جب خیمہ میں پہنچے تو خیام کو صحیح و سالم دیکھا، بچوں کی صدائے العطش
العطش جگر کو کباب کر رہی تھی، ایک سہ سالہ بچی پانی پانی کر رہی تھی، آپ ؑ نے اس
کو تسلی دی، بچی نے عرض کیا بابا جان! آپ ؑ دریا سے میرے لئے کچھ پانی لائے ہیں؟
تو آپ ؑ نے رو کر فرمایا بیٹی صبر کرو،پس آپ ؑ نے اپنی انگلی بچی کے منہ میں
داخل کی اس کو قدرے تسکین ہو گئی، پس واپس آنے کا ارادہ کیا تو حضرت سجاد نے عرض
کیا بابا جان ذرا ٹھہر جائیے میں ایک مرتبہ آپ ؑ کی زیارت کر لوں؟ چنانچہ ٹھہرنا
تھا کہ خاندانِ عصمت کی جملہ شہزادیاں دروازہ پر آگئیں اور امام مظلوم ؑ کی حالت
کو دیکھ کر بیقرار ہو کر رونے لگیں، اس دفعہ آپ ؑ کا جسم زخمی تھا اور خون سے
لباس سرخ ہو چکا تھا پس بیمار فرزند کے سرہانے آئے اور ان کو بوسہ دیا اور اسرارِ
امامت سپرد کئے، نیز یہ بھی منقول ہے کہ امام سجاد ؑ نے پوچھا کہ بابا جان یہ حالت
کیا ہوئی ہے؟ تو امام ؑ نے فرمایا میرے جانثار سب راہِ خدا میں کام آ گئے ہیں اور
میں تنہا رہ گیا ہوں۔
’’محرق القلوب‘‘
میں ہے دیگر وصیتوں کے علاوہ امام ؑ نے اپنے بیمار فرزند کو ایک وصیت یہ بھی
فرمائی کہ:
x
خیام کی طرف رجوع
جب خیمہ میں پہنچے تو خیام کو صحیح و سالم دیکھا، بچوں کی صدائے العطش العطش جگر کو کباب کر رہی تھی، ایک سہ سالہ بچی پانی پانی کر رہی تھی ...