anwarulnajaf.com

یہ گنبذ یہ ضریحیں:۔

شیعیان
آل محمدؐ پر منجملہ دیگر اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ آئمہ ابلیت کے
مزارات پر گنبذ اور ضریحیں بنانا بھی شرک ہے لہٰذا شیعہ مشرک ہیں۔

سابقاً
مشرک کی تعریف ہم کر چکے ہیَں اور  ہمیں ہر
دانشمند کو یقین کامل ہے کہ مشرک کی ہماری تعریف سے بیتر کرلینا آپ کی علمی
استعداد کے بس روگ نہیں۔ اس تعریف شرک کے مطابق مزارات آئمہ اہلیت وغیرہ ہم گنبذ و
ضریح سازی شرک نہیں کیونکہ

اگر
گنبذ۔ دربار اور ضریح سازی کا مقصد نبی امام ۔شہید یا امام زادہ پرستی ہو تو
یقیناًشرک ہے۔ اور ایسا کرنے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

لیکن
اگر مقصد تعمیر عظمت صاحب مزار اور احترام صاحب قبر میں استمرار و اضافہ ہو۔
زائرین کا سکون اور ذات احدیت کی عبادت مطلوب ہو تو نہ صرف شرک نہیں بلکہ اطاعت
احکام خدا ہے۔

اب
ہماری طرف سے آپکو نہ صرف اجازت ہے بلکہ درخواست ہے کہ سرور کونین اور مزارت آئمہ
و شہداء پر ہر سال آنے والے لاکھوں شیعیان آل محمدؐ سے (ہاں ایک بات نوٹ کرلیں ہم
جب بھی لفظ شیعہ بولیں گے اس سے ہماری مراد اثنا عشری شیعہ ہوگی غیر اثنا عشری
شیعہ سے ہمارا تعلّق ہے نہ واسطہ) پوچھ لیں۔

آپ
لوگ مدینہ منورہ  ء کربلا ئے معّلیٰ نجف
اشرف ۔کاظمین شریفین ۔ سامرہ مشہد مقدّس وغیرہ ضرائیح پر کس لئے آتے ہیَں۔

کیا
صاحبان مزارات کو آپ خدائے مطلق ۔ یا۔ خدائے ارض سمجھتے ہیَں؟کیا آپ ان مقامات پر
اس لئے آتے ہیَں کہ صاحبان مزارات کی عبادت و پرستش کریں ؟ اگر ایک شیعہ بھی آپ کو
اثبات میں جواب دیدے تو یقین کولیں ہم اپنا اسلام سمیٹ کو کسی گوشہ صحرائیں دفن
کردیں گے۔ اور آپ کے بتائے ہوئے دائرہ اسلام میں پناہ لے لیں گے لیکن اگر آپ کو
جواب نفی میں ملے اور

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

قبلہ
اوّل کیوں نظر نہیں آیا۔ اور اردن سے چھلانگ لگا کر عراق میں ٹپک پڑیں ؟کیا ایران
اسلامی حکومت نہیں؟ اور  کیا اسرائیل حملے
بیت المقدس سمیت مقبوضہ عرب علاقوں اسرائیلی قبضہ اور لبنان میں اسرائیل کا
وحشیانہ سلوک یہ سب کچھ اسلامی ہے؟ کہین ایسا تو نہیں کہ آپ کا اسلا یہودیت سے
ہمنوار ہوسکتا ہَے لیکن شیعوں کے ساتھ مل کر بیٹھ نہیں سکتا؟ کیا یہ شیعہ دشمنی کی
انتہا نہیں ؟ از متر جم)۔

یقیناًنفی
میں ملے گا ہماری طرح آپ کو بھی منفی جواب کا یقین ہے تو پھر ہمیں کہنے دیجئے کہ
دو باتوں میں ایک ضرور ہے۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں باتیں ہوں۔ یا تو آپ عوام
فریبی اور شیعہ دشمنی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیَں۔ اور یا آپ کو کوئی نہیں پہچانتا
اور سستی شہُرت کے حصّول کا ذریعہ آپ نے اسی راہ کو بنا رکھا ہے۔ وجہ بھی واضع ہے
۔ جب آپ نے اپنے ارد گرد دیکھا تو آپ کو ہر ایک مصروف عمل نظر آیا ہر شخص اپنے
خداداد جو ہر کی بنیاد پر معاشرہ میں کوئی نہ کوئی مقام حاصل کر چکا آپ نے بھی
اپنے لئے کوئی راہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ذاتی قابلیت کے فقدان پست ہتمی اور احساس
کمتری نے آپ کو کوئی نیا کام کرنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ حلقہ اثر پیدا کرنے کا
ضزبئہ ابھرا۔ علامہ کہلوانے کا شوق چرایا علمی سرمائے کی تہی دستی کی بدولت آپ نے
صدیوں پرانے شیعہ اعتقادات کو وہابیت کی عینک سے دیکھا اور کون نہیں جانتا کہ اتنا
عشری اعتصادات و مراسم اور وہابیت کے نظریات میں بعد المشرقین تھا۔ لہٰذا آپ نے
اپنی رہائش کے لئے بھان متی کا کنمبہ یوں جوڑا کہ کچھ روڑے تو آپ نے قرقآن کریم کی
ان آیات سے اکٹھے کئے جن میں قبل ازاسلام مشرکانہ عقائد کو مسترد کیا گیا تھا کچھ
اینٹیں وہابی و نجدی اسلام کے ٹھیکہ داروں 
سے مستعارلیں ۔ کچھ پتھر بہانی وہابی انداز فکر سے چرائے اور کچھ دوسری
ضروریات کو پورا کرنے لئے انبیاء دائمہ کے حق میں گستاخ وجسار ہفتہ وار پندرہ دن
اور ماہانہ جرائد سے حاصل کئے۔

یوں
آپ نے اپنے کو بطور علامہ روشناسا کرانے کی ایک راہ نکالی ہلاں نصرالدین قفقاری
جیسے افرادد کی یادہ گوئی میں کم ازکم قاری کے لئے قریب عبارت کی دلچسپی تو ہے
لیکن  آپ کی تحریر تو اس لذت و چاشنی سے
بھی خالی ہیں آپ کی تحریر وں میں کچھ ایسے ہوس پرستوں کے مقالات کی بوباس بھی
موجود ہے۔ جو ہردین ودیانت کے مقابل صف آرا ہیں ۔اور کہتے ہیں کے خدا اور قیامت کا
نظریہ یہ تو بے شک درست ہے لیکن علاوہ ازیں سب غلط ہے نہ تو کوئی شریعت ہے اور نہ
ہی حدود احکام ہیں۔ کہنے کو تو یہ لوگ اپنا مسلک زرتشتی بتلاتے ہیں۔ لیکن جب ان کی
افسکار جدیدہ کوزرتشتی نظریات کی روشنی میں دیکھا جائے تو تلاش کرنے والے کو یہی
نتیجہ  حاصل ہوتا ہے کہ۔

جو
کچھ زرتشت نے کہا ہے وہ نہیں جو یہ کہتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں وہ زرتشت کی
تعلیمات میں نہیں ملتا جب یہ خود نہیں سمجھ پاتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ اور کس
مکتب فکر کی ترویج کررہے ہین  پھر دوسروں
کے پلے کیا خاک پڑیگا۔

قرآنی
شہادت :-

اگرچہ
گنبد دربار اور ضریح بنان امور مباحہ میں سے اور مورمباحہ کیلئے کہ گواہ استدال کی
ضرورت نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ایسے امور کے جواز کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ان چیزوں
سے نہ تو اللہ نے منع فرمایا ہے اور نہ سرسور کونین نے منع کیا ہے جس طرح سرچھپانے
کی جگہ  کا مسئلہ ہے ذات احدیت یا سرور
کونین نے اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں لگائی جیسا بناؤ جس سے بناؤ اور
جب بناؤ بالکل اس طرح گنبد دربار اور ضرائح کے متعلق بھی یہی صورت ہے۔ لیکن پھر
بھی چونکہ مسائل کی طرح قارئین بھی صرف اس بات سے مطمئن نہیں ہوں گے اور قرآنی
استدلال کا مطالبہ کریں گے اس لئے تمام حجت کے طور پر آیت پیش کئے دئتے ہیں۔

حج
۲۳: 
ذٰلِكَۗ-وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا
مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(
۳۲)

شعار
اللہ کی تعظیم ہی پرہیز گاری کا نتیجہ ہے شعار اللہ کی تعظیم کو ذات احدیت نے
نوازیت قلبی سے تعبیر فرمایا ہے۔ اب ان لوگوں کو کون سمجھائے کہ شعائر اللہ کی
تعظیم میںشعار اللہ کے مقامات پر دلکش جاذب نظر قابل رعربت اور پرکشش ہونا بھی
ضروری ہے تاکہ ان مقامات پر عبادت خدا کے لئے آنے والے بھی اپنے دل میں عظمت محسوس
کرسکیں ہماری طرح آپ بھی اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ ان مقامات مقدسہ میں
آنے والوں کی تعدادلاکھوں تک پہنچتی ہے اور اگر ان زائرین کی خاطر عبادت رب العزت
کیلئے ایک جاذب نظر مسجد تعمیر کردی جائے تو کیا یہ شرک ہوگا؟

نور۳۲؎:                                                                           فِیْ
بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗۙ-یُسَبِّحُ
لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ(
۳۶)

(آیت
نور کے بعد ارشادباری ) وہ قندیل نور ایسے گھر میں ہے کہ ذات احدیت اسے بلند
ترکرنے کی اجازت دے رکھی ہے تاکہ اس گھر میں اللہ کا نام لیا جائے اور صبح وشام
تسبیح خالق اد اکی جائے ۔

اب
دیکھئے کہ کیا آئمہ اہلیت کے مزارات مقدسہ وہی گھر نہیں ہیں جہاں صبح و شام تسبیح
خدا ہوتی رہتی ہے۔ آنیوال ذکر خدا میں مصروف رہتے ہیں ؟ کیا انہی گھروں کی رفعت و
سربلندی  کی اجازت نہیں دے رکھی ہر دانشمند
اس حقیقت سے آشنا ہے کہ ظاہر ی عظمت و شکوہ کا اثر دیکھنے والوں کے دلوں پر کتنا
اور کیسے ہوتا ہے ؟ پررونق ملک اور باعظمت مکان 
ہر دیکھنے والے کی نگاہ کو نیچا کردیتا ہے یہ حقیقت ہے کہ قرآن اور صاحبان
قرآن اسالامی بزرگوں کی عظمت ان کی صداقت گفتارا بلندی کردار رفعت افکار تربیت
عقول تعلیم اور اطاعت خدا و رسول میں ہے ۔ لیکن چونکہ ہماری ظاہربین نگاہیں ان کی
باطنی عظمت کو ظاہری ہار ہواور مادی رنگ وبو میں تلاش کرتی ہیں ہماری فکر خام عظمت
مکین کو عظمت مکان میں ڈھونلاتی ہے۔ اس لئے السلام نے تمام ان مقامات کو جن میں
عبادت معبود کی جاتی ہے ذات احدیت نے شعائر اللہ کی فہرست میں شمار کرکے آئین
اسلام کا جزوہ لازم قرار دیا ہے۔

تاکہ
تمام وہ افراد اور تمام وہ ممالک جو آدب انسانیت اور انسانی اقدار سے تہی دست ہونے
کی بدولت عظمت انسان کی علامت سرتا یا ظاہری اور مادی وسائل کو گردیتے ہیں۔ اسلامی
مقامات عبادات کو بھی اسی نگاہ سے دیکھیں گے۔ اسالام نے انہیں بھی مایوس نہیں کیا
اور اپنی ظاہری شان و شوکت کا مطاہرہ انہپی مقامات عبادات کی صورت میں پیش کرکے ان
کی آنکھیں خیرہ کردی ہیں اور اسالام نے ہر ایسے شخص کو جو صداقت اسالام کی علامت
اسلامی تمدن کو سمجھ کر اسلام کا مطالعہ کرنا چاہئے تو مقامات عبادات اور یادگار
ہائے بزرگان دین کی پرشکوہ عمارات کے سامنے اس کا سرغرور خم ہوجائے ۔ اور اپنی فکر
فارس کے مطابق صداقت اسلام کا اعتراف کرلے۔

حرم
اور ضریحوں کی ایجاد:-

تعصب
سے اندھے ان بے مغرور اور تاریخ نا آشنا سرپھروں نے جب کربلا سامرا کاظمین اور
ایران میں آئمہ اثنا عشر مزارات کی عظمت و شکوہ کو دیکھا تو ان کے سر چکرا گئے
۔اور فوراً چیخ اٹھے کہ یہ کام صرف شیعوں کا ہے اور یہ شرک ہے۔

حالانکہ
نہ ان کا یہ دعویٰ درست ہے اور نہ ہی یہ خیال حقیقت پر مبنی ہے آئیے اور اپنے
خیالات فاسدہ کا تانا بانا ٹوٹتا دیکھنے بقول آپ ک گنبد اور ضریح سازی شرک ہے اور
یہاں زیارت کو آنے والے مشرک ہیں تو پھر بتائیے کیا صرف شیعہ مشرک ہوں گے؟ سرزمین
عراق میں نجف کربلا ہے  کاظمین اور سامرہ
کے علاوہ ایک جگہ اور بھی ہے بغدار ذرا دیکھئے وہاں گنبد بھی بنا ہواہے دربار بھی
سجا ہواہے اور زائر بھی آرہے ہیں جو کم ازکم شیعہ نہیں ہیں۔ یہ امام حنیفہ اور شیخ
عبدالقادر گیلانی کے مزار ہیں ۔اب ذرا آگے چل کر میدینہ منورہ شریف لے جائے آپ کو
معلوم ہے کہ مدینہ وہابی نقطہ نظر کے عین وسط میں واقع ہے ذرا آنکھ اُٹھا کر
دیکھئے گنبد خضراء نظر آئے گا۔ اس گنبد حضراء کے نیچے آستہ دردبارا ہے ۔اور یہاں
رحمت کائنات استراحت فرمائے، اب سوچئے کتنے لاکھ حجاج بیت اللہ ہر سال  مکہ  میں
آتے ہیں اور مکہ آنے والے وہ کون حاجی ہے جو مدینہ گنبد خضراء کی زیارت کو نہیں
آتا؟

ان
مقامات کو چشم تصور میں جگہ دے کر اب فرمائیے کہ۔

کیا
صرف شیعہ گبند دربارا بناتے ہیں یا اہل سنت بھی ان کے برابر کے شریک ہیں؟

کیا
صرف شیعہ مشرک ہیں یا ن کے ساتھ ابوحنیفہ شیخ عبدالقادر اور سرور کونین کے مزارات
پر گنبد اور دربارا بنانے والے اور یہاں زیارت 
کو آنے والے بھی اس جرم میں شیعوں کے شریک ہیں۔؟

کیا
مدینہ منورہ سر زمین میں نہیں ؟کیا گنبذ خضراء مدینہ میں نہیں؟

اگر
شیعہ اس جرم میں مشرک ہیَں۔ تو پھر شیخ عبد القادر امام حنیفہ ۔ اور سرور کونین کے
مزارات پر تشریف لانے والے لاکھوں افراد بھی اس شرک سے نہیں بچ سکیں گے۔ اور توحید
نجدی گلہ بانوں کی جیب میں نہیں رہے گی۔ کیونکہ گنبذ خضراء انہی کے سینہ میں واقع
ہے۔ آیئے ان باتوں سے ہٹ کر ذرا ایک اور نقطہ پر غور کریں ۔ ممکن ہے کچھ ہاتھ
آجائے ذرا تو جہ فرمائیے کہ

بیت
اللہ کیا ہے؟                                  یہی پتھروں سے
چنی ہوئی چار دیواری

حجر
اسود کیا ہیں؟  ایک سادہ سا سیاہ پتھر

صفا
مروہ کیا ہیں؟ دو چھوٹے چھوٹے پہاڑی ٹیلے

ہر
سال لاکھوں مسلمان پتھروں سے نبی چار دیواری کے ارد گرد گھومتے ہیں۔ حجر اسود کو
بوسہ دیتے ہیَں۔ اور صفا ومروہ کے درمیان برہنہ پا۔ برہنہ سر دوڑتے پھرتے ہیں۔ کیا
طواف کعبہ ۔ بوسہء حجر اسود اور صفا کے درمیان دوڑنے والے کعبہ پرست بن جاتے ہیَں
یا سنگ پرست ہوجاتے ہیں یا کوہ پرست بن جاتے ہیَں۔

کیا
یہ کعبہ اسود ۔ صفا و مروہ کی عبادت کہلائے گی؟

کیا
ان لاکھوں مسلمانوں کو کعبہ کی کسی دیوار ۔ حجر اسود کے کسی گوشیہ یا صفا و مروہ
کی کسی چٹان میں خدا بیٹھا نظر آتا ہے؟

اب
بتایئے کیا یہ شرک ہے یا اطاعت احکام خدا؟

اگر
یہ سب کچھ شرک ہے تو پھر مناسب ہوگا کہ درباروں اور گنبذوں کی مخالفت سے قبل کعبہ
کو گرادیا جائے حجر اسود کو اکھیڑ کر پھینک دیا جائے ۔ اور صفا و مروہ کے پلاٹ بنا
کر رہاشی بستی کے لیے نیلام کردیا جائے کہ جو بھی رب العزت کے حضور پیش ہونا چاہے
اسے کسی پہاڑ ۔ پتھر یا دیوار کو وسیلہ نہ بنانا پڑے ہر شخص براہ راست خدا تک پہنچ
جائے۔

ایک
دن سنگلچی کی کتاب ۔ توحید و عبادت پڑھ رہا تھا۔ ایک جگہ لکھا تھا، چونکہ عقیق کی
انگوٹھی ہاتھ میں رکھنا شرک

۱؎                             ہے لہذا میں نے
اتارا پھر عازم حج ہوا۔،مجھے اس بے شعوری اور کم فکری پربے پناہ ہنسی آئی اور میں
سوچنے لگا کہ

یہ
توحید نواز جب مکہ ّ گیا ہوگا۔ تو اس نے کیا کیا ہوگا۔ کیا دیوار کعبہ کے پتھروں۔
حجر اسود ۔ صفا مروہ کو خدا سمجھا ہوگا۔ یا اسے پتھر میں کہیں خدا بیٹھا نظر آیا
ہوگا۔

بلندیء
قبر:۔

یہ
کورباطن اور گانٹھ کے پورے ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ احادیث میں قبر کو چار
انگل سے زیادہ بلند کرنے کو منع کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں احادیث میں قبر پر پانی
چھڑکنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ جس کا واضع مطلب یہ ہے کہ نشان قبر بالکل مٹادیا
جائے۔ کیونکہ پانی چھڑکنے اے جو چار انگل زمین سے بلند ہُوئے تھے زمین کے برابر
ہوجائیں گے۔

جواب۱؎                       اگر شرک و بدعت کے ان
ٹھیکہ داروں کی تڑپ اور اضطراب کا بہنظر غائیز جائزہ لیا جائے ۔ تو اس کا ماحصل یہ
ہے کہ یہ عدیم العقل حکم امام کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتے ۔ ان کے ذہن میں
اٹھنے والے مروڑ کی وجہ واضع ہے۔ کہ کیونکہ آئمہ کرام علیھم السلام نے حکم دیا ہے
کہ قبر چار انگل سے زیادہ بلند نہ ہو۔ اس لئے یہ اس حکم کی مخالفت برداشت نہیں کر
سکتے ۔ اور اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کو مشرک سے کم نہیں سمجھتے جزا ہم اللہ
خیر الجزاء۔

کاش
ان لوگوں کو قبرستان سے باہر آباد دنیا کے بازاروں ۔ سڑکوں ۔ جواء خانوں ۔ شراب
خانوں ہارس ریسز ۔ ثقافتی جلسوں ۔ سودی بینکوں ۔ دودھ میں ملائے جانے والے پانی ۔
اور ان جیسے دیگر مقامات میں بھی احکام خدا اور احادیث آئمہ بھی نظر آجائیں ۔ اور
جس طرھ چار انگشت سے بلند قبریں دیکھ کر ان کی اسلامی غیرت میں اُبال  آنے لگتا ہے۔ اس طرح  مذکورہ مقامات پر بھی انکی حمیت ،

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱؎                       (از مترجم ۔ گویا شخص بقول
خود پہلے تو مشرک رہا۔ علامت شرک دور کرنے کی ضرورت صرف حج پر جانے کے لئے محسوس
ہوتی۔ بنا بریں اس شخص کا اپنی بیوی کے متعلّق کیا خیال ہوگا۔ اور جتناء اس نے
علامت شرک انگشتر عقیق پہنے رکھی اس عرصہ میں اس کی جواولاد پیدا ہوئی ہوگی وہ کس
حاکم میں ہوگی۔ )

میت
اسلامیہ میں گرمی پیدا ہوتی۔ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیگر جرائم کے خلاف لب کشائی
پر تو ان کی نانی مرتی ہے۔ جام شراب چلتے ہیں چلا کریں۔ ثقافتی طائفے نیم عریاں
رقص پیش کرتے ہیں ان کی اسلامی غیرت میں فرق نہیں آتا۔ اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کی
جاتی ہے لیکن یہ متدین افراد منقاد زیر رہتے ہیَں۔ نسل نوکر کو شراب خور کار سیا
بنایا جارہا ہے۔ ان کا اسلام محفوظ ہے راگ رانگ کی محفلیں سجتی ہیِں۔ مسلم بہو
بیٹیوں کو طبلے کی تھاپ پر ناچ اور گانے کے راس دیئے جاتے ہیں۔ یہ لوگ خاموش ہیَں۔
آخر اِس خاموشی اور اُس زبان درازی کا راز کیا ہے؟

اس
متضاد کردار سے ہر دانشمند یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ یہ زبان درازی مخالفت احکام
ائمہ کیلئے نہیں بلکہ ائمہ کرام اور انبیاء علیھم السلام کی پر عظمت اور باشکوہ
مزارات ان کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹکتی ہیِں۔ اور جب یہ لوگ بلاواسطہ ایسی بات
نہیں کر سکتے تو بالواسطہ آئمہ و انبیاء کے مقام ارفع کو پست کرنے کی خاطر ہاتھ
پاؤں مارتے پھرتے

ہیں
۔ جبکہ ہمیں قسم مقّدسہ اور تہران میں تمام مصروفیات کا نجوبی عِلم ہے۔

۲۔
آپ کا مطالبہ ہے کہ آئمہ معصومین کی احادیث پر عمل کیا جائے ۔ اور آپ کی خواہش ہے
کہ صرف ایک قسم کی احادیث کو نہ لیا جائے ہم آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن
ایک گذارش ہم بھی کردیں کہ جن لوگوں نے مزارات مقدسہ اور گُنبذ بنائے ہیں آخر
انہوں نے بھی تو احادیث کو دیکھا ہوگا۔ احادیث مثبتہ کی طرح احادیث مانعہ بھی ان
کی نگاہ میں ہوں گی۔ بنابریں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں نے احادیث مانعہ کا
مفہوم یہ نہیں سمجھا  ہوگا جو آپ نے سمجھ
رکھا ہے۔

۳۔
ایک سیکنڈ کے لیے ہم مان لیتے میں کہ گنبذ و مزار سازی میں ہم احکام آئمہ کی
مخالفت کر بیٹھے تو کیا اس مکالفت سے ہم دائرہ اسلام سے خارج ہوگئے؟

۴۔
اگر یہ مان لیا جائے کہ چار انگشت سے زیادہ بلندی قبر مکروہ ہے۔ بھلا یہ بتایئے کہ
گنبذ۔ مزار کے گرد اگر د مسجد ۔ رواق۔ صحن۔ اور ضریع کو قبر سے کیا تعلّق ہے؟               یہ چیزیں تو قبر کا جز شمار نہیں
ہوتیں ۔ اگر آپ سے کوئی کہے کہ قبر پر ہاتھ رکھ کر فلاں دعا پڑھیں  تو کیا آپ گنبذ ۔ مسجد۔ رواق۔ یا صحن پر ہاتھ
رکھیں گے؟ذرا تعصّب سے علیحٰدہ ہوکر ملاحظہ فرمایئے۔ گنبذ۔ ضریع۔ اور گرد اگرد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱؎                 (سرگودھاخوشاب اور ملتان از مترجمہ )              (اور انشاءاللہ ہم آپ کے ان مذموم
مقاصد کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اور بنیان مرصوص کی طرح آپ کی ہر پالیسی
کو بے نقات کرکے قرآنی اور عوامی عدالت میں پیش کرتے رہیِں گے۔ از مترجم)

مسجد
وغیرہ کا مزار سے تعلّق نہیں۔ یہ سب چیزیں مزار پر بنی ہوتی ہیں مزار نہیں ہوتین۔
اس کے باوجود بھی اگر آپ اسی بات پر اصرار کریں ۔ اور۔ گنبذ و ضریع کو ناجائز ثابت
کرنے کی خاطر یہ کہیں کہ میرے خیال کے مطابق احادیث میں جو چار انگشت سے زیادہ منع
کیا گیا ہے۔ اس کا مفاد یہی ہے کہ مزارات کے ارد گرد بھی کچھ نہ بنایا جائے تو پھر
ہم گذارش کریں گے کہ اگر آپ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ آیات و احادیث کے معانی اپنی
مرضی و خواہش کے مطابق خود طے کریں تو یہی حق ہمیں بھی پہنچتا ہے  ۔ اور ہم گنبذ ۔ ضریع اور رواق وغیرہ کو نہ
مزار سمجھتے ہیں۔ نہ جزد مزار اور نہ ہم آپ کے مقلد ہیِں سب سے بڑھ کر آپ یہ دعویٰ
تو کر سکتے ہیں۔ کہ میرا معین کردہ معنی یہ ہے ۔ لیکن آپ اس دعویٰ کو نہ تو حتما
درست کہہ سکتے ہیَں۔ اور نہ ہی درست

ثابت
کر سکتے ہیں۔ اس طرح آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ معنی صرف وہی ہے جو آپ نے کیا ہے۔
کوئی دوسرا معنی ہو ہی نہیں سکتا۔

۵۔
قرآن و حدیث کے معنی معین میں جو سب سے بڑی غلطی اور اشتباہ ہوا ہے وہ یہی ہے کہ
آپ نے اپنے کو علماء کی فہرست میں شمار کرلیا ہے۔ حالانکہ  دیگر ٹیکینیکل اُمور کی طرح عربی زبان کے معانی
 و مفاہیم معین کرنے کے لئے بھی اتنے ہی
تجربہ کی ضرورت ہے جتنا ایک مکینک کو تکنت کی امور میں مہارت حاصل کرنے کے طویل
تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چند دن میں مدرسہ میں رہ جانے سے انسان قرآن و حدیث کے
معانی  سیکھ تو سکتا ہے لیکن تعیین معانی
کی صلاحّیت پیدا نہیں کر سکتا۔ اجتہاد علم کا معمول حِصّہ نہیں بلکہ اس لئے دسیوں
برس درکار  ہوتے ہیں ۱؎                            ۔

۶۔
وسائل کی کتاب مزار ۔ جو اہر کی کتاب طہارت ۔ اور منہج الرشاد کے حوالہ سے صرف ایک
حدیث پیش کرتا ہوں جس میں ۲ دو امور واضع ہوں گے۔

۱۔
آئمہ معصومین نے مدفن ہائے معصومین کی تعمیر کے لئے کتنی تاکید فرمائی۔

۲۔
خود غرض افراد نے احادیث میں قطع و برید کس طرح کی۔ اپنے مطلب کے جملے کس طرح لئے
اور خلاف مطلب فقرات کو کس طرح چھوڑا۔

شیخ
طوسی علیہ الرحمۃ نے اپنے سلسلہ سندسے اہل حجاز کے واعظ ابو عامر سے نقل کیا ہے۔
ابو عام کہتے ہیَں۔ کہ حضرت جعفر سادق علیہ السلام کی خدمت میں ھاجر ہوا اور عرض
کی۔

بابن
رسول اللہ اگر کوئی شخص علی علیہ السّلام کی زیارت کو جائے اور ان کے مزار معنیٰ

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱؎                  (بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا از
مترجم)

کی
تعمیر کرے تو اسے کیا اجر ملیگا؟آپ  نے
فرمایا ۔ اے ابو عامر !میرے والد نے اپنے دادا امام حسین علیہ السلام سے روایت کی
ہے کہ ایک دن سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ اسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے
فرمایا۔

یا
علی ؑ ! مجھے اپنے باپ کی قسم تو عراق میں جائے گا اور وہیں دفن ہوگا۔

حضرت
علیؑ:۔ ہماری زیارت کو آنیوالے اور ہموری مزارات کی تعمیر کرنے والوں کو کیا اجر
ملے گا؟

سرور
کونین ؐ:۔یا علی ؐ ! قدرت نے تیرے اور تیرے اولاد کے مقامات دفن کو جنّت کے ٹکڑوں
میں ٹکڑا مقرر کیا ہے ۔ اور ذات احدیت نے عہد 
کر رکھا ہے جو لاگ تیری اور تیری اولاد کی زیارت کو آئیں گے۔ آپ لوگاں کے
مزارات تعمیر کریں گے اور اس سلسلہ میں مصائب و آلام برداشت کریں گے۔ یہ افراد
میری شفاعت مخصوصہ کے مستحق ہوں گے۔ حوض کوثر پر ان لوگوں کو مین اپنے ہاتھ سے جام
کوثر دوں گا۔ اور جنّت میں میری زیارت کا خصوصی شرف الٰہی افراد کے لئے مخصوص
ہوگا۔

یا
علیؑ:۔ آپ کے مزارات تعمیر کرنیوالوں کا مقام وہی ہے جو مسلمان ابن داؤد کے ساتھ
بیت المقدس تعمیر کرنے والوں کا ہے۔

یا
علی ؑ!     تمہاری زیارت کرنیوالوں کو حج
واجب کے سوا ستّر حجوں کا ثواب ملے گا۔ تمہارے زائرکے تمام گناہ دربار باری سے
معاف ہوجائیں گے اور زیارت کے بعد زائریوں ہوجائے گا۔ جیسے وہ شکم مادر سے بیداغ
آیا تھا۔ یا علیؑ! تجھے بشارت ہو۔ اپنے چاہنے والوں کو ایسی نعمات جنّت کی خوشخبری
دے جنہیں آنکھوں نے دیکھا نہ ہوگا۔ کانوں نے سنا نہ ہوگا۔ اور وہم و گمان نے تصّور
نہ کیا ہوگا۔

ہاں
یا علیؑ!           چند کمینے افراد تمہارے
مزارات کی زیارت سے سادہ لوح عوام کو اس طرح راکیں گے جس طرح کسی فاحشہ کو بدکاری
سے روکاجاتا ہے۔ یہ لوگ میری امت کے شر پسند افراد ہوں گے۔ اللہ انہیں نہ تو میری
شفاعت نصیب کرگا۔ اور نہ ہی یہ لوگ حوض کوثر سے قطرہ آب حاصل کر سکیں گے۔ اس طویل
حدیث کو نقل کرنے کا مقصد صرف دو نکات ہیَں۔

۱۔
اس روایت اور اس جیسی دیگر بے شمار روایات کو ان روایات سے مربوط کیا جائے جن میں
چار انگشت کے برابر بلند کرنے کی وصیّت کی گئی ہَے۔ بطور نتیجہ یوں کہہ لیں۔

ایک
قسم ایسی روایات کی ہے جن میں چار انگشت سے بلند قبر سے روکا گیا ہے۔ اور ایک قسم

ایسی
روایات کی ہے جن میں تعمیر مزارات کے لئے اجر عظیم کی بشارت دے گئی ہے۔ اب دونوں
قسم کی روایات مین تطبیق یوں ہوگی کہ

مزاو
سازی سے ممانعت نہیں مزار بناؤ لیکن نفس مزار کو چار انگشت سے زیادہ بلند مت کرو
البتہ اس کے گرد اگرد ایسی تعمیرات جو عظمت کی نشاندہی کریں ۔ نہ صرف جائز ہیَں
بلکہ مرغوب نبی ؐ اکرمؐ ہیں ۔

۲۔
مذکورہ حدیث اور اسی جیسی دیگر احادیث میں زیارت آئمہ اور تعمیرات مزارات سے روکنے
والوں کو،کور ، کوڑا، سے تعبیر کیا گیا ہے۔ الفاظ حدیث ملاحظہ خط ہوں۔

و لکن حثالۃ من الناس             لیکن
لوگوں میں سے کوڑا کرکٹ تمہارے مزارات کی

یعیرون زوار قبور کم۔        زیارت کو آنے والوں کو طعنہ زنی کریں گے۔

حُثالہ
جو اور گندم کے اس چھلکے کو کہتے ہیَں جسے اتار پھینکنے ہیَں جسے اتار پھینکنے کے
بعد جو اور گندم کھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ جس بیہودہ سرانے مزارات مقدمہ کے تعمیر
کنندگان کو کوڑا کرکٹ سے تعبیر کرتے ہوئے ان الفاظ میں مرزہ سرائی کی ہے کہ، سب سے
پہلے اس ہزار سالہ کوڑا کرکٹ کو دور کرنا ہوگا؟، ایسے افراد زبان وحی کے مطابق خود
کوڑا کرکٹ ہیَں۔ اور اُمت  مسلمہ کو چاہیئے
کہ ماسلام کے مقدّس وجود کو کوڑا کرکٹ کی گندگی سے صاف کرکے۔

اب
آیئے ذرا حضرت علی کی اس روایت کا معنی بھی آپ کو سمجھا دیں۔ جس میں آپ نے فرمایا
ہے کہ جس قبر کو بھی چار انگشت سے زیادہ بلند دیکھو اس کو برابر کردو۔

اور
جو تصویر دیکھو اسے مٹاڈالو۔

آپ
نے کوشش تو کی ہے کہ یہ حدیث آپ کے تصوّرات کا ساتھ دے لیکن شوئی قسمت حدیث آپ کا
ساتھ نہ دے سکی ۔ ایک مرتبہ پھر الفاظ حدیث دیکھ لیجیئے۔

ولا قبراً مشر فاالا سومتیہ۔                  کوئی بلند قبر نہ دیکھو مگر اسے
برابر کردو۔

اب
ذرا اس حدیث کا مقام بیان بھی ملاحظہ فرمائیے۔ شاید آپ کے علم مین نہ ہو کہ اس دوب
مچھّلی نما قبر بنائی جاتی تھیں ۔ اسی لئے آپ نے فرمایا ہےسویتہ ۔ یعنی چاروں
گوشوں کو برابر کردوں ہم بھی یہی کہتے ہیَں کہ قبر کو مچھلّی نما نہیں ہونا چاہیئے
۔ یہاں تسویہ۔ تسنیم کے مقابلہ میں ہے۔ تسویہ محو کے معنی میں نہیں۔ اگر نشان قبر
مٹانا مقصود ہ ہوتا تو سویتہ کی جگہ محفوظ فرماتے ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں ۔
کیونکہ آپ بذات خود عربی لغت سے ناواقف ہیَں۔ اور جو کچھ آپ نے لکھا ہے وہ مگالطہ
انداز کتب سے سرقہ کیا ہَے۔

علاوہ
ازیں اگر ہم حضرت علی کے کلام کو اسی معنی پر معمول کرلیں جو اپ نے کہا ہے جب بھی
مزارات آئمہ و انبیاء کی تعمیر اور ان کی زیارت سے  تو یہ حدیث قطعی مانع نہیں۔ کیونکہ وہ وقت ہی
ایسا تھا کہ ابھی تک شرک کے اثار باقی تھے۔ جیسا کہ مؤرخین نے لکھا ہے کہ اس دور
میں بھی بعض لوگ مزارات پر تصویر رکھ کر ان کی پوجا کر لیا کرتے تھے ۔ اگر آپ نے
قبور پرستی کے خلاف یہ فرمایا بھی ہو تو ہمیں کیا اختلاف ہوسکتا ہے ہم آج بھی یہی
کہتے ہیَں کہ اگر کوئی شخص کسی امام یا نبیؐ           کا مزار اس نیّت سے بناتا ہے کہ اس کی
عبادت کروں گا۔ یا وہاں اس لئے جاتا ہے کہ پُوجا کروں گا۔ تو وہ یقیناً مشرک ہے۔

ذرا
تاریخ سے پوچھئے ۔ تاریخ آپ کو بتائے گی کہ جس دور میں حضرت علیؑ نے یہ ارشاد
فرمایا ہے اس وقت بھی نہ صرف حجاز میں ایسی قبور موجود تھیں بلکہ حضرت علی کی اپنی
قلمر و عراق میں بھی ایسے مزارات موجود تھے۔ جن کی پرستش کی جاتی تھی اور جنہیں
حضرت علی نے مسمار کرادیا ۔

۷۔
آپ کے لئے ہر آیت ہر حدیث اور ہر دلیل سے بڑھ کر حضرتؐ ابو بکرؐ و عمر و عائشہ
حضرتؐ عمر عائشہ ۔ اور حضرت عائشہ کا عمل موجود ہے۔ اگر آپ مزارات آئمہ پر گنبذ
سازی کو منع فرمائیں گے اوریسے کرنے والوں کو مشرک کہیں گے تو مذکورہ حضرات کو آپ
کس خطاب سے نوازیں گے۔ دیکھئے تاریخ ۔ سرور کونین کی رحلت ہوتی ہے۔ تین دن تک
سقیفہء نبیؐ ساعدہ میں خلافت کی چکی چلتی ہے۔ چوتھے دن حضرت ابو بکر دستار داما سر
پر رکھ کر تشریف لائے ہیں۔ اور سرور کونین کوام المومنین عائشہ کے حجرہ میں دفن
کرتے ہیں۔ ہے کوئی ایسی روایت آپ کے پاس جس میں یہ لکھا ہو کہ ام المومنین عائشہ
کے حجرہ کی چھّت گرادی گئی تھی؟

دیکھئے
حضرت ابوُ بکر ۔   حضرت عمر  اور حضرت عائشہ تینوں کا مشترکہ عمل ہے سرور
کونین ؐ زیر سقف رکھ دیئے گئے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

پھر
حضرت ابوبکر فوت ہوجاتے ہیَں۔ حضرت عمر اور حضرت عائشہ نے اسی حجرہ میں سرور کونین
کے پائنتی حضرت ابو بکر کو دفن کردیا۔ کسی نے نہیں کہا چھْت اور گنبذ مین فرق نہیں
لہذا زیر گنبذ دفن نہ کرو۔ لیجئے حضرت عمر فوت ہوتے ہیَں۔ اور ام المومنین اسی
حجرہ میں حضرت ابو بکر کے پائنتی دفن کراتی ہیں۔ اب آیا خیال شریف میں اگر مزارات
آئمہ کے گنبذ شرک ہیَں تو پھر ان دو اصحاب اور ایک ماں کا فعل کس نام سے یاد کیا
جائے گا؟ اگر مزارات آئمہ کے گنبذ گرانا ضروری ہیَں۔ اور گنبذ خضراء کسی خوشی میں
کھڑا رہے گا۔ نجف کربلا تشریف لانے سے پہلے مدینہ جاکر گنبذ خضراء کو مسمار کرنا
ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں اس موضوع پر مزید کفتگو موجب تطویل ہوگی۔ اب فیصلہ

قارئین
کے ہاتھ ہے۔

                        ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *