anwarulnajaf.com

گذارش احوال

 عرصہ ہوا وطن عزیز کی پر بہار اور دلفریب فضائے شیعیت میں
چند عاقبت تا اندیش اور نام نہار علمانے سموم انرشار چلا رکھی ہے۔ مجھے معلوم ہے
ان کا ذاتی کردار: میں جانتا ہوں انکے سربستہ اسرار۔ اور میں دیکھ رہا ہوں اُنکی
اندورنی اور بیررنی سرگرمیوں کو۔۔۔۔۔ان کا علمی حدود اربعہ : انکا روزہ مرہ مطالعہ
تاریخ و حدیث : انکا انداز و تدریس ۔ انکی افکار کی پرواز۔ انکے انجام کا آغاز سب
کچھ میری نگاہوں میں ہے۔

لیکن یہ سب کہنے کی باتیں نہیں۔ میری طرح دوسرے بھی جانتے
ہوں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے معلومات دوسروں کی نسبت نہ ہونیکے برابر
ہوں۔ میں سمجھتا ہوں۔ جس طرح خودرائی ۔ خود نمائی ۔ خود سری۔ خود پسندی اور خود
ستائی احساس کمتری کا مظہر ہوا کرتے ہیں۔ اسی طرح ڈھٹائی ۔ قلت احساس ۔شدت غضب:
دلیل کے جواب میں فتویٰ ۔ بات کے جواب میں گالی اور اخلاق کے جواب میں بدزبانی کند
ذہنی۔ علمی کمی ۔ بے عقلی ۔ اور کندہ ناتراش ہو نیکی علامات ہیں۔ دعا ہے خدا محفوظ
رکھے ہر بلا سے۔

ان بے حمیت افراد نے سر پر عمامے اور بدن پر قبائیں سجارکھی
ہیں ۔ کہلوانے کو یہ علماء ہیں۔ لیکن ان میں پانچ منٹ بیٹھنے والا معمول سوجھ پوجھ
کا انسان یہی نتیجہ لے کر نکلتا ہے کہ یہاں جہالت کی سڑ اندزیادہ ہے۔

عید کا چاند ثابت کر نیکے لئے عادل گواہوں کی شرط لگانے
والے کسی کے معاملہ میں بری بات سن کر یہ نہیں دیکھتے کہ کہنے والا سچا ہے یا جھوٹاہے؟
کیا مدعی ہے یا گواہ؟ ایک ہے یا دو ؟ بس اپنے مخاطب کی جی حضوری کرتا ہو۔ سب ٹھیک
ہے۔

یہ لکیر کے فقیر افراد کی اصلاح کرتے کرتے قوم کو انتشار کے
حوالہ کر بیٹھے اور انہیں اپنی غلطی کا احساس تک نہیں۔

توحید کے پردے میں نبوت ۔ اور نبوت کے پردے میں امامت کی
توہین انکا محبوب مشغلہ ہے۔  

دوسروں کو درس توحید دینے والے اپنے معاملہ میں بھول جاتے
ہیں کہ جو اللہ ایک بیوی سے لڑکی دے سکتا ہے وہ اسی  بیوی سے اگر چاہے تو لڑکا بھی دے سکتا ہے۔
شادیوں پر شادیاں رچائے جاتے ہیں۔ اللہ سے مایوس ہوکر عورتوں کے شکم میں لڑکا تلاش
کرنا تو عین توحیدہے۔ لیکن آل محمدؐ سے مانگنا شرک سُبحان اللہ۔

یہ عیاش منش منبر پر تو حدیث  خوانی کے کرتب دکھاتے ہیں لیکن اگر ان کے بیگ
دیکھو تو نئے نئے ڈائجسٹوں سے اٹے پڑے ہوں گے۔

اصلاح کے نام پر عزاداری میں کیڑے نکالنا انکا پسندیدہ عمل
ہے۔ غیبت میں انہیں جو لطف آتا ہے وہ تلاوت قرآن میں کہا رکھا ہے۔ غیبت سننے کے
لئے ان کے کان ترس ترس جاتے ہیں ۔ اور ذہن کھول کھول اٹھتا ہے۔

استاد کو 
نازیبا  الفاظ سے یاد کرنے سے انکی
علیمت چمک چمک جاتی ہے۔ آل محمدؐ کی شان میں جسارت پر ان کا دل بلیوں اچھلنے لگتا
ہے۔ دیانت و امانت کا یہ عالم ہے کہ کسی کی کتاب کا ترجمہ کر کے اپنے نام پر شائع
کرنے کو شرافت کا اعلیٰ معیار سمجھتے ہیں۔ اِ س سے بڑھ کر عدالت اور کیا ہوگی کہ
حوزہ علمیہ قم سے طالب علم ہونے کا شہریہ لیتے ہیں۔ اور پاکستان میں پرنسپل کی
تنخواہ ۔ کیا اب بھی عدالت مشکوک ہے؟ کیا اب بھی آپکی نماز یں درست نہ ہوں گی۔
راقم الحروف اور میرے ہم نشین حضرات تو انکی نگاہ مقدّسہ میں دین نا آشنا اور علم
سے نہی دامن ہیں۔ لیکن میں جبہ دستارمیں ملبوس ان کٹھ ملاؤں میں سے کئی ایک کی مع
ثبوت کے نشاندہی کر سکتا ہوں کہ حوزہ علیہ قم میں آجتک انکا نام طلبہ کی فہرست میں
ہے۔ وہاں سے ان کے کف گیر ماہانہ شہریہ وصول کرتے ہیں۔ اور یہاں قوم سے پرنسپل کی
تنخواہ بٹورتے ہیں اور جب منبر پر تبلیغ کے لئے بیٹھے ہیں۔ تو ان کے منہ سے درد دین
کا جھاگ ٹنوں کے حساب سے بہہ جاتا ہے۔ ڈوب کر مرجانا چاہئے ایسے لوگوں کو بہر طور
ان افراد نے ملت خیر البرّیہ کو عقائد میں الجھا کر ایک ایسی خلیج حائل کردی ہے جس
کا پاٹنا شاید ہی ممکن ہو۔ میرا ان سے کوئی واسطہ ہے نہ تعلّق۔

میں تو صرف ان سادہ لوح عوام کے لئے یہ کوشش کررہا ہوں جو
ان عماموں اور قباؤں سے مرعوب ہوکر انکی ہر بات کو وحی اِ لٰہی سمجھتے ہیں۔

آیۃ اللہ العظمی نائب امام خمینئی اعظم سے کون واقف نہیں ۔
انہوں نے ردوہابیت میں کشف اسرار لکھی ہے۔ میں نے مناسب سمجھا ہے کہ! کشف الاسرار
کا ترجمہ کرکے عوام کے سامنے رکھدوں تا کہ ملت خیر البرّیہ کے کے سادہ لوح عوام ان
گندم نما جو فروشوں کے دام فریب میں پھنسنے سے بچ جائیں ۔ اور علمائے حق اور
علمائے سوء میں التیاز پیدا کر سکیں۔

احقر
اثیر جاڑوی

۳،فروری  ۱۹۷۶

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *