التماس سورہ فاتحہ برائے والد بزرگوار،جملہ مومنین و مومنات،شھداۓ ملت جعفریہ ، خصوصاً وہ جن کا کوئی سورہ فاتحہ پڑھنے والا نہ ہو۔ یہاں کلک کریں

Search Suggest

پانچواں خطاب ( خطاب بدرگاہِ ربّ العزت )

کتب سیرمیں اس مقام پربی بی عالیہ کا پانچواںخطاب بدرگاہ رب العزت منقول ہے کہ منہ آسمان کی طرف کرکے عرض کیا!  اے پالنے والے!
اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ   مِنَّا ھٰذَا الْقُرْبَان یااللہ ہماری اس قربانی کوقبول فرما۔
لاشوں کی پامالی کے متعلق روایات اکثر کتب معتبرہ میں موجود ہیں اوراس کے مقابلہ میں ابوالحارث کی روایت بھی اکثر کتب معتبر ہ میں پائی جاتی ہے کہ جب ان بے حیاوں نے پامالی کا ارادہ کیا توحضرت فضہ ؑ کنیزاہل بیت نے عرض کیا اے بی بی میں سناہے کہ آپ کے نانا کے آزادکردہ غلام (سفینہ) کی کشتی دریا میں شکستہ ہوئی تھی اور جزیرہ میں اس پر ایک شیر نے حملہ کیا تھا تو سفینہ نے کہا تھا اے شیر میں محمد مصطفیٰ رسول خدا کا آزاد کردہ غلام ہوں، پس شیر نے بجائے نقصان دینے کی اس کی پوری خدمت کی اور اپنی گستاخی کی معذرت بھی چاہی تھی۔
اے بی بی! اب ہمارا اور کوئی چارہ نہیں ہے اگر آپ حکم دیں تو یہاں بھی ایک شیر رہتا ہے میں اس کو اطلاع دیتی ہوں، چنانچہ فضہ ؑ نے شیر کو آواز دی: اے ابوالحارث مظلوم کربلا۔۔ فرزند رسول امام حسین ؑ کی لاش آوارہ بن میں بے گوروکفن ہے اور لوگ سم اسپاں سے لاش مطہر کو پامال کرنا چاہتے ہیں؟ پس شیر نے سنا اور گونج مارتا ہوا مقتل میں پہنچا اور تمام لاشوں میں پھر پھر کر آخر امام مظلوم ؑ کی لاش کو ڈھونڈ لیا اور بازو پھیلا کر بیٹھ گیا اور پہرہ میں مشغول ہوا، جب عمر سعد کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے ارادۂ فاسدہ کو ملتوی کر دیا۔
ممکن ہے کہ ایک دفعہ گھوڑے دوڑائے گئے ہوں پھر دوسری مرتبہ ارادہ رکھتے ہوں اور شیر نے روک دیا ہو۔۔   واللہ اعلم
’’مخزن البکأ‘‘ میں ہے جناب سکینہ خاتون نے اپنے پدربزرگوار کی لاش سے لپٹ کر بہت بین کئے اور جب ان ملاعین نے الگ کرنا چاہا تو بی بی بابا کی لاش سے لپٹ گئی۔۔ پس چند ملعون اکھٹے ہوئے اور زبردستی بی بی کو لاش مظلوم ؑ سے جدا کر دیا، بی بی سے روایت ہے کہ عالم غشی میں مَیں نے بابا سے سنا:
شِیْعَتِیْ مَا اِنْ شَرِبْتُمْ مَائَ عَذْبٍ فَاذْکُرُوْنِیْ
اَوْ سَمِعْتُمْ بِغَرِیْبٍ اَوْ شَہِیْدٍ فَانْدُبُوْنِیْ
مروی ہے حضرت امام علی زین العابدین ؑ مخفی طور پر تشریف لائے اور بستی غاضریہ کے قبیلہ بنی اسد کے لوگوں کو ملا کر لاشہ ہائے شہدأ کو دفن کیا۔
’’مقتل عبدالرزاق‘‘ میں ہے کہ جب امام حسن ؑ کو زہر دی گئی تو امام حسین ؑ نے بھائی کی حالت کو دیکھ کر گریہ کیا، پس امام حسن ؑ نے فرمایا بھائی جان! مجھے تو زہر دی گئی ہے لیکن آپ ؑ کی حالت اس سے بھی زیادہ سخت ہو گی؟ کیونکہ ہمارے نانا کی امت میں سے تیس ہزار آدمی آپ ؑ کے قتل پر کمر بستہ ہوں گے جو پردہ داروں کو قید کریں گے۔۔ بچوں کو قتل کریں گے۔۔ گھروں کو لوٹ لیں گے، پس اس وقت بنی امیہ پر لعنت کی بارش ہو گی۔۔ آسمان سے خون برسے گا اور تیرے اوپر ہر شئے گریہ کرے گی یہاں تک کہ وحوشِ صحرائی اور حیوانات ِدریائی بھی آپ ؑ کا غم منائیں گے؟

ایک تبصرہ شائع کریں