عبدالرحمن بن عروہ اور اس کا بھائی عبداللہ بن عروہ نہایت شجاع بارعب اور
ہردلعزیز تھے، ان کا باپ حضرت امیر ؑ کے صحابہ میں سے تھا اور جنگ جمل صفین اور
نہروان میں حضرت علی ؑ کے ہمرکاب تھا، یہ دونوں بھائی خدمت امام ؑ میں اس وقت
پہنچے جب آپ ؑ کربلا میں نزولِ اجلال فرما چکے تھے۔
روزعاشورجب آتش جنگ بھڑک اٹھی تویہ دونوںبھائی روتے ہوئے امام ؑ کی خدمت
میں حاضر ہوئے اورعرض کیا اے فرزند رسول! ہم چاہتے ہیں کہ آپ ؑ کے سامنے فدا کا
رانہ جنگ کریں اورآپ ؑ کے قدموں میں جام شہادت پیئں، امام ؑ نے فرمایاشاباش ذرا
میرے قریب توآئو، جب یہ اپنی ترآنکھوں کے ساتھ قریب آئے توآپ ؑ نے فرمایاروتے کیوں ہو؟ عنقریب
تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہونگی، نعمات خداوندی کا مشاہدہ کرکے خوش ہوں گے، انہوں نے
عرض کیا آقاہم خداکی قسم اپنے لئے نہیں روتے بلکہ ہم توآپ کی غربت پرروتے ہیں
کیونکہ کسی تدبیرسے ہم آپ کے اعدأ کودفع نہیں کرسکتے، امام ؑ نے فرمایاخدا تم
کوجزائے خیردے پس امام ؑ سے رخصت ہوکرایک ہی ساتھ میدان جنگ میں گئے اوررجزیہ
اشعار اس طرح پڑھتے تھے کہ ایک بھائی ایک مصرعہ کہتاتھا اوردوسرا بھائی دوسرامصرعہ
کہتاتھا یہاں تک کہ دونواکٹھے شہیدہوگئے، زیارت ناحیہ مقدسہ اوررجبیہ میں ان دونوں
بھائیوں پرسلام واردہے۔