’’قمقام ص۳۷۸‘‘ میں ’’الدرّالنظیم‘‘ سے منقول ہے کہ خدا وندکریم نے چارہزار
ملائکہ بھیجے اورامام مظلوم ؑ کونصرت اورشہادت میں اختیاردیا گیا لیکن آپ ؑ نے
شہادت کو اختیا رفرمایا۔
’’کامل
الزیارات‘‘ سے منقول ہے کہ چارہزار فرشتے آئے لیکن امام مظلوم ؑ نے ان کواذنِ
جہاد نہ دیا وہ واپس چلے گئے اورجب دوبارہ پلٹے توامام ؑ شہید ہوچکے تھے پس وہ
امام ؑ کی قبر کے مجاورہیں اورقیامت تک خاک آلودہوکرمجاور رہیں گے اورماتم کرتے
رہیں گے۔۔ ان فرشتوں کے رئیس کا نام منصور ہے اورامام جعفر صادقؑ سے منقول ہے کہ
وہ ہرزائرکا استقبال کرتے ہیں اورہروداع کرنے والے کی تشییع کرتے ہیں اوراگر کوئی
بیمار ہوجائے تو اس کی تیمارداری کرتے ہیں اوراگر زائر مرجائے تواس کا جنازہ پڑھتے
ہیں اوراس کی موت کے بعد قیامت تک اس کیلئے استغفارکرتے رہیں گے اوریہ فرشتے حضرت
قائم آلِ محمد کی انتظار میں ہیں۔
اسحق بن عمار سے مروی ہے کہ میں امام جعفر صادقؑ کے ہمرکاب حائر میں مشغول
نماز تھا اوروہ عرفہ کی رات تھی میں نے دیکھا میرے اردگرد پچاس ہزارنورانی جوان
مصروف نماز ہیں جنکے بدن سے خوشبومہکتی ہے طلوع صبح کے بعد میں نے دیکھا توان میں
سے کوئی آدمی بھی موجود نہ تھا میں نے امام ؑ سے دریافت کیا تو آپ ؑ نے فرمایا
روز عاشورا سرزمین کربلاسے پچاس ہزار ملائکہ گزرے تھے جب وہ ملاء اعلیٰ میں پہنچے
توخطاب خداوندی ہوا کہ تم میرے حبیب کے فرزند کے پاس سے گزرے اوراس کی مدد تم نے
نہ کی چنانچہ وہ واپس آئے پس قیامت تک وہ آپ ؑ کی قبرکے مجاور رہیں گے۔