anwarulnajaf.com

وداعِ خیام کا ا یک دلخراش منظر

’’مخزن
البکا‘ ‘  میں ہے اتمام حجت کے بعد آپ ؑ
ایک مرتبہ پھر خیمہ کی طرف پلٹے، جب حرم سرا کے دروازہ پر پہنچے تو جناب زینب
علیاسلام اللہ علیہا کمالِ اضطراب اورنہایت حسرت ویاس کے ساتھ گریہ کرتی ہوئی
دروازۂ خیمہ پر پہنچی کہ ان کی چادر زمین پرخط دے رہی تھی اوربی بی عالیہ میدان میں
بھائی کی تقریر اورشمر کا جواب سن چکی تھی۔۔ عرض کرنے لگی بھائی جان!   ھٰذَاکلامُ 
مَنْ اَیْقَنَ بِالْقَتْلِآپ ؑ ایسی 
باتیں کررہے تھے جس طرح کہ آپ ؑ کو اپنی موت کا یقین ہو، آپ ؑ نے فرمایا
اے بہن!  کَیْفَ لَایُوْقِنُ بِالْقَتْلِ
مَنْ لَامُعِیْنَ لَہُ وَلَامُجِیْر وہ شخص اپنی موت کا یقین کیسے نہ کرے جس کا نہ
کوئی ناصر ہوا ورنہ پناہ دینے والاہو؟ پس بی بی نے رودیا اورکہا  وَاثَکْلاہُ یَنْعَی الُحَسْینُ  نَفْسَہُ 
ہائے فریاد بھائی حسین ؑ اپنی موت کی خبر دے رہاہے؟ پس صدائے ماتم بلندہوئی
اورامام مظلوم ؑ میدانِ کارزار میں پہنچے اور اپنا تعارف کرایا اورفرمایاتم میں
ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جنہوں نے رسول خداسے اپنے کانوں میرے فضائل سنے ہیں،
چنانچہ زید بن ثابت ۔۔برأ بن عازب اورانس بن مالک سے دریافت کرلیجئے لیکن ملاعین
نے ذرّہ بھر پرواہ نہ کی۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *