anwarulnajaf.com

وصیت کا بیان

وصیت کا بیان | wasiyat ka bayan| will in islamic law
وصیت کا بیان | wasiyat ka bayan| will in islamic law

کتب علیکم  اگر انسان کوئی مال تر کہ رکھتا
ہو تو اس کو چاہیے کہ مرنے سے پہلے اس کے متعلق وصیت کر جائے موت حاضر ہونے سے
مراد موت کی علامتیں ہیں ۔

بالمعروف  سے مراد یہ ہے بہت تھوڑی چیز کی
وصیت کرے اور نہ بہت زیادہ کی وصیت کرے اس کی حد امام جعفر صادق  ؑ نے یہ
جرمائی ہے کہ کم از کم 
۱۔حصہ
اور بنا بر بعض روایات  1/9حصہ اور زیادہ
سے زیادہ 1/3حصہ ہو حدیت میں وادر ہے کہ جو شخص مرنے کے وقت اپنے غیر وارث قریبیوں
کے لیے وصیت نہ کر جائے تو اس خاتمہ گناہ پر ہوا
والاقربین بالمعروف حقا علی المتقینoفمن بدلہ بعد ما سمعہ
فانما اثمہ علی الذین یبدلونہ ان اللہ سمیع علیم
oفمن خاف من موص جنفا او
اثما فاصلح بینھم فلا اثم علیہ  ط  ان
اللہ غفور رحیم
o
 اور
قریبوں کے لیے نیکی کی یہ حق ہے اوپر ڈرنے والوں کے پس جو تبدیل کر ے اس
 (وصیت کو) بعد سننے کے تو گناہ اس کا صرف ان لوگوں پر ہے جو ڈرے کسی وصیت
کرنے والے کے متعلق ظلم یا گناہ سے پس صلح کرادے ان میں تو اس پر کوئی گناہ کوئی
نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔
حدیث بنوی میں ہے کہ جو شخص بگیر وصیت کے مرتا ہے
وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ مسلمان
انسان پر ضروری ہے کہ جب رات کو سوئے تو اپنی وصیت لکھ کر اپبے سر کے نیچے رکھ لے
۔
فمن بدلہ  وصیت کو تبدیل کرنایا توڑنا گناہ
کبیرہ ہے احادیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کے لیے وصیت کر جائے تو اس پر عمل
کرنا واجب ہے خواہ جس کے لیے وصیت کی گئی ہے یہودی یا نصرانی ہی کیوں نہ ہو۔
جنفا او اثما   امام جعفر صادق  ؑ سے منقول ہے کہ جنف سے مراد سے زیادہ اور ایک
روایت میں امام جعفر صادق  ؑسے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص آتشکدہ یا شراب خانہ
تعمیر کرنے کی وصیت کرے تو وصی کے لیے اس تبدیل کرنا جائز ہے ۔
فائدہ:  آیت وصیت کے منسوخ ہونے میں تین
ہونے میں تین قول ہیں  
۱۔بالکم
منسوخ ہے   
۲۔وارثوں
کے حق میں منسوخ ہے کیونکہ وراثت بھی ان کے لیے حق کو ثابت کرتی ہے اور وصیت سے
بھی یہی مقصود ہوتا ہے پس ان کا حق ثابت کرنے کے لیے وراثت کاثبوت کا فی ہے
لہذاآیت میراث جب اتری تو آیت وصیت منسوخ ہو گئی  
۳۔یہ
آیت قطعا منسوخ نہیں ہے اور محققین علمائی امامیہ کا یہی مسلک ہے کیونکہ نسخ اس
وقت ہوتا ہے جب دو خکموں میں منافات ہو جس سے ہردو پر عمل نہ کیا جاسکتا ہو اور
یہاں نسخ کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وصیت اور وراثت کے دو نوحکموں میں کوئی
منافات نہین ہے ۔
وصیت ۔   کسی شخص کا اپنی زندگی میں
اپنی موت کے بعد کسی امر کی سفارش کرنا مثلا لہے میرے مال میں سے اتنی مقدار فلاں
کام پر خرچ کی جائی یا فلاں شخص کو دے دی جای یا فلاں حق واجب اس مال سے ادا کیا
جائے یا میری قبر فلاں مقام پر بنائی جائے عحیرہ اور جس شخص کو ان امور کی انجام
وہی کی سفارش کرے اسے وصی کہاجاتاہے ۔
مسئلہ  وصیت کرنے والے میں ان شرئط کا ہونا
ضروری ہے۔
۱۔بالغ
ہو  
۲۔عاقل ہو  
۳۔قصدہ ارادہ سے وصیت کرے۔
مسئلہ   وصیت کرنے والا اپنی زندگی میں
اپنی وصیت کو توڑ سکتا ہے اور اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے۔
مسئلہ  اگر
کوئی شخص کسی کے لیے کچھ مال کی وصیت کر جائے تو وصیت کرنے والے کی موت کے بعد وہ
وصیت شدہ مال اس شخص کی ملکیت ہو گا جس کے لیے وصیت کی گئی ہے بشرطیکہ اس نے وصیت
کو قبول بھی کیا ہو۔
مسئلہ   اگر ایک شخص کے ذمہ خمس زکوٰۃ
یا مگر حقوق مالیہ تو اس پر واجب ہے کہ کوشش کر کے اپنی زندگی میں ان کو ادا کر کے
ان سے سبکدوش ہو جائی اور اگر ایسا نہ کر سکتا ہو تو ان حقوق کی ادائیگی کے متعلق
وصیت کر جائے ۔
مسئلہ ۔۔۔۔   اگر نماز و روزہ کی قضا اس
کے ذمہ ہو تو بڑے لڑکے کو ان کے متولق وصیت کرے اور اگر بڑا لڑکا موجود نہ ہو تو
اپنے ما سے بذریعہ اجرت وجبات کے ادا کرنے کی وصیت کر جائی ۔
مسئلہ ۔۔۔۔  اگر کوئی شخص واجبات اور مستجات
کی وصیت کر جائی تو اس کے واجبات اصل ترکہ سے ادا کرائے جائیں گے اور مستجبات ترکہ
کے 1/3حصہ سے ادا کرائے جائیں بشرطیکہ ورثاء زائد خرچ پر رضا مند نہ ہوں اگر میت
کا ترکہ اتنا ہے کہ صرف میت کے واجبات اس سے ادا ہو سکتے ہیں تو واجب ہے کہ اس
ترکہ سے میت کے واجبات ادا کئے جائیں مثلا خمس  ۔ زکوٰۃ حج  اور اجرت قضائے نماز و روزہ وغیرہ  اور اگر میت کا ترکہ اس کے تمام واجبات کے ادا
کرنے کا کفیل نہیں ہو سکتا تو جس  قدر ممکن
ہو اس کے واجبات کی ادائیگی میں خرچ کیا جائے۔
مسئلہ ۔۔۔۔ ایک شخص امور مستحبہ کے لیے اگر کچھ
مال کی وصیت کر جائے مثلا زیارت میا بت کے لیے یا عزاداری کے لیے یا دیگر امور خیر
(مساجد یا امام باڑہ یا دینی مدرسوں وغیرہ)کے لیے تو پس اگر وصیت شدہ مال اس کے کل
ترکہ کا ایک تہائی 1/3یا اس سے کم مقدار بنتا ہو تو وصیت پر اسی طرح عمل واجب ہے
جس طرح مرنے والے نے کہا تھا اور جن جن امور متحبہ کی اس نے سفارش کی تھی اس مال
سے ان کا بجالانا واجب ہے اور اگر وصیت شدہ مال کل ترکہ کا ایک تہائی 1/3سے زائد
ہو تو 1/3سے زیادہ مال میں وصیت نافذ نہ ہو گی جب تک کہ ورثا کی رضا مندی نہ ہو پس
اگر وارث اجازت دے دیں تو ٹیک ہے ورنہ کل ترکہ کے 1/3کو میت کے بتائی ہوئے اس امور
میں خرچ کیا جائے گا اور اس ے زائد مال میں وصیت باطل ہو گی۔
 مسئلہ ۔۔۔
 میت کے ذمہ جس قدر قرضہ ہو وہ میت کے اصل مال سے ادا کیا جاتا ہے قرضہ کی
ادائیگی سے جو مال بچے گا وارثوں کو ملے گا اسی طرح میت کے ذمہ جس قرد حقوق مالیہ
خمس و زکوٰۃ وحیرہ واجب ہیں یہ بھی سب میت پر پر قرضہ ہیں ان کو بھی اصل ترکہ سے
ادا کرنا واجب ہے پس ان کی ادائیگی کے بعد جو کچھ مال بچے گا وارث صرف اسی کے
حقدار ہوں گے۔
مسئلہ ۔۔   میت کے حقوق واجبہ مالیہ ادا
کئے بحیر مال میت ہیں وارثوں کا تصرف کرنا نا جائز ہے ۔
مسئلہ ۔۔ اگر ایک شخص کسی کو وصی بنائے تو اس کی
زندگی میں وصی کو انکار کا حق حاصل ہے لیکن اس کے مرجانے کے بعد وصی پر لازم ہے کہ
وصیت پر عمل کرے اب وہ وصیت کو توڑنے کا حق نہیں رکھتا۔
مسئلہ ۔۔  جب روایات میں ہے کہ وصیت کم اس کم
1/6یا1/9حصہ مال کی ہونی چاہیے ۔  استحباب پر مبنی ہیں ورنہ اس کم مقدار کی
بھی وصیت ہو سکتی ہے۔


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *