کیفیت اذان و اقامت و نماز
مستحب ہے کہ پہلے
اذان کہے اور پھر اقامت اور اس کے بعد نماز شروع کرے اور غالباً یہ مقدمات توجہ ّ
اور التفات کو مجتمع کرنے کے لئے ہیں تا کہ نمازی اپنے آپ کو بارگاہِ ایزدی میں
حاضر کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوجائے اذان کا طریقہ یہ ہے۔
پہلے چار
دفعہ اللہ اَکْبَرُ پھر دو دفعہ اَشْھَدُ اَنْ لاَّاِلٰہَ
اِلاَّاللہُ پھر دو دفعہ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُوْلُ
اللہِ پھر مستحب ہے کہ دودفعہ اَشْھَدُ اَنَّ عَلِیاً وَّ لِیُّ اللہِ
کہے پھر دو دفعہ حَیَّ عَلَی الصَّلوٰہ پھر دو دفعہ عَلَی الْفَلاَحِ پھر دو دفعہ حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ پھر دو دفعہ اَللہُ اَکْبَرُ اور آخر میں دو دفعہ لَااِ لٰہَ
اِلاَّ اللہُ
تھوڑا سا
وقفہ کر لینے کے بعد اقامت کہے جو اذان کی طرح ہے صرف چار تکبیر کی بجائے پہلے دو
دفعہ اللہ اکبر کہے اور آخری تکبیر سے دو دفعہ قَدْ قَامَتِ
الصَّلٰوۃ کہے اور بالکل آخر
میں ایک دفعہ لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ کہے۔
پس کوئی اور کلام کئے بغیر سیدھا ہوکر نماز کی نیّت کرکے تکبیرۃ
الاحرام ( اللہ اکبر) کہے اور ہاتھوں کو کانوں تک بلند کرے نہایت اطمینان و سکون
سے قبلہ رو کھڑا ہو دونوں ہاتھ پہلوؤں میں انگلیاں ملی ہوں نظر جائے سجدہ پر رہے
اور قدموں کے درمیان قدر سے فاصلہ ہوعورت کے لئے ہاتھوں کو سینہ پر رکھنا ان کی
عفت و حیا کے پیش نظر مستحب ہے اور پاؤں اُن کے آپس میں ملے ہوئے ہوں ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِیْمِ کو جہریہ پڑھ کر
الحمد شروع کرے عورت بیشک بسم اللہ کو خاموشی سے پڑھ کر الحمد کے بعد سورۃ اِنَّا
اَنزَلنَا یا کوئی دوسرا سورہ
پڑھ کر قیام کی حالت میں تکبیر کہے اور
اللہ اکبر ختم ہونے کے بعد رکوع کی طرف جھکے اور حالتِ رُکوع میں نظر قدموں کے
درمیان ہوا ور ہاتھوں کی انگلیاں کھلی ہوں اور گھٹنوں کو اوپر دبا کر رکھے پشت
برابر ہو اور سرد گردن بھی پشت کی سیدھ میں ہو اطمینان و سکون کی حالت میں ذکر
رکوع کرے ۔ سُبْحَانَ رَبِّیَ العَظِیْمِ وَ بِحَمْدِہ ایک
دفعہ واجب ہے اور تین دفعہ کہنا مستحب ہے۔
یا صرف سُبحَانَ
اللہِ تین دفعہ کہہ دے اور بعد مین درود شریف پڑھ لینا بھی مستحب
ہے۔ پس سیدھا ہو کر پڑھے سَمِعَ اللہ ُ لِمَن حَمِدَہ اور اللہ اکبر بھی وہیں قیام میں پڑھے ۔ بعد میں سجدہ کے لئے جھکے پہلے
ہاتھوں کو زمین پر رکھے اور بعد میں ہاتھ
سجدہ کی حالت میں دونوں ہتھیلیاں دونوں پاؤں کے انگوٹھے دونوں گھٹنے اور
پیشانی یہ سات اعجاد ہیں جن کا ٹیکنا واجب ہے اور ناک کا زمین پر رکھنا مستحب ہے
سجدہ کی حالت میں نظر نا ک پر دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہوئی کانوں کے کناروں
کے برابر ہوں ،کہنیاں جسم سے الگ ہوں پیٹ زمین سے اوپر کو اُبھراہوا ہو۔
لیکن عورت کے لئے مستحب ہے کہ زمین سے مل کر سجدہ میں پڑے
اور اس کے دونوں ہاتھ کہنیوں تک زمین سے چمٹے ہوں حالتِ سجدہ میں اطمینان و سکون
کے ساتھ سُبْحَانَ رَبِیَّ الاَعلیٰ وَ بِحَمْدِہ ایک دفعہ واجب ہے اور تین دفعہ کہنا مستحب ہے۔ یا اس کی
بجائے تین دفعہ سُبْحَانَ اللہِ کہنا بھی کافی ہوا کرتاہے۔
پس درود شریف پڑھے اور اٹھ بیٹھے اور کہے اللہ اکبر اور اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ
اَتُوْبُ اِلَیْہِ پڑھ کر تکبیر کہے
اور بعد میں دوسرے سجدہ کے لئے جھکے اور دوسرے سجدہ سے فارغ ہوکر اٹھ بیٹھے اور اس
بیٹھنے کو جلسہ استراحت سے فقہا تعبیر کرتے ہیں پس بِحَولِ اللّٰہِ و َ قُوَّتِہٖ اَ
قُوْمُ وَ اَقْعُدْ کہتے ہوئے اٹھے اور دوسرے رکعت پڑھے حالتِ قیام
میں سورہ حمد پھر کوئی دوسرا سورہ اور اس کے بعد دعائے قنوت پڑھے مثلاً رَبَّناَ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا
حَسَنَۃً وَّ فِیْ الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّار۔ اس
کے اوّل و آخر میں درود شریف پڑھے اور حالتِ قیام میں تکبیر کہہ کر پھر رکوع اور
بعد میں حسبِ سابق دونو سجدے بجالائے اب دوسرے سجدہ کے بعد سیدھا بیٹھ جائے جبکہ
نظر گود میں ہو پس دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر اس طرح بیٹھے کہ بائیں پاؤں کے شکم
میں دائیں پاؤں کی پشت ہو پس کلمہ شہادتین پڑھے۔
اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ
وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُولُہٗ پس درود شریف پڑھے
اور اس کو تشہد کہا جاتا ہے پس اگر صبح کی نماز ہے تو سلام پڑھ کر ختم کرے پہلا
سلام مستحب ہے اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحْمَۃُ
اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗاور یہ سلام
تشہد کی حالت میں بیٹھے ہوئے پھر نظر کو
مغرب کی طرف بڑھا کر پڑھے: اَلسَّلامُ عَلَیْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ
اللّٰہِ الصّٰلِحِیْنَ اور گوشہ چشم سے
دائیں طرف اشارہ کرکے تیسرا سلام پڑھے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحٌمَۃُ
اللّٰہِ وَ بَرَکَاتُہٗ اور اگر مغرب کی
نماز ہو تو تشہد کے بعد سلام نہ پڑھے بلکہ بِحَوْلِ اللّٰہِ الخ پڑھتے
ہوئے اُٹھ کھڑا ہواور حالتِ قیام میں یا صرف سورہ فاتحہ پڑھے یا اس کے بجائے
تسبیحات ِ اربعہ پڑھ لے دوسرا سورہ نہ پڑھے اور تسبیحات اربعہ یہ ہیں۔
سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکْبَرُ پھر رکوع و سجود کرکے تشہد پڑھے اور سلام پڑھ کر نماز ختم
کرے اور اگر چار رکعتی نماز یعنی ظہر یا عصر یا عشاء ہو تو تیسری رکعت میں سجدوں
کے بعد تشہد پڑھنے کی بجائے بِحَوْلِ اللّٰہِ الخ پڑھتے ہوئے اٹھ جائے اور تیسری رکعت کی طرح چوتھی رکعت
پڑھ کر تشہد و سلام پڑھے۔
آئمہ طاہرین علیہم السّلام نے نماز کا جو طریقہ فرمایا ہے
وہ یہی ہے اس سے بڑھانا یا کم کرنا علماءکے بس میں نہیں ہے تشہد میں حضرت امیر
المومنین علیہ السّلام کی ولایت کی شہادت پر اصرار کرنا خواہ مخواہ کی موشگانی ہے
کیونکہ درود میں سب آلِ محمد شامل ہیں۔
مستدرک الوسائل میں حضرت امام رضا علیہ السّلام سے منقول ہے
جہاں دوسرے تشہد میں آپ نے باقی اذکار مستحبہ کا ذکر فرمایا ہے وہاں اَشْھَدُ اَنَّکَ نِعْمَ الرَّبُّ وَ
اَنَّ مُحَمَّدًا نِعَمَ الرَّسُوْلُ وَ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ اَبِیٌ طَالِبٍ نِعْمَ
الْوَلِیِّ کا تشہد واجب کے بعد پڑھنا بھی مستحب قراردیا ہے اور درود
شریف کے بعد اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ نِالْمُصْطَفیٰ وَ عَلِیِّ نِالْمُرْتَضٰی وَ
فَاطِمَۃِ الزَّھْرَاء وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ وَ الْاَئِمَّۃِ الرَّاشِدِیٌنَ
مِنْ اٰلِ طٰہَ وَ یٰسِیْنَ الخ
کا پڑھنا بھی ذکر فرمایا ہے۔
نماز میں
واجبات ہیں وہ چودہ۱۴ ہیں :
۱۔ نیت اور
اس کے حکم کا دائم رکھنا ۔ ۲۔ تکبیر ۃ الاحلام یعنی پہلی اللہ اکبر
جس سے نماز شروع ہوتی ہے۔ ۳۔ قیام ۴۔ رکوع ۵۔ سجود ۶۔ قرأت
۷۔ ذکر رکوع ۸۔ ذکر سجدہ ۹۔ تشہد ۱۰۔سلام
۱۱۔ ترتیب
یعنی اس ترتیب سے پڑھی جائے جو اوپر بیان کی جا چکی ہے ۔
۱۲۔
موالات یعنی ایک فعل کے بعد دوسرا بلا
تا خیر بجا لایا جائے کہ درمیان میں طویل خاموشی یا کوئی دوسرا شغل
حائل نہ ہو ۔
۱۳۔
طمانیّت یعنی ہر فعل اپنے اپنے مقام پر بجا لائے اور اطمینان و سکون کو کسی جزو
نماز میں ترک نہ کرے پس نماز کی حالت میں ہلتے
جُلتے رہنا درست نہیں ہے۔
۱۴۔ بعض
علماء نے جلسہ استراحت کو بھی واجب قرار دیا ہے یعنی پہلی اور تیسری رکعت میں سجدہ
سے سر اٹھا نے کے بعد تھوڑا سا بیٹھ رہنا اور پھر اٹھنا ، ان واجبات مذکورہ میں سے
پہلے پانچواں ہیں ان میں اگر عمداً کمی
بیشی ہوگی تو نماز باطل ہوگی ور نہ نہیں ۔
Leave a Reply