نماز جمعہ
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے
مروی ہے کہ جمعہ سے جمعہ تک کل ۳۵ نمازیں فرض ہیں اور کسی نماز میں جماعت فرض نہیں
سوائے ایک نماز جمعہ کے اور نو آدمیوں سے اس کا وجوب ساقط ہے:۔
۱۔
بچہ ۲۔
بوڑھا ۳۔ پاگل ۴۔ مسافر ۵۔ بیمار
۶۔
نابینا ۷۔
عورت ۸۔ غلام ۹۔
جس کا گھر دو فرسخ سے دُور ہو
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا
جو قدم نماز جمعہ کی طرف چل کر جائے گا اس پر آتش جہنم حرام ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا
جو شخص بغیر علت کے متواتر تین جمعے چھوڑ دے اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور دوسری
روایت میں اس کو منافق سے تعبیر کیا گیا ہے۔
حضرت رسالت مآب ﷺ نے فرمایا جو شخص نماز
جمعہ کو میری موجودگی میں یا میری وفات کے بعد ترک کرے اس کو معمولی سمجھ کر یا اس
کا انکار کرتے ہوئے تو خدا ایسے لوگوں کو اتفاق کی دولت سے محروم کرے گا اور ان سے
برکت کو چھین لے گا۔ ایسے لوگوں کی نہ نماز ہے، نہ روزہ اور نہ حج ہے نہ زکوٰۃ،
حتیٰ کہ اس کی کوئی نیکی مقبول نہیں جب تک کہ تائب نہ ہو۔
حضرت رسالت مآب ﷺ نے فرمایا: جب پانچ
آدمی اکٹھے ہوجائیں اور ان میں ایک امام (پیش نماز) تو نماز جمعہ پڑھیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا
کہ جب سات آدمی ہوجائیں تو جمعہ واجب ہے اور پانچ سے کم کے لئے جمعہ جائز نہیں ہے۔
پس جب سات ہوجائیں اور ان کو خطرہ کوئی نہ ہو تو نماز جمعہ پڑھیں۔
ایک روایت میں ہے ایک سائل نے سوال کیا
کہ کیا بستی والوں پر بھی جمعہ واجب ہوتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں البتہ اگر
پیش نماز میسر نہ ہو تو چار رکعت پڑھ لیا کریں۔
آپ نے فرمایا جب جمعہ قائم ہو تو دو
فرسخ تک رہنے والوں پر اس میں حاضر ہونا واجب ہے۔
حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا: جو
شخص نماز جمعہ کو جاتے ہوئے مر جائے اس کی جنت کا میں ضامن ہوں۔
Leave a Reply