یاایھاالذین امنو ااتقو االلہ وکونو مع الصادقین
فضل بن روز
بہان کے خیال میں اس آیت کے مصداق خلفائے ثلثہ ہیں اوراہل شیعہ کے نزدیک حضرت امیر
علیہ السلام اور دیگر آئمہ طاہرین کےحق ہیں یہ آیت اتری ہے کسی مدعی کو ثابت
کرنے کے لیے دو طریقے ہوا کرتے ہیں ٖعقلی اور نقلی ہمارےپاس اثبات مدعا کےلئے ہر
دو طرح کے ایسے زبردست دلائل موجود ہیں جن کے تسلیم کرنےسے مخالف کو بھی اپنے اصول
و کتب کےلحاظ سے مجال انکارنہیں
دلائل نقلیہ
کتاب
الفضائل صدر الآئمہ اخطب خوارزم تفسیر ثعلبی در منشور میں ملاحظہ فرمائیے کہ آیت
مذکورہ جناب امیر علیہ السلام کےشان میں اتری ہے نیزآیت صدق و تصدیق بھی ہمارے
مطلب کی خوب تائید کرتی ہے ارشاد قدرت ہے والذین جای بالصدق وصدق بہ اولیک ھم
المتقون حلیہ ابونعیم اور تفسیر در منشورسیوطی میں مذکور ہے کہ اس آیت میں صدق بہ
کامصداق حضرت علی ہے اور آیت مجیدہ والذین امنو باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون
اولشھدائ عند ربھم لھم اجرھم ونور ھم ۔ بروایت احمد بن خلیل درمنشور سیوطی میں ہے
کہ یہ آیت حضرت علی کےشان اقدس میں ہے ومن یطع اللہ ورسولہ فاولیئک مع الذین انعم
اللہ علیھم من النبیین والصدیقین والشھدائ والصالحین وحسن اولئیک رفیقا اس کے
متعلق فخر الدین رازی ثعلبی احمد بن حنبل درمسند اور ابن مغارلی نے
روایت کی ہے کہ جناب رسالتمآب نے فرمایا صدیق تین آدمی ہیں حبیب نجار جو مومن
آل یاسین ہے اور خرقیل جو مومن آل فرعون ہے اور تیسرے حضرت علی بن ابی طالب اور
یہ ان سے افضل ہے
دلائل عقلیہ
صدق کے عام
معنی کے اعتبار سے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ امیر المومنین علیہ السلام نے ولادت سے
تاحد وفات کوئی لفظ زبان مبارک سے ایسا نکلا ہو جو واقعہ سےناآشنا ہو بخلاف
ان لوگوں کے جن کے متعلق آیت مجیدہ کے مصداق ہونے کا دعوی
کیاگیا ہے کیونکہ ان لوگوں کے متعلق توصحل ستہ میں کاذب غادر خائن ہونے کے الفاظ
مل سکتے ہیں علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں فرمایا ہے کہ صادق وہ ہوسکتا ہے جس کے
قول اور فعل میں جھوٹ نہ ہو۔ بنا بریں سورہ فاتحہ کی قرات میں جو شخص سچائی رکھتا
ہووہ معصوم ہو گا کیونکہ ہر روز کم از کم صرف دس مرتبہ فرائض نمازوں میں وہ کہتا
ہے ایاک نعبدو اور خدا وند کریم نے قرآن مجید کے متعدد مقامات میں
اطاعت شیطان کوعبادت سےتعبیر فرمایا ہےاور اس میں شک نہیں کہ ہر فعل گناہ اطاعت
شیطان ہوا کرتا ہے۔گویا ہر گناہ عبادت شیطان ہے پس جو شخص اپنی عبادت کو عملی طور
پر خدا کےلئے مبحصر کردےگا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت صرف پروردگار کےلئے
ہی ہے نیز اسی طرح ایاک نستعین اور علاوہ ازیں باقی ایمانی دعوے اللہ پر ایمان
قیامت پر ایمان اللہ کی محبت اور اخلاص اور توکل وغیرہ اگر ان تمام
زبانی اقراروں کے ساتھ عملی مطابقت بھی شامل ہو تو اوہ معصوم نہیں توا ور کیا ہے
پس معلوم ہوا کہ صادق وہی ہےجو معصوم ہو کر حکم دیا گیا ہے اور جن لوگوں کےمتعلق
فضل بن روز بہان نے آیت مجیدہ کے مصداق ہونے کا دعوی کیا ہےہ باتفاق اہل اسلا م
وہ معصوم نہ تھے کیونکہ جو شخص خود اپنی زبان سے اعتراف کر ے کہ میرے ساتھ ایک
شیطان رہا کر تا ہے جو مجھے گمراہ کرتا رہتا ہے اگر میں سیدھا چلتا رہوں تو درست
ورنہ مجھے سیدھا جرکر لیا کرو ایسے کو معصوم کیسے مانا جاسکتا ہے اس آیت مجیدہ کے
متعلق امام فخر الدین رازی کی تقریر کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے ۔
آیت مجیدہ
سےظاہر ہوتاہے کہ ہر زمانہ میں ایک معصوم شخص کی اتناع ضروری ہے کیونکہ خدا مومنین
کوحکم دے رہا ہےکہ صادقین کے ہمراہ ہوجاو تو چونکہ قیامت تک کےمومنین کو حکم شامل
ہے تو ماننا پڑے گا کہ قیامت تک ہر زمانہ میں ایک معصوم کا وجود بھی ضروری ہے
کیونکہ اگر معصوم موجود نہ ہو تو اس کے ساتھ ہونےکاحکم درست نہیں ہو سکتا پس اس
آیت کا حاصل مطلب یہ ہو گا کہ ہر وہ شخص جس سے خطا کاا مکان ہےخواہ کسی زمانہ میں
بھی ہوا سے ایک ایسےشخص کی اتباع کرنی چاہیے جوصادق ہوتا کہ اس کے ذریعے سے اس کی
خطا رفع ہوسکے اور یہ ضرورت ہر زمانہ میں پائی جاتی ہےلہذا معصوم کاوجود ہر زمانہ
کےلئے ضروری ہے۔ اس کے بعد کہتا ہے صادقین سے مراد تمام امت کے لوگ میں اور وہ
اجماع سے جو فیصلہ کریں گے وہ صدق کا فیصلہ ہو گا پس یہ آیت مجیدہ اجماع کی حجیت
پر دلیل ہے چنانچہ اس کی عبادت کا مراوی ترجمہ یہ ہے ۔
لہذا ضروری
ہے کہ امت کا اجماع باطل نہ ہو اور یہ اجماع کی حجیت پر دلیل ہے اور صادقین سے
مراد جمیع امت ہے نہ کہ کوئی خاص فرد جیسا کہ شیعہ لوگ کہتے ہیں ورنہ اگر ایسا
ہوتا تو ہم اس کو پہچانتے ہوتے تاکہ اطاعت کرتے اور اس قسم کا فردامت میں ہم نہیں
پہچانتے ۔
علامہ مجلسی
اس کی تردید فرماتے ہیں اس زمانہ میں جب کہ امت اسلامیہ شرقا و غربا پھیلی ہوئی ہے
اجماع کا حاصل کرناناممکن ہے لہذا آیت پر عمل ناممکن ہو گا ابن حزم محلی میں
تحریر فرماتے ہیں خدا احمد حنبل پررحم کرے اس نے درست کہا ہے کہ جو اجماع کا دعوی
کرے وہ جھوٹا ہے اسے کیا معلوم شاید جس مسئلہ پر وہ اجماع کادعوی کر رہا ہے لوگوں
کو اختلاف ہو نیز عبداللہ بن احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا
ہے کہ جوشخص اجماع کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے اور جس میں اجماع کا دعوی کیاجائے وہ
جھوٹ ہےکیا معلوم لوگ اس میں اختلاف رکھتے ہوں نیز اگر کسی مسئلہ میں فوری طور پر
اجماع معلوم ہو بھی جائے تاہم کیاضروری ہے کہ اجماع والے مرتے دم تک اسی نقطہ خیال
سے متفق رہ جائیں کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ اس قول کی اپنے مرنے سے پہلے تردید
کردیں اور اجماع میں شرط یہ ہے کہ وہ تادم مرگ اپنے قول پر باقی بھی ہوں اگر
بالفرض اجماع واقع بھی ہو جائے تو بہت شاذو نادر مسائل میں ہی ثابت ہوسکے گا پس
تمام مسائل ضرور یہ میں خطا سے بچنے کا تدارک اجماع کے ذریعے سے کیسے ممکن ہوگا ۔
جن کو ساتھ ہونے کا حکم ہے مفاد آیت کے اعتبار سے وہ اور ہیں اور جن کے ساتھ ہونا
ہے وہ اور ہیں یعنی صادق اور ہیں اور صادقین کی اتباع کرنےوالے اور میں سے ممتاز
افراد اور اگر بقول رازی صادقین سے مراد جمیع امت ہو تو اتباع کرنے والے اور جن کی
اتباع کی جائے ان میں فرق کیارہے گا معنی آیت کا یہ ہو گا اے امت محمد تم اپنی ہی
اتباع کرو اس طرح خطا اور غلطی سے خوب نجات حاصل ہو گی ۔
رازی نے
آخر میں عذر خوب کیا ہے کہ اگر صادقین سے مراد مخصوص افراد ہوتے تو ہم پہچانتے
ہوتے اور چونکہ ہم نے پہچانا نہیں لہذا وہ ہیں نہیں اس کا یہ عذر ایسا ہے جس
طرح نصرانی کہا کرتے ہیں کہ حضرت عیسی کے بعد کسی رسول نے نہیں آنا
اور حضرت رسالت مآب کے انکار کی بعینہ یہی دلیل دیتے دیتے ہیں اگر یہ برحق رسول
ہوتے تو ہم نے انکو پہچان لیا ہوتااور چونکہ ہم نے ان کو نہیں پہچانا لہذا وہ رسول
ہی نہیں ہیں اس مقام پربعض بزرگوار استدلال فرماتے ہیں کہ صادقین سے مراد معصومین
ہیں کیونکہ صادقین اگر غیرمعصوم ہوں تو اولا د غیر معصوم کی اطاعت کا حکم دینا
خداوند کریم کی ذات سے بعید بلکہ قبیح ہے اور ثانیا غیر معصوم کی اطاعت سے یقینا
وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جو مراد خالق ہے کیونکہ مقصد یہ ہے کہ انسان فعل مصیبت
سے گریز کرے اور غیر معصوم شخص سے گناہ کا سرزد ہوتا بعید نہیں پس جب ہمیں ہر
معاملہ میں اس کی اطاعت کا حکم ہوگا تواس فعل ند میں بھی ہم اس کی اطاعت کریں گے
پس اس صورت میں معصیت سے بچاو تو درکنار ایسے شخص کی اطاعت کا امر خود موجب معصیت
ہو جائے گا ۔ علامہ مجلسی فرماتے ہیں جو صادقین کے ساتھ ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں
کہ ظاہری طور پر جسم ان کے جسم کے قریب رکھے بلکہ مقصود یہاں اطاعت و اتباع ہے پس
صادق سے مراد ہے ہر قول و فعل میں سچا اور اسے معصوم کہاجاتا ہے اور وہ سوائے ان
پاک معصوم کہا جاتا ہے اور وہ سوائے محمد و آل محمد کے اور کوئی ہو نہیں سکتا پس
آیت مجیدہ کا مصداق بھی سوائے ان پاک معصوم ہستیوں کے اور کوئی نہیں شیخ مفید
اعلی اللہ مقامہ اس مقام پر ارشاد فرماتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے کہ جن لوگوں
کواطاعت کا حکم دیاگیا ہے اور جن کی اطاعت کا حکم ہوا ہے یہ دو گروہ ہونے چاہیئں
نیز جن کی اطاعت و معیت کا حکم ہے وہ معہود ومعروف ہونے چاہیئں تاکہ آیت پر عمل
صحیح ہو سکے اور غیر معروف بھی ہوں تب بھی ان کے نشانات واضح طور پر بیان ہونے
چاہیئں تاکہ تشخیص میں آسانی ہواور ہر لحاظ سے محمد و آل محمد کے علاوہ اس آیت
مجیدہ کا مصداق کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا اور ان کا واجب الاطاعت ہونا ان کی
عصمت کی بھی دلیل ہے اور چونکہ مخالفین بھی ان لوگوں کی عصمت کی یقینا نفی کرتے
ہیں جن کے متعلق انہیں آیت مذکورہ کے مصداق ہونے کا دعوی ہے تو ثابت ہواکہ آیت
کے مصداق صرف آئمہ طاہرین ہی ہیں نیز نقلی تائیدات بھی اس کی موجود
ہیں اور قرآن مجید میں صادقین کےجو اوصاف دوسرے مقامات پر بیان کئے گئے ہیں وہ
سوائے اہل بیت کےاور کسی کماحقہ پائے نہیں جاتے ۔ ارشاد قدرت ہے لیس البر ان تولو
اوجوھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الآخر والملائکۃ
والکتب والنبیین واتی المال علی حبہ ذوی القربی والیتافی اولمساکین وابن السبیل
والسائلین وفی الرقاب وا قا م الصلوۃ و اتی الذکوۃ والموفون بعھدھم اذا عاھدو
اوالصابرین فی الباسآئ والضرائ وحین الباس اولئک الذین صدقو اولئک ھم المتقون ۔
نیکی یہ
نہیں کہ پھیر و منہ اپنےمشرق اور مغرب کی جانب بلکہ نیکی تو اس شخص کی ہےجو ایمان
لائے اللہ قیامت ملائکہ کتاب اور نبیوں پر اور دے مال کو اسکی محبت پر قریبیوں
یتیموں مسکینوں مسافروں سو الیوں اور غلاموں کواور قائم کرے نماز اور دے زکوۃ اور
وہ جو پورا کریں اپنے عہد کو جب عہد کریں اور صبر کرنے والےہوں سختیوں
اور تکلیفوں میں اور لڑائی کے وقت یہی لوگ ہیں سچے اور یہی ہیں متقی ۔
اس آیت
مجیدہ میں صادقین کی چند علامتیں بیان کی گئی ہیں ایمان فی سبیل اللہ مال کا خرچ
کرنا نماز قائم کرنا زکوۃ دینا وفائے عہد کرنا سختی و تکلیف میں صبر کرنا ۔ صفت
ایمان مسند احمد بن حنبل میں ابن عباس سے مروی ہے مافی القرآن ایۃ فیھا الذین
امنو الاوعلی راسھا و قائدھا وشریفھا و امیرھا ولقد عاتب اللہ اصحاب محمد القرآن
وما ذکر علیا الابخیر۔قرآن میں جہاں کسی آیت میں الذین امنو کا ذکر ہے تو علی ہی
اس کا سردار شریف اور امیر ہے اور تحقیق قرآن میں خدا نے اصحاب محمد کو کئی جگہ
سرزنش کی ہے لیکن علی کا کہیں بھی ذکر نہیں مگر اچھائی کے ساتھ۔
اسباب نزول
تفسیر کشاف تفسیر کشاف تفسیر نیشاپوری تفسیر کبیر فرائد السمطین فی فضائل و الزہرا
والسبطین تفسیر حسینی اور فضول مہمہ میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ طلحہ بن شیبہ اور
عباس نے ایک دوسرے پر فخرو ناز کیا طلحہ نے بیت اللہ کی کلید برادری پر گھمنڈ
کیااورعباس نے اپنی سقائی پر نازکیا حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا انااول الناس
ایمانا واکثر ھم جھاد ا یعنی میں تمام لوگوں میں سے سابق الایمان ہوں اور سب سے
زیادہ جہاد کرنے والا ہوں پس سورہ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ اجعلتم
سقایۃ الحاج وعمارۃ المسجد الحرام کمن امن بااللہ والیوم الآخر وجاھد فی سبیل
اللہ لا یستوون عنداللہ وللہ لایھدی القوم الظالمین الذینامنو اوھاجرو ا وجاھدو ا
فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ھم الفائزون۔
کیا بنایا
ہے تم حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد الحرام کو تعمیر کرنااس شخص کے ثواب کے برابر
جو ایمان لائے اور خدا اور قیامت پراور جہاد کرے اللہ کے راستے میں یہ اللہ کے
نزدیک ہرگز برابر نہی اور خدا نہیں ہدایت کرتا قوم ظالمین کو وہ لوگ جو ایمان
لائےجنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیااپنے مالوں اور نفسوں سےوہ اللہ
کے نزدیک بڑے مرتبے والے ہیں اور وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔ اور بروز خندق جب
امیرالمومنین علیہ السلام عمرو بن عبدود کے مقابلے کے لئے نکلے تو بروایت شرح ابن
ابی الحدید جناب رسالت مآب نے فرمایا خرج الایمان کلہ الی الکفر کلہ کل کا کل
ایمان کل کفر کے مقابلہ میں جارہا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرے پاس بیٹھے والوں
میں سے بعض کےمتعلق فرمایا ثکلتک امائ لاشرک فیکم اخفی من دبیب النمل
تیری ماں تیراماتم کرے سرک تم میں چیونٹی سے بھی زیادہ دبی چال چلتا ہے اور ازالتہ
الخفا کی روایت میں ہے والذین نفسی بیدہ ان الشرک فیکم اخفی من دبیب النمل ترجمہ
مجھے ا س ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تحقیق شرک تم میں چیونٹی سے
بھی زیادہ دبی چال چلتا ہے بعض کے متعلق تفسیر درمنثور اور معالم التنزیل وغیرہ
میں ہے کہ انہوں نے بزبان خود اعتراف کیاکہ ماشککت منذ اسلمت الایومئذ ترجمہ جب سے
اسلام لایا ہوں آج کی طرح مجھے کبھی شک نہیں ہوا بخاری کی روایت میں
ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں بارگاہ نبوی میں پہنچا اور عرض کی کیا آپ
اللہ کے برحق بنی نہیں ہیں تو آپ نے فرمایا بے شک میں اللہ کابر حق
بنی ہوں میں عرض کی کیا ہم حق پر اور ہمار دشمن باطل پر نہیں ہے آپ نے فرمایا
ایسا ہی ہے میں نے کہا پھر ہمیں اپنےدین میں کمزوری دکھانےکی کیاضروروت ہےآپ
نےفرمایا میں خدا کا رسول ہوں اوراسکی نافرمانی نہ کروں گا اوروہی میرامدد گار
ہےمیں نے کہا کیا آپ بیان نہیں کیاکرتے تھے کہ ہم جا کر بیت اللہ کاطواف کریں گے
آپ نے فرمایا ایسا ہی ہےلیکن کیا میں نےاسی سال کاوعدہ کیاتھا تو میں نے عرض کی
نہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم آو گے اور ضرور طواف کرو گے راوی حدیث کہتا ہے کہ
میں حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور ریوں سلسلہ کلام جاری ہوا کیایہ شخص
اللہ کا برحق بنی نہیں ہے حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ ہے میں نے کہا کیا ہم حق پر
اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں اس نے جواب دیا کہ ایسا ہی ہے میں نے
کہا پھر ہم اپنے دین میں کمزوری کیوں دکھائیں تو حضرت ابو بکر نے جواب
دیا اے مرد وہ اللہ کا رسول ہے اور وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرتا اور
وہی ا س کا مددگار ہے پس اسی کےساتھ تمسک پکڑ بخدا وہ حق پر ہے میں نے کہا کہ کیا
اس نے ہمارے ساتھ وعدہ نہیں کیا تھا کہ ہم بیت اللہ پہنچ کر طواف کریں گے حضرت ابو
بکر نے کہا یہ ٹھیک ہے لیکن کیا انہوں نے اسی سال کے متعلق فرمایا تھا میں نے کہا
کہ نہیں تو اس نے کہا کہ تم ضرور جاو گے اورطواف بھی کرو گے مواہب
لدینہ اسی موقعہ پر حضور نے یہ بھی فرمایاتھا اور تم بھول گئے احد کادن کہ میں
پکارتا تھا اور تم مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے اور مجھے تنہا چھوڑے
بھاگے جاتے تھے اور تم روز احزاب کو بھول گئے کہ دشمن اعلی و اسفل سے متوجہ تھے
اور جو خدا تعالی کاوعدہ تھا وہاں پورا ہوا اس کے بعد ایک ایک واقعہ کو جو خدا کی
مہربانیوں اور انجاز وعدہ پرمشتمل تھا ان کو یا د دلا یا معارج النبوۃ طبری نے
اپنی تاریخ میں روایت کی ہے کہ حضرت عمر فرمایا کرتے تھے کہ جو کچھ میں نے اس دن
باتیں کیں انکےکفارہ میں میں نے روزے رکھے صدقے دئیے نمازیں پڑھیں اور ٖغلام آزاد
کئے یہاں تک کہ مجھے خیر کی امید ہوگئی اور بقول معارج النبوۃ روضتہ الاحباب ۔
حضرت عمر نے اقرار کیاکہ اس دن امر عظیم میرے دل میں پیدا ہوگیا تھا
صادقین کی
دوسری صفت راہ خدا میں خرچ کرنا الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراوعلانیۃ
فلھم اجرھم عندربھم ولا خوف علیھم ولاھم یحزنون۔ وہ لوگ جو اپنے بالوں کورات میں
دن میں پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں ان کے لئے اپنے پروردگار کے پاس اجر ہے اور
ان پرکوئی خوف نہ ہو گا اور نہ وہ غمزدہ ہوں گے۔تفسیر درمنثور ثعلبی اور کشاف میں
ہے کہ یہ آیت مجیدہ حضرت علی کے حق میں اتری آپ کے پاس چاردرہم تھے ایک رات میں
ایک دن کوایک پوشیدہ اور ایک ظاہرا راہ خدا میں خرچ کیاتب یہ آیت اتری ویطعمون
الطعام علی حبہ مسکینا ویتیما واسیرا اللہ کی محبت میں یتیم مسکین و اسیر کو کھانا
کھلاتے ہیں بلکہ پوری سورہ دہر بنی حضرت امیر کےشان میں اتری چنانچہ ثعلبی واجدی
مناقب خوارزمی کشاف اور بیضاوی نے بھی لکھا ہے اوراس سورہ مجیدہ کی تاریخ نزول 26
ذوالحجہ ہے امام شافعی فرماتے ہیں الام الام وحتی متی اعاتب فی حب ھذا الفتی وھل
زوجت فاطمہ غیرہ وفی غیرہ ھل اتی ھل اتی اتی ۔ مجھے کب تک ملا مت کی جائے گی اور
کب تک مجھے سرزنش کی جائے گی اس جوان کی محبت میں کیاان کے علاوہ فاطمہ کی شادی
کسی سے ہو سکی اور کیا کسی غیر کےحق میں بھی اتری ۔حضرت سیدالشہدا علیہ السلام نے
کربلا کے قیام کے دوران میں ایک حاجتمند کوایک ہزار دینارکی قیمت کے پارچا جات عطا
فرمائے افسوس جس سخی نے ایسے سخت وقت میں بیش قیمت کپڑے دئیے اسے کفن نہ ملا چنانچہ
زیارت ناحیہ کافقرہ ہے السلام علی المدفون بلاکفن میرا سلام اس پر ہوجسے کفن
پہنائے بغیر دفن کیا گیا ۔ شہیدکااپنا لباس کفن ہواکرتا ہے مگر اسی زیارت کا ایک
فقرہ ہے السلام علی البدن السلیب میرا سلام اس بدن پر ہو جس سے لباس اتار لیا گیا
کفن پہنانا تو درکنار پہنا ہوالباس جو کفن کے قائم مقام تھا وہ بھی مسلمانوں نے
اتار لیا ۔ یاایھا الذین امنو اذا ناجیتم الرسو ل فقدمو بین یدی نجواکم صدقتہ اے
ایمانوالو جب تم رسول کے ساتھ تنہائی میں کوئی بات چیت کرو تواس سےپہلے صدقہ
دےلیاکر و ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایک
ایسی آیت موجود ہے جس پر مجھ سے پہلے یامیرے بعد کوئی شخص بھی عمل کرنے پر موفق
نہ ہوسکا اور وہ آیت نجومی ہے چنانچہ ثلعبی واقدی مناقب ابن مغازلی بیضادی اور
تفسیر نیشا پوری میں ہے کہ حضرت امیر نے جناب رسالتمآب سے دس مرتبہ نجوی کیا اور
صدقہ دے کر ہی کیا اوروں نے تو ایک دمڑی بھی نہ دی بھلا آبائی مفلس عبداللہ بن
جذعان کے ٹکڑوں پر اپنے پیٹ بھرنےوالے کاکیا خرچ کر سکتے تھے اباقحاقتہ کان اجیر
الاین جذعان علی مائدتہ یطرد الذبان شرح ابن الحدید یعنی حضرت ابو قحافہ عبداللہ
بن جذعان کے ہاں ملازم تھے جب اس کے ہا ں مہمان آتے اور دستر خوان چنا جاتا توا
ٓپ مگس رانی کے فرائض انجام دیا کرتے تھے مدارج النبوۃ میں ہے کہ حضرت ابو بکر کے
پاس دو اونٹ تھے جن کو چارسو یا بروایت آٹھ درہم میں خریدا تھا اور چار ماہ خوب
ان کو گھاس چارہ کھلاکرموٹاتازہ کرلیاتھا پس وہ دونوں ہنگام ہجرت آنحضرت کے سامنے
پیش کئے تاکہ آپ ان میں سے ایک کوشرف قبولیت بحشیں آپ نے فرمایا میں قبول
کرتاہوں بشرطیکہ مجھ سےقیمت لی جائے پس آپ نے ابو بکر صدیق سے ایک کو نو سو 900
میں خریدا حیوۃ الحیوان میں ہے کان ابوبکر الصدیق بزاذ ا و کذالک عثمان وطلحتہ و
عبدالرحمن بن عوف وکان عمر دلالا یسعی بین البایع والمشتری ۔حضرت ابو
بکر بزازتھے بلکہ حضرت عثمان و طلحہ اور عبدالرحمن بن عوف بھی بزازی کا شغل رکھتے
تھے اور حضرت عمر دلالی کے فرائض انجام دیاکرتے تھے یعنی قبل از سلام نیز اسی کتاب
میں ہے کہ حضرت عثمان کی حقیقی بہن مشاطہ گری کا کام کرتی تھیں یعنی
دایہ گری آپ کا پیشہ تھا ۔
ازالتہ
الخفار مقصد دوم میں ہے کہ عمر بن عاص کہتا ہے خدا اس زمانہ پر لعنت کرے جس میں
حضرت عمر بن خطاب کی طرف سے والی و حاکم تھا خدا کی قسم میں نے بچشم خود ان دونو
باپ بیٹے کاایک زمانہ دیکھا کہ ان دونو کے اوپر نہایت گھٹیا قسم کا کپڑا تھا جسکا
انہوں نے تہ بند بنایا تھا جو بمشکل انکے گھٹنوں تک پہنچتا تھا اور ان کے کندھوں
پر لکڑیوں کے گھٹے ہوا کرتے تھے جب کہ عاص بن وائل زریفت لباس پہنا کرتاتھا ۔
صادقین کی تیسری اور چوتھی صفت نماز اور زکوۃ ۔ قرآن مجید بعض لوگوں کی نماز کی
کیفیت بیان کرتا ہے ترکوک قائما سورہ جمعہ میں ہے جب یہ لوگ تجارت یا لہوو لعب کی
چیز سنتے یا دیکھتے ہیں تو اس طرح بھاگ جاتے ہیں اور آپ کوبحالت قیام تنہا چھوڑ
جاتے ہیں صحیح مسلم میں ایک شخص کا اپنا اعتراف موجود ہے الھا فی الصفوبالاسواق
یعنی بازار کی سود بازاری نے مجھے غافل کردیا تھا کنزالعمال میں ہے آپ نے حضرت سے
دریافت فرمایا کہ کیا یہی چیز تجھے غافل کر دیتی ہے تو انہوں نے جواب
میں عرض کی ہاں دوسری طرف حضرت امیرالمومنین کے متعلق قرآن مجید کا ارشاد سنیئے۔انما
ولیکماللہ ورسولو ں والذین لیقیمون الصلوۃ ویوتون الزکوۃ وھم راکعون- درمنثور
-ثعلبی –رازی- نیشاپوری – تفسیری طبری- اسباب النزول – خصائص نطنزی –
صحیح نسائی – زمخشری اور بیضاوی جیسے اکابر
علما اہلسنت کا اعتراف ہے کہ یہ آیت مجیدہ حضرت
علیؑ کی شان میں نازل ہوئی –
جنگ صفین کے
موقع پر حضرت ابو ہریرہ کا ارشاد ہے الصلوۃ خلف علی اقوم وطعامعاویتہ اوسم
وا؛قعودعلی ٰ ھذا التل اسلم نماز علی کے پیچھے درست تر اور روٹی معاویہ کے
دسترخوان پر لذیذتر اور اس کے ٹیلے پر تماشائی بن کر بیٹھا سلامتی کے قریب بن
تر ہے - یہ علی ؑ ہی کا کا م ہی ہے جنگ صفین میں
لیلتہ الہر یر میں بھی آپ نے ایک ہزار رکعت نماز ادا فرمائی –
اس مقام پر
ایک اور امام اور مامو مین کی نماز اور ان کا نماز کے لیے اشتیاق
ملاحظہ فرمائیے -
نویں محرم کو شمر وارد کربلا ہوا اورعمر بن سعد کی طرف سے تہد یدی پیغام لایا جس کی بنا پر نویں کی عصر کو حملہ کی تیاری ہوئی حضرت سید الشہدا ؑ حضرت عباس کو بھجتے ہیں اور فرماتے ہیں جس قدر ممکن ہو سکےان سے کل کی مہلت لے لیں اور آج رات ہمیں عبادت کے لیے دی جائے تاکہ ہم جی بھر کر نماز سے جس قدر مجست ہے استغفار کریں مجھے استغفار کثرت دعا قرآن خوانی اور نماز سے جس قدر محبت ہے وہ اللہ جانتا ہے ملہوف میں ہے کہ جب عمر بن سعد نے یہ خواہش کی گئی تووہ چپ گیا اور منتخب میں ہے کہ اس نے شمر سے اس بارہ میں مشورہ لیا تو شمر نے جواب دیا کہ اگر اس مقام پر امیر میں ہوتا تو ہر گز مہلت نہ دیتا ملہوف میں ہے کہ عمرو بن حجاج زبیدی نے عمر بن سعد سے کہا خدا کی قسم اگر ترک و دیلم سے بھی یہ لوگ ہوتے اور ہم سے اس قسم کا سوال کرتے تو ہم ضرور ان کو رد نہ کرتے چہ جائیکہ لوگ ہوتے اور ہم سےاس قسم کا سوال کریں اور ہم رد کردیں پس انہوں نےیہ بات سن کر ایک شب کی مہلت دینے پررضا مندی ظاہر کی بات الحسن واصحابہ تلک اللیلتہ ولھم ووی کدوی النحل بین قائم و قاعد وراکع وساجد امام حسن اوران کے صحابہ نے یہ رات اس طرح گزاری کہ مکھیوں کی بھنھناہٹ کی طرح تسبیح و تقدیس کی آواز ان سے بلند تھی بعض حالت قیام میں بعض حالت قعود میں بعض رکوع میں اور بعض سجود میں دکھائی دیتے تھے بروایت ابن طاوس عبادت شب عاشورہ کے اثر سے 32 آدمی لشکر مخالف سے جدا ہو کر حضرت کے لشکر میں ملحق ہوئے اور سعادت ملازمت اختیار کی حضرت امام زین العابدین علیہ السلام روایت فرماتے ہیں کہ رات کے وقت جناب سیدالشہدا علیہ السلام نے بعض اشعار پڑھے جس میں انقلاب زمانہ اور اس کی بے ثباتی کا تذکرہ فرمایا چنانچہ وہ اشعار یہ ہیں یادھر اف لک من خلیل کم لک بالاشراق والاصل من صاحب و طالب قتیل والدھر لا یقنع بالبد یل وانما الامر الی الجلیل وکل ھی سالک سبیل ۔ اے زمانہ تیری دوستی پر اف ہو تیرے اقبال و ادبار کا کوئی وقت نہیں کئی دوست ساتھی قتل ہوتے ہیں اور زمانہ بدلہ پر قناعت نہیں کرتا بس سب معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ہر زندہ نےاسی راہ پر جانا ہے آپ فرماتےہیں کہ میں نے جب یہ اشعار سنے تو سمجھ گیا کہ مصائب کازمانہ آگیا ہے لیکن ضبط سے کام لیتے ہوئے خاموش رہا لیکن میری پھوپھی زینب عالیہ نےجب سنا تو فورانوحہ کرتی ہوئی سر بر ہنہ اٹھ کھڑی ہوئیں اور فرمایا ہائے آج نہ تیری ماں فاطمہ نہ باپ علی نہ بھائی جس موجود ہےتو ہی تو ہمارا سہارا ہے اور یہ اشعار تو ایسی زبان سے سرزد ہوتے ہیں جسے موت کا یقین ہو کاش مجھے یہ وقت دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ حضرت حسین نے فرمایا بہن صبر سے کام لیجئے اور آپ بھی بہت روئے پھر جناب زینب عالیہ نے بھائی سے کچھ کلام کیا اور گریباں چاک کرتے ہوئے منہ پیٹ لیایہاں تک کہ بے ہوش ہوگئیں آپ بنفس نفیس اٹھے اور بہن کےمنہ پر پانی چھڑ کا جب زینب عالیہ نے آنکھ کھولی تو آپ نے فرمایا بہن تم رسول کی امانتیں ہو تقوی اختیار کرو اور صبر سے کام لو تمام اہل زمین و اہل آسمان نے آخر مرنا ہے اورسوائے رب العز ت کے کوئی چیز زند ہ نہ رہے گی میراباپ میری ماں میرابھائی مجھ سے بہتر تھے اور ہر انسان نے جناب رسول خدا کے نقش قدم پر جانا ہے اسی طرح بہت دیر تک بہن کوتسلیاں دیتے رہے اور آخر کار انہیں اپنے خیمہ میں لے گئے را ت گزاری صنح عاشورہ کو اذان دی گئی اور حضرت سیدالشہدا کی اقتدار میں نماز پڑھی گئی اور آپ نے فرمایا کہ ہم سب قتل کئے جائیں گے صرف میرا فرزند علی زین العابدین باقی بچے گا ظہر کی نماز کا وقت قریب آیا ابو ثمامہ صیدادی نے عرض کی کہ حضور جب ہماری جان میں جان موجود ہےآپ کو قتل نہ ہونے دیں گے پہلے ہم قتل ہوں گے اور آپ کو کوئی قتل کرے گا لیکن نماز کا وقت ہےدل چاہتا ہے کہ یہ آخری نماز بھی آپ کی اقتدار میں ادا کر لوں اور پھراللہ کی بارگاہ میں درجہ شہادت پر فائز ہو کر پیش ہوں آپ نےفرمایا ذکرت الصلوۃ جعلک اللہ من المصلین یعنی تونے نماز کویاد کیاخدا تجھے نمازیوں سے کر اٹھا ئے اقول نماز کی اہمیت کو ملاحظہ فرمائیے صحابہ موت کی تیاری میں مصروف ہیں اور نماز کا شوق دل میں ہے اور حضرت سیدالشہدا بھی دعائیں فرماتے ہیں خدا تجھے روز محشر نمازیوں کے زمرے میں اٹھا ئے ایسے آرٹ وقت میں جو دوست انتہائی وفادارہو اس کو نہایت مخلصانہ دعادی جاتی ہے اس کے لئے بڑی بڑی چیز کی دعا کی جاتی ہے حضرت حسین اپنے مخلص دوست کو بڑی سے بڑی دعا رہے ہیں کہ خدا تجھے نمازیوں میں سے اٹھائے حالانکہ ابو ثمامہ کاقدم میدان شہادت میں ہے یہ نہیں فرمایا کہ خدا تجھے شہیدوں سے کر اٹھا ئے اس سے زیادہ نماز کی اہمیت اورکیا بیان کی جاسکتی ہے آپ نے فرمایا بے شک نماز کا اول وقت ہے ان سے کہو ذرا رک جائیں تاکہ ہم نماز پڑھ لیں عمر بن سعد سےکہا گیا کہ ہمیں نماز کی مہلت دی جائے لیکن اس نے نہ مانا تو حضرت سیدالشہدا علیہ السلام نےفرمایا اس پر شیطان مسلط ہو چکا ہے پھر آپ نے خود اذان کہی اور ارادہ نماز فرمایا تو حصین بن نمیر کہنے لگا بے شک آپ نمازیں پڑھئے لیکن آپ کی نمازیں قابل قبول نہیں اس ناہنجار کی اس گندیدہ دہنی سے حضرت حبیب بن مظاہر تلملا اٹھے اور آخر کار ان سے رہا نہ گیا اور فرمایا اے شرابی عورت کے بیٹے کیا تیری نماز قبول ہے اور فرزند رسول کی نماز قابل قبول نہیں پس بارگاہ سیدالشہدا میں عرض گزار ہوا حضور مجھے اجازت مرحمت فرمائیے میں یہی نماز جنت میں جاکر پڑھوں گا اور آپ کی جانب سے آپ کے ناناباپ بھائی اور والدہ کو سلام پہنچاوں گا۔ پس آپ نے اس مختصر سی جماعت کے ساتھ نماز ادا فرمائی اور سعید بن عبداللہ حنفی اور زہیر بن قین سے فرمایا کہ تم دونو میرے سامنے کھڑے ہوجاو چنانچہ اسی طرح آپ نے نما ز خوف پڑھی یہ نماز خاص نماز قصر تھی لیکن ان میں سے بعض نے تو قصر نماز بھی قصر کردی یہ نماز ایک خاص نوعیت کی تھی اس کی تکبیر جدا قیام خاص اور اسی طرح رکوع سجود تسلیم و تعقیب سب کی حیثیت جداگانہ تھی زخموں سے چور چور تھے کہ زمین پر سنبھل کر نہ بیٹھ سکتے تھے گاہے اٹھتے اور پھر منہ کے بل زمین پر گر پڑتے تھے قنوت کی جائے یہ دعا زبان اقدس پر جاری تھی اے اللہ جو صاحب مکان و منزل بلند عظیم الجبروت شدید المحال مخلوق سے بے نیاز صاحب سلطنت وسیعہ ہر شیئ پر قادر جس کی رحمت قریب وعدہ سچا نعمت کشادہ اور آزمائش بر محل ہے جب پکارا جائے تو قریب اپنی مخلوق پر محیط توبہ کرنے والوں کی توبہ کو قبول کرنے والا مراد پر قدرت رکھنے والا ہر مطلوب کو درک کرنے والا ہر شکر گزار کاشاکر اورہر ذکر کرنے والے کا ذاکر ہے میں تیری ذات کی طرف حاجتمند ہو کر تجھے پکارتا ہوں تیری طرف فقر کے پیش نظر راغب ہوں تجھ سے خوف زدہ ہوکر گڑ گڑاتا ہوں حالت مصیبت میں تیری طرف ہی اظہار اندوہ کرتا اور روتا ہوں حالت مصیبت تجھ سے ہی طالب نصرت ہوں اور تجھ کافی سمجھتے ہوئے تجھ ہی پر توکل کرتا ہوں ہمارے اور ہماری قوم کے درمیاں تو ہی فیصلہ فرما انہوں نے ہمیں دھوکا و فریب دیا اور ہم سے دغا کر کے ہماری نصرت سے ہاتھ اٹھالیا اور ہمارے قتل کے درپے ہوگئے ہو گئے حالانکہ ہم تیرے نبی کی عترت اور تیرے مصطفی وا مین وحی محبوب کی اولاد ہیں تو ہمارے معاملہ میں ہمارے لئے فرح و کشادگی پیدا کردے تبصدق اپنی رحمت کے اے رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا آپ کاسجدہ کیا تھا ؟ پس اپنی زخمی پیشانی کو تپتی ہوئی ریتی پر خوشنودی خدا کے لئے رکھ دیا تشہد وسلام روح مقدس کا قفس عنصری سے پرواز کر کے بارگاہ رب العزت میں جانا تھا رفع راس نیزہ پر ہو ا اور تعقیبات وہ افکار تھے جو آپ نے نو ک نیزہ پر شہر بشہر سنائے چنانچہ سورہ کہف کی تلاوت نون سنان پر کرتے گئے سجدہ ایسا کیا کہ آج تک سر نہ اٹھا اور جب سر کو زمین پر رکھا تھاتو عالم سے نالا وفریاد کی آوازیں بلند ہوئی تھیں جو آج تک بلند ہیں اور رہتی دنیا تک بلند رہیں گی بلکہ قیامت کے روز بھی اس کا اعادہ ہوگا اناللہ وانا الیہ راجعون اقول میں نے ایک کتاب میں پڑھا ہے کہ ذاکر نے مجلس میں پڑھا جب شمر سر پاک کوجدا کر چکا تو اتنے زور سے زمین پر پھینکا کہ گرد بلند ہوئی پس سننے والوں میں سے کسی نےٹوک دیاکہ ایسی سخت روایت نہ پڑھو وہ ذاکر غمزدہ ہو کر سویا تو عالم خواب میں امام مظلوم کی زیارت نصیب ہوئی اس نے اپنی پریشانی کی وجہ امام کو بتائی تو امام مظلوم نے فرمایا یہ لوگ اتنا بھی نہیں سن سکتے حالانکہ میرےساتھ اس سے بھی زیادہ ظلم ہوا ہے ۔