anwarulnajaf.com

وقوف ِ عرفات

 وقوف ِ عرفات: نویں ذوالج کو زوال سے لے کر غروب شمس تک عرفات میں ٹھیڑنے کا نام وقف
عرفات  ہے اور یہ حج کا کر ہے اس کے فوت
ہونے سے حج فوت ہوجاتی ہے۔

مسئلہ:۔ عرفات میں ظہر سے مغرب تک ٹھیرنا واجب ہے خواہ وہاں
کھڑا رہے یا بیٹھا رہے یا چلتا رہے۔

مسئلہ:۔ وقوف کی نیت کرے کہ وقوف عرفات حج تمتع کےلئے کرتا
ہوں واجب  قربتً الی اللہ ۔

مسئلہ:۔ وقوف عرفات غروب آفتاب تک ہے اگر کوئی شخص غروب سے
پہلے عرفات سے باہر نکل جائے اس پر واپس پلٹ کر غروب تک وقوف کرنا واجب ہے ورنہ اس
کا کفارہ ایک اونٹ ہے اور اگر یہ ناممکن ہے تو اٹھارہ روزے پے درپے سکے۔

مسئلہ:۔ اگر بصورت سہو قبل ازغروب عرفات سے چلا جائے اور
غروب تک منقل نہ ہو یا جہالت مسئلہ کی صورت میں ایسا کرے اور غروب تک اس کو مسئلہ
کا علم نہ ہوکسے تو ۔پرکوئی کفارہ نہں لیکن اگر بروقت اس کو علم ہوجائے تو واپس
اگر غروب تک وقوف کرنا ۔۔ہے اور بصورت مخالفت کفارہ واجب ہے۔

مسئلہ:۔ اگر حکومت وقت کے قاضی نے چاند کے حکم کا ثبوت دے
دیا ہو لیکن مذہب شیعہ کی رو سے شرعا چاند اس تاریخ پر ثابت نہ ہو اور تقیہ حکومت
وقت کے قاضی کے حکم کے موافق عمل کرنے کا مقتضی ہو تو ایسی صورت میں انشاء اللہ
فریضہ حج ۔ ہوجائے۔

مسئلہ:۔ وقوف عرفات
سےپہلے غسل کرنا مستحب ہے اول وقت میں ازان کے بعد نماز ظہر و عصر کو  پڑھے اور اس مقام پر تمام مذاہت بلا اختلاف جمع
بین الصلاتین  پر عمل  کرتے ہیں جس میں مذہب شیعہ کی صداقت کی پر زور
عمل تائید ہے پس چاہیئے کہ نہایت دل جمعی سے باطہارت وہاں غروب تک کھڑے ہرکر ایسا
نہ کر سکے تو قبلہ رخ بیٹھ کرتا غروب ذکر خدا میں مشغول رہے۔ اللہ اکبر ایک سوبار
، سبحان اللہ ایک سومرتبہ ، لا الا الا اللہ ایک سو دفعہ ، آیت الکرسی ایک سو فعہ
، درود شریف ایک سود فعہ ، سورہ انا انلنا ایک سو مرتبہ ،لاحول  ولا قوۃ الا باللہ ایک سو دفعہ ، اور سورہ
توحید ایک سو دفعہ ، اور سورہ توحید ایک سو دفعہ پڑھنا مستحب ہے اپنے گناہوں کو
اپنے گناہوں کو اپنے سامنے رکھ کر اللہ سے ان کی معافی مانگے اپنے والدین و قریبوں
دیگر برادران ایمانی کےلئے دعا طلب کرے کیونکہ جو شخص غائبانہ طور پر اپنے مومن
بھائیوں کے لئے دعا کرتا ہے تو فرشتے اس کےلئے مغفرت طلب کرتے ہیں ۔ مقام عرفات
گناہ معاف کرانے کےلئے بہترین مقام ہے اور بدبخت انسان ہے وہ جو مقام عرفات سے
واپس آئے اور اپنے گناہوں کی بخشش نہیں ہوسکتی تو اس کی بخشش ہوہی نہیں سکتی مگر
یہ کہ عرفات جانے پر موفق ہو اور وہاں اپنے گناہوں کی بخشش نہیں ہوسکتی تو اس کی
بخشش ہو ہی نہیں سکتی مگر یہ کہ عرفات جانے پر موفق ہو اور وہاں اپنے گناہوں کی
مغفرت طلب کرے۔

اس مقام پر آئمہ معصومین 
علیہ السلام سے جو دعائیں منقول ہیں ان کا پڑھنا مستحب ہے 

افاضہ :۔
غروب شمس کے بعد عرفات سے مشرکی طرف روانگی کانام افاضہ ہے۔


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *