نمازِ خوف کا بیان
نماز سفر کے متعلق مختصر اور جامع مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔
اب نمازِ خوف کا طریقہ ذکر کیا جاتا ہے تاکہ افادیت میں کمی نہ رہے۔ تفاسیر میں ہے
کہ جب رسالت مآب ﷺ مکہ کے ارادہ سے حدیبیہ
کی طرف روانہ ہوئے تو قریش کو بھی معلوم ہوگیا پس انہوں نے خالد بن ولید کو ایک سو
سوار کے ہمراہ بھیجا تاکہ آنحضرت ﷺ کی پیش قدمی کو روکے۔ مسلمان مقام عسفان میں
اور مشرکین مقام ضجنان میں تھے۔ نماز ظہر کا وقت آیا۔ بلالؓ نے اذان کہی اور آپ نے
یہ نماز رکوع و سجود کے ساتھ پڑھائی۔
خالد بن ولید نے کہا: افسوس ہم نماز کے دوران ہی ان پر حملہ
آور ہوجائے تو یقیناً کامیاب ہوجاتے کیونکہ یہ لوگ نماز کو ہرگز نہ توڑتے لیکن
ابھی ایک اور نماز باقی ہے یعنی نماز عصر جو ان کو آنکھوں کی بینائی سے بھی زیادہ
محبوب تر ہے، جب اس میں داخل ہوں گے تو ہم حملہ کریں گے۔ پس جبرئیل نازل ہوا اور
نماز خوف کا حکم لایا اور آپ نے نماز عصر خوف کے طریقہ سے ادا فرمائی، جس طرح قرآن
مجید میں بیان ہو رہا ہے اور مجمع البیان میں ہے کہ یہی واقعہ خالد بن ولید کے اسلام
لانے کا باعث بنا تھا۔
آیتِ مجیدہ کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فوجِ اسلام دو
حصوں میں تقسیم ہوکر ہر ایک گروہ ایک ایک رکعت نماز پڑھے گویا یہ قصر در قصر ہے
کیونکہ پہلا گروہ صرف پہلی رکعت پڑھ کر چلا جائے گا اور دوسرا گروہ دوسری رکعت میں
شریک ہوگا اور وہ بھی ایک رکعت صرف پڑھ کر ختم کرے گا اور بعض لوگوں کا یہی مذہب
ہے۔
دانی میں کافی ہے سے مروی ہے کہ جناب رسالت مآب ﷺ نے صحابہ
کو غزوۂِ ذات الرقاع میں نماز خوف پڑھائی تھی اور وہ اس طرح کہ فوج کو دو حصوں
میں تقسیم فرمایا ایک گروہ دشمن کے مقابلہ میں اور دوسرا گروہ شریکِ جماعت ہوا، جب
پہلی رکعت تمام ہوئی تو آپ دوسری رکعت کے لئے اٹھے اور قیام میں کھڑے رہے اور
صحابہ نے جلدی سے دوسری رکعت انفرادی طور پر تمام کرلی اور سلام پڑھ کر دشمن کے
مقابلہ میں چلے گئے اور وہ گروہ جو لڑ رہا تھا وہ نماز کے لئے آگیا اور انہوں نے
حضور ﷺ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی۔ پس جناب رسالت مآب ﷺ نے تشہد کو طول دیا اتنے میں
انہوں نے انفرادی طور پر دوسری رکعت پڑھ لی اور تشہد میں بیٹھ گئے اور سلام میں
حضور ﷺ کے ساتھ شریک ہوگئے اور چونکہ غزوہ ذات الرقاع میں اسی طرح پڑھی گئی اس لئے
اسی نماز کو فقہا صلوٰۃ ذات الرقاع سے تعبیر فرماتے ہیں۔
اگر مغرب کی نماز کو خوف کے طریقے سے پڑھا جائے تو پہلے
گروہ کو ایک رکعت جماعت کے ساتھ پڑھنی ہوگی اور پیش نماز کا دوسری رکعت کا قیام
طولانی ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ دو رکعتیں مختصر طور پر انفراد سے پڑھ لیں گے اور ختم
کرکے دشمن کے مقابلہ میں جا کھڑے ہوں گے اور دشمن کے مقابلہ والا گروہ آجائے گا
اور امام کی دوسری رکعت میں شامل ہوگا، لیکن اس کی وہ رکعت پہلی ہوگی۔ پھر امام کی
تیسری اس کی دوسری ہوگی۔ اسی طرح یہ گروہ دو رکعتیں جماعت کے ساتھ پڑھے گا اور
تشہد میں طول دیا جائے گا تاکہ یہ لوگ اپنی تیسری رکعت انفرادی طور پر پڑھ کر سلام
میں شریک ہوجائیں۔
تفسیر برہان میں ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام
سے نماز خوف کے مذکورہ طریقہ کے بعد منقول ہے۔ آپ نے فرمایا اگر خوف اس سے شدید تر ہو جس طرح
باہمی تلواز زنی، نیزہ زنی اور ہاتھا پائی تک نوبت آجائے اور رکوع و سجود کا امکان بھی نہ ہو (تو پیدل یا سوار جس
طرف منہ ہوجائے) فرمایا کہ لیلۃ الہریر میں حضرت امیر علیہ السلام نے ظہرین و
مغربین کی نماز نہیں پڑھائی تھی اور تسبیح و تہلیل اور تحمید و دعا رکعتوں کا بدلہ
تھیں اور یہی ان کی نماز تھی اور نماز خوف میں نمازیوں کو حکم ہے کہ اپنے آلاتِ
جنت لگائے رکھیں جس طرح کہ آیتِ مجیدہ میں صاف مذکور ہے۔
Leave a Reply