anwarulnajaf.com

وادئ سلام

 وادئ سلام

بروایت کافی حضرت
امیرالمومنین علیہ السلام  سے مروی ہے کہ
اگر تمہارے سامنے سے پردے اٹھادئیے  جائیں
تو تم دیکھو گے کہ مومن گروہ گروہ بن کر بیٹھے آپس میں باتیں کررہے ہوتے ہیں آپ سے
سوال کیاگیا کہ وہ اجسام ہوتے ہیں یاارواح 
تو آپ نے فرمایاکہارواح ہوتے ہیں اور مومن جہاں کہیں بھی مرتاہے اس کی روح
کو سلام وادی سلام میں پہنچایا جاتاہے جو جنت 
عدن کا ٹکڑا ہے  ایک شخس نے حضرت
امام جعفر صادق علیہ السلام  کی خدمت میں
عرض کیاکہ میرا بھائی بغداد میں ہے اور میں 
وہاں اس کی موت کو پسند نہیں کرتا آپ 
نے فرمایافکر  مت کرو جہاں بھی مرے
کوئی حرج نہیں مشرق ومغرب  میں میں بھی
مومن مرتاہے  اسکی روح کو وادئ سلام کونسی
جگہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ظہر کوفہ (یعنی نجف اشرف کا علاقہ ) ؛؛؛؛وہاں اکٹھے کر
اپس میں باتیں کرتے ہیں ایک روایت میں آپ نے فرمایا  جب ؛؛؛نئی 
روح انکے پاس پہنچے تو ایک دوسرے کو کہتے ہیں کہ اس کو آرام کرلنے دو
کیونکہ ایک سخت خطرے سے گزر  کر آیا ہے پھر
بعد میں پوچھتے ہیں کہ فلاں فلاں کی کیا حالت ہے ؟ تو وہ جواب میں جس کے متعلق کہہ
دے کہ میں اس کو زندہ چھوڑ آیا ہوں تو وہ اس کے لئے نیکی کے خاتمہ کی دعاکرتے
ہیں  اور اپنے پاس پہنچنے  کی امید رکھتے ہیںٰ اور جس کے متعلق کہدے  کہ وہ تو پہلے مرچکا ہے وہ کہتے ہیں کہ وہہلاک
ہوگیا کیونکہ اگرجنتی ہوتا تو یہانتک  پہنچ
چکاہوتا

معصوم  سےدریافت کیاگیا کہ مومن مرنے کے بعد اپنے گھر
والوں کے پاس بھی آتاہے  تو آپ نے فرمایاہاں
سائل نے پوچھا کتنے عرضہ میں ؟ تو آپ نے فرمایاجمعہ کے دن یاہر مہینہ میں ایک دفعہ
یاہر سال میں ایک مرتبہ اور یہ اس کےاعمال کی طاقت پر منحصر  ہے


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *