anwarulnajaf.com

وجوب ِ استقبال اور تحقیق قبلہ

 وجوب ِ استقبال اور تحقیق قبلہ

          نماز میں چونکہ
کعبہ ( بیت اللہ ) کی طرف منہ کرنا واجب ہے لہذا نماز پڑھنے جہت قبلہ کا تعین
ضروری ہے ہمارے پورے ملک میں شمالاً جنوباً اور شرقاً و غرباً ہر جگہ بات کو اصول
مسلمہ میں سے سمجھا گیا ہے کہ قطبی ستارہ جو افق شمال سے تقریباً ۲۲درجے کی بلندی
پر ہے اس کو دائیں کندھے کے درمیان رکھنے سے منہ سید ھا قبلہ کی طرف ہوجاتا ہے
حالانکہ قطبی ستارہ کو دائیں کندھے پر رکھنے سے نقطہ مغرب کی طرف سیدھا منہ ہوجاتا
ہے اور مغرب اور سمت قبلہ میں تلازم قطعاً نہیں ہے البتہ وہ مقامات جو مکّہ سے
سیدھے نقطہ مشرق پر واقع ہوں اور مکہ کے ساتھ ان کا عرض بلدر دافق ہو اُن کی جہت
قبلہ نقطہ مغرب ہوگی پس جنوبی ہند اور انڈونیشیا کے بعض مقامات کے قبلہ کی علامت
صحیح یہی ہے کہ قطبی ستارہ  کو دائیں کندھے
کے وسط میں رکھا جائے ۔ لیکن  پاکستان میں
کوئی بھی مقام ایسا نہین جو مکّہ سے سیدھا جانب مشرق واقع ہو اور اس کا عرض بلد
مکّہ سے ملتا جلتا ہو۔ بلکہ نقشہ دیکھا جائے تو لاہور سے فقط مغرب پر اُرون واقع
ہے نہ کہ حجاز ۔

آجکل جدید تحقیقات جغرافیائی لحاظ سے حدیقیں اپنے دامن میں
لئے ہوئے ہیں اور ماہرین نے پوری دنیا کا چپہ چپہ ناپ کر رکھ دیا ہے   اور جدید آلات کے ذریعے سے نت نئے انکشافات نے
ذہنِ انسانی کی کایا پلٹ کر رکھہ دی ہے لہذا ایسے حالات میں گذشتگان کی تقلید کرتے
ہوئے آنکھیں بند کرکے لکیر کا فقیر بن کر رہ جانا وانش مندی نہیں جبکہ انکشافاتِ
جدیدہ کی واقعّیتو صداقت اپنا لوہا منواچکی ہے وہ اور زمانہ تھا جبکہ صرف اندازہ
سے ہی کام نکالا جاسکتا تھا۔ اب تحقیق کا زمانہ ہے البتہ جس مقام پر پائے تحقیق
لنگ ہواور لسانِ واقع گنگ ہو تو حالات حاضرہ جس ظن و اندازہ تک پہنچادیں اسے غنیمت
سمجھ لیا جائے۔

آجکل تحقیقات ِ  جدیدہ
کے ماتحت جو قبلہ نما یا زاد میں آئے ہیں اور ہر بڑے شہر میں دستیاب بھی ہو سکتے
ہیں ان کی رُو سے ہمارا یعنی لاہور کا قبلہ مغرب سے تقریباً ۲۷ درجے جنوب کی طرف
ہے پس اس صورت میں قطبی ستارہ سیدھا دائیں کندھے کے وسط میں نہ رکھا جائے بلکہ
دائیں کندھے کے پچھلے کونے کی سیدھ میں اُسے رکھنا پڑے گا ۔

پُرانے خیالات کے متقلہ اذہان کے  لوگوں کے سامنے اس قسم کی تحقیق بالکل اجنبی
معلوم ہوتی ہے اور وہ  یہ سمجھتے ہیں کہ
ہمیں قبلہ سے منحرف کیا جارہا ہے لہذا وہ اپنی ضد پر اڑجاتے ہیں حالانکہ انہیں یہ
ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ پہلے لوگوں کے لئے تحقیق کرنے کے اسباب وآلات محدود تھے
اور وسائل مختصر تھے پس ان کی تحقیق اپنے زمانہ کے لحاظ سے اس کے زیادہ نہ بڑھ
سکتی تھی ۔ جہاں تک وہ اس زمانہ میں پہنچے لیکن آجکل تحقیق کا میدان بہت وسیع
ہوچکا ہے اور ذرائع و اسباب کی فرادانی ہے پس موجودہ تحقیق قبلہ سے منحرف نہیں
کرتی بلکہ قبلہ کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور پہلے لوگوں کی تحقیق میں جو کمزوری رہ
گئی تھی اب اس کمزوری کو دور کیا گیا ہے اور کراچی و حیدرآباد کا قبلہ نقطہ مغرب
سے ۱۸ درجے جنوب کی طرف ہے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *