کے آخری جملہ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ مومن کی
تنہا نماز ہر وقت جماعت کا ثواب رکھتی ہے بلکہ یہ اس وقت ہے جب جماعت ممکن نہ ہو۔ دافی
باب المعاصی والمناہی میں حضرت صادق علیہ السلام سے ایک طویل روایت میں ہے کہ جو
شخص ثواب جماعت کی طلب کے لئے مسجد کی طرف چلے، اس کے ہر قدم کے بدلہ میں ستر ہزار
نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں درج ہوں گی اور ستر ہزار درجات بلند ہوں گے اور اسی
حالت میں اگر مرے تو ستر ہزار فرشتہ اس کے دفن میں شریک ہوگا جو اسے جنت کی
خوشخبری سنائیں گے اور تنہائی میں اس کے مونس ہوں گے اور قیامت تک اس کے لئے
استغفار کرتے رہیں گے۔

حضرت رسالت مآبﷺ نے فرمایا کہ ایک دن نماز ظہر کے بعد میرے
پاس جبرئیلؑ ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ تجھے سلام
کہتا ہے اور اس نے آپ کی طرف دو تحفے بھیجے ہیں۔ میں نے پوچھا وہ تحفے کیا ہیں؟ تو
جبرئیلؑ نے جواب دیا۔ (پہلا تحفہ) نماز وتر تین رکعت (دو رکعت شفع اور ایک رکعت
وتر نماز تہجد کے بعد) اور دوسرا تحفہ نماز باجماعت۔ میں نے دریافت کیا۔ اے
جبرئیلؑ! نماز جماعت کا ثواب کیا ہے، میری امت کے لئے؟ تو جبرئیلؑ نے جواب دیا:

·            
اگر شریک جماعت دو آدمی ہوں (ایک پیش نماز اور دوسرا مقتدی)
تو ایک رکعت کے بدلہ میں ایک سو پچاس رکعت کا ثواب ہوگا۔

·            
اگر تین آدمی ہوں تو ایک ایک رکعت کے بدلہ میں چھو سو رکعت
کا ثواب ہوگا۔

·            
اگر چار آدمی ہوں تو ہر ایک رکعت کے بدلہ میں بارہ سو رکعت
رکعت کا ثواب ملے گا۔

·            
اگر پانچ آدمی ہوں تو ایک رکعت کے بدلہ میں  ۲ ہزار چار سو رکعت کا ثواب ہوگا۔

·            
اگر چھ آدمی ہوں تو ایک رکعت کے بدلہ میں چار ہزار آٹھ سو
رکعت کا ثواب ہوگا۔

·            
اگر سات آدمی ہوں تو ایک رکعت کے بدلہ میں نو ہزار چھ سو
رکعت کا ثواب ہوگا۔

·            
اگر آٹھ آدمی ہوں تو ایک رکعت کا ثواب انیس ہزار دو سو رکعت
کے برابر ہوگا۔

·            
اگر نو آدمی ہوں تو ہر رکعت کا ثواب  چھتیس ہزار چار سو رکعت کے برابر ہوگا۔

·            
اگر دس آدمی ہوں تو ہر رکعت کا ثواب بہتر ہزار ۸ سو رکعت کے
برابر ہوگا۔

اور اگر شرکاء نماز جماعت دس سے زیادہ ہوں تو اس کا ثواب اس
قدر ہوگا کہ تمام آسمان کاغذ، تمام دریا سمندر سیاہی تمام درخت قلمیں اور جن و انس
فرشتوں کے ہمراہ لکھنے والے ہوں تو ایک رکعت کا ثواب بھی نہ لکھ سکیں گے۔

۷۱ مومن کی تکبیر جو نماز جماعت میں ہو۔ ستر ہزار حج و عمرہ
سے افضل ہے اور دنیا و مافیہا سے ستر ہزار گنا بہتر ہے اور نماز جماعت میں مومن کی
ایک رکعت ایک لاکھ دینار کے صدقہ سے بہتر ہے جو مساکین پر کیا جائے اور نماز جماعت
میں مومن کا ایک سجدہ ایک ہزار غلام آزاد کرنے سے افضل ہے۔ (العروۃ الوثقیٰ طبا
طبائی)

اور ایک حدیث میں ہے کہ شیطان لوگوں کو کسی عبادت سے نہیں
روکتا، جتنا کہ نماز جماعت سے روکتا ہے کہ کیونکہ وہ لوگوں کے دلوں میں پیش نماز کی
عدالت کے بارے میں شبہات دو سو سے ڈال کر انہیں جماعت کے ثواب سے محروم کرتا ہے۔
(العروۃ الوثقیٰ)

مسئلہ:  نماز جمعہ میں اور
نماز عیدین میں جبکہ شرائط وجوب پائی جائیں، جماعت واجب ہے۔

مسئلہ:  جس شخص کی قرأت
صحیح نہ ہو اس پر نماز جماعت میں شرکت واجب ہے۔

مسئلہ:  نماز استسقاء کے
علاوہ نوافل میں جماعت جائز نہیں ہے۔

مسئلہ:  نماز عیدین شرائط
وجوب نہ ہوں تو جماعت کے ساتھ پڑھی جاسکتی ہے۔

مسئلہ:  نمازِ یومیہ میں
اقتداء ہوسکتی ہے۔ اگرچہ پیش نماز اور مقتدی کی فرض نمازیں الگ الگ ہوں، مثلاً پیش
نماز کی ظہر کی نماز ہو اور مقتدی کی عصر کی نماز ہو یا پیش نماز کی عصر کی نماز
ہو اور مقتدی کی ظہر کی ہو اسی طرح مغرب و عشاء کا فرق ہو یا ادا و قضاء کا فرق
ہو، تو ہر صورت میں اقتداء جائز ہے۔

مسئلہ:  اگر پیش نماز اپنی
نماز پڑھ چکا ہو اور مقتدی جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہیں تو پیش نماز کے لئے مستحب ہے
کہ اپنی نماز کا دوبارہ اعادہ کرے، تاکہ ثواب جماعت حاصل ہوجائے اور اسی طرح اگر
مقتدی پڑھ چکے ہوں اور بعد میں پیش نماز آجائے تو ان پر مستحب ہے کہ پیش نماز کے
پیچھے نماز دوبارہ پڑھیں۔

مسئلہ:  پیش نماز کی جہری
نماز کے پیچھے مقتدی اخفائی نماز پڑھ سکتا ہے اور اس کی اخفائی نماز کے پیچھے جہری
نماز پڑھ سکتا ہے، اسی طرح حاضر مسافر کے پیچھے اور مسافر حاضر کے پیچھے پڑھ سکتا
ہے۔

مسئلہ:  کم از کم دو آدمی
ہوں تو نماز جماعت ہوسکتی ہے ایک پیش نماز ہوگا اور دوسرا مقتدی خواہ مقتدی مرد ہو
یا عورت یا طفل ممیز اور اس صورت میں اگر مقتدی مرد ہو اور ایک ہو تو پیش نماز کے
پہلو میں اسے کھڑا ہونا چاہیے۔

مسئلہ:  اگر ایک پیش نماز
انفرادی نماز پڑھ رہا ہو تو دوسرا آدمی اس کی اقتداء میں جماعت کی نیت کرکے نماز پڑھ
سکتا ہے۔

مسئلہ:  بیک وقت دو پیش
نمازوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔

مسئلہ:  نماز جماعت میں
شامل ہونے کے بعد اگر کوئی شخص اقتداء کی نیت توڑ کر انفرادی نیت کرلے تو جائز ہے،
خواہ دینی یا دنیاوی کوئی ضرورت لاحق ہو یا بلا ضرورت ایسا کرے اور بہتر یہ ہے کہ
بلا ضرورت نیت اقتداء سے انفراد کی طرف منتقل نہ ہو۔

مسئلہ:  اگر انفراد کی نیت
کرکے جلدی سے نماز پوری کرلے اور پھر دوسری نماز کی پیش نماز کی اقتداء میں نیت
کرے اور رکوع میں یا رکوع سے پہلے شامل جماعت ہوجائے تو جائز ہے۔

مسئلہ:  نیت انفراد کر
لینے کے بعد دوبارہ نیت اقتداء نہیں کی جاسکتی۔

مسئلہ:  رکوع میں یا رکوع
سے پہلے جہاں چاہے نماز جماعت میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر رکوع میں ذکر رکوع ختم ہونے
کے بعد بھی شامل ہو تو جائز ہے بشرطیکہ پیش نماز رکوع سے سر نہ اٹھا چکا ہو۔ پس وہ
اس کی رکعت شمار ہوجائے گی۔

مسئلہ:  تیسری اور چوتھی
رکعت میں اگر رکوع سے پہلے جماعت میں شامل ہوگا تو قرأت فاتحہ و سورۃ ضروری ہے
کیونکہ ان رکعتوں میں پیش نماز کی قرأت نہیں ہوا کرتی، لیکن اگر رکوع میں شامل
ہوجائے تو قرأت کی ضرورت نہیں رہتی۔

مسئلہ:  اگر حالت رکوع میں
شامل ہو لیکن اس کے رکوع میں پہنچنے سے پہلے پیش نماز رکوع سے سر اٹھا لے تو اس کی
نماز باطل ہوگی۔ لہذا از سر نو دوسری رکعت یعنی بعد والی رکعت میں شامل ہوجائے۔

مسئلہ:  اگر پیش نماز تشہد
میں ہو تو نیت اقتداء کرکے شامل ہوجائے اور تشہد میں شریک ہوجائے جب پیش نماز سلام
پڑھے تو کھڑا ہوجائے اور اپنی نماز پوری کرے پس اس کو ثواب جماعت حاصل ہوجائے گا۔

مسئلہ:  اگر پیش نماز رکوع
میں ہو اور اس کو سر اٹھانے کا امکان ہو تو بآواز بلند تکبیر یا تسبیح پڑھے تاکہ
پیش نماز کو معلوم ہوجائے پس وہ رکوع میں طول دے دے گا تاکہ مقتدی شامل ہوسکے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *